Rate this Novel
Episode 42
“کیا ہوا؟ ” وہ اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی، اسے یوں اتنا روتے ہوۓ دیکھ کر بولی۔
“میں،میں بہت برا ہوں، اتنا برا کہ اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آتی سچائی کو نظر انداز کرتا چلا گیا، اور اپنے ہی دوست کا بھروسہ توڑا” وہ اپنا چہرا ہاتھوں میں گِراۓ بول رہا تھا۔
“اوو تو بہن کی سچائی پتہ چل گئی” عائشہ نے برے عام سے لہجے میں کہا۔ پر راحیل کو طنز کی طرح لگا۔ اسنے اپنا چہرا اوپر کیا اور عائشہ کو دیکھا۔
” میں نا تو اچھا بھائی، نا دوست اور نا ہی ایک اچھا شوہر بن سکا، ہمیشہ تمہارا دل دکھاتا رہا” عائشہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ نم لہجے میں بولا عائشہ نے سفید ڈوپٹے کو چہرے کے گرد لپیٹا ہوا تھا۔ یوں جیسے وہ ابھی ابھی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی ہو۔
” آپ برے نہیں، بس حالات نے ہی ساتھ نہیں دیا، اور ہم سب کو اس راستے پر لا کر کھڑا کر دیا” وہ گہرا سانس خارج کرتے ہوۓ بولی۔ وہ پہلے والی عائشہ نہیں لگ رہی تھی، ابکی بار اسکے چہرے پر جو سکون اور الفاظ میں جو ٹھہراؤ تھا اس سے صاف لگ رہا تھا، اسنے اپنے غم کو کم کرنے کا اصل علاج ڈھونڈ لیا ہے، جو ان دوائیوں میں نہیں تھا۔
“ایسے مت کہو پلیز اپنا غصہ نکالو اگر دل کرے تو مار بھی، میں نے بہت غلط کیا، بہت برا ہوں، تم سب کا مجرم ہوں، پلیز مجھ سے گلا کرو چاہے تو طنز مار لو، کہو کچھ کہو” وہ اسکے دونوں ہاتھ پکڑتے ہوۓ جیسے بے بسی سے بولا تھا۔
“میں نے ان دو سالوں میں آپ سے کی گئی محبت کے بدلے جو اذیت پائی ہے، اسکی بھرپائی آپکو اگر طعنے دے کر ہو جاتی تو کب کی کر چکی ہوتی، پتہ ہے راحیل اپنے ہممممم اپنے بچے کو کھونے کے بعد مجھے اب کسی سے کوئی مطلب نہیں، جسنے میرے ساتھ برا کیا، میں نے اسکا معاملا اپنے رب چھوڑ دیا ہے” وہ اپنے ہاتھوں کو اسکی گرفت سے نکالتے ہوۓ بولی۔ راحیل کو لگا اسنے اسے ہمیشہ کے لیے چپ کروا دیا۔ وہ اپنے ہاتھوں کو اسکے ہاتھوں کی مظبوط گرفت سے نکالتے ہوۓ بولی۔ جب اسنے اپنے ہاتھ اسکی گرفت سے نکالے اسے محسوس ہوا وہ اسکی زندگی سے بھی نکل گئی۔
“تو کیا اب مجھے ہمارے رشتے کی کوئی امید۔۔۔۔” اس سے اپنا جملہ مکمل نا ہوا، یہ سوچ ہی دل بند کرنے کے لیے کافی تھی، کہ اسکی پہلی محبت اسکی محبوب بیوی اس سے جدا ہو گی۔عائشہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کوایک دوسرے میں الجھایا۔
