55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

“کیا مطلب ہے تمہارا؟ وہ ایسے کیسے تمہاری نظروں کے سامنے سے بھاگ سکتا ہے؟” سکندر حمدانی اپنے فون پر کسی آدمی پر چِلا رہے تھے۔ کیونکہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی انہیں پتہ چلا کہ بلاج پاکستان کے لیے نکل چکا ہے۔
“سر! بس دس منٹ کی دیری کی وجہ سے وہ ہاتھوں سے نکل گے، ورنہ ہم بلاج صاحب کو ضرور پکڑلیتے” آگے سے آدمی اپنی صفائی دے رہا تھا۔
“ہنہہ پکڑ لیتے، جانتا ہوں کتنے کو تم تیز ہو، پہلے بھی وہ چکمہ دے کر بھاگ چکا ہے، خیر تم سب سے تو بعد میں نپٹوں گا،ابھی فل حال مجھے بلاج کو سبق سیکھانا ہے” سکندر حمدانی نے کہ کر فون کاٹ دیا اور موبائل پر کسی کو میسج کرنے لگے۔
“بلاج سکندر تم شائد بھول گے ہو اگر تم میرے بیٹے ہو کر اتنے شاطر ہو سکتے ہو تو میں تو تمہارا باپ ہوں، اور باپ سے اگے تم کبھی نکل نہیں سکتے” وہ میسج کرتے یوں بات کر رہے تھے جیسے بلاج انکے سامنے ہی ہو۔


یہاں آۓ اسے دو دن ہو چکے تھے آگے کیا کرنا ہے وہ سب سوچ چکی تھی، ابھی بس رات کو ملائکہ سے بات کرنی تھی۔ انہی سوچوں کے بھور میں پھنسی وہ چھت پے تار پر پڑے کپڑے اتار رہی تھی۔ جب اچانک اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔
آہ! وہ ایک دم ڈر کے مارے چیخی تھی۔ جب کسی نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا۔میرال نے پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔
“چپ! خبردار اگر آواز نکالی میں ہاتھ ہٹا رہا ہوں” سامنے کھڑے شخص نے کہتے ہوۓ ہاتھ ہٹایا۔
“باسط بھائی یہ کوئی طریقہ ہے، کسی سے بات کرنے کا، آپ نے ڈرا دیا” اسکے ہاتھ ہٹاتے ہی وہ غصے سے بولی۔ اور جلدی سے ڈوپٹہ سر پر لیا۔
آہ! یہ بھائی بول کر دل پر چھڑیاں مت چلاؤ، اتنی حسین و جمیل لڑکی کے منہ سے خود کے لیے بھائی کا لفظ سننے سے پہلے موت قبول ہے۔ باسط نے اگے بڑھ کر اسکے چہرے سے بال ہٹانے چاہے۔ جب میرال نے غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔
“باسط بھائی اگر اپنی حد میں رہیں گے تو بہتر ہو گا، ورنہ مجھے اپ جیسے لڑکوں کو انکی حد میں رکھنا خوب آتا ہے” وہ انگلی اُٹھا کر تیز لہجے میں اسے وارنگ دیتے ہوۓ بولی۔ شروع سے ہی اسے باسط اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ ہمیشہ اسکی غلیظ نظریں خود پر محسوس کرتی تھی۔ اور ہمیشہ اس سے دور رہنے کی کوشش کرتی۔ یہاں آنے کے بعد سٹیشن کی ملاقات کے بعد اب وہ اس سے مل رہی تھی۔
