55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

تیسرا لیکچر باسط کا تھا۔ آج انکا ٹیسٹ تھا، سبھی کو ٹیسٹ شیٹ بانٹی اور انہیں حل کرنے کا بولا۔ بلاج کو تو اسکا یہاں ہونا ہی برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ دو ہفتے بعد آیا تھا، ٹیسٹ تو اسے آتا نہیں تھا۔ پھر بھی وہ پیپر پر کچھ لکھ رہا تھا۔ سبھی بہت خاموشی سی اپنا ٹیسٹ کر رہے تھے۔
پنک سادی قمیض شلوار ہم رنگ سر پر ڈوپٹہ لیے، آنکھوں پر ہمیشہ کی طرح گلاسس لگاۓ وہ مگن سی اپنا ٹیسٹ لکھ رہی تھی۔ ایک دو دفع مشی نے اسے بلایا، میرال اسے ہلکی آواز میں جواب دے رہی تھی، جبھی باسط ان دونوں کے بالکل پاس آیا۔
“کیا بات ہے؟ چیٹنگ کروانے کا زیادہ شوق ہے؟” میرال کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ سخت لہجے میں بولا۔ اسے تو ایک دم جھٹکا لگا وہ ایک دم کھڑی ہوئی۔ باسط نے ہاتھ ہٹا لیا گود میں رکھی مارکل اور پینسل نیچے زمین پر گڑی۔ سبھی انکی طرف متوجہ ہوۓ، میرال کو اسکی حرکت بہت بری لگی، اور اسکا اندازہ اسکے چہرے سے لگایا جا سکتا تھا۔ بلاج انہی کی طرف متوجہ تھا۔
“کیا ہوا؟ کرنٹ کیوں لگ گیا تمہیں؟ میں نے تو بس تمہاری چیٹنگ پکڑی ہے، تمہاری غلطی کو معاف کرتا ہوں، چلو بیٹھ کر ٹیسٹ پورا کرو” باسط دوبارہ اسکے قریب ہوا اور اسکو بازو سے پکڑ کر کرسی پر بیٹھایا اور اسکا بازو سہلایا۔ میرال شرمندگی سے چہرہ نیچے جھکا گئی۔ تبھی اسکے چہرے پر کسی نے مُکہ مارا۔
“سالے کمینے خبیث انسان تیری ہمت کیسے ہوئی اسے چھونے کی” بلاج ایک اور مُکہ اسکے چہرے پر مارتے ہوۓ بولا۔ باسط کی ناک سے خون نکلنا شروع ہو گیا۔
“بلاج کیا کر رہا ہے دور ہو” حسام نے جلدی سے اسے پکڑ کر پیچھے کیا میرال کے چہرے کا رنگ اُڑ چکا تھا۔ وہ اسے روکنے اگے بھی نا بڑھ پائی۔ اتنے شور کی وجہ سے انکی کلاس کے سامنے کافی سٹوڈینٹس اکھٹے ہو گے۔
“اس کمینے کی میں جان لے لوں گا” بلاج دوبارہ اسے مارنے کے لیے بڑھا۔
“تم نے ایک ٹیچر پر ہاتھ اُٹھایا، اسے مارنے کی دھمکی دی، اب تم دیکھو میں کیا کرتا ہوں” باسط غصے سے بولتا کلاس روم سے چلا گیا۔
“اسکی تو”
“بس کر چپ ہو جا” حسام بھی اسی کےا نداز میں چلایا۔ ابھی اسے گے دو منٹ ہی ہوۓ تھے کہ پیون نے بلاج اور میرال کو پرنسپل کے روم میں جانے کا پیغام دیا۔
“اسکو آج ہی اس جاب سے نکلوا کر دم لوں گا، چلو میرال” بلاج اپنے کف فولڈ کرتا گم سم سی پاس کھڑی میرال کو دیکھتے ہوۓ بولا۔ میرال بنا اسے دیکھے روم سے چلی گئی، بلاج بھی اسکے پیچھے چلا گیا۔ باقی سب کہاں پیچھے رہ سکتے تھے۔
وہ دونوں اس وقت پرنسپل کے روم میں کھڑے تھے سامنے پرنسپل کرسی پر بیٹھے ہوۓ تھے، ایک طرف صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر باسط بیٹھا اپنی ناک کو ٹیشو سے صاف کر رہا تھا۔ اور سامنے وہ دونوں کھڑے تھے۔ اور آفس کے باہر پانچوں پریشانی سے چکر لگا رہے تھے
“بلاج تم پہلے سٹوڈینٹس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرتے تھے وہ تو میں نے بہت بار اگنور کیا اب تم حد سے باہر نکل چکے ہیں اب تم ٹیچر پر ہاتھ اُٹھانا شروع ہو گے ہو” پرنسپل کافی غصے میں لگ رہا تھا۔
