55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

ازقلم فاطمہ طارق
ایک ہفتہ گزر چکا تھا، آج سمائرہ بیگم اور عالم صاحب نے لندن سے واپس آنا تھا۔ عائشہ ایک ہفتے سے یونی نہیں گئی تھی، وہ اپنی بات پر اٹل تھی، سمائرہ اور عالم صاحب کے آنے کے بعد وہ ان سے بات کرنے والی تھی، ہارون اب پہلے سے بھی زیادہ خاموش ہو گیا تھا، وہ بلاج سے بالکل بات نہیں کر رہا تھا۔ میرال یونی سے آنے کے بعد نوکری تلاش کرتی، پر اسے ابھی تک نا ملی۔
“تمہیں کیا ہوا ایسے یتیموں والا چہرہ کیوں بنایا ہے؟” میرال کب سے نوٹ کر رہی تھی مشی چہرہ لٹکاۓ بیٹھی تھی۔
“تم نے نوٹس بوڈ دیکھا؟” وہ اترا چہرہ اسلی طرف موڑتے ہوۓ بولی۔
“کیوں نوٹس بوڈ پر کونسا موت کا فرما لکھا ہے” رجسٹر پر کچھ لکھتے ہوۓ بولی۔
“میڈز کی ڈٹ شیٹ لگی ہے، اور مجھے کچھ نہیں آتا، میں فیل ہو جاؤں گا، اور اگر میں فیل ہو گئی مطلب ماما سے جو عزت افزارئی ہونی ہے” مشی دکھی لہجے میں اپنا فیوچر سوچتے ہوۓ بولی۔
“ہاں بالکل، جو تمہارے فیل ہونے پر انکل نے بے عزتی کرنی یے، اسکو سننے میں مزہ آۓ گا، پلیز جب بے عزتی ہو تب بلا لینا، تمہاری بے عزتی سننے میں حد سے زیادہ دل کو سکون ملتا ہے” حسام اپنی جگہ سے اُٹھ کر اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔ میرال جانتی تھی اب انکی بحث شروع ہو جاۓ گی اور وہی ہوا۔
“ہاہا اور تم تو جیسے فرسٹ آؤ گے، تمہارا تو میرے سے بھی بدتر حال ہو گا، انشااللہ” مشی ہاتھ اُٹھا کر غصے سے بولی۔
“او ہیلو میں حسام ہوں اور حسام کی ڈیکشنری میں فیل ہونے کا نام نہیں، آئی سمجھ ایک ہفتے میں یوں تیاری کر لوں گا” حسام نے سر پر پہنی کیپ ایک ادا سے ٹھیک کرتے ہوۓ کہا۔
“ہاہاہایاہہاہاہاہا میرال ہاہاہاہ یہ دنیا کا سب سے برا جھوٹ ہے، اور وہ بھی دنیا کے سب سے برے جھوٹے کے منہ سے” مشی پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے ہوۓ بولی۔ حسام نے اسے گھورا۔
“چوہیا کیا ہوا؟ دوڑا پڑ گیا۔ ہاۓ میری دشمن پاگل ہو گئی” حسام اونچی آواز میں سر پکڑ کر بولا۔
“حسام کے بچے،بکواس بند کرو، خود ہمیشہ سپلیز لیتے ہو اور مجھے باتیں سنا رہے ہو، بھول گے یا پھر یاد کرواؤں کتنوں میں فیل ہوۓ تھے،اور تم اکیلے نہیں بالکہ پورے کا پورا گروپ نالائق ہے سبھی کے نمبرز بتانے کے بھی لائق نہیں سواۓ بچارے ہارون کے وہ اچھا پڑھتا ہے ” مشی اب فل فام میں آ چکی تھی۔ اور میرال حیرانگی سے انکی باتیں سن رہی تھی۔
حسام کیا یہ سچ ہے تم سب اتنے نالائق ہو” میرال کو یقین نا ہوا تو وہ درمیان میں بول پڑی۔ حسام نے اسکی بات پر اب مشی کو گھورا۔
“میں تمہیں ڈیٹیلز بعد میں بتاؤں گی” مشی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔ اور واپس حسام کی طرف متوجہ ہوئی، میرال نے کندھے اچکا دیے۔ اور ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔ حسام کے ساتھ والی جگہ خالی تھی، روز تو وہ وقت پر آ جاتا،میرال نے موبائل سے وقت دیکھا کلاس شروع ہونے میں دو منٹ ہی باقی تھے۔
“حسام بس کر، ہر وقت کیوں تنگ کرتا رہتا ہے” وہ مسلسل مشی کو تنگ کر رہا تھا جب امرحہ درمیان میں بولی۔ حسام نے چونک کر اسے دیکھا۔ اور اسکی طرف گھوما، مشی میرال سے بات کرنے لگ گئی۔
“اُو ہو۔۔۔ یہ بدلاؤ کب آیا، بھول گئی وہ راحیل کی بہن ہے” حسام تیکھی نظروں سے گھورتے ہوۓ بولا۔
