Rate this Novel
Episode 40
“بولو کیا کام ہے” وہ دونوں اس وقت یونی میں اسی درخت کے نیچے ملے تھے۔
“ہمیں اپنا کام شروع کرنا ہو گا” وہ کافی سیریس لگ رہا تھا۔
“ہمم میں بھی رات کو یہی سوچ رہی تھی، ہم شروع کہاں سے کریں گے؟” وہ بھی اسی انداز میں بولی۔
“اسی دن سے جب یہ سارا تماشا شروع ہوا تھا، ہمیں سب جاننا ہو گا، اس دن کیا ہوا تھا، کیسے ہوا تھا، جو اسماء نے اس دن سب کے سامنے بتایا تھا، وہ سچ تھا یا جھوٹ میں تو جانتا یوں جھوٹ تھا پر باقی سبکو تو ثبوت چاہیے، ہمیں وہی جاننا ہو گا” وہ ادھر اُدھر دیکھتا آہستہ آواز میں بول رہا تھا۔
“اوکے تو ڈیٹیکٹو اسکی شروعات آج سے کرتے ہیں” مشی ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔ حسام نے اسے جانے کا اشارہ کیا وہ چلی گئی۔ وہ اپنی آنکھیں چھوٹی کرتے ادھر اُدھر دیکھتے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف چلا گیا
وہ بلاج کے ساتھ ہی یونی آئی، کل تو یونی مس ہو گئی۔ آج صبح ہی انکو فائنل ایگزم کی ڈیٹ شیٹ ملی۔ ، وہ چلتی ہوئی کلاس میں آئی۔بلاج کی نظر سامنے اُٹھی، انکی مقررہ کردہ سیٹس پر صرف حسام بیٹھا تھا۔ باقی چاروں خالی تھیں، جہاں راحیل بیٹھتا تھا وہی آج ہارون بیٹھا تھا۔ جسنے اسے دیکھتے ہی اپنا چہرہ موڑ لیا اور اپنے ساتھ بیٹھی امرحہ سے باتیں کرنے لگا۔ وہ اگے بڑھا۔
“امرحہ یہ کیا ہے؟ تم وہاں کیا کر رہی ہو؟ اپنی جگہ پر آ کر بیٹھو” بلاج ہارون کو ایک نظر دیکھتے امرحہ سے مخاطب ہوا۔
“ہم وہاں بیٹھتے تھے کیونکہ ہمارا گروپ مکمل تھا، جب گروپ ہی نہیں رہا تھا خالی کھوکھلی سیٹس کو لے کر کیا کریں گے” وہ طنزیہ انداز میں بولی اور ایک سخت نظر اسکے ساتھ کھڑی میرال پر ڈالی۔ میرال چلتی ہوئی مشی کے پاس آ گئی۔ جو موبائل پر حسام کو میسج کر رہی تھی۔
“اوکے فائن بھاڑ میں جاؤ تم دونوں ” وہ غصے سے کہتےحسام کے پاس بیٹھ گیا۔ جو ان سب سے انجان مگن سا مشی کے میسجز کے جواب دے رہا تھا۔اور مسکرا رہا تھا۔
” سالے تیرے کیوں دانت نکل رہے ہیں، کس سے اتنا مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہا ہے؟” اسکے کندھے پر تھپڑ مارتے ہوۓ بولا۔
“کسی سے نہیں” وہ چونکا اور اسنے موبائل بند کر دیا۔ بلاج نے اسے جانچتی نظروں سے گھورا۔ وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ تبھی کلاس میں سر آۓ ،اور انکے پیچھے ہی اسماء داخل ہوئی۔ جینز شرٹ پہنے وہ مکمل میک اپ کے ساتھ چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ آئی تھی۔ وہ چلتے ہوۓ بلاج کے پاس جو خالی جگہ تھی وہاں بیٹھ گئی۔ بلاج نے اپنے دانت پیسے، پیچھے بیٹھی میرال نے غصے سے اسکو گھورا۔سر اپنا لیکچر شروع کر چکے تھے۔ وہ انہیں پیپرز کے حولے سے چیزیں بتا رہی تھے۔
“حسام جگہ تبدیل کر” بلاج نے اسکی طرف جھک کر ہولے سے کہا۔ وہ بدمزگہی نہیں چاہتا تھا۔ اور ہلکا سا اُٹھا جب اسماء نے اسکا باوز پکڑا ۔ اسنے غصے سے اسکی طرف دیکھا۔ وہ ہلکا سا مسکرائی اور اسکی طرف جھکی۔