“آپ کو لوگوں کے کریکٹر دیکھ کر انہیں ٹیچر بنانا چاہیے، جو آدمی میرے سامنے کسی لڑکی سے بدتمیزی کرے گا اسے اس سے بھی زیادہ پیٹوں گا” بلاج باسط کو غصے سے گھورتے ہوۓ دانت پیستے ہوۓ بولا۔
” تم حد سے بڑھ رہے ہو، مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہے ہو” باسط اسکی بات پر ہتے سے اُکھڑ گیا۔
“ہنہہ جھوٹا، تجھ جیسے دو کوڑی کے انسان پر جھوٹا الزام لگا کر کیا کروں گا” وہ طنزیہ انداز میں ہنس کر بولا۔ اس سب میں میرال چہرہ جھکاۓ کھڑی تھی۔
“تمہارے ڈیڈ کو میں فون کر چکا ہوں وہ آتے ہی ہوں گے” پرنسپل نے غصے سے بولا وہ اسکی کسی بات پر یقین نہیں کر رہے تھے۔
“اس میں میرے باپ کو بلوانے کی ضرورت نہیں تھی، میں خود اسے پکڑ کر باہر پھینک سکتا ہوں، کسی کے ہاتھوں کی ضرورت نہیں” وہ سخت لہجے میں بولا۔
” تم چاہے مجھے اپنا باپ مانتے ہو یا نہیں، یہ دنیا تو تمہیں میرے نام سے ہی جانتی ہے، کسی کو پکڑ کر باہر پھینکنے کی اگر ضرورت ہے تو وہ تم ہو بلاج سکندر حمدانی” سکندر حمدانی جو کہ دروازے میں کھڑے اسکے الفاظ سن چکے تھے، غصے سے بولے انکی آواز سن کر بلاج طنزیہ لہجے میں ہنسا۔
” میرا بس چلے تو اپنی رگوں میں بہتا آپکا گندھا خون نکال کر باہر پھینک دو، اپکے نام کو تو پہلے ہی پھینک چکا ہوں” وہ بھی اسی لہجے میں بولا۔ اسکی بات سکندر صاحب کو غصہ دلا گئی، وہ اگے بڑھے اور اسکے چہرے پر دو تھپڑ مارے۔
“اب بس یہی رہ گیا ہے، تم ہر وقت بس گنڈا گردی کرتے رہو، کبھی کسی کو مارو تو کبھی کسی کو اپنے استاد کو کیوں مارا” وہ اس پر چیخے تھے۔ میرال دو قدم پیچھے ہوئی، یہ سین وہ پہلے بھی دیکھ چکی تھی، پر اپنے باپ کے لیے اتنی نفرت کا اظہار وہ شائد پہلی دفع سن رہی تھی۔ وہ حیرانگی سے بلاج کو دیکھ رہی تھی۔ غصے کی وجہ سے اسکا چہرہ اور کان لال ہو چکے تھے۔ باسط مزے سے یہ سب انجواۓ کر رہا تھا۔
“سر ایم سوری میں جانتا ہوں بلاج اپکا بیٹا ہے، میں بس سر امجد کی ریکویسٹ پر یہاں دو کلاسس لیتا ہوں، آج بھی وہی لے رہا تھا، میں یہ بچی میرال اسکے پاس کھڑا تھا اسے کچھ سمجھا رہا تھا، نا جانے اسے کیا سوجھی اسنے مجھے مارنا شروع کر دیا” باسط جلدی سے سکندر صاحب کے پاس آ کر چہرے پر شرافت سجا کر بولا۔
“جھوٹے کمینے انسان میں تجھے نہیں چھوڑوں گا” بلاج کو اسکے صاف جھوٹ بولنے پر حد سے زیادہ غصہ آیا۔
“رکو بلاج میرال پاس کھڑی ہے اسی سے پوچھ لیتے ہیں کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ” پرنسپل درمیان میں آتے ہوۓ بولے۔ میرال کی سانس رُکی، اسنے بلاج کی طرف دیکھا۔
“بولو میرال انکو سب سچ بتا دو کہ اسنے بدتمیزی کی تھی، میں تمہارے ساتھ ہوں” بلاج نے میرال کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑتے دیکھا تو فوراً بولا۔ وہ اسکے سامنے ہی کھڑی تھی۔ میرال نے اب باسط اور سکندر صاحب کو دیکھا۔