“اووو غرور ہممم مجھے نا تم جیسی نڈر اور مظبوط لڑکیاں بہت اچھی لگتیں ہیں جب تم جیسی لڑکیوں کا غرور ٹوٹ کا چکنا چوڑ ہوتا ہے تو مجھے بہت مزہ اتا ہے۔ اور تمہارے غرور کو بہت جلد میں توڑوں گا، بہت جلد تم سے شادی کر کے تمہارے ہر کاٹوں گا” باسط ہنستے ہوۓ بولا تھا۔ میرال کو اسکی ذہنی سوچ پر حیرانگی ہوئی۔ وہ کیا سوچے بیٹھا تھا۔
“تھوڑی سی شرم کر لیں، مجھ سے کس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، اور یہ مت بھولیں شادی شدہ ہیں اور بیٹا بھی ہے، اسی کو سوچ کر اپنی گھٹیا سوچ پر بندھ باندھیں” میرال کا بس نہیں چل رہا تھا وہ سامنے کھڑے شخص کو کھینچ کر تھپڑ مار دے۔ پر یہاں وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی وہ انہی کے گھر میں رہ رہی تھی۔
“شرم ہمممم نہیں شرم تو میرے پاس سے ہو کر بھی نہیں گزری، اور شادی تو اماں کی وجہ سے کر لی، مجھے وہ بالکل پسند نہیں مجھے تو تم جیسی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں” وہ خباثت سے مسکراتے ہوۓ بولا۔ میرال نے غصے سے مٹھیاں بھیچیں۔
“میرال کپڑے لے کر نیچے آ بھی جاؤ” اس سے پہلے کے میرال کچھ جواب دیتی نیچے سے ملائکہ کی آواز آئی۔ اسنے شکر ادا کیا اور آخری کپڑا پکڑ کر سخت نظروں سے اسے گھورتے نیچے چلی گئی۔
“واہ۔ اسکا گھمنڈ توڑنے میں مزہ اۓ گا۔ بری دیر بعد اسکے جیسی لڑکی ملی” باسط اسکو جاتے ہوۓ دیکھ کر خود سے بولا۔۔۔
میرال اور ملائکہ لاہور میں اپنی ماں کے ساتھ رہتیں تھیں۔ انکے والد کا انتقال دس سال قبل ہی ہو گیا تھا۔ ملائکہ کی شادی کسی جاننے والے کے کہنے پر عامر سے کروائی۔ پہلے پہل تو امینہ بیگم کا رویہ بہت اچھا تھا پر وقت کے ساتھ وہ تلخ ہوتی گئی۔ وجہ ملائکہ کا جہیز میں زیادہ کچھ نا لانا تھا۔ حانکہ عامر کی سوچ ان سے مختلف تھی۔ وہ اپنی بیوی کو عزت اور محبت سے رکھتا۔ انکی ایک بیٹی نمرہ تھی۔ تقی، اور باسط ملائکہ کے دیور تھے۔ دونوں ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ باسط بالکل اپنی ماں کی طرح لالچی اور بدتمیز تھا۔ اسکی بھی شادی ہو چکی تھی۔ پر اسکی سوچ گھٹیا تھی۔ تقی ایک ہنس مکھ شخص تھا۔ جو کہ ایم بی اے کے پہلے سال مین تھا۔ میرال کو اپنی والدہ کے اچانک انتقال کے بعد ملائکہ کے ساتھ آنا پڑا کیونکہ وہاں کوئی رشتے دار اسکو اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتا تھا۔


“واہ آنٹی اپکے ہاتھوں میں تو جادو ہے، قسم سے میں تو اپکے کھانوں کا دیوانہ ہوں” حسام بریانی کا چمچ بڑھ کر منہ میں ڈالتے ہوۓ بولا۔ وہ پانچوں اس وقت عائشہ کے گھر پر موجود تھے۔ اور رات کے ڈنر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
“شکریہ بیٹے میں تو آپ سب کا انتظار کرتی ہوں کب میرے بچے آئیں گے، اور میں مزے مزے کا کھانا بنا کرکھلاؤں گی” روبینہ بیگم نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا۔