“ہاہہا میں نہیں بھول انفیکٹ تم ضرور بھول چکے ہو،ایک بات کا جواب دینا پسند کرو گے، ہر وقت اسی کو تنگ کیوں کرتے ہو؟ ” امرحہ نے پلٹ کر اسی کے انداز میں سوال کیا اور اُسی پر زور دیتے ہوۓ کہا۔
“کیا مطلب؟” حسام نے ناسمجھی سے پوچھا۔ امرحہ نے مسکراہٹ دبائی۔
“کچھ نہیں بعد میں بات کریں گے” تبھی کلاس میں سر امجد داخل ہوۓ۔ اسنے بات ختم کی۔ حسام نے بھی کندھے اچکا دیے اور لیکچر سننے لگا۔
“”**
“یہ بلاج پتہ نہیں کہاں ہے؟ فون بھی نہیں اُٹھا رہا” وہ تینوں یونی کے گارڈن میں کھڑے تھے جب حسام نے بار بار بلاج کو کال ملائی پر بیل جانے کے باوجود وہ کال نہیں اُٹھا رہا تھا۔
“ہو گا کہی چھوٹا بچہ نہیں ہے ” ہارون نے کندھے اچکا کر کہا۔ حسام اور امرحہ نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا۔
“ہارون ایک ہفتے سے اوپر ہو چکا ہے، اب تو بھی اس بات کو ختم کر” حسام نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے سمجھاتے ہوۓ کہا۔
“میں کیا کر رہا ہوں، میں نے اس دن کے بعد ایک لفظ نہیں بولا اور حسام تو مجھے بولنے سے پہلے اسے سمجھا اب ہم بچے نہیں رہے جو وہ ہمارے لیے ہر چیز خریدے گا، یا اپنے کھلونے ہمیں دے گا، اور ہم خوشی خوشی لے لیں گے” ہارون غصے میں بولا۔
“یہ سب میرے سامنے بولنے سے بہتر ہے اسکو بول ابھی ہم اسکے گھر جا رہے ہیں، شائد وہ وہی ہو” حسام نے بات ختم کرنا ہی مناسب سمجھی۔۔
“بالکل نہیں تم لوگوں جانا چاہتے ہو تو جاؤ میں نہیں جاؤں گا” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔ حسام نے امرحہ کو اشارہ کیا کہ وہ بات کرے۔
“ہارون تم تو ہمارے گروپ میں سب سے پیارے سمجھدار اور جلدی معاف کر دینے والے ہو تو اب اتنے پتھر دل مت بنو، ایک دفع اس سے آرام سے بات تو کر کے دیکھو کیا پتہ اسکا پوائینٹ سمجھ میں آجاۓ، چلو نا پلیز” امرحہ نے اسکی تعریف کرتے ہوۓ پیار سے منانے کی کوشش کی۔
“مجھے گھر جانا ہے” وہ ابھی بھی نا ہی کر رہا تھا۔ اور نا کرتے ہی وہ اگے بڑھا۔
“امرحہ اپنی اصلیت پر آنا پڑے گا چل” حسام اپنی شرٹ کے بازو اوپر کرتے ہوۓ بولا۔ اور ہارون کو سمجھے کا موقع دیے بغیر اسکو گردن سے جکڑا امرحہ نے اسکا بیگ پکڑا۔ حسام اسے اسی طرح گھسیٹ کر باہر گاڑی تک لایا اور اسے گاڑی میں بیٹھا کر گاڑی چلا دی۔۔۔۔۔


سمائرہ بیگم اور عالم صاحب واپس آ چکے تھے، گھر میں کافی خوشگوار ماحول تھا۔ ڈنر کے بعد سبھی ایک ساتھ بیٹھے چاۓ کا لطف اُٹھا رہے تھے۔
“انکل آنٹی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے” عائشہ سامنے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ سمائرہ بیگم اور عالم صاحب سامنے بیٹھے تھے۔
“ہاں بولو کیا بات ہے؟” سمائرہ بیگم اور عالم صاحب اسکی طرف مکمل متوجہ ہوۓ۔ اسنے ایک نظر ان دونوںکو دیکھا۔ اور پھر اپنے بال پیچھے کرتے ہوۓ بولنے کی کوشش کرنے لگی۔
“موم ڈیڈ، ہم دونوں مڈز کے بعد ویکیشن پر جانا چاہتے ہیں، کل رات ہی پلین کیا، آپ دونوں کی آجازت چاہیے تھی۔” وہ بولنے والی تھی جب راحیل اسکے پاس صوفے پر آ کر بیٹھتے ہوۓ بولا۔ عائشہ نے غصے سے اسکی طرف دیکھا۔
“ارے تو اس میں آجازت مانگنے والی کیا، کمال کرتی ہو تم عائشہ جب دل چاہیے تب گھومنے جاؤ ہم کیوں روکیں گے ہمیں تو اپنے بچوں کو خوش دیکھ کر خوشی ہوتی ہے” سمائرہ بیگم مسکراتے ہوۓ بولیں، وہ بھی زبردستی مسکرا دی۔