“بولو بچے کیا سچ ہے؟” سکندر صاحب نے بولا۔ میرال نے گہرا سانس لیا۔ وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔ ماتھے پر ہلکی ہلکی پیسنے کی بوندیں تھیں۔
“بلاج! جھوٹ بول رہا ہے، سر نے کچھ نہیں کیا” اسنے ہمت کر کے جواب دیا بلاج نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا، وہ جھوٹ کیوں بول رہی تھی؟ باسط کے چہرے پر کھل کر مسکراہٹ آئی۔
“میرو، جھوٹ کیوں بول رہی ہو؟ سچ بتاؤ؟ گھبرانے کی ضرورت نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں، کیا اس کمینے نے تمہیں دھمکایا ہے جسکی وجہ سے جھوٹ بول رہی ہو” بلاج اسکے پاس آتے ہلکا سا جھک کر اسکو سمجھاتے ہوۓ بولا۔
“بس کرو بلاج پلیز بس کرو، کسی نے کچھ نہیں کیا، تم ہی درمیان میں آۓ، اور لڑائی کی، سر نے کبھی بدتمیزی نہیں کی” میرال چلاتے ہوۓ بولی، بلاج وہی چپ سا ہو گیا۔
“سر میں جا سکتی ہوں میری کلاس ہے؟” اسنے پرنسپل سے آجازت مانگی انہوں نے اشارے سے جانے کا بولا۔ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلی۔
“میرال رُکو!” بلاج بھی اسکے پیچھے بھاگا۔ اسکے یوں میرال کے پیچھے جانا اور تھوڑی دیر پہلے نرم لہجے میں اس سے بات کرتے سکندر صاحب نے ضرور نوٹ کیا تھا۔ وہ گہری سوچ میں گم ہو گے۔
میرال جیسے ہی باہر نکلی وہ سب ان دونوں کا انتظار کر رہے تھے، مشی اسے دیکھتے ہی اسکی طرف بڑھی۔ پیچھے بلاج کی آواز سن کر وہ بنا وقت ضائع کیے اگے بڑھی، اور گارڈن ایرا کی طرف آ گئی۔
“روکو بات سنو میری جواب دو مجھے، اندر جھوٹ کیوں بولا؟” بلاج اسکے سامنے آ کر کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔ نا چارہ اسے رکنا پڑا۔
“کیا بات ہے بلاج اندر کیا ہوا؟ تیرے ڈیڈ آئی مین سکندر انکل بھی آۓ۔ اور یہ تیرا گال کیوں لال ہے؟” حسام اسکا لال سرخ گال کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا۔ باقی سب اسکے جواب کا انتظار کر رہے تھے۔ اور بلاج غصے سے میرال کو دیکھ رہا تھا جو اب دونوں ہاتھ باندھے دوسری طرف دیکھ رہی تھی۔
“چپ کر کیوں کھڑی ہو جواب دو، اندر مجھے جھوٹا ثابت کیوں کیا؟ کیا میں سائیکو ہوں ایمیجن کر رہا تھا اس کمینے کی حرکت کیا مجھے نظر نہیں آئی، بولو جھوٹ کیوں بولا” ابکی بار وہ اونچی آواز میں غرایا تھا، ایک پل کو میرال ڈر گئی۔
“سچ میں تم سائیکو ہی ہو، بلاج حمدانی جس دن کے تم میری زندگی میں آۓ ہو، مجھے صرف اور صرف دکھ ہی ملا ہے، چاہے وہ تمہاری محبت ہی کیوں نا ہو۔ مجھے ایک کھلونا سمجھ کر اپنے دوست کے لیے چھوڑ دینا ہو، اور پھر بھولے بن کر دوبارہ بار بار معافی مانگنی، تم نے جو درد مجھ دیا ہے، وہ کم ازکم معافی سے تو ختم نہیں ہو گا اور نا کبھی لائف میں تمہیں معاف کروں گی، یہ میرے جُوڑے ہاتھوں کی طرف دیکھ لو مجھے معاف کرو، میری زندگی کو جہنم بنانا بند کرو، پوری یونی میں میرا تماشا مت لگا، میرے معاملوں میں مت پڑو، اپنی زندگی کے ساتھ میرا جو دل کرے گا وہی کروں گی، میرے ساتھ جو مرضعی ہو تم درمیان میں مت آؤ، ورنہ قسم خدا کی یہاں سے بہت دور چلی جاؤں گئی” میرال کے ضبط کا بند ٹوٹ چکا تھا وہ بھی اسی کے لہجے میں چلا کر بولی۔ اور بنا اسے بولنے کا موقع دیے اگے کی طرف بڑھ گئی۔ بلاج خاموشی سے اسکی سن رہا تھا۔
