Rate this Novel
Episode 6
“ہاں نکال دینا چاہیے” بہت سی ایسی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔ راحیل مسکرایا۔
“ہم سب اگر ساتھ ہو جائیں تو بلاج سکندر حمدانی جیسے جانور کو خود دھکے دے کر نکال سکتے ہیں جسے نا تو خود کی عزت کا خیال ہے نا کسی لڑکی کی اور نا ہی اپنے باپ کی سب کے نام ڈبو رہا ہے” راحیل عالم دور کھرے بلاج کو دیکھتے نفرت بھرے انداز میں بولا۔ اور یہاں بلاج کا ضبط توٹا وہ اپنے بازو فولڈ کرتا سٹیج کی طرف بڑھا۔
“ٹھاہ” اسنے سٹیج پر پہنچتے ہی راحیل کے منہ پر مُکہ مارا۔ وہ ہلکا سا لڑکھڑایا، چہرے پر مسکراہٹ آئی۔ میرال ڈر کے مارے ایک دم پیچھے ہٹی۔
“مجھے پتہ تھا تو واپس آ کر دوبارہ سے اپنا کمینہ پن دیکھاۓ گا” بلاج اسے ایک اور پنچ مارتے ہوۓ بولا۔ اور یہاں اب راحیل کہاں خاموش رہنے والا تھا۔
“کمینہ پن میں نے دیکھایا یا تُو دیکھا رہا ہے، ویسے بھی شروع سے تیرا زور بس لڑکیوں پر ہی تو چلا ہے، مرد ہوتا تو لڑکوں سے مقابلہ کرتا” راحیل نے بھی واپس پنچ مارتے ہوۓ کہا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو کالر سے پکڑا، اور ایک دوسرے کو مارنے لگے۔ وہاں پر کھڑے ۔ ٹیچرز اور کچھ سٹوڈینٹس نے انہیں چھڑوانا چاہا، پر وہ کسی کی بات نہیں سن رہے تھے۔
“مِشی انکو روکو،دیکھو کیسے ایک دوسرے کو مار رہے ہیں” میرال نے پہلی دفع اتنی بری لڑائی دیکھی تھی۔ وہ کافی ڈر چکی تھی۔ دونوں ایسے لڑ رہے تھے جیسے بہت پرانے دشمن ہوں۔
“یہ ان دونوں کے ہر دوسرے مہینے کا ہے، ہر دوسرے مہینے دونوں ایسے ہی لڑتے ہیں، تم کیوں پریشان وہ رہی ہو انجواۓ کرو” مِشی نے ہنس کر کہا، اور میرال حیرانگی سے اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
“بلاج چھوڑ اسے بس کر” حسام نے جب دیکھا کہ اب روکنا چاہیے وہ اگے بڑھا اور اسے روکا، ہارون نے بھی اسے روکنا چاہا۔۔ پر دونوں ہی ایک دوسرے کو نہیں چھوڑ رہے تھے۔
“یہ سب کیا تماشا ہو رہا ہے؟” تبھی وہاں پرنسپل آ گیا۔ نا چاہتے ہوۓ بھی دونوں کو لڑائی بند کرنی پڑی۔ دونوں کافی زخمی ہو چکے تھے۔
“سر اس نے شروعات کی، میں آرام سے اپنے ڈرامے کا ٹریلر دیکھا رہا تھا، درمیان میں آکر مارنا شروع کر دیا” راحیل فوراً اپنی صفائی میں بولا۔ بلاج نے غصے سے اسکی طرف دیکھا۔ وہ خاموش کی کھڑا رہا، اسنے صفائی دینے کی کوشش بھی نا کی۔
“تم دونوں ہی قصوروار ہو۔ یہ یونی ہے تم لوگوں کا گھر نہیں جس میں ایک دوسرے کے ساتھ کتوں کی طرح لڑو۔ ابھی یہاں جو ویڈیو چلائی گی اس میں جو لڑکی تھی، بلاج تمہارا گروپ اور راحیل تم سب کے سب میرے آفس میں آؤ” پرنسپل نے سخت لہجے میں کہا اور پلٹ گیا۔