“ہمارا رشتہ پہلے ہی کھوکھکی شرطوں پر قائم تھا، اس دن گھر کے باہر چھوڑنے کے بعد اپکا جو بچا کچا مقام میرے دل میں تھا وہی ختم ہو گیا، ہاں بس محبت ختم نا ہو سکی، مجھے یقین ہے، وقت کے ساتھ محبت کا زخم بھی بھر جاۓ گا” وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر چہرا موڑتے ہوۓ بولی۔ اسکا کہا ایک ایک لفظ راحیل کا دل چیر رہا تھا۔ ہمت کرتا وہ بھی کھڑا ہوا۔
“عائشہ محبت کرنے والے تو معاف کرنے کا بھی ہنر رکھتے ہیں، تو کیا تم میری غلطیاں میری کوتاہیاں معاف نہیں کرسکتی؟” اسے کندھوں سے پکڑتے رخ اپنی طرف موڑتے نم آنکھوں سے کہا۔ عائشہ نے اسکی بات پر کچھ پل اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
“اچھا، اگر آپکو اپنی غلطیوں کا احساس ہو ہی گیا ہے، تو میں اپکو معاف کرتی ہوں” وہ گہرا سانس لے کر بولی راحیل کو ایک پل کو سکون محسوس ہوا۔
“پر، میں بھولوں گی نہیں، پتہ راحیل آپکا یہی مسلہ ہے، آپکو ایک پل میں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے، اور آپ جھٹ سے معافی مانگ لیتے ہیں، اور بدلے میں چاہتے ہیں، اگلا انسان جھٹ سے معاف کر دے، اور کیا پتہ اگلے انسان کی سوچ اب بدل گئی ہو اسنے خود کو اپنی ذات کے لیے مظبوط کر لیا ہو، اسنے اپنی سیلف رسپیکٹ کے لیے سب تسلیم کر لیا ہو،
اور ویسے بھی کن کن غلطیوں کو نظر انداز کروں، ہممم نکاح کے فوراً بعد ایک زرا سی مصیبت کیا آ گئی، اسی پل محبت یا دوستی کو چننے کے لیے فورس کرنے والی غلطی، یا اسکے بعد ہر پل مجھے بے وفا ہونے کے طعنے دینے والی غلطی، یا زور زبردستی رخصتی کروانا،یا آپکا زبردستی رشتہ قائم کرنا،یا اپنے گھر سے نکال دینا، بتائیں کس کس غلطی کو نظر انداز کر کے آپکے ساتھ چل پڑوں، ان سب میں کبھی آپ نے میرے بارے میں سوچا میری فیلنگز کے بارے میں سوچا؟ بالکل نہیں راحیل آپ نے صرف اور صرف اپنے بارے میں سوچا ، اپکی نظر میں آپکی بہن ٹھیک ہے، تو مجھے بھی وہ ٹھیک لگنی چاہیے، ورنہ ہمارا رشتہ ختم، ایسا نہیں ہوتا، میری بھی ایک الگا سوچ ہو سکتی ہے نا، میں نے بولا رخصتی نہیں کروانی آپ نے زبردستی کروائی، کیا یہاں میری سنی نہیں نا، تو دیکھیں لیں راحیل آپ سچ میں مجھے سے محبت نہیں کرتے، اگر کرتے نا تو ہر پل میری فیلنگز کو سمجھتے اور میری سوچ پر میرا ساتھ دیتے، پر آپ نے ایسا نہیں کیا، بالکل نہیں کیا ہمیشہ مجھے سنایا، ہمیشہ میرا دل دکھایا، ہمیشہ۔۔۔۔ ہمیشہ۔۔۔۔۔۔” وہ اسکا گریبان پکڑ کر غصے سے بولتی آخر میں وہ ٹوٹ کر رو دی، اور وہ خاموش تعماشائی بنا آج اپنی محبت کی عدالت میں اپنے پر لگنے والے الزام سن رہا تھا۔ اور وہ خود سے کیا وعدہ توڑ بیٹھی اور اس سے گِلے کر بیٹھی۔ راحیل سکے مسلسل رونے سے بگڑتی حالت کو دیکھ فوراً خود کو سھمنبالتے ہوۓ اسکی طرف بڑھا۔