“گائیز میں لائبرری میں جا رہا ہوں” ہارون سے مزید اب وہاں کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا وہ بول کر پلٹ گیا۔ بلاج نے ایک نظر ہارون کو جاتے دیکھا۔ اس دن کے بعد سے ان دونوں کے درمیان بات تو ہوتی تھی پر ایک خلش سی ایک لائن سی دونوں کے درمیان آ گئی تھی۔ جسے چاہ کر بھی بلاج توڑ نہیں پا رہا تھا اور آج میرا غصے غصے میں ہارون سے ریلیٹڈ بول گئی تھی۔
“اف” وہ اپنے بالوں کو ہاتھ میں جکڑتے ہوۓ چلایا۔
“ریلیکس بلاج، سب صحیح ہو جاۓ گا، گائیز مجھے لگتا ہے مجھے ہارون کے پاس جانا چاہیے” امرحہ کو اسکا اداس چہرہ یاد آیا۔ تو لائبریری کی طرف بھاگی۔
“ویسے میں سوچ رہا تھا، میرال نے بات کو پورا گھوما دیا، اور جو تو نے پوچھا تھا اسکا جواب تو دیا ہی نہیں بندی بات گھوما گئی” حسام تھوڑی کو سہلاتے ہوۓ سوچ کر بولا۔
“جانتا ہوں، بات گھومائی ہے، پر جو بولا اسکے دل میں چھپا غصہ تھا، میں کروں تو کیا کروں، کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا، اس مسلے کا حل نکالنا کتنا مشکل لگ رہا ہے” وہ گہری سانس لے کر بولا۔۔
“ہاہاہا” حسام ایک دم ہنسا، عائشہ اور بلاج نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“تجھے کیا ہوا؟” عائشہ نے حیرانگی سے پوچھا، کیونکہ ابھی کوئی بات ہنسنے والی تو نہیں تھی۔
“میں سوچ رہا ہوں، وہ جو ہماری بلاج حمدانی تھا جسکے پاس ہر پرابلم کا حل ہوتا تھا، آج ایک لڑکی کی وجہ سے بچاری کی حالت دیکھو کیسی ہو گئی ہے، برو تیری یہ حالت دیکھ کر افسوس بھی آتا ہے، اور ساتھ ہنسی بھی چھوٹ جاتی ہے ایک لڑکی نے تیرے دماغ کی دہی بنا دی تجھے پورا کا پورا گھوما کر رکھ دیا” حسام۔ہنستے ہوۓ بولا۔
“ہاہ ہا، حسام تجھے پتہ ابھی دو ہاتھ تیری طرف آئیں گے اور وہ تیرا گلا ایسے دبا کر مار ڈالیں گے” بلاج اسکی نکل اتارتا دونوں ہاتھوں سے اسکا گلا دبوچتے ہوۓ بولا۔ عائشہ انکی حرکت پر ہنس دی۔
“آہ نا کر یار ابھی تو میرے اتنے سپنے ہیں، تیری شادی کرنی ہے، تیرے بچوں کو گود میں کھیلانا ہے، پھر انکو برا کر کے انکی بھی شادیاں کرنی ہیں بہت مصرورف۔ ہوں” حسام ہنستے ہوۓ بولا۔
“کیوں تو نے انکا دادا بننا ہے نوٹنکی کہی کا” بلاج اسکا گلا چھوڑتے ہوۓ بولا۔ عائشہ مسلسل ہنس رہی تھی۔
“او میری عاشو ہنستے ہوۓ پیاری لگ رہی ہو، بھوک لگی ہے کچھ کھائیں” حسام عائشہ کے گال کھینچتے ہوۓ بولا۔ عائشہ نے اسکے کندھے پر تھپر مارا۔
“یار آجکل اتنی کیوٹ کیوں ہوتی جا رہی ہے فیس بھی گولو مولو سا ہو گیا ہے” حسام دوبارہ اسکے گال کھینچتے ہوۓ بولا۔ وائٹ جینز کے اوپر ریڈ ٹی شرٹ، ہاؤں میں ہلی سی ہیل، بالوں کو اونچی ٹیل پونی دیے ہوۓ تھی چہرہ میک اپ سے پاک تھا۔
“وہ تو میں ہوں، بھوک تو بہت لگی ہے چلو” وہ مسکرا کر بولی، وہ تینوں کینٹین کی طرف چلے گے۔
“”””””””****
آج کا دن بہت مشکل تھا۔ میرال کافی پریشان تھا ہلکا ہلکا سر درد ہو رہا تھا، وہ بلاج کو بالکل بتانا نہیں چاہتی تھی اسنے جھوٹ کیوں بولا۔