“اسی لیے تو آپ ہماری فیورٹ آنٹی ہیں، سب سے سویٹ اور پیاری امرحہ نے انہیں گلے سے لگاتے ہوۓ مسکرا کر کہا۔
” ہاں اب بس بٹرنگ کرنا بند کرو،میں سب جانتی ہوں ” روبینہ بیگم نے ہنستے ہوۓ کہا۔ امرحہ مسکراتے ہوۓ اپنی جگہ پر آکر بیٹھی۔
“آنٹی آپ ہمارے خالص پیار کو بٹرنگ سے کمپیر کر رہی ہیں اس بات پر تو بھائی صاحب سوسائیٹ بنتا ہے، باسط اپنی کرسی پر کھڑا ہوتا ہوا دکھ بھرے لہجے میں بولا۔
” اؤے نوٹکنی بیٹھ نیچے” بلاج پاس پڑی ٹوکری سے مالٹا پکڑ کر اسکی طرف اچھالا جِسے اسنے بہت اچھے سے کیچ کیا۔ روبیہ بیگم نے مسکرا کر پانچوں کی طرف دیکھا، جب انکی نظر خاموشی سے سر جھکاۓ مسکراتے ہوۓ ہارون پر پڑی۔
“ہارون بیٹے تم کچھ کھا نہیں رہے یہ کباب ٹرائی کرو”
“جی انٹی” اسنے ہلکا سا مسکرا کر کباب اپنی پلیٹ میں رکھا اور کھانے لگا۔
“آج تو تم سب کی یونی اوپن ہو گئی تھی تو گے کیوں نہیں؟” انہوں نے کچھ یاد آنے پر سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھا۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
“بس آنٹی کسی کا جوش ٹھنڈا ہونے کا انتظار کر رہے تھے” حسام نے بلاج کو دیکھتے ہوۓ کہا۔ جس نے سخت نظروں سے اسے گھورا پر اس پر کہاں کوئی فرق پڑنے والا تھا۔
“کیا مطلب ؟” روبینہ بیگم نے ناسمجھی سے پوچھا۔
” کچھ نہیں مام کل سے جوائن کر رہے ہیں ویسے بھی اج تو کلاسس نہیں ہونی تھیں، اور کچھ تیاری بھی کرنی تھی” عائشہ نے فوراً بات سھنمبالی۔ جسے سن کر روبینہ بیگم نے اوکے کہا۔ سبھی وہاں کافی دیر باتیں کرتے رہے۔ اور رات کے وقت اپنے اپنے گھر گے۔


آپی آپ سے ایک بات کرنی ہے، ملائکہ نمرہ کا سُلا رہی تھی جب میرال اسکے کمرے میں داخل ہوئی۔ عامر ایک طرف بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا۔
“ہاں آجاؤ” ملائکہ نے نمرہ کے اوپر چادر ٹھیک سے دیتے ہوۓ۔ میرال اسکے ہاس بیڈ پر آکر بیٹھ گئی۔
“اپ جانتی ہو نا میں نے سیکنڈ ایر کے پیپرز دینے کے فوراً بعد کراچی کی یونی میں بی بی اے میں سکالر شیپ کے لیے اپلائی کیا تھا اور ریزلٹ کا انتظار کر رہی تھی” وہ سر جھکاۓ بول رہی تھی۔
” ہاں پتہ ہے کیوں کیا ہوا؟” ملائکہ نے نا سمجھی سے کہا۔
“ایک ہفتے پہلے مجھے میل آئی تھی کہ میں سلیکٹ ہو گئی۔ مجھے سکالر شیپ کے ساتھ ایڈمیشن مل گیا ہے” وہ بول رہی تھی۔ پر مسکراہٹ اسکے چہرے پر نا تھی۔
” ارے واہ مبارک ہو، میری بہن تو ہے ہی ذہین، سیکنڈ ایر میں بھی اتنے اچھے نمبرز لیے، اللہ تمہیں کامیاب کرے۔ ملائیکہ نے اسے گلے سے لگاتے ہوۓ کہا۔وہ نا چاہتے ہوۓ بھی ہلکا سا مسکرائی۔