اوکے عائشو ریلکس اتنا مت رو طبعیت خراب ہو جاۓ گی، میں نے مان لیا سب میری ہی غلطیاں ہیں بیٹھو یہاں” وہ اسے اپنے بازوں کے حصار میں لیتا بیڈ تک آیا اور اسے بیڈ پر بیٹھا کر پانی کا گلاس لے کر اسکے پاس ہی بیٹھ گیا۔ وہ پانی ہی کر اپنا چہرا موڑ گئی۔ وہ اسکے سامنے کمزور پڑنا نہیں چاہتی تھی۔ کچھ پل کمرے میں خاموشی چھائی رہی۔ وہ ویسے ہی چہرا موڑے بیٹھی رہی اور راحیل سامنے زمین پر نظر آتے بے معنی نقتے کو تک رہا تھا۔ اور گہری سوچ میں گم تھا۔ اسے آج اپنی غلطیوں کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔
“تمہیں مجھے معاف نہیں کرنا مت کرو، کوئی فورس نہیں کر رہا، تم نے ٹھیک کہا، میں سچ میں بہت سیلفش ہوں، مجھے تو شرم آ رہی ہے یہ کہتے ہوۓ،میں نے محبت تو کر لی پر اسے نِباہنے میں فیل ہو گیا، اور بری طرح سے ہار گیا، نا دوستی نِباہ سکا اور نا ہی محبت، بس بری بری باتیں ہی کرتا رہ گیا، اور تم سب نے اپنی دوستی کو نِباہ کر دیکھایا۔ تم بالکل ٹھیک ہو میں اس قابل ہی نہیں کہ تم جیسی پیاری لڑکی میرے ساتھ رہے،میں ہی تمہارے لائق نہیں ہوں ” وہ گہرا سانس لیتا نم آنکھوں سے اُسی نقتے کو تکتے بول رہا تھا۔ اور عائشہ دم سادھے سن رہی تھی۔ وہ کھڑا ہوا اور دروازے کی طرف بڑھا پھر نا جانے کیا سوچ کر رک گیا۔
“ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا تا کہ اللہ بھی مجھے معاف کر دے، اب تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں ہو گی، جو تم چاہو گی ویسا ہی ہو گا، تمہارا اس رشتے کو لے کر جو فیصلہ ہو گا مجھے منظور ہو گا، اور اب سے تمہیں میری ذات کی وجہ سے کوئی پریشانی نہیں ہو گی ” وہ بنا پلٹے بولا تھا، اور اہنی بات مکمل کر کے وہ دروازہ پار کر گیا۔۔۔ اسکے جاتے ہی عائشہ دوبارہ سے اپنا سر ہاتھوں میں گِراتی رو دی۔۔۔۔۔اب انکی زندگی کیا موڑ لینے والی تھی یہ دونوں نہیں جانتے تھے۔
جو دل نے تم سے جوڑا تھا
وہ مان تمہی نے توڑ دیا
یوں مجھ کو میری ہی نظروں میں
کیوں رسوا کر کے چھوڑ دیا
وہ جرم کیا نا جو میں نے
کیوں اسکی سزا یہ پائی ہے
اب مرنا بھی آسان نہیں
اور جینے میں رسوائی ہے💔
میرال کی آنکھ صبح دس بجے کے قریب کھلی، اسکے اُٹھتے کے کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے اسکا چیک اپ کیا، آج شام تک انکو ڈسچارج بھی مل جانا تھا، ڈاکٹر کے مطابق ابھی وہ بس ہلکی پھلی غذا کھا سکتی تھی بلاج نے اسکے لیے عائشہ کو گھر جا بنا سوپ لانے کو بولا۔ وہ کچھ دیر میں آنے والی تھی۔ وہ تکیے سے ٹیک لگاۓ بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ پاس ہی بلاج اس سے باتیں کر رہا تھا۔ تبھی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور پھر ملائکہ اور تقی اندر داخل ہوۓ۔