“بلاج یہ تمہارے لے ہی اچھا ہو گا مجھ سے دور ہی رہنا چاہیے، میری وجہ سے تم مصیبت میں پڑ جاؤ گے” وہ اوپر چھت کی سیلنگ کو دیکھتے ہوۓ بولی۔ اور اپنی زندگی کے اس عجیب غریب سفر کے بارے میں سوچنے لگے، کہاں وہ یہاں آنے کے سپنے دیکھا کر تی تھی رات رات تکاپنی امی کو یونی مین جانے کا سپنا سنایا کرتی تھی۔ اور کیسے وہ یہاں آئی، اپنی ماں کو اسی گاؤں میں چھوڑ کر، اور اگے زندگی اسکے ساتھ کیا کھیل کھیل رہی تھی، ایک دن سکون کا نہیں ملا تھا۔
**،***
وہ سات بجے کے قریب گھر آئی، حسام ہی اسے چھوڑکر گیا تھا، آج اسے بہت تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی، اسکی شادی کو آج ڈھیڈ مہینا ہوا تھا، اس وقت کے دوران اسکی کئی دفع راحیل سے لڑائی بھی ہوئی، نا چاہتے ہوۓ بھی وہ یہاں رکی۔ پچھلے دو ہفتے سے راحیل شوٹنگ کے سلسلے میں دوسرے شہر گیا ہوا تھا۔ دونوں کی اس دن کے بعد بالکل بات نہیں ہوئی تھی۔ اسے راحیل کچھ بدلا بدلا محسوس ہو رہا تھا، وہ اب بالکل بھی طنز نہیں مارتا تھا،جب کبھی بات کرنے کی ضرورت پڑتی آرام سے کہتا۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی، اپنا بیگ ڈرسنگ ٹیبل پر رکھا، تبھی اسکی نظر بیڈ پر پڑے تین باکسز پر پڑی۔
“یہ کیا ہے؟” وہ بیڈ کے پاس آئی اور باکسز کو کھولنا شروع کیا۔ ایک کے اندر سے بہت ہی خوبصورت پنک فراق نکلی، دوسرے ڈوبے سے میچنگ ہیل تھی، وہ حیران ہوئی یہ کس نے رکھے، اسنے جب تیسرا ڈبا کھولا تو اسکے بہت ہی خوبصورت سفید موتیوں کا نیکلس تھا، ساتھ میں چوڑیا بھی تھیں۔
” تم ا گئی، یہ میں نے ہی رکھے ہیں” تبھی باتھ روم کا دروازہ کھول کر راحیل باہر نکلتے ہوۓ بولا۔ بالوں کو ٹاول سے رگڑ رہا تھا۔ آج دو ہفتوں بعد عائشہ نے اسے دیکھا تھا، اسنے ہاتھ میں پکڑا جیولری کا ڈبہ واپس رکھا۔
“میرے ڈاریکٹر کے بیٹے کا آج ولیمہ ہے، اسی پر جانا ہے، انکی وائف نے اسپیشلی تمہیں ساتھ لانے کا بولا ہے، ہمیں آٹھ بجے تک پہنچنا ہے تو پلیز جلدی تیار ہو جاؤ” وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہوتا بالوں کو ہیر ڈرائیر سے سوکھاتے ہوۓ اونچی آواز میں بتا رہا تھا۔
“مجھے کہی نہیں جانا” عائشہ اسکی بات سن کر بیڈ پر بیٹھتے پاؤں سے ہیلز اتارتے ہوۓ ٹھنڈے فرش پر پاؤں رکھتے ہوۓ بولی۔ اسکی بات پر راحیل نے ہیر ڈرائیر بند کی اور اسکی طرف موڑا۔
“وہاں زیادہ تر کپلز ہوں گے میں اکیلا جاتا اچھا نہیں لگوں گا، پلیز چلو” وہ اسکے پاس آتے ہوۓ بولا
“میں بہت تھکی ہوئی ہوں، سر بھی بھاری ہو رہا ہے، سونا ہے مجھے” وہ اپنے بالوں کو جوڑے کی شکل دیتے ہوۓ نارمل انداز میں بول رہی تھی۔
“عائشو پلیز چلو نا، انہوں نے برے دل سے ہمیں بلایا ہے، ویسے بھی شادی کے بعد پہلی دفع تمہیں سب سے انٹرڈیوس کروا رہا ہوں۔ پلیز چلو نا” وہ اسکے پاس بیٹھتا اسکے ہاتھوں کو پکرتے ہوۓ بہت ہی نرم لہجے میں بولا۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا اسنے کبھی غصہ کیا ہی نہیں، عائشہ کو دو سال پرانا راحیل ایک دم سے یاد آیا آج وہ بالکل ویسا ہی نرم مجاز لگ رہا تھا۔