” آپ تو جانتی ہیں اگر امی زندہ ہوتیں تو ہم نے یہاں شیفٹ ہو جانا تھا پر اب۔۔۔۔۔ خیر کل سے یونی شروع ہونے والی ہے، کلاسس شروع ہو جائیں گی۔ مجھے کل یونی میں جانا ہو گا” وہ چہرے جھکاۓ ضبط سے بولی۔
“میرال تم پریشان نا ہو۔ تمہاری آپی اور میں ابھی زندہ ہیں، تمہیں کسی قسم۔ کی تقلیف نہیں ہو گی جس چیز کی ضرورت وہ بلا جھجک بتانا، تمہارا ایدمیشن تقی کی یونی میں ہوا ہے؟ عامر جو کب سے انکی باتیں سن رہا تھا۔ میرال کی آخری بات سن کر بولا۔
” جی تقی بھائی کی ہی یونی میں ہوا ہے” وہ ہان میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔
” تو پریشانی والی کوئی بات ہی نہیں، میں صبح ہی اسے کہوں گا تمہاری ساری فامیلٹرز کلیر کر دے” عامر اپنا لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھ کر بولا۔
“جی۔۔۔ پر مجھے ایک اور بات کرنی ہے” وہ ملائکہ کو دیکھ کر بولی۔
بولو کیا بات کرنی ہے” ملائکہ نے اسکی جھجک محسوس کی تو فوراً بولی۔
” وہ یونی یہاں سے ایک گھنٹے ہی دوری پر ہے،تو میں چاہتی ہوں کہ میں ہوسٹل شیفٹ ہو جاؤ، وقت بھی ضائع نہیں ہو گا اور پڑھائی بھی اچھے سے ہو جاۓ گی” وہ ہاتھ مرورتے ہوۓ بولی اور دل میں دعا کی کے آپی مان جاۓ۔
” میرال یہاں کوئی پریشانی ہے، امی نے کچھ کہا؟” عامر نے سب سن کر کہا۔
” نہیں عامر بھائی یہاں سب بہت اچھے ہیں، بس میں پرھائی میں زیادہ دھیان دینا چاہتی ہوں اسی لیے، پلیز آپ برا مت مانیے گا” وہ فوراً بولی کہی اسے برا نا لگ جاۓ۔
” عامر آپ تو جانتے ہیں یہ پڑھائی میں کھوئی رہتی تھی، کھانے پینے تک کا ہوش نہیں ہوتا تھا۔ اسی لیے تو اتنے اچھے نمبر لیتی تھی، ابھی بھی پڑھائی کے بارے میں سوچ رہی ہے، کوئی بات نہین تم ہوسٹل شفٹ ہو جاو۔ پر وعدہ کرو، ہر اتوار کو ملنے آیا کرو گی اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو فوراً بلا جھجک مانگ لو گی” ملائکہ نے اسکی پریشان بھانپ پر کہا۔
” ٹھیک ہے وعدہ رہا” میرال ہلکا سا مسکر اکر بولی۔ ملائکہ نے اسے گلے سے لگا لیا۔ میرال نے شکر ادا کیا وہ جلدی مان گئی۔ وہ باسط کی وجہ سے یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی۔ وہ جانتی تھی اگر یہاں رہی تو وہ تنگ کرتا رہے گا اسی لیے وہ ہاسٹل جانا چاہتی تھی۔ ملائکہ کی ساس کے طعنوں سے بچنا چاہتی تھی۔ اور سکون سے پڑھائی کرنا چاہتی تھی۔ جسکے لیے اسنے اتنی محنت کی تھی اپنی امی کے خواب پورے کرنا چاہتی تھی۔


باقی سب تو اپنے اپنے گھر چلے گے تھے، چونکہ بلاج انکے ساتھ صبح جب پاکستان پہنچا تب سے وہ انہی کے ساتھ باہر ہی گھوم رہا تھا۔ ابھی وہ حسام کے ساتھ اپنے گھر آیا۔
“چل بڈی صبح یونی میں ملتے ہیں” حسام نے گاڑی اسکے گھر کے سامنے روکتے ہوۓ کہا۔ وہ یہاں اکیلا رہتا تھا۔ حمدانی والا وہ کب کا چھوڑ چکا تھا۔