“میں نے تو پہلے ہی بولا تھا، یہ ہی زیادہ سوچتی ہے، پیپرز کے بعد گھومنے چلتے ہیں” راحیل اسکے بال کال کے پیچھے کرتے ہوۓ بولا۔
“میں آتی ہوں” عائشہ تنگ آ کر وہاں سے اُٹھ گئی اور کمرے میں چلی گئی۔
وہ کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی، جب راحیل کمرے میں داخل ہوا۔
“یہ سب کیا تھا؟” وہ اسکے سامنے آ کر غصےسے بولی۔
“کیا؟” وہ ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولا۔
“جو تم باہر کر کے آۓ ہو وہ، میں نے کب گھومنے کی بات کی میری بات کو درمیان میں کیوں کاٹا” وہ اسکا بے فکر چہرہ دیکھ کر مزید غصہ ہوئی۔
“ہمارے ولیمے والے دن یاد ہے تم نے کیا بولا تھا، میں لفظ با لفظ بتاتا ہوں” راحیل اپنے ہاتھ پچھے باندھتے ہوۓ دو قدم اسکی طرف بڑھتے ہوۓ بولا۔ عائشہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“کیا بولا تھا؟”
“کل رات کو جو درندے والا روپ میں نے اسے دیکھایا تھا اسے تو توڑ گیا ہو گا، پر راحیل عالم اپکی بھول ہے، میں ٹوٹنے والی نہیں، میں یہ سب برداشت کروں گی، میں دیکھوں گی اپنے اندر کی نفرت کو کس طریقے سے باہر نکالتے ہو، میں اس رشتے کو نِبھانے کی اپنی آخری سانس تک کوشش کروں گی اور آپ اپنے اندر کی نفرت کو نکالتے رہنا، مگر ایک بات یاد رکھنا، جتنا آپ میرے ساتھ برا کرو گے، میں کچھ نہیں بھولوں گی، بس سب کے سامنے اس رشتے کو اچھا دیکھانے مین مدد کر دینا ہو سکے تو سبکے سامنے اچھے سے رہ لینا، باقی مرضعی یے جو کرنا ہے کرو، یہ سارے تمہارے ہی الفاظ ہیں، تو مس عائشہ خان میں نے تو سنا تھا خان اپنی بات کے بہت پکے ہوتے ہیں، پر آپ تو بہت کچی نکلیں میرے ایک وار پر ہی زمین پر بکھر گئیں، اور ہار مان لی۔ میں نے تو اپنے اندر کی نفرت نکالی، پر تم سے سہن نہیں ہوئی، ایک مہینا نہیں ہوا اور تمہارا یہ حال ہے، اب مجھے افسوس ہو رہا ہے، میرے مقابل سٹرونگ کھیلاڑی نہیں، کھلینے میں مزہ نہیں آۓ گا۔ تمہارے جیسی بات بات پر رو دینے والی لڑکی سے لڑائی میں بھی مزہ نہیں آ رہا” وہ اسلے مقابل کھڑا اسے اسکے کہے گے الفاظ سنا رہا تھا۔ اسکی کہی ساری باتیں سچ تھیں وہ اسکی بات سن کر طنزیہ انداز میں ہنسی۔
“تو ٹھیک ہے، تمہیں میرے ساتھ کھیلنا ہے نا تو کھیلو، اب تو میں یہاں سے مر کر ہی جاؤں گی، تم نے زندگی کو جو کھیل تماشا بنایا ہوا ہے، اسکو اچھے سے کھیلو، کوئی کسر باقی رہنی نہیں چاہیے ” وہ غصے سے بولتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔راحیل کے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ نے جگہ لے لی۔
” وہ تینوں بلاج کے گھر پر پہنچے، سامنے دو گاڑیاں کھڑیں تھیں۔۔ وہ چلتے ہوۓ اندر آۓ۔ حال میں داخل ہوتے ہی انکی نظر سامنے صوفے پر سفید قیمض شلوار پہنے اور سر پر پگ باندھے بلاج کے دادا پر پڑی۔ سامنے صوفوں پر سکندر حمدانی کنول بیگم، عمیر بیٹھے تھے۔ منیر حمدانی خود انہیں لے کر آۓ تھے۔ وہ سکندر حمدانی اور بلاج کی صلح کروانا چاہتے تھے۔ انکے سامنے بلاج کھڑا تھا۔ “ارے دادا جی آپ کب آۓ؟” حسام انہیں دیکھتے ہی بھاگ کر انکی طرف گیا۔ تبھی انہوں نے ہاتھ میں پکڑی چھری حسام کو مارنے کے لیے اُٹھائی وہی اسکی بریک لگ گئی۔ “نکموں تم سبکو تو میں ایک ساتھ سیدھا کر دوں گا، اتنے برے ہو گے میرا منیر حمدانی کا نمبر بلاک کرتے ہو۔ انہوں نے تینوں کو گھوتے ہوۓ غصے سے کہا۔ ” دادا جان آپکو سچ میں لگتا ہے، میں آپکا وہ چھوٹا سا حسام، جسنے ہر قدم پر آپکا حکم مانا، وہ ایسی نیچ اور چھوٹی حرکت کرے گا، نہیں دادا جان یہ سب آپکے اس نالائق پوتے کا کام کے سبکے موبائل پکڑ کر اسنے نمبر بلاک کیا” حسام انکے قدموں میں بیٹھ کر پاؤں دباتے ہوۓ ڈرامائی انداز میں بولا۔ ” یس دادا جی یہ کام بلاج کا ہی ہے” ہارون اور امرحہ بھی ایک ساتھ بولے۔ جانتے تھے اگر نا بولے تو بہت بےعزتی ہو گی۔ اور بلاج ان تینوں کو حیرانگی سے دیکھ رہا تھا۔ جنہوں نے اس نازک موقع پر اسکا ساتھ چھوڑ کر شیر کے پنجرے میں بند کر دیا تھا۔ “اسکو تو میں بعد میں دیکھوں گا، اسکے بہت پر نکل آۓ ہیں، بروں کا احترام بھول چکا ہے” منیز حمدانی نے سخت نظروں سے ایک طرف کھڑے بلاج کو دیکھا۔ جو کہ اپنے پیروں کو دیکھ رہا تھا۔ ” دادا جی آپکو تو پتہ ہے میں آپ سے کتنی محبت کرتا ہوں، انفیکٹ میں تو کافی دن سے ان سبکو بول رہا تھا۔ دادا جی سے مل کر آتے ہیں ویسے بھی وہ گاؤں میں اکیلے ہوں گے” حسام انکے پیر دباتے ہوۓ مسکے لگا رہا تھا۔ عمیر اور امرحہ نے اپنی ہنسی دبائی۔ ” تم تینوں وہاں جا کر بیٹھو، ابھی مجھے ان لاڈ صاحب سے بات کرنی یے، جنکو لگ رہا ہے وہ اس ملک کے سب سے زیادہ مصروف انسان ہیں، جنکا ملنا ملانا اب مشکل ہو گیا ہے” منیر صاحب نے طنزیہ انداز میں چپ کھڑے بلاج کو دیکھتے ہوۓ کہا۔ “جب آپ خود اپنے پوتے کو چھوڑ کر اپنے بیٹے کی طرف ہو سکتے ہیں، جس سے وہ مجھے کنٹرول کر سکیں تو مجھے آپ سے ملنے ملانے کی کیا ضرورت ہے” بلاج سر جھکاۓ، ہولے سے بولا۔ “بدتمیز دوبارہ شروع ہو گیا” سکندر حمدانی نے سر جھٹک کر کہا۔ “میں تمہارا برا ہوں مجھے مت سیکھاؤ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں، اگر تم میرے پوتے ہو تو وہ میرا بیٹا ہے، مجھے جہاں وہ ٹھیک لگے گا اسکی سائیڈ لوں گا اور جہاں تم مجھے غلط لگو گے وہاں تمہارا ساتھ نہیں دوں گا” منیر حمدانی اسکے سامنے کھڑے ہو کر بولے ماحول اب کافی سنجیدہ ہو چکا تھا۔ ” ہنہہہ صحیح! آپکو تو تب بھی وہ صحیح لگے تھے، جب حسن گھر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اور تب بھی جب اس دن زبردستی میری منگنی کروا دی۔ بنا مجھ سے ایک لفظ بھی سنے، مجھے گنہاگار ٹھہرا کر اپنی نام نہاد عزت کو بچایا، اور مجھ تو اس بات پر افسوس رہے گا میں انکا بیٹا ہو۔۔۔” وہ انکی بات پر چیخا تھا۔ جب منیر حمدانی نے کھینچ کر اسکے چہرے پر تھپر مارا۔ اسنے اپنی مُٹھیاں بھیچیں۔ “ابا جی!” کنول بیگم نے انہیں دوسرا تھپر مارنے سے روکا۔ ” سکندر تیرا اس چھوکرے کا دماغ خراب ہو گیا ہے، پاگل ہونے والا ہے، اپنے اپ کو تیس مار خاں سمجھتا ہے، یہ بے فضول سی نفرت وہ بھی اپنے باپ کے لیے لے کر ہر وقت گھومتا رہتا ہے، عمر دیکھو اور اکڑ دیکھو” منیر حمدانی اپنی چھڑی اسکو مارتے ہوۓ بولے۔ “دادا جی بس کریں” عمیر نے آ کر انہیں ہٹایا۔ وہ ہانپ رہے تھے، انہیں صوفے پر بیٹھا کر پانی کا گلاس دیا حسام بلاج کے پاس گیا۔ جو چہرہ جھکاۓ سب ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسنے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ حوصلہ دیا۔ ” کوئی سمجھاؤ اسکو، اس بلاوجہ کی نفرت میں کچھ نہیں رکھا، اپنی اور اپنے باپ کی زندگی حرام کرنا بند کرے” منیر صاحب تو اپنے بیٹے کے گھر کو یوں ٹوٹا بکھرا دیکھ کر پہلے ہی پریشان ریتے تھے۔ انہوں نے کافی دفع بلاج کو سمجھانے کی کوشش کی۔ پر ہر بار وہ بات ٹال جاتا۔ انہوں نے اسے یہ گھر بھی دیا تا کہ وہ سکون سے رہ سکے ہر آۓ دن اسکی حرکتوں کو سکندر کے منہ سے سنتے آرہے تھے، اور اب تو اسنے بات کرنا بھی بند کر دی اسی لیے وہ اسے سمجھانے کے لیے یہاں آۓ۔ پر اسکی زبان درازی کو دیکھ اب انہیں غصہ آرہا تھا، ” ابا جی بس کریں، اس جیسی اولاد میرے نصیب میں تھی تو کیا کر سکتے ہیں، آخری دم تک اسکی وجہ سے خاک اپنے سر پر ملنی ہی ہے، بھگٹ لوں گا آپ اپنا بی پی مت برھاؤ” سکندر صاحب منیر حمدانی کے پاس آ کر بولے۔ انکی بات سن کر بلاج نے انکی طرف دیکھا اور طنزیہ انداز میں ہنسا۔ اسکی ہنسی پھر قہمقہ میں بدلی۔ ہنستے ہنستے اسکی آنکھوں کے کنارے بھر آۓ۔ “واؤ! سکندر حمدانی صاحب مجھ جیسی اولاد سچ میں اپکے نصیب میں نہیں ہونی چاہیے تھی، انفیکٹ اپکے نصیب میں تو اولاد ہی نہیں ہونی چاہیے تھے، آپکے نصیب میں صرف دولت ہونی چاہیے تھی، جسے آپ ہر روز دگنا چگنا کماتے نا میرے حسن کی زندگی برباد ہوتی اور نا میری” وہ غصے میں بولے جا رہا تھا جب اس بار کنول بیگم نے اسکے چہرے پر تھپر مارتے ہوۓ اسکا منہ بند کروایا۔ “بس کر بلاج ، پاگل ہو گیا ہے کیا بولے جا رہا ہے، آج تو مجھے شرم آ رہی میری تربیت میں کہاں کمی رہ گئی جو تجھ جیسا بدتمیز اور منہ پھٹ بیٹا ملا” کنول بیگم روتے ہوۓ بولیں۔ بلاج نے اپنی انکھیں زور سے بھیچیں۔ عمیر نے اپنا سر پکڑ لیا۔ وہ یہاں معاملہ سُدھانے آۓ تھے یہاں تو معاملا اُلٹ گیا ” ہاں بالکل مجھے دولت سے ہی محبت ہے، میں چاہتا ہوں، میرے پاس بہت سارے پیسے ہوں، یہ تمہارے کپڑے، جوتے یہ قیمتی گھڑی، وہ باہر کھڑی مرسیڈیز ، اور تمہارا وہ اکڑ کر چلنا سب میری دولت کی ہی بدولت ہے، یہ آرام سکون کی زندگی میرے پیسوں کی بدولت ہے، ورنہ دو دن گھر کے باہر رہو دماغ ٹھیکانے آ جاۓ گا۔ میرے بغیر میرے نام کے بغیر میرے پیسوں کے بغیر تک ہو کیا جو اتنا اچھلتے ہو” سکندر حمدانی کو آج اس پر بے حد غصہ آ رہا تھا۔ ” فائن مجھے نا تو اپکی یہ دولت چاہیے اور نا ہی اپکا نام، آپ کی یہ دولت، اور اکڑ اپکو مبارک” بلاج غصے میں کہتا اوپر اپنے کمرے کی طرف گیا۔ “یا اللہ اب یہ کیا کرے گا” کنول بیگم کو ایک دم چکر آۓ عمیر نے انہیں سھنمبالا اور صوفے پر بیٹھایا۔ ” دو دن باہر رہے گا ساری اکڑ نکل جاۓ گی” سکندر حمدانی غصے میں بولے۔ تبھی بلاج سیڑھیوں سے واپس اترا ہوا دیکھائی دیا۔ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا لکڑی کا باکس تھا۔ وہ چلتا ہوا ان سبکے سامنے آیا۔ “جیسے حسن بھائی کو سب بھولے ہیں ویسے ہی مجھے بھی بھول جائیں، یہ رہی گاڑی کی چابی یہ سارے کریڈیٹ کاڈ، اور یہ رہی مہنگی گھڑی” وہ اپنے سارے کریٹ کاڈ نکال کر ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولا۔ ہاتھ سے گھڑی اتاری۔ ” یہ ساری اکڑ دو دن میں یوں جٹکی بجا کر نکل جاۓ گی پھر میرے پاس روتے ہوۓ مت آنا” سکندر حمدانی چٹکی بجاۓ ہوۓ طنزیہ انداز میں بولے۔ ” تو پھر حمدانی صاحب دعا کیجیے گا مر ہی جاؤں مرنے سے پہلے تو ایسا ممکن نہیں” وہ ٹیبل کو لات مارتا ہاتھ میں باکس لیے داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔ وہ تینوں اسکے پیچھے بھاگے۔ “رہنے دو اسکو دو دن باہر ٹھیک ہو جاۓ گا” منیر حمدانی نے اسکے جاتے ہی بولا۔ ” بلاج جزباتی مت ہو، یہ بہت برا فیصلہ ہے” حسام اسکے پیچھے بھاگتے ہوۓ اسے روک کر بولا۔ “فکر مت کرو تم پر بوجھ نہیں بنوں گا” بلاج نے اسکا ہاتھ جھٹکتے یوۓ کہا۔ “تو مجھے ایسا سمجھتا ہے” حسام کو برا لگا۔ “بڈی ریلکس تو نے جوتا بھی نہیں پہنا کچھ جبھ جاۓ گا چل گاڑی میں بیٹھ” ہارون نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ نرم لہجے میں کہا۔ “بچپن سے بہت کچھ جبھا ہے، جان ایک نے بھی نہیں لی” وہ اوپر آسمان کی طرف دیکھتے ہوۓ نم لہجے میں بولا۔ ہارون نے ایک دم اسے سینے سے لگایا۔ “پاگل ہے ایسی باتیں کیوں کر رہا ہے” وہ خود بھی نم لہجے میں بولا۔ تب تک امرحہ گاڑی لے کر ان تک پہنچی۔ اور ہارن دیا۔ “میرے اپاٹمنٹ چلو” حسام نے ان دونوں کو گاڑی میں بیٹھایا۔ امرحہ نے گاڑی چلا دی۔۔۔ سارا رستہ خاموشی رہی، بلاج پچھلی سیٹ پر بیٹھا اپنے ہاتھ میں پکڑے لکڑی کے ڈبے کو گھور رہا تھا۔ تبھی گاڑی حسام کے اپارٹمنٹ کے پاس رکی۔ وہ لوگ اسکے اپارٹمنٹ میں پہنچے۔ وہ گم صم سا نیچے کارپیٹ پر بیٹھا اس ڈبے کو دیکھ رہا تھا۔ “بلاج تو ٹھیک ہے؟” جب وہ اسی پوزیشن میں کافی دیر بیٹھا رہا تو حسام نے اہنی طرف متوجہ کروایا۔ “کل صبح مجھے ایک کال آئی تھی” وہ ہمت کر کے بولا۔ “کیسی کال؟” ہارون نے سوال کیا۔ “کافی دنوں سے جس آدمی کو میں نے حسن بھائی کو ڈھونڈنے کے لیے لگایا تھا۔ اسکی کال تھی” وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے لکڑی کے اس ڈبے کو کھولتےہوۓ بولا۔ اور اس میں سے حسن کی تصویر نکالی۔ “تو۔۔۔اسنے کیا بولا حسن بھائی ملے؟” وہ تینوں ایک دم ایکسائیٹڈ ہوۓ۔ بلاج نے بڈبے میں سے ایک لاکٹ نکالا جس پر حسن لکھا تھا اسکی انکھوں سے آنسوں بہنے لگے وہ سب پریشان ہو گے۔ “اسنے بولا۔۔۔۔۔۔۔ اسنے بولا۔کہ جس دن وہ بھاگے تھے اسی دن انکا ایکسیڈینٹ ہو گیا اور وہ۔۔ اسی دن وفا۔۔۔۔۔” وہ بولتے بولتے رو دیا۔۔۔۔۔۔ اسکی تصویر اور لاکٹ کو چومتے ہو وہ رونے لگ گیا۔ “کیا؟” وہ تینوں بھی شاک میں چلے گے۔ اتنے سالوں سے جسکو اسنے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ مل جاۓ آج اسکی خبر اسطرح مل رہی تھی۔ وہ چہرہ گھٹنوں میں دیے بچوں کی طرح اپنے بھائی کے لیے رو رہا تھا۔ کسی نے اسے چپ کروانے کی کوشش نا کی۔ وہ چاہتے تھے وہ کھل کر رو دے۔۔۔۔ ،
وہ کب سے اپنی کتاب کھولے پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مشی بھی اسکے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔
” یار مجھے یہ سوال تو بتاؤ” مشی کافی دیر سے اسکی غائب دماغی نوٹ کر رہی تھی تبھی وہ بولی۔ میرال اسکی بات پر چونکی
“ہممم کیا بول رہی ہے؟” وہ چونکتے ہوۓ بولی۔
“میڈیم تم گم کہاں ہو، خود ہی پڑھنا ہے پڑھنا ہے کا ڈھنڈوڑا پیٹ رہی تھی اور اب خود ہی غائب ہو” مشی اسکے سر پر بال پوائنٹ مارتے ہوۓ بولی۔
“نہیں کہی نہیں ہوں ، بس ایسے ہی، تم دیکھاؤ کون سا سوال نہیں آ رہا” میرال نے اسکی بات کو ٹالتے ہوۓ کہا۔ مشی نے کتاب اسکی طرف کی۔ میرال نے اسے سوال سمجھایا۔۔ کافی دیر وہ بیٹھ کر پرھتی رہیں۔ اور پھر تھک کر سونے کے لیے لیٹ گئیں۔
“میرو ایک بات پوچھوں؟” ہلکی لائیٹ جلا کر میرال سونے کے لیے لیٹی ہی تھی جب مشی بولی۔
“ہممم پوچھو” میرال کمبل خود پر ٹھیک سے لیتے ہوۓ بولی۔
” رہنے دو پھر کبھی پوچھوں گی” مشی نے بات ٹال دی۔ اور آنکھیں بند کر لیں۔ میرال نے نفی میں سر ہلایا۔ اور خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگی۔ لاکھ کوشش کے باجود وہ سو نہیں پا رہی تھی۔ ایک عجیب سی بے چینی محسوس کر رہی تھی۔