“بولا نا نہیں جانا تو نہیں جانا” وہ پیچھے بیڈ گراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ کے آنکھیں بند کرتے ہوۓ بولی۔
“میں کوئی ایکسیوز نہیں سن رہا چلو شاباش اُٹھو تیار ہو جلدی سے” وہ اسکا ہاتھ پکڑتے دوسرے ہاتھ میں ڈریس لیے اسے زبرداستی واشروم۔میں دکھیلتے ہوۓ بولا۔ نا چاہتے ہوۓ بھی عائشہ چینج کر کے کمرے میں آئی، جہاں وہ اب بلیک پینٹ کوٹ پہنے بالوں کو برش کر رہا تھا۔ وہ اتنی لمبی فراق میں اُلجھتی منہ بناتی ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوئی اور ہلکا پھلکا میک اپ کرنے لگی۔ راحیل دور صوفے پر بیٹھ کر اسکے تیار ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ یک ٹک اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔
اس دن عائشہ کے حالت دیکھ وہ بہت پریشان ہوا تھا، وہ اسکی میڈیکل فائل لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا، انہوں نے جو باتیں بتائیں وہ بہت خطرناک تھیں۔ عائشہ اب تک بہت دوائی کا استعمال کر چکی تھی، جو اب اسکی صحت پر برا اثر ڈال رہی تھیں، ڈاکٹر کے مطابق وہ بہت سٹریس میں ہے، اسکا دماغ بہت پریشان رہتا ہے، نا وہ سکون کی نیند لے پاتی ہے، اب اسکے سمٹمز نظر آنا شروع ہو چکے ہیں، وہ جیسے دوائیاں کھانے کے لیے اس دن پاگلوں کی طرح رو رہی تھی، اس سے وہ اپنا دماغی توازن بھی کھو سکتی تھی، اسکی دوائیاں ایک نشے کی طرح اسے لگ چکی تھی، جو اب بہت خطرناک حد تک پہنچ چکی تھیں، اسکا حل یہی تھا، دوائیاں مکمل چحڑوا دی جائیں، اسکے ساتھ اسے پریشانی سے دور رکھ کر خوشی کا ماحول دیا جاۓ، تبھی اسکے ٹھیک ہونے کے امکان ہیں ورنہ وہ بہت بری طرح بیمار ہو سکتی ہے، اسی رات راحیل ایک پل نا سو سکا، وہ جس چیز کے بارے میں سوچتا ہر جگہ اسے اپنی غلطی نظر آتی، اس رات اسنے فیصلہ کیا،بلاج سے جو دشمنی ہے وہ اب الگ رکھے گا، عائشہ کو وہ کبھی کچھ نہیں بولے گا، پر اسکا مطلب یہ نہیں وہ بلاج کو جانے دے گا، اسکے لیے بھی اسنے کچھ سوچا ہوا تھا۔ پر ابھی فل حال اسکا مکمل دھیان عائشہ پر تھا جسے وہ ٹوٹ کر چاہتا تھا۔ وہ اسے کچھ دن اکیلا چحوڑنا چاہتا تھا اسی لیے کام کے سلسلے میں چلا گیا۔ اور اب وہ اسے آہستہ آہستہ نارمل کرنا چاہتا تھا اسکی شروعات اسے خود کو نارمل کر کے کرنی تھی، وہ بالکل پہلے والا راحیل بن چکا تھا۔
آنکھوں میں کاجل لگاتے عائشہ کے ہاتھ کانپے، کیونکہ وہ نوٹ کر رہی تھی، کب سے راحیل اسے یک ٹک دیکھے جا رہا تھا۔ جو اسے ان ایزی فل کروا رہا تھا۔ جلدی جلدی تیار ہو کر وہ ہیلز پہننے لگی۔ اسکا سٹریپ نہیں لگ رہا تھا۔