“ہنہہ” راحیل طنزیہ ہنس کر وہاں سے چلا گیا۔ وہ پرنسپل کے پیچھے اسکے آفس میں جا رہا تھا۔
“اسکی تو” بلاج نے غصے سے اسے جاتے ہوۓ دیکھ کر کہا۔
“بلاج خاموش ابھی فل حال چلو آفس میں۔ ” حسام نے معاملے کی سنگینی دیکھی تو کہا۔
فضول میں تماشا لگا دیا” میرال کافی پریشان ہو چکی تھی ابھی اسے آفس بھی جانا تھا۔ اسکے یوں بولنے پر بلاج نے مڑ کر سخت نظروں سے اسے دیکھا۔ اسی پل میرال نے بھی اسے دیکھا، اس نے فوراً نظرویں چُڑا لیں۔
“کچھ نہیں ہوتا بھائی وہاں ہیں، اور اب تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، میرا بھائی راحیل عالم واپس آ چکا ہے ان سب کی بینڈ بجا دے گا” مِشی نے اونچی آواز میں کہا۔ تا کہ وہ سب سن لیں۔
“زیادہ اتراؤ مت یہ نا کل تمہارے بیگ سے چوہا ملے” حسام اسکے پاس آ کر ڈرانے والے انداز میں بولا، کیونکہ وہ جانتا تھا، مشی چوہوں سے کتنا ڈرتی ہے۔ ایک پل کے لیے اسکے چہرے پر خوف طاری ہوا۔
” حسام چلو” بلاج نے اونچی آواز میں کہا۔ وہ ہنستا ہوا ان چاروں کے ساتھ آفس کی طرف بڑھا۔ مشی میرال کو آفس تک چھوڑکر آئی۔
★****
آفس میں اس وقت وہ سب موجود تھے۔ سبھی ایک لائن میں کھڑے تھے۔ اور پرنسپل صاحب اپنی کرسی پر براجمان تھے۔
“تو بتاؤ یہ سب کیوں کیا؟ میں نے کتنی وارنگز دیں کہ اب سے تمہارے گروپ کی کوئی کمپلین نا آۓ پھر وہی ہوا دو دن سے تم سب اس چھوٹی بچی کو تنگ کر رہے ہو” پرنسپل غصے سے بولے انہیں کچھ دیر پہلے ہی ساری معلومات مل چکی تھی۔
“سر کچھ خدا کا خوف کریں، یہ اپکو کہاں سے چھوٹی سی بچی لگتی ہے، یونی میں پہنچ گئی ہے کم از کم انیس سال کی تو ہو گی” حسام ہلکا سا ہنس کر بولا۔ باقی چاروں کی بھی ہنسی نکل گئی۔ پرنسپل نے سامنے پرے پیپر ویٹ کو ٹیبل پر مارا۔ سبھی خاموش ہو گے۔
“تم سب کو یہ یونی سرکس لگتی ہے، سیکند ایر میں بھی مر مر کے پاس ہوۓ ہو، اور اب بھی پڑھائی کے بجاۓ تم فضول کی حرکتوں میں انوال وہ رہے ہو” پرنسپل اپنی کرسی سے کھڑۓ ہوۓ اور غصے سے چلاۓ۔
“سر ان جیسے سٹوڈینٹس صرف دوسروں کا مزاق ہی اُڑا سکتے ہیں انہیں بس ہنسا ہوتا ہے، پھر اگے ٹیچر ہو یا سٹوڈینٹ انہیں کسی کی فکر نہیں” راحیل عالم طنزیہ انداز میں بولا۔
“اور سر یہ تو اتنے مہان ہیں، ٹیچرز کے پیر دھو دھو کر پیتے ہیں، اور سٹوڈینٹس کو تو جھک کر سلام کرتے ہیں” حسام ہنستا جھک کر سلام کرنے والے انداز کو کاپی کرتے ہوۓ بولا۔ اسکی زبان کہاں بند ہو سکتی تھی۔
“تمہاری تو” راحیل کو غصہ آیا۔
“بس خاموش ایک لفظ نہیں” پرنسپل چیخا۔ سبھی کو خاموش ہونا پڑا۔