اگلا پورا ہفتہ وہ پانچوں چھٹی پر تھے۔ آج انکا پہلا پیپر تھا، جسے دینے وہ یونی پہنچے تھے۔۔
“آتا تو کچھ ہے نہیں لکھوں گا کیا؟” حسام ادھر اُدھر چکر کاٹتے ہوۓ بولا۔
“مجھے تو سب آتا ہے، میں تو پاس ہو جاؤں گی اوۓ ہوۓ اؤۓ ہوۓ” مشی کلاس میں داخل ہوتے حسام کی بات سن کر اسکے ارد گرد چکر کاٹتے ہوۓ بولی۔ حسام نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
“چوہیا تمہاری خراب مت کر پہلے ہی سر امجد کا پیپر سر پر سوار ہے” حسام نے اسے گھورتے ہوۓ بولا۔
“میری تو پیاری دوست نے تیاری کروا دی اب تیرا کیا ہو گا کالیہ” وہ اپنے گھنگرالے بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتے ہوۓ بولی۔
“نوڈلز کے بالوں والی چوہیا اپنا منہ بند کر کے اپنی جگہ پر بیٹھ جا ورنہ آج میرے ہاتھوں سے ضائع ہو جاۓ گی” حسام کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ اسکو سچ میں غائب کر دیتا۔ مشی اسے انگھوٹھا دیکھاتے ہوۓ اپنی جگہ پر چلی گئی۔
“مشی تمہاری بک” میرال کلاس میں داخل ہوتی مشی کے پاس اپنے جگہ پر بیٹھ کر بیگ سےا سکی کتاب نکال کر اسے دیتے ہوۓ بولی۔
“تھیکس میری مکھن ملائی” وہ اسکے گال کھینچتے ہوۓ بولی۔ میرال نے اسکے ہاتھ پر تھپڑ مارتے ہوۓ اسے پڑھنے پر لگایا۔ تبھی اسے لگا کوئی اسے مڑ کر بہت غور سے دیکھ رہا ہے۔ اسنے نظر اُٹھا کر دیکھا تو اسکے اگے سیٹس پر بلاج اپنی کرسی کی بیک سے ٹیک لگاۓ، گردن موڑے ہلکا سا مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔ آج نو دن بعد وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ کچھ پل اسکو دیکھتی رہی۔ تبھی بلاج نے بھوریں اچکا کر جیسے پوچھا تھا کیسی ہو؟” میرال جیسے چونکی اور اسکے سحر سے نکلی۔ اس سے نظریں ہٹا کر دوبارہ اپنے کام پر لگ گئی۔ وہ ویسے ہی بیٹھا رہا۔۔ کچھ دیر بعد سر کلاس میں آۓ اور پیپر شروع ہوا۔ دو گھٹنے بعد پیپر ختم ہوا۔
“مشی اس میں رونے والی کیا بات ہے؟ جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا؟” مشی پیپرز ختم ہوتے ہی رونے لگ گئی۔ کیونکہ اس سار ا پیپر بھول گیا تھا۔
“روؤں کیوں نا، تمہیں پتہ ہے تمہارے سامنے سار ایاد کیا تھا سب بھول گیا۔۔” وہ بولتے بولتے آخر پر رو دی۔
“ہاہاہہا وہ کون تھا جو ناچ ناچ کر بتا رہا تھا مجھ سب اتا ہے” حسام اسے روتے ہوۓ دیکھ اونچی اونچی ہنس کر بولا۔۔۔۔
” تمہاری ہی نظر لگ گئی، تمہاری وجہ سے میں سب بھول گئی، اب میرا مزاق بنا رہے ہو” مشی ہاتھ میں پکڑا رجسٹر اسکی طرف اچھالتے ہوۓ غصے سے بولی۔
“مشی پاگل ہو تم نے اچھے سے یاد نہیں کیا ہو گا، اس میں حسام کا کیا قصور” میرال نے اسے مزید چیزیں پھینکنے سے روکا۔ اور دوسری طرف حسام مسلسل ہنسے جا رہا تھا۔
“تم نہیں جانتی اسی کی نظر لگ گئی” مشی روتے ہوۓ بولی۔
“بس کرو، میں کینٹین جا رہی ہوں، بہت بھوک لگی ہے ” میرال چڑتے ہوۓ بولی۔ اور اُٹھ کر باہر چلی گئی۔
” روزسات کی بجاۓ دس بادام کھانا حافظہ اچھا ہو گا، پھر کچھ نہیں بھولے گا” حسام اسکے پاس آ کر ہمدردی بھرے لہجے میں بولا۔
“حسام تیری میں جان لے لوں گی” مشی نے پانی والی بوتل اسکی طرف پھینکی۔ وہ بھاگتا ہوا کلاس سے نکالا۔ مشی نے رستے میں جو ملا اس پر پر پھینکا۔ وہ بھاگتے ہو اپنی جان بچانے لگا۔