“لا میں لگا دوں” تبھی راحیل اسکے سامنے ایک گھٹا زمین پر ٹکا کر بیٹھا اور اگے بڑھ کر جوتے کا سٹریپ لگایا۔ عائشہ ٹھہر سی گئی، اسکی انکھوں کے سامنے سالوں پہلے والے واقع تھے، ہمشہ اسکے جوگرز کے تسمے کھلے رہ جاتے تھے اسے باندھنے نہین آتے تھے تب وہ ہمیشہ بنا ایک لفظ کہے جھک کر اسکے تسمے باندھتا، اور پھر تو مانو یہ عائشہ کی عادت ہو گئی وہ جان بوجھ کر تسمے کھلے چھوڑتی، تا کہ وہ پیار سے باندھ سکے، اور وہ ہمیشہ بنا ایک لفظ کہے مسکرا کر باندھتا۔ اور وہ یک ٹک اسےدیکھتی اس وقت اسکے ماتھے پر آۓ بال اسے بہت پیارے لگتے۔ اور وہ اسکے بال ہمیشہ پیچھے کرتی۔ ابھی بھی اسی طرح اسکے ماتھے پر بال آرہے تھے، بے اختیار عائشہ نے ہاتھ اگے کیا اور اسکے بال پیچھے کرنے لگی۔ دوسری ہیل کا سٹریپ بندھ کرتے راحیل کے ہاتھ تھم سے گے، اسے بھی وہ سب ایک دم آنکھوں کے سامنے آیا۔ نظریں اُٹھا کر اسنے عائشہ کو دیکھا، جسکی آنکھیں نم تھیں۔ اسکے دیکھنے پر اسنے چہرہ موڑ لیا۔ جیسے سب چھپانا چاہتی ہو، راحیل نے جھک کر سٹریب بند کیا اور کھڑا ہوا۔
“چلیں” ہاتھ آگے کرتے وہ ہولے سے بولا۔ عائشہ نے ایک نظر اسے دیکھا پاؤچ اپنے ہاتھ میں لیا اور اسکے بڑھے ہاتھ کو اگنور کرتی کمرے سے باہر کی طرف چلی گئی، راحیل اپنے خالی ہاتھ کو دیکھتا رہ گیا۔۔
“ایم سوری میری جان! بہت غلطیاں کر چکا ہوں، اب تمہارے سارے شکوے ختم کر دوں گا تمہاری آنکھوں میں نمی نہیں آنے دوں گا، ہونٹوں پر ہر وقت اب مسکراہٹ رہے گئی” وہ گہری سانس لے کر بولا اور گاڑی کی چابی پکڑتا باہر کی طرف بڑھا۔


بلاج اس وقت ریسٹورینٹ میں میرال کی بہن ملائکہ کے سامنے بیٹھا تھا۔ کل ہوۓ واقع کے بعد وہ حسام کے گھر آیا، کافی دیر وہ اس بارے مین سوچتا رہا پر کوئی سرا ہاتھ نا آیا، ایک دم سے اسکے زہین میں ملائکہ آئی، جسنے اس دن میسج کیا تھا اور جس سے اسنے ملنے بھی جانا تھا پر کنول بیگم کے اچانک انتقال کے بعد وہ سھنمبل ہی نا پایا۔ ابھی یاد آتے ہی اسنے کال ملائی، اور خوش قسمتی سے ملائکہ نے اُٹھا لیا اور پھر ایک کیفے میں ملنے کے لیے بلایا۔
“آپ نے کیا بات کرنی تھی؟” ایک ایک کافی منگوا کر اب بلاج اسکی طرف متوجہ ہوا۔ ملائکہ گھبرائی گھبرائی سی تھی۔
“تم میرال کو جانتے ہو، وہ میری چھوٹی بہن ہے، امی کے انتقال کے بعد میں اسے اپنے ساتھ لے آئی سوچا اسے بہت پیار سے رکھوں گی، جو وہ چاہے گی اسے دوں گی، اسے خوش رکھنے کی بجاۓ میں نے اسے گھر سے نکال دیا” ملائکہ نے بات شروع کی، بات کرتے کرتے وہ رو دی۔بلاج نے ٹیشو اسکی طرف بڑھایا۔
” اس دن باسط نے جو تصویریں دیکھائیں تھیں، اسکی وجہ سے تم مجھے یاد رہ گے، بہت ڈھونڈنے کے بعد تمہارا نمبر ملا، وہ مجھے تم سے باسط کے بارے مین بات کرنی ہے” بولتے بولتے وہ رُکیں۔ باسط کے نام پر بلاج مکمل سیدھا ہو کر بیٹھا۔
“باسط کے بارے میں کیا بات کرنی ہے؟” وہ مکمل انکی جانب متوجہ تھا۔
” ایک رات میں اچانک اُٹھی کچن سے پانی لانے گئی تو وہ گارڈن میں کھڑا کسی سے بات کر رہا تھا، میں اسکی طرف متوجہ نا ہوتی اگر میرال کا نام۔نا لیتا وہ کسی کو بول رہا تھا میں اسے برباد کر دوں گا، مجھے نیچا دیکھاتی ہے، اور تمہارا نام بھی لیا مجھے ٹھیک سے سنائی نہیں دے رہا تھا، تبھی میں سمجھی کہ اس دن جو تماشا لگا کر اسنے میرال کو ہماری نظر میں گڑایا تھا وہ سب ناٹک تھا۔ اور میرال کو تو میں نے ہی بولنے نا دیا” وہ بولتے بولتے پھر سے رو دیں۔