“آپییی” وہ آہستہ سے بولی۔ تقی ہاتھوں میں بکے لیے ان دونوں کے پاس آیا۔ ملائکہ جھٹ سے میرال کے پاس آئی اور اسکے گلے لگ گئی۔ بلاج نے ایک نظر بس تقی جو دیکھا اور پھر چہرا موڑ لیا۔ ملائکہ اور میرال کی طرف متوجہ ہوا،۔
“کیا ہو گیا؟ جو یوں اچانک ہسپتال میں داخل ہونا پڑ گیا؟” ملائکہ اسکا ماتھا چھوتے ہوۓ بولی، وہ اصل وجہ نہیں جانتی تھی۔ میرال نے بلاج کی طرف دیکھا۔ اور ادے بولنے کا اشارہ کیا۔
“آپی اصل میں بخار بہت ہو گیا تھا ساتھ گلا خراب ہو گیا، اسی لیے ہسپتال میں ایڈمیٹ کرنا پڑا” بلاج اسکی بات سمجھتا جھٹ سے بولا۔ حالنکہ تقی سب سچ جانتا تھا، پر وہ خاموش رہا۔
“یا اللہ تمہیں صحت دے” ملائکہ نے اسکا ماتھا چومتے ہوۓ کہا اور پاس پڑی دوسری کرسی پر بیٹھی گئی۔
“آپییی میں ٹھیکک ہوں” میرال نے گلے پر زور دیتے ہوۓ بولا۔ بولنے سے اسکے گلے میں جلن ہو رہی تھی پر ابھی ملائکہ کہ پریشانی دور کرنا مناسب تھا۔ تقی بھی پاس بیٹھا اس سے ہلکی پھلی باتیں کرنے لگا۔ تبھی دروازہ کھول کر مشی،امرحہ،حسام اور عائشہ داخل ہوئیں۔
“ہاۓ گائی” امرحہ اونچی آواز میں بولی اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتی اسکی نظر تقی پر پڑی۔ اور وہی ٹھہر گئی، اسکی آواز اور اسکی نظریں بھی۔ اسکی اواز پر اسکی نظر بھی اسکی طرف اُٹھی۔ کچھ پل کی خاموشی چھائی رہی اس خاموشی کو مشی کی آواز نے توڑا وہ ملائکہ سے مل رہی تھی، باقی سب بھی ملنے لگے۔ اسکے یوں چپ کر جانے کی وجہ میرال ملائکہ اور مشی کے علاوہ سب جانتے تھے۔
“کیسے ہیں تقی صاحب؟” وہ ملائکہ سے ملتی اب اسکی طرف متوجہ ہوئی اور لہجہ کافی تلخ تھا۔
“جی ٹھیک ہوں” تقی نے بس ایک نظر اسے دیکھا اور جواب دیا۔
“ارے ٹھیک تو ہوں گے، ویسے میرال تو آپکی بھائی کی بہن لگتی ہے، اور وہ اتنی بیمار بھی یے، تو آپ اکیلے ہی کیوں چلے آۓ آپکی وہ منگیتر نظر نہیں آ رہی، جسکا اس دن ذکر کیا تھا کہاں یے وہ؟” وہ اسکا جواب سن کر جیسے تپ گئی تھی۔ اسکے کہے گے الفاظوں نے تقی کے پیروں تلے زمین کھسکا دی۔ ملائکہ اسکی بات سن کر حیران ہوئی۔ میرال بھی حیران ہوئی اسکے علم میں یہ بات نہیں تھی۔
“منگیتر کون سی منگیتر؟ اسکی تو ابھی منگنی نہیں ہوئی بلکہ رشتہ تک طے نہیں ہوا، تقی کیا تم نے چھپ کر منگنی کر لی” ملائکہ تو مانو پریشان ہو گئی۔ یوں اچانک انے ہی دیور کی کسی اور کے منہ سے منگنی والی بات سن کر۔ ملائکہ کے بولنے پر تقی نے چہرہ ہی موڑ لیا۔ اسکا جھوٹ جو پکڑا گیا۔
“ارے ان مجں اتنی ہمت کہاں، جو چھپ کر منگنیاں کرتے پھریں، یہ تو منہ پر جھوٹ