“چل ٹھیک ہے، صبح یونی میں بھی تو تھلکا مچانا ہے” بلاج پراسرا مسکراہت چہرے پر سجاۓ بولا، حسام اسکا مطلب خوب سمجھتا تھا۔ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ اور دروازے کی طرف برھا۔ حسام ابھی تک وہی کھڑا تھا۔ جب کافی دیر تک بلاج اندر نا گیا تو وہ پریشان سا باہر نکلا آخر معاملا کیا ہے۔
“بڈی کیا ہوا؟ تو اندر کیوں نہیں جا رہا؟” حسام اسکے قریب پہنچ کر اسکے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولا۔ مقابل نے غصے بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ سمجھ گیا معملا غربر ہے۔
“ہاں تو چاچا مالک کو اندر کیوں نہین جانے دے رہے دروازہ کھولو” حسام اب سامنے کھڑے چالیس سال کے محمد دین کو بولا جو کہ یہاں بہت عرصے سے کام کر رہا تھا۔
“ہمیں معاف کر دیں صاحب جی،ہم دروازہ نہیں کھول سکتے، اپکے والد میرا مطلب ہے سکندر حمدانی صاحب کا آڈر ہے کہ بلاج صاحب کو اندر جانے کی آجازت نہیں دینی جب تک وہ نا کہیں، اور دوسری بات کوئی گاڑی بھی استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دینی۔ وہ سر جھکاۓ ڈرتے ہوۓ بولا تھا کیونکہ جانتا اب بلاج کا غصہ پھوٹنے والا ہے۔
کیا بکواس ہے ، چابی نکالو عجیب دماغ خراب کیا ہوا ہے، وہ چلاتے ہوۓ محمد دین کی طرف بڑھا۔
” بلاج ریلکس تم انکل سے بات کر لو، معاملا نپٹ جاۓ گا” حسام نے اسے پکڑ کر ایک طرف کیا اور سمجھانا چاہا۔
” میں اور اس شخص سے بات کروں ہنہہہ ناممکن، برا شوق ہے نا اپنے پیسے کا روب جھارنے کا اب دیکھنا، کل تو صرف ٹریلر دیکھایا تھا اب پوری پکچر دیکھاؤں گا” وہ کہتا ہوا حسام کی گاڑی کی طرف بڑھا اور دروازہ کھول کر اندر بیٹھا ،حسام بھی بھاگتا ہوا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔
“اب کیا کرنے والا ہے، مزید الٹا پلٹا مت کرنا” حسام نے اسے کسی کو فون ملاتے ہوۓ دیکھ کر کہا تھا۔ بلاج نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
“اگلے ایک گھنٹے میں مجھے وہ ویڈیو ساری سوشل میڈیا سائیٹ، اور ہر نیوز چینل پر چاہیے” وہ اتنا بول کر کال کاٹ گیا۔
“بڈی تو سچ مین یہ کرنا چاہتا ہے، پہلے بھی تو انکے ساتھ بہت کچھ کر چکا ہے ان مزید مت کر اس میں تیری عزت بھی داؤ پر لگ جاۓ گی”۔ حسام اسکی پلینگ دو منٹ میں سمجھ گیا۔
اب تو جو ہونا ہے وہ ہو گیا، اب آۓ گا مزہ، ہاہاہا ساری اکڑ نکل جاۓ گی مسٹر سکندر حمدانی کی، جو میں نے اسکے ساتھ کیا وہ تو کچھ بھی نہیں، اسکے مقابل جو انہوں نے میرے ساتھ کیا تھا” وہ لال انگاڑے بھرتی نظروں سے سامنے دیکھتے ہوۓ بول رہا تھا، بہت سی تلخ باتیں اسکے ذہین کے پردے پر لہرائیں۔
“چل چھوڑ میرے گھر چلتے ہیں” وہ اسے دوبارہ سے ماضعی میں جاتے دیکھ کر بولا۔ اور گاڑی کو اپنے گھر کے رستے پر ڈال دیا۔ بلاج نے اپنا سر سیٹ پر ٹکا دیا اور قرب سے آنکھیں میچیں۔


وہ تقی کے ساتھ یونی آ گئی تھی، سب سے پہلے انہوں نے ہاسٹل کی ساری فامیلٹیز پوری کئیں، اسکے بعد آفس مین جا کر اپنے ایڈمیشن کا باقی سارا پراسس پورا کیا، پھر سارا سامان ہاسٹل میں رکھا اور ہاتھ میں رجسٹر اور موبائل پکڑے وہ تقی کے ساتھ یونی کے اندر داخل ہوئی، اس پاس دیکھا تو ہر طرف سٹوڈینٹس ہی سٹوڈینٹس تھے،کچھ گھبڑاۓ ہوۓ،اور کچھ پر اعتماد کچھ گروپس میں بیٹھے ہوۓ باتیں کر رہے تھے۔
اس یونی میں آنا میرال کا خواب تھا وہ ہمیشہ سے چاہتی تھی اس یونی مین ایڈمیشن ہو جاۓ ، انکے پاس اتنے پیسے تو نا تھے جو اتنی بری یونی مین ایڈمیشن مل جاتا۔ تو اسنے محبت اورلگن سے پڑھنا شروع کیا اور اب وہ اسکالر شیپ پر پڑھنے اس یونی میں آئی۔
“ایم سوری، میرال مجھے ابھی جانا پڑے گا تم رائیٹ لے لو پھر تمہارا ڈیپارٹمنٹ ہی ہے۔ سر کلاس میں ا چکے ہیں اور آج میری پریزٹیشن بھی ہے، اپنا خیال رکھنا اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو میسج ی کال کر دینا” تقی اپنے موبائل پر انے والی اپنے دوست کا میسج دیکھ کر پاس کھڑی میرال کو بولا۔
“اوکے میں چلی جاؤں گی، آپ بے فکر ہو کر جاؤ” وہ ہاں میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔ تقی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بھاگا۔
“ہمم میرال نے لمبا سانس لیا اور سرپر ڈوپٹہ ٹھیک کیا اپنے قدم تقی کے بتاۓ رستے پر ڈالے۔ ابھی کچھ ہی دور گئی کے راستہ بھول گیا۔ سامنے فزکس کا ڈیپارٹمنٹ تھا۔
” اف کہی غلط تو نہیں آ گئی” وہ اپنی انگلی دانتوں تلے دباتے ہوۓ ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولی۔تبھی کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔


“رضوان ابھی دیکھنا میں کیا کرتی” مِشی اپنے ساتھ کھڑے رضوان کے کان میں بولی۔ رضوان سمجھ گیا اب وہ کچھ بے وقوفانہ ہی کرے گی۔
“ہاۓ ایماب تم کتنی ڈیرنگ ہو آج اندازہ ہو جاۓ گا” وہ سامنے سے آتی ایماب کو دیکھتے ہوۓ بولی۔ جو کہ جینز اور ٹی شرٹ، کندھے پر ہلکا سا بیگ ڈالے چہرے پر میک اپ کیے انکی طرف ہی آ رہی تھی۔
“کیا مطلب؟” وہ نا سمجھی سے بولی۔ مشی مسکرائی اسکی مسکراہٹ ایماب کو خظرے کی گھنٹی لگی۔
” تم اگر آج دوپہر کے لنچ سے خود کو بچانا چاہتی ہو اگر تن چاہتی ہو ہم تمہارا بٹواہ خالی نا کر دیں تو یہاں پر کسی بھی ایک نیو قمر لڑکی یا لڑکے کو تھپڑ مارو تب مین مان جاؤں گی تم ایماب حیدر ایک ڈیرنگ لڑکی ہے۔ مِشی نے بہت طریقے سے اسے اپنی باتوں میں لیا۔ ایماب نے دونوں کو غصے سے دیکھا۔