“روئیں مت، میرال کو وہ کچھ نہیں کر سکتا میں اسکی ڈھال بن کر اسکے سامنے کھڑا ہوں، اور اس باسط کا بھی پکہ والا علاج کرنا پڑے گا ویسے بھی بہت سر پر چڑ رہا یے، کیا آپ میرال سے ملنا چاہتی ہیں؟ ” بلاج انکی ساری بات سن کر بولا۔
“نہیں نہیں وہ مجھ سے کبھی نہیں ملے گی، ابھی وہ ہاسٹل میں ہو گی نا” ملائکہ نے فوراً انکار کیا۔
“وہ ہاسٹل میں نہیں ہے، ایک دوست کے گھر پر رہ رہی ہے، اسکے پاس پیسے نہیں تھے” بلاج نے کافی کا سپ لیتے ہوۓ بولا۔
“تو تم مدد کر دیتے، میرے پاس پیسے ہیں میں تمہیں دےدوں گی” ملائکہ اپنی بہن کا ایسا حال سن کو اداس ہو گئی
“ارے نہیں کوئی ضرورت نہیں میرے پاس پیسے ہیں، آپکی بہن تھوڑی سی ناراض ہے، میں نے اسکا دل بھی تو بہت دکھایا ہے، پر جلد مان جاۓ گی، ویسے بہت ضد ہے، جلدی مانتی نہیں ” بلاج مسکرا کر بولا۔۔ ملائکہ نے غور سے اسے دیکھا۔
“بہت اچھے سے جانتے ہو اسے، کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟ ” ملائکہ کو جانے کیا سوجھی وہ ایسا سوال کر بیٹھی، بلاج کا کافی کو جاتا ہاتھ رک گیا۔ آج پہلی بار وہ میرال کی کسی فیملی ممبر سے مل رہا تھا اور وہ ایسے اچانک سوال کر رہی تھی۔
“اہممم اگر میں ہاں کہوں تو مار تو نہیں پڑے گی” وہ ڈرتے ہوۓ بولی، اسکی بات سن کر ملائکہ ہنس دی۔
“نہیں مار نہیں پڑے گی* وہ ہنس کر بولی۔
” ہم۔دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہین پر کچھ ناراضگی چل رہی ہے بہت جلد ختم یو جاۓ گی” وہ سر جھکا کر بولا۔
“یہ تو اچھی بات ہے، تو اگلی بات جو میں کرنی والی ہوں، وہ تمہارے لیے مشکل نہیں ہو گا” ملائکہ کچھ سوچ کر بولی۔ بلاج نے اسکی طرف دیکھا
“جی بولیں”
“میرال سے نکاح کر لو، ایک تم ہی وہ شخص ہو جو اسے محفوظ رکھ سکتا ہے، باسط بہت شاطر انسان ہے، وہ اپنی باتوں سے کچھ بھی کروا سکتا ہے، اسکے وار زہریلے ہوں گے، ان سے بچنے کے لیے دوائی پہلے ہی تیار رکھنی پڑے گی، اور تم سے زیادہ میرال کا دھیان کوئی نہیں رکھ سکتا، کیا تم ایسا کرو گے؟” وہ نرم لہجے میں سب بول رہی تھی اور بلاج کو لگا اسنے غلط سنا
“نکاح” وہ بس اتنا بولا۔ یوں اچانک نکاح کا سن کر اسے بہت عجیب لگ رہا تھا۔۔
“ہممم نکاح، کیا تم نہیں کرنا چاہتے” وہ ڈرتے ہوۓ بولی
“ایسی بات نہیں ہے۔ پر وہ نہیں مانے گی، فل حال اسکی ناراضگی کا لیول بہت ہائی ہے” بلاج نے اسے بتایا
“تم اسکی فکر مت کرو، بس اسے لے آنا باقی اسکو منانے کا کام۔میرا ہے، بہت دیر ہو چکی یے میں چلی ہوں، تم کل یہ کام کر سکتے ہو؟’ وہ کھڑی ہو کر چادر اچھے سے لیتے یوۓ بولی۔
” کللل۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک یے میں لے آؤں گا اپکو بھی پتہ میسج پر بتا دوں گا ” بلاج کچھ سوچ کر بولا۔ ملائکہ چہرے پر نقاب کرتی خداحافظ کہتی وہاں سے چلی گئی۔ اور بلاج گہری سوچ میں پڑ گیا۔
” تمہاری حفاظت کے لیے ایسا کرنا ہی صحیح رہے گا” وہ کچھ سوچ کر بولا۔ اور بل پے کرےا وہاں سے باہر نکلا اور بائیک حسام کے گھر والے راستے ڈال دی۔
جاری یے