وہ کینٹین سے دو سینڈویچ اور اسکے ساتھ چاۓ کا کپ لیے گارڈن میں سکون سے بیٹھ کر لنچ کر رہی تھی۔ مشی تو اپنے دکھ میں گم حسام کی جان کے پیچھے پڑی تھی۔ اور میرال اپنی بھوک کے ہاتھوں ۔مجبور ہو کر اکیلی کھا رہی تھی۔
“ہاۓ چشمش! بہت بھوک لگی ہوئی تھی تھینکس ” تبھی اسکے سامنے بلاج آکر بیٹھا اور اسکے ہاتھ سے سینڈوچ لیا اور کھانے لگا۔ میرال نے اپنا غصہ ضبط کیا۔ اور دوسرا سینڈویچ پکڑ کر کھانے لگی۔
“ارے دو لائی ہو، تھیکنس بھوک تو حد سے زیادہ لگی ہے” بلاج اسکے ہاتھ سے دوسرا سینڈویچ پکڑ کر بولا۔
“کیا بدتمیزی یے اپنا لاؤ جا کر” میرال نے اسکے ہاتھ سے اپنا سینڈویچ واپس لینا چاہا۔
“اپنا ہی تو کھا رہا ہوں، وہ تم لاؤ یا میں ایک ہی بات ہے” وہ ایک اور بائیٹ لیتے ہوۓ ہولے سے بولا۔
” نو دنوں میں کیا یاداشت بھی چلی گئی، بھول گے ہم بات نہیں کر رہے تو اتنا فرینک ہونے کی ضرورت نہیں، اپنی حد میں رہو” میرال چاۓ کا گھونٹ بھرتے ہوۓ بولی۔
” لگتا ہے چشمش نے بہت مس کیا ہے ہممم” بلاج بھوریں اچکا کر اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔
“کھا لو سب اور مجھ سے دور رہو” وہ چاۓ پکڑے ہوۓ کھڑی ہوئی، اور جانے لگی۔ جب بلاج اسکی راہ میں حائل ہوا وہ ایک دم رُکی۔
“سوری چشمش” وہ ہولے سے اسکی طرف دیکھ کر بولا۔
“کس بات کے لیے؟” وہ سوالیہ انداز میں بولی۔
“ہر اس بات کے لیے جس سے تمہارا دل دُکھا” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولا۔
” دیکھو بلاج میں بہت مشکل سے اپنے آپ کو سھنمبال کر اپنی پڑھائی پر فوکس کر پائی ہوں، مجھے یہ سب نہیں چاہیے پلیز اب میں تھک چکی ہوں” میرال نے نم لہجے میں بولا۔
” سبکو ہمیشہ میں ہی غلط لگتا ہوں، فائن، بات نہیں کرنی تو ٹھیک ہے مت کرو” اسنے ہاتھ میں سینڈویچ کا پیس اسکے ہاتھ پر رکھتے ہوۓ کہا۔وہ کافی دنوں سے ویسے ہی ڈسٹرب تھا۔ اسکو منا کر اپنے دل کی باتیں اسکے ساتھ کرنا چاہتا تھا
“بری مہربانی ہو گی، بلاج صاحب” وہ بنا اسکی مزید بات سنے وہاں سے چلی گئی۔
“افففففف اب کیا کروں” اسے جاتا دیکھ وہ اپنے بالوں کو مٹھی میں بھرتے ہوۓ بولا۔
” بچے یہ عشق کا دریا ہے، پار کرنا مشکل تو ہو گا، محبوب کو مناتے مناتے دن میں تارے نظر آنا شروع ہو جائیں گے پر تم فکر مت کر بچے ایک دن تم ضرور اس سفر کو پار کر لو گے” حسام اسکے کندھے پر تھپکی دیتے ہوۓ بولا۔ بلاج نے اسکی طرف دیکھا۔
“اچھا بابا جی، پہلے یہ تو بتائیے کتنے عشق کے دریا پار کیے ہیں؟” وہ اسکی طرف مڑ کر اسے گھورتے ہوۓ بولا۔
“عشق کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے عشق کرنا ضروری نہیں ہوتا بچے، یہ تو ڈراموں اور فلموں سے بھی سیکھا جا سکتا ہے، یہ دوبارہ آ گئی بلاج خدا کے لیے اس چوہیا سے بچا” حسام فلو میں اپنے ڈائیلگ بول رہا تھا۔ جب اسکی نظر سامنے سے ہاتھ میں پانی کی دو بوتلیں پکڑے اپنی طرف غصے میں آتی مشی پر نظر پڑی۔ وہ فوراً اپنے کریکٹر سے باہر نکلا اور بلاج کے پیچھے چھپ جا۔
“اس حیات سے تو میں نہین بچا سکتا بھاگ سکتا ہے تو بھاگ لے” بلاج ہنستے ہوۓ بولا۔
“تجھ جیسے بے وفا دوست اپنے ہینڈسم دوست کی جان لے لیتے ہیں” وہ اسے گھورتے ہوۓ بولا اور اگلے ہی پل بھاگ گیا۔ مشی بھی اسکے پیچھے بھاگی۔
“اور تجھ جیسے دوست اپنے دوست کو ہمت دینے کے لیے کچھ بھی کر جاتے ہیں پاگل” وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔ اور کلاس کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