“میرے ساتھ بے وفائی کر کے تم نے اپنی محبت کی موت جو دعوت دی ہے، اپنی بیوی کو بچا کر رکھنا، کبھی بھی ٹرک، گاڑی کچل کر جا سکتی ہے ” وہ سفاکی سے سب بول رہی تھی۔ بلاج جہاں تھا وہی تھم گیا، وہ ابھی تک اسکے بازو کو پکڑے ہوۓ تھی۔ میرال نے کن اکھیوں سے ان دنوں کو دیکھا۔ اسے اسماء پر بے حد غصہ آیا۔ اسنے غصے میں اپنے بیگ سے پانی کی بوتل لے کر پانی پیا۔
“میرے ہوتے ہوۓ کوئی میری بیوی کو چھو بھی نہیں سکتا، وہی اسکی گردن اُڑا دوں گا” اپنا بازو زور سے جھٹکاتے ہوۓ وہ سخت لہجے میں بولتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا، اور حسام کے ساتھ خالی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا۔ اسکی بات پر اسماء کھل کر مسکرائی۔ اسکی انکھیں کچھ سوچ کر چمکیں تھیں۔ وہ جانتی تھی چاہیے وہ جو بھی کہے ایک ڈر تو اسکے دل میں آ چکا ہے، وہ اسکی کمزوری جان چکی تھی۔ ابھی اسے بس اس کمزوری سے کھیلنا تھا۔
“تم لوگوں نے اسماء عالم کو بہت ہلکے میں لیا ہے، بس کچھ دیر پھر مزہ اۓ گا” وہ اپنی گھڑی پر وقت دیکھتے پر اسرا مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی۔
“دس نو آٹھ سات چھے پانچ چار تین دو اور یہ ایک بمممم” وہ ہولے سے گنتی گن رہی تھی۔
“میرال میرال کیا ہوا؟” تبھی پیچھے سے مشی کی گھبراہٹ سے بھری آواز سنائی دی۔ سبھی نے اسکی طرف دیکھا۔ جہاں میرال کا پورا چہرا لال ہو رہا تھا آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے، اسے سانس لینے میں پریشانی ہو رہی تھی، وہ اپنے گلے کو پکڑے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ بلاج نے جب اسکی یہ حالت دیکھی تو جھٹ سے اسکے پاس آیا۔ اسماء نے مسکرا کر میرال کی حالت دیکھی۔ وہ دلی طور پر مطمین ہوئی تھی۔
“میرال کیا ہوا؟ تم۔۔۔۔ پانی دو۔۔۔۔ ” وہ چلایا تھا۔ اسے کندھوں سے پکڑے وہ اسکے پاس موجود تھا۔ میرال نے اسکا ہاتھ زور سے پکڑ لیا۔ اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ بلاج کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ یوں اچانک اسے کیا ہو گیا۔ تبھی اسکے منہ سے جھاگ نکلنے لگے۔ اب صحیح معانوں میں بلاج کے پاؤں تلے زمین کھسکی۔ اپنے سامنے وہ اپنی بیوی کو اس حال میں دیکھ رہا تھا۔ اب اسے معاملا سمجھ ایا۔ اسنے جھٹ سے اسے بازوں میں اُٹھایا۔ اور باہر کی طرف بھاگا۔ آس پاس دہشت کا ماحول بن چکا تھا۔ حسام بھی اسکے پیچھے بھاگا۔ وہ جلدی سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر اسے لے کر بیٹھا۔ حسام ڈرائیونگ سیٹ سھنمبال اور گاڑی چلا دی۔
“میرال، چشمش پلیز آنکھیں بند مت کرنا ، میرو، پلیز دیکھو تمہارا بلاج تمہارے بنا مر جاۓ گا، پلیز مجھے چھوڑ کر مت جانا” وہ اسے مسلسل اُٹھاۓ رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اگر وہ سو جاتی تو معاملا بگڑجاتا۔ وہ گہرے سانس لے رہی تھی۔ اور اپنی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش میں تھی۔