” السلام علیکم! سکندر حمدانی صاحب، ارے اپ بھی ا گے سلام عالم صاحب” پرنسپل نے جب دروازے سے سکندر حمدانی اور عالم صاحب کو اندر داخل ہوتے دیکھا تو فوراً آگے برھا۔ انہوں نے سر کے اشارے سے جواب دیا۔ انکا نام سنتے ہی بلاج کے ماتھے پر بل نمودار ہوۓ۔
“کیا معاملا بن گیا رضا صاحب جو یوں اچانک بلانا پڑا” عالم صاحب نے ایک نظر سب کو دیکھ کر پوچھا۔
” بس بچوں نے کچھ رولز توڑے تو اسی لیے بلوانا پڑا” رضا صاحب نے سب کی طرف دیکھا۔
“اب انہوں نے کیا کر دیا” سکندر حمدانی نے راحیل اور بلاج کی طرف دیکھ کر پوچھا جن کا چہرہ واضع بتا رہا تھا کہ کیا کارنامہ انجام ہوا ہے۔
“سر آپ خود دیکھ لیں، پرنسپل نے ویڈیو چلا کر سکندر حمدانی اور عالم صاحب کے سامنے کی جو کہ صوفے پر بیٹھے ہوۓ تھے۔۔
” اور آج راحیل میری پرمیشن کے بعد ڈرامے کو پرموٹ کر رہا تھا جب اسنے یہ ویڈیو چلائی، اور اسکے بعد لڑائی شروع ہو گئی۔ اب آپ خود سوچ سکتے ہیں ہماری یونی کے کافی رولز توٹے ہیں اور پہلے بھی کئی دفع ان دونوں کو وارنگز دے چکے ہیں” پرنسپل اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گے۔
“یہ سب کیا ہے، تم لوگوں نے ابھی تک نئے بچوں کو تنگ کرنا چھوڑا نہیں” سکندر حمدانی کھڑے ہو کر بلاج کے سامنے آۓ اور غصے سے پوچھا۔ وہ بے فکری سے کمرے میں بنی کھڑکھی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ باقی سب خاموش تھے۔
“بلاج میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں” سکندر حمدانی اسکی ہٹ ڈھرمی پر غصے سے چلاۓ۔
“او ایم سوری آپ مجھ سے بات کر رہے ہیں ،مجھے لگا کسی اور سے بات کر رہے ہیں، ہاں تو کیا پوچھ رہے تھے بچوں کو تنگ کرنا چھوڑ کیوں نہیں، تو مسٹر حمدانی نہیں چھوڑا یہ ہمارے اندر رچ چکا ہے جب تک ہم تنگ نا کر لیں ہمارا کھانا ہضم نہیں ہوتا، اور جب نئے بچے زیادہ اُڑنے لگ جائیں تب تو پر کاٹنے پڑتے ہیں” وہ ہر لحاظ کو سائیڈ پر رکھتا بدتمیزی سے بولا۔ میرال نے حیرانگی سے اسے یوں اپنے والد سے بدتمیزی کرتے دیکھا۔باقی سب کے لیے یہ نیا نہیں تھا۔۔ سکندر حمدانی کی برداشت ختم ہو گئی۔
“ٹھاہ” سکندر حمدانی نے اسکے چہرے پر ایک تھپڑ مارا۔ وہ ہلکا سا لڑکھڑایا۔ پر کوئی ردے عمل نا دیا جیسے یہ سب نیا نا ہو، بس چہرے پر سختی سی آئی۔ اور پیچھے کو بندھے ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھیچیں گئیں راحیل کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ آئی۔
“بدتمیز، میرا بس چلے تو۔۔۔۔ تم ایک دفع گھر آؤ پھر تمہیں بتاتا ہوں” سکندر حمدانی اسکی کافی حرکتوں پر پہلے ہی تپے ہوۓ تھے اور اب جیسے موقع مل گیا تو انہوں نے اپنا تھوڑا سا غصہ نکالا۔
“حمدانی جوان بچہ ہے، بس کرو” عالم صاحب فوراً انکے قریب ا کر بولے۔
“پرنسپل صاحب آپ جیسا کرنا چاہتے ہیں کریں، میں کچھ نہیں بولوں گا” وہ اپنے کوٹ کا بٹن بند کرتے صوفے پر جا کر بیٹھ گے۔
” کالج کے رولز کے مطابق تو اگر شیکایت درج ہوتی ہے تو ہمیں ایکشن لینا پڑے گا ان پانچوں کو ایک مہینے کے لیے کالج سے نکالا جاۓ گا اور راحیل چونکہ آج ہی واپس آیا ہے تو اسے وارنگ دی جاۓ گی۔” پرنسپل نے ماحول کو کافی سنجیدہ ہوتے دیکھ تو فوراً بولے۔
“تو ٹھیک ہے، چلو عالم چلتے ہیں” وہ بول کر جانے لگے۔
“سر، مجھے کوئی شیکایت نہیں کرنی، آپ ان سب کو سزا مت دیں، بس ان کو بول دیں مزید مجھے تنگ مت کریں، میں یہاں پڑھنے آئی ہوں لڑائی کرنے نہیں، اور ویسے بھی ایک مہینا بہت زیادہ ہے ان سب کا بہت کام پیچھے رہ جاۓ گا جو اچھا نہیں” میرال نے جب معاملا اتنا سنگین دیکھا تو فوراً بولی۔ حمدانی صاحب اور عالم صاحب دونوں رک گے۔
“تم چپ نہیں بیٹھ سکتی” راحیل نے اسے گھور کر کہا۔
“سر پلیز مجھے یہ سب نہیں چاہیے اپ سب کو ایک اور چانس دے دیں” میرال دوبارہ بولی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی۔ ایک مہینے بعد دوبارہ سے وہ سب یہی کریں گے۔
“اوکے،تو میں اپ سب کو آخری وارنگ دیتا ہوں اسکے بعد آپ میں سے کوئی بھی دوبارہ ایسی حرکت کرے گا تو اسے اسی وقت نکال دوں گا” پرنسپل نے آخری وارنگ دی۔
“شکریہ رضا صاحب اب ہم چلتے ہیں” سکندر حمدانی بول کرکمرے سے باہر نکل گے۔
“جاؤ تم سب بھی” جب وہ انکے جانے کے بعد بھی کھڑے رہے تو پرنسپل نے کہا۔ سبھی آفس سے باہر نکلے۔
” راحیل بھائی” مِشی ان دنوں کا انتظار کر رہی تھی جب وہ باہر نکلےتو راحیل عالم غصے سے تن فن کرتا وہاں سے نکل گیا۔ مِشی کو کچھ سمجھ نا آیا وہ اسکے پیچھے بھاگی۔
“میرال! تم ٹھیک ہو، اور تم نے مجھے پہلے یہ سب کیوں نہیں بتایا؟” تقی چونکہ دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں تھا تو اس تک یہ سب باتیں نہیں پہنچیں تھیں۔ اب یہ بات پوری یونی میں پھیل چکی تھی، سب سنتا وہ بھاگتے ہوۓ اسکے ڈیمپارٹمنٹ میں پہنچا۔ تب مشی نے اسے بتایا کہ وہ افس میں ہے وہ دونوں کب سے اسکا باہر نکلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ تقی کے یوں پریشانی سے پوچھنے پر تقریباً سبھی اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔
“ہاں ٹھیک ہوں۔ سب ٹھیک ہے اب کوئی کچھ نہیں کرے گا” وہ ایک طرف ہو کر بولی اسکی آواز تھوڑی بھاری تھی۔ انکھیں بھی نم ہو رہیں تھیں۔ ہارون کی نظر اسی پر تھی۔
“یار رو کیوں رہی ہو بتاؤ کیا ہوا اندر پرنسپل نے کچھ بولا یا ان سب نے دوبارہ بدتمیزی کی۔ بولا تھا نا کچھ بھی وہ مجھے بتانا” وہ اب اس ہر غصہ کر رہا تھا اسکے ہوتے ہوۓ یوں یونی میں اسکے ساتھ کتنی بدتمیزی ہوئی تھی۔
“میں ٹھیک ہوں، اور ان سب کو آخری وارنگ مل چکی یے اب کچھ نہیں کریں گے” وہ ایک نظر ان پانچوں کو دیکھ کر بولی۔ جو بلاج کے کال پر بات ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔
“گائیز بات آگے جا رک بھی ہو سکتی ہے چلو” امرحہ تیز لہجے میں بولی اور ایک نظر ان دونوں کو دیکھ کر اگے بڑھ گئی۔ باقی سب بھی اسکے پیچھے چلے گے۔
“کچھ کھایا کہ نہیں، چلو کچھ کھا لیتے ہین وہاں مجھے سب ڈیٹلز میں بتاؤ” تقی اسے لیے کینٹین کی طرف بڑھا۔ وہاں انہوں نے برگر کھایا۔ اور میرال نے اسے شروع سے لے کر اج تک کی ساری باتیں بتائیں۔ جسے سن کر اسے بھی بتہ غصہ آیا۔ وہ اس گروپ کو جانتا تھا۔ ایک دو دفع وہ بھی ان سے ٹکرایا تھا۔
“آپ پلیز یہ سب آپی کو مت بتائیے گا” میرال نے ریکویسٹ کی۔
“نہیں بتاؤں گا پر تم مجھ سے وعدہ کرو آئیندہ اگر انہوں نے بدتمیزی کی تو مجھے بتاؤ گی” تقی نے بھی اس سے وعدہ لے لیا۔
“کس قسم کی دوستیں ہین تمہاری،اور وہ میرال ایک نمبر کی گدھی ہے، سارا معاملا خراب کر دیا” راحیل کو میرال پر اس وقت انتہائی غصہ آرہا تھا۔ وہ دونوں اس وقت کوریڈول کے ایک طرف کھڑے تھے۔
“کیوں اس نے کیا کر دیا؟”
“اس بے وقوف کی وجہ سے سارا پلین چوپٹ ہو گیا، اچھا بھلا وہ سارا گروپ ایک مہینے کے لیے یونی سے نکالا جا رہا تھا۔ کتنی بےعزتی ہونی تھی اس بلاج حمدانی کی، لیکن تمہاری بے وقوف دوست نے پرنسپل سے ریکویسٹ کی پلیز انہیں مت نکالو، انہیں بس وارنگ دے دو” وہ انتہائی غصے میں تھا، اسکا فل پلین فیل ہو گیا۔ کیونکہ یونی میں نا آتے ہوۓ بھی راحیل کو اپنے دوست کے توسط بلاج کے گروپ کی ساری انفارمیشن مل رہی تھی۔ وہ انہی کی کلاس میں تھا۔ راحیل کے کہنے پر اس نے دونوں انسیڈنینٹس کی ویڈیو ریکاڈ کی اور اسے بھیجی، اج کا سارا معاملا اسنے پلین کیا تھا۔ ویڈیو بھی اسی نے چلائی۔اور ایسے الفاظ استعمال کیے جس سے بلاج غصے میں آۓ اور فائیٹ ہو، اور وہی ہوا اسکی سوچ کے مطابق انکو نکالا بھی جا رہا تھا پر میرال نے درمیان میں سب خراب کر دیا۔
“وہ پہلے ہی ان سب باتوں کی وجہ سے پریشان ہے ، بات کو ختم۔ کرنے کے لیے یہ سب کہ دیا ہو گا تا کہ وہ دوبارہ اس سے مت الجھیں” مِشی نے اسے سمجھانا چاہا۔
“مِشی تم فل حال جاؤ مجھ اکیلے رہنا ہے” راحیل اپنی کن پٹیوں کو دباتے ہوۓ بولا۔ مِشی نے گہرا سانس لیا اور وہاں سے چلی گئی۔
“اس بلاج کو تو میں۔۔۔۔” راحیل نے پاس گڑے کین پر پاؤں رکھتے غصے سے کہا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