“تم دونوں سچ میں چاہتے ہو؟” اسنے دونوں کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
” اگر چاہتی ہو کہ آر ایچ گروپ کا حصہ بنی رہو اس کلاس میں بھی تو تمہیں یہ کرنا ہو گا” مِشی اسے بلیک میل کرتے ہوۓ بولی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی اب وہ مان جاۓ گی۔
” فائن اب تم دیکھتی جاؤ” وہ اپنا پرس مِشی کے حوالے کرتی اگے بڑھی۔ “
دیکھا میرا کمال ” مِشی نے رضوان کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
“اب دیکھتے ہیں وہ کر پاتی ہے کہ نہیں” رضوان سامنے جاتی ایماب کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
ایماب نے اس پاس دیکھا اور بہت کنفیوز اور نیو چہرہ ڈھونڈنے لگی جب اسے میرال نظر آئی جو کہ کنفیوز سی راستہ ڈھونڈتے ایک طرف کھڑی تھی۔ جب اپنے کندھے پر ایماب کو ہاتھ دیکھا تو وہ پلٹی اب کچھ سمجھ پاتی اس سے پہلے ہی ایماب نے اسکے چہرے پر تھپڑ مار دیا، میرال ایک طرف لڑکھڑائی، وہ حیرانگی سے چہرے پر ہاتھ رکھے سامنے کھڑی ایماب کو دیکھنے لگی۔
“میری شرط لگی تھی کسی کو تھپڑ مارنے کی” وہ سامنے میرال کو دیکھ تک بولی۔آس پاس کافی سٹوڈینٹس کھڑے انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔ دور کھڑے رضوان اور مِشی ایماب کی بہادری پر اسے داد دیتے ان تک پہنچے۔
واہ ایماب کمال کر دیا، مجھے لگا تم ڈرپوک ہو یہ نہین کر پاؤں گی پر تم تو چیمپن نکلی، مِشی اسے گلے سے لگاتے ہوۓ چہک کر بولی۔ میرال حیرانگی سے اپنے سامنے کھڑے ان تینوں کو دیکھنے لگی۔
“ایماب ایڈوانس مین سوری” میرال چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجا کر بولی۔ تینوں نے ناسمجھی مین اسے دیکھا۔ پر جب تک سمجھ آئی میرال ایماب کے چہرے پر تھپڑ مار چکی تھی۔ پاس کھڑے سب لوگوں نے میرال کی بہادری کی داد دی، جس نے ایماب جیسی لڑکی پر ہاتھ اُٹھایا جو اس یونی کا جانا مانا چہرا تھا کیونکہ اسکے والد ایک جانے مانے بزنس مین تھے اور یونی میں انکا کافی کنٹری بیوشن تھا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اُٹھانے کی؟ تم مجھے جانتی نہیں دو منٹ میں یونی سے نکلوا دوں گی” ایماب میرال کو مارنے کے لیے اسکی طرف بڑھی۔ جب مِشی درمیان میں ا گئی۔
“ریلکس گائیز ” وہ دونوں کے درمیان ا کر بولی۔
” جس طرح تمہاری ہمت ہوئی مجھ پر ہاتھ اُٹھانے کی ویسے ہی میری ہمت ہوئی تم جیسی لڑکی پر ہاتھ اُٹھانے کی، اور یہ اپنی امیری کا روب کسی اور پر جھاڑنا، بے وقوف” میرال غصے سے بولتی بنا اسکا جواب سنے اگے کو بڑھ گئی۔ پیچھے ایماب تلملاتی رہ گئی۔ آج تک اسکے ساتھ ایسا نہین ہوا تھا۔ میرال کی بہادری دیکھ کر مِشی کافی خوش تھی۔
★★
جاری ہے