“حسام گاڑی تیز چلا” وہ چلایا۔
“بببببببلل” وہ اسکا نام پکارنا چاہتی تھی، ایسے شخص کا نام جو اسے اس دنیا میں سب سے پیارا تھا۔ وہ نم آنکھوں کو بامشکل کھول کر اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ جو اسکی خاطر رو رہا تھا۔ اسکا شوہر اسکے لیے رو رہا تھا، اسنے کانپتا ہاتھ اُٹھا کر اسکی گال پر رکھا۔ ساتھ وہ گہرے گہرے سانس کے رہی تھی۔ اسکے منہ سے ابھی بھی جھاگ نکل رہی تھی۔پر وہ اسے کیسے روتا دیکھ سکتی تھی۔
“میرو پلیز ہمت کرو ہم بس پہنچنے والے ہیں، تمہیں کچھ نہیں ہو گا” وہ اسکے چہرے پر آتے پسینے کو صاف کرتے ہوۓ نم لہجے میں بولا۔ میرال کو ایک دم سے اپنا دماغ معاؤف ہوتا محسوس ہوا۔ بلاج کا چہرا آہستہ آہستہ کالی گہرئی میں جاتا محسوس ہوا۔ اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں، اسکی گال پر لگا اسکا ہاتھ ڈھلک چکا تھا۔ اسکی انکھیں بند ہو گئیں۔
“میرال میراللللللل” وہ چختے ہوۓ اسکا نام پکار رہا تھا۔ پر وہ کہاں سنتی وہ تو نیند کی آغوش میں جا چکی تھی۔ گاڑی چلاتے حسام کے ہاتھ بھی لڑکھڑاۓ، اسنے پیچھے دیکھ بلاج پاگلوں کی طرح اسے اُٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسکے دل سے ایک دم اپنے دوست کی خوشیوں کی سلامتی کی دعائیں نکلیں اسنے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی۔ اگلے ایک منٹ میں وہ ہسپتال پہنچ گے۔ میرال کو سٹریچر پر لٹا کر ایمرجنسی روم میں لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے جلدی سے اسکا چیک اپ کیا۔
“یہ سوسائیڈ کیس ہے، پولیس کی ضرورت یے، لڑکی نے زہر کھایا ہے” ڈاکٹر فوراً بولا۔
“اسنے سوسائیڈ نہیں کیا ،یہ میری بیوی ہے، اسکا ابھی اسی وقت علاج کرو ورنہ پورے ہسپتال کو برباد کر دوں گا، تم مجھے جانتے نہیں، میری بیوی مر رہی ہے اور تم لوگوں کو پولیس کی پڑی ہے، پولیس بھی آ جاۓ گی پہلے تم علاج کرو” اسنے ڈاکٹر کو کالر سے پکڑتے طیش میں آکر بولا۔
“جی جی میں کرتا ہوں” ڈاکٹر فوراً بولا۔ اور میرال کوآپریشن تھیٹر میں شفٹ کر دیا گیا۔
حسام نے پولیس کو فون کیا۔ بلاج وہی آپریشن تھیٹر کے دروازے کے پاس زمین پر بیٹھ گیا۔ اسنے اپنا چہرہ گھٹنوں پر جھکا لیا اور رونے لگ گیا۔ آتا جاتا بندہ حیرانگی سے اتنے لمبے چوڑے مرد کو روتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ حسام نے اگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا۔
“پاگل ہے وہ ٹھیک ہو جاۓ گی، وہ بہت بہادر ہے، بلاج حمدانی کی بیوی ہے اتنی کمزور تو نہیں ہو سکتی” وہ اسے ہمت دے رہا تھا۔ تبھی وہاں امرحہ ہارون ، فرحت میم، اور اسد سر پہنچے۔
“بلاج” اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے امرحہ نے پکارا۔ بلاج نے چہرا اُٹھا کر اسے دیکھا۔ امرحہ کو آج پہلی دفع محسوس ہوا میرال کے لیے وہ کتنا پاگل ہے، اسے کھونے کے ڈر سے وہ پاگلوں کی طرح رو رہا ہے۔
“تم دونوں چاہتے تھے وہ میری زندگی سے چلی جاۓ دیکھو آج وہ سچ میں جا رہی ہے، مجھے چھوڑ کر” وہ ان دونوں کو دیکھتے ہوۓ ٹوٹے لہجے میں بولا۔ ہارون نے چہرہ موڑ لیا۔ اسکی آنکھیں آنسوں سے بھر گئیں تھیں۔
“پاگل ہو اسے کچھ نہیں ہو گا تم یہاں آکر بیٹھو” امرحہ نے اسے اُٹھایا اور پاس پڑی کرسی پر بیٹھایا۔
“یا اللہ اسے بچا لے” اپنا چہرا ہاتھ پر گڑاۓ اسکے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوۓ، سالوں سے وہ اپنے رب سے غافل تھا، نماز ادا کرنا بھول چکا تھا۔ آج جب مشکل وقت آیا تو اسکے منہ سے رب کا نام نکلا۔ وہ رب سے اسکی زندگی کی بھیگ مانگ رہا تھا۔ دور کھڑے سر اسد جو اسے ہمیشہ بدتمیز، اور بگڑا ہوا امیرزادہ سمجھتے تھے، آج اسے یوں دیکھ کر انہیں احساس ہوا جو انسان باہر سے اتنا سخت بننے کی کوشش کرتا ہے، وہ اندر سے کتنا نرم ہے
“میرال کہاں ہے؟ وہ کیسی ہے؟” مشی انکے پاس آ کر روتے ہوۓ بولی۔ وہ ابھی ہسپتال پہنچی تھی۔
“اندر آپریشن روم میں ہے، اسنے زہر کھا لیا تھا، پتہ نہیں کیسے کچھ سمجھ نہیں آئی شائد کسی چیز میں مکس تھا” حسام اپنا ماتھا مسلتا ہوا بولا
“یا اللہ زہر” مشی کی تو پوری آنکھیں ہی پھیل گیی۔ وہ وہی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اور اسکے لیے دعائیں مانگنے لگی۔
“ایک گھنٹے بعد ڈاکٹر باہر آۓ۔
“وہ کیسی ہے؟” بلاج ایک دم سے انکے پاس آ کر سوالیہ انداز میں بولا۔
“زہر کافی زہریلا تھا۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے، انکی جان بچ گئی، ہم نے انکا پورا معدہ واش کیا ہے، زہر کے پھیلنے کی وجہ سے مریض کا گلا سوج چکا ہے،کچھ دن بولنے میں مشکل ہو گی۔ کچھ دیر میں ہم انہیں روم میں شفٹ کر دیں گے، کچھ گھنٹوں بعد انکا ہوش آ جاۓ” ڈاکٹر تفصیل سے سب بتا کر جا چکا تھا۔ سب نے خدا کا شکر ادا کیا۔۔ پولیس پہنچ چکی تھی اب سبکے بیان لے رہی تھی۔ بلاج جانتا تھا یہ کس نے کیا ہے۔ پر اسنے نام نہیں لیا۔ پولیس جا چکی تھی۔ ہارون بھی چلا گیا۔ میرال کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔
وہ وہی اسکے پاس کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا، سامنے بیڈ پر وہ چت لیٹی ہوئی تھی، آنکھیں بند تھیں، چہرا ایک دم پھیکا ہو گیا تھا، ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ بلاج اسکا دوسرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا اور بے صبری سے اسکے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ جب وہ گاڑی میں بے ہوش ہوئی تھی۔ بلاج کو لگا اسنے اسے کھو دیا۔ مشی ایک طرف بینچ پر بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔ حسام نے اسے یوں چپ چاپ دیکھا تو اسکے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
“وہ ٹھیک ہے تم پریشان مت ہو” وہ گہرا سانس لے کر بولا۔
“یہ سب میری بہن اسماء آپی نے کیا ہے” وہ ہاتھ مسلتے ہوۓ بولی۔ حسام چونکا۔ اسکے امرحہ اور بلاج بھی اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔
“تمہیں کیسے معلوم ؟”
“جس دن سے انہیں بلاج اور میرال کے نکاح کا معلوم ہوا تھا، انہوں نے گھر جا کر بہت توڑ پھوڑ کی، پھر اگلے دن وہ ایک دم سے نارمل ہو گئیں میں حیران تھی۔ وہ پرسکون تو تھیں پر انکی حرکتیں عجیب عجیب تھیں، یہ کہنا تھوڑا عجیب ہو گا، میں نے انہیں اکیکے میں خود سے باتیں کرتے دیکھا یے، اور آج صبح جب ہم یونی آ رہے تھے، تب انہوں نے ایک پلاسٹک کی بوتل پکڑی تھی، میں حیران اس لیے ہوئی آج سے پہلے کبھی وہ پانی لے کر یونی نہیں گئیں، تھیں۔ میں نے جب پوچھا تو وہ بولیں، بس کسی کے چھکے چھڑانے ہیں، مجھے کچھ سمجھ نا آئی، میں نے اگنور کر دیا۔پر جب۔۔۔۔۔” وہ بولتے بولتے روکی تھی۔
“پر کیا؟”
“پر جب میرال کو لے کر گے تھے، تب وہاں میں وہی بوتل گڑی دیکھائی دی، جسکو پی کر میرال کی یہ حالت ہوئی، کچھ دیر پہلے وہ اسی بوتل۔ سے پانی پی رہی تھی۔ میں نے غو رنہیں کیا اگر کر لیتی تو شائد وہ ابھی ٹھیک ہوتی۔ اس بوتل میں زہر تھا” وہ اپنا سر ہاتھوں میں سر گِرا کر بولی۔ سبھی کو جیسے چپی سی لگ گئی۔ بلاج کا بس چلتا تو ابھی کے ابھی اسماء کا حشر نشر کر دیتا۔
“مجھے معلوم ہے یہ حرکت اسی کی ہے، صبح ہی وہ مجھے دھمکی دے رہی تھی” بلاج نے گہرا سانس لے کر سب بتایا۔
بلاج تجھے پتہ ہے، یہ سب اسماء نے کیا صبح اسنے دھمکی بھی دی تو پولیس کو اسکا نام کیوں نہیں لیا؟” حسام نے فوراً کہا۔
“پولیس کیا اسے پکڑے گی، اسکو تو اب قبر تک میں پہنچاؤں گا، میرے پاس کچھ ایسا ہے، جس سے سب کے منہ بند ہو جائیں گے” وہ آنکھوں میں نفرت لیے بولا تھا۔ جسنے اسکی جان سے پیاری بیوی کو اتنی اذیت دی بھلا وہ اسے کیسے جانے دے سکتا ہے۔ سبھی خاموش ہو گے۔ مشی کو شرمندگی سی ہوئی اسکی بہن کی وجہ سے اسکی دوست کا یہ حال ہوا۔ وہ ایکسوزمی کہتی کمرے سے نکلی حسام نے اسکی روتی آنکھیں دیکھ لیں وہ بھی اسکے پیچھے چلا گیا۔
وہ روتی ہوئی ہسپتال کے باہر آ گئی۔
“مشی روکو” حسام نے اسکے سامنے آ کر اسے روکا۔ وہ نظریں چرا رہی تھی۔
“اس میں رونے والی کیا بات ہے” اپنا رومال نکال کر اسکو پکڑتے ہوۓ بولا۔
“وہ میری بہن یے، تو اب میں کیسے میرال کو اپنا چہرہ دیکھا سکتی ہوں، کتنی شرمندگی ہو رہی ہے” وہ اپنے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی۔ ساتھ سوں سوں کرتے چہرہ جھکا لیا۔
“تم نے بالکل ٹھیک کہا وہ تمہاری بہن یے، یہ سب اسنے کیا۔ تم نے نہیں، شرمندگی اسے ہونی چاہیے تمہیں نہیں، میرال تمہاری دوست ہے، تمہیں اسکے پاس ہونا چاہیے، آئی سمجھ چوہیا” وہ ہلکا سا جھک کر بولا۔
“ہممم” اسنے سر ہاں میں ہلا دیا۔ اسے وہ کیوٹ لگی۔ بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ اسنے سمیٹی۔
“ویسے چوہیا تم روتے ہوۓ کافی کیوٹ لگتی ہو” وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔ مشی نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوۓ اسکی طرف دیکھا۔
“ویسے آجکل تم کیوں مجھ پر اتنا مہربان ہو رہے ہو کیا چاہیے؟ ” پورا شکی انداز تھا۔
“مجھے حیات عالم چاہیے ” حسام نے اسکی چھوٹی سی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا۔ مشی کی آنکھیں پھیل گئی۔ اور منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ کیسے کھلم کھلا اظہار کر رہا تھا، مشی کو وہ کہی سے مزاق نا لگا۔
” منہ بند کرو مکھی چلی جاۓ گی چلو اندر” وہ سنجیدگی سے کہتا اندر کی طرف بڑھ گیا۔ وہ اپنے قدم تقربیاً گھسیٹتی ہوئی اسکے پیچھے چل دی۔
پانچ گھنٹے بعد اسے تھوڑا سا ہوش آیا، وہ بے چین تھی، ڈاکٹر نے اسے نیند آوار انجکشن دے کر سلا دیا۔ وہ ابھی پرسکون سی گہری نیند میں سو رہی تھی۔ شام کے ساۓ ڈھل چکے تھے، صبح سے سب بھوکے تھے، امرحہ اور مشی کھانے کو کچھ لینے گئیں۔ بلاج ابھی تک ویسے ہی بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔
“بلاج کیا ہوا؟ وہ ٹھیک ہے، فکر مت کر، کوئی اور بات پریشان کر رہی ہے تو شئیر کر ” حسام اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ بولا بلاج نے گہرا سانس خارج کیا۔
“یہ سب میری وجہ سے ہوا، میں نے میرال پروٹیکشن کے لیے یوں شادی کی تھی، پر مجھے کیا معلوم تھا، میری وجہ سے وہ اس حال میں پہنچے گی، اس سے اچھا ہوتا میں اس سے دور رہتا” وہ کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولا۔
“پورا پاگل ہے، یہ بات اسکے سامنے مت بول دینا، پہلے والی غلطی معاف کر چکی ہے، اگلی معاف نہیں کرے گے۔ کبھی تو نے اسکا چہرا اس وقت دیکھا ہے جب تو اسکے ساتھ ہوتا ہے، وہ پرسکون مطمین ہوتی ہے تو دوبارہ یہ سب مت سوچنا” حسام اسکے کندھے پر ہاتھ کا دباؤ ڈالتے ہوۓ بولا۔
“ابھی تک معافی کہاں ملی ویسے بہت ضدی ہے، بات چیت تو ٹھیک ہوتی ہے، پر ابھی تک۔ اس بات کے لیے معاف نہیں کیا” وہ جیسے اسکی شکایت لگا رہا تھا۔
“تو اچھی بات ہے، بالکل صحیح سلوک ہو رہا ہے، جو تو نے اس بچاری کے ساتھ کیا تھا تجھے تو تین چار سال معافی نہیں ملنی چاہیے” حسام دانت نکالتے ہوۓ بولا۔ بلاج بھی ہنس دیا۔
“اس غلطی کے لیے تو ساری زندگی بھی اگر معافی مانگتا رہو، اور وہ ہر بار انکار کر دے تب بھی اف تک نہیں کروں گا، بس میرے ساتھ رہے ہمیشہ ” وہ میرال کے ہاتھ کو ہونٹوں سے چھوتے ہوۓ نم لہجے میں بولا۔ حسام اپنے یار کی اس حالت پر دل سے مسکرایا۔ کہاں وہ سب کے لیے کھڑوس، بدتمیز تھا اور کہاں وہ اپنی متاعِ جان کے لیے یوں جھکا ہوا تھا۔ وہ محبت کی اس ادا پر مسکرایا تھا۔ محبت انسان سے کیا کچھ نہیں کرواتی۔
“میں زرا لڑکیوں کو دیکھ کر آؤں کہاں رہ گئیں، بھوک سے جان نکل رہی ہے” حسام کھڑا ہو کر بولا۔ اور باہر چلا گیا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی۔ کہ میرال نے ہولے سے آنکھیں کھولیں۔ اسکی پہلی نظر ہی بلاج پر پڑی جو اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اس پر اپنا سر جھکاۓ بیٹھا ہوا تھا۔
“بببمممم” اسنے بولنے کی کوشش کی۔ بلاج چونکا۔ اسے جاگتا دیکھ وہ جھٹ سے اسکے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔
“میرال” اسکے چہرے کے گرد اپنے دونوں ہاتھ رکھتے اسنے نم لہجے میں اسکا نام پکارا۔ میرال نے اپنا ہاتھ اسکی گال پر رکھا۔ دو آنسوں اسکی آنکھوں سے نکل کر تکیے میں ڈوب گے۔ بلاج نے اگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر محبت سے بوسہ دیا۔ میرال نے آنکھیں بند کرتے اسکا لمس محسوس کیا۔ آنکھوں سے دو قطرے مزید نکلے۔ آج صبح گاڑی میں اسے لگا شائد وہ اسکا چہرہ آخری دفع دیکھ رہی ہے۔ اب اسے اپنے سامنے دیکھ وہ پرسکون تھی۔
“شکر ہے تم ٹھیک ہو” وہ اسکے بالوں کو سہلاتے ہوۓ بولا۔
“پپپ” میرال نے بولنے کی کوشش کی پر آواز ہی نا نکلی وہ پریشان ہو گئی
“کچھ نہیں ہوا بس کچھ دن بعد صحیح سے بولنا شروع کر دو گی، ابھی تم بس چپ کر کے میری سنو۔ ویسے چار پانچ دن میں کافی بولنے والا ہوں” وہ نارمل لہجے میں بولا۔ اور پاس پڑا پانی گلاس میں ڈال کر اسکے کندھوں کے گرد اپنا بازو لپیٹتے اسے سہارا دیا وہ ہلکا سا بیٹھی بلاج نے اسے پانی پلایا۔ پانی پیتے اسے کافی چلن ہوئی کہ آنکھوں سے پانی نکل آیا۔۔ بلاج نے اسکے درد کو اپنے اندر محسوس کیا۔ اور اسے سینے سے لگا لیا۔ دروازہ کھول کر حسام امرحہ اور مشی اندر داخل ہوۓ۔
“اوپس سوری ہم نے ڈسٹرب کر دیا” حسام انہیں چھیرتے ہوۓ بولا۔ میرال ایک دم سے سرخ ہوئی۔ بلاج نے اسے واپس بیڈ پر لٹایا۔ مشی اس سے ملی۔۔۔ امرحہ نے میرال سے اپنے الفاظوں کی معافی بھی مانگی تھی جسے اسنے مسکرا کر معاف کر دیا۔ وہ لوگ گیارہ بجے کے بعد چلے گے، بلاج اکیلا ہی یہاں رکا کیونکہ یہاں کسی ایک کو ہی رکنے کی اجازت تھی۔ وہ وہی کرسی پر بیٹھا اسے تک رہا تھا۔میرال نے بھوریں اچکا کر جیسے پوچھا کیا ہوا؟
“تمہیں پتہ جب تم گاڑی میں بے ہوش ہوئی، جب تمہارا ہاتھ لہرا کر نیچے گڑا نا اس وقت مجھے محسوس ہوا تم میرا ساتھ چھوڑ گئی۔ اس وقت۔ ہممممم اس وقت مجھے تمہاری تقلیف محسوس ہوئی جب میں نے تمہیں اچانک چھوڑ دیا تھا۔ تب تم پر کیسے بیتی ہو گی، اس بات کا احساس مجھے آج ہوا۔ مجھے لگا تم مجھے اس بات کی سزا دو گی۔ پر سزا اتنی بری ہو گی یہ میں نے سوچا نہیں تھا،
میرا مجھے معاف کر دو، اس سب کے لیے جو میں جے تمہارے ساتھ کیا، میں شیلفش ہو گیا میں نے اس وقت صرف اپنا سوچا، اپنی دوستی کا سوچا، میں نے تمہارے بارے میں نہیں سوچا تمہیں کیسا لگے گا، تم یہ چاہتی بھی ہو کہ نہیں، ایم سوری” وہ شرمندگی سے بھررے لہجے میں بولا اور سر جھکا لیا۔میرال نے اسکی باتیں سن کر اسکا ہاتھ بیڈ پر سیدھا کر کے رکھا۔ اور اسکی ہتھیلی پر انگلی کی مدد سے کچھ لکھنے لگی۔ بلاج غور سے محسوس کرنے لگا وہ کیا لکھ رہی ہے۔
“میرا تمہارے ساتھ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ میں تمہیں معاف کر چکی ہوں” وہ اسکی ہتھیلی پر لکھ رہی تھی اور وہ ایک ایک لفظ پڑھ رہا تھا۔ وہ کھل کر مسکرایا۔
“تھینک یو میری جان تھینک یو” وہ اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ اپنا سر اسکے ماتھے سے ٹکاتے ہوۓ نم لہجے میں بولا۔
جاری ہے۔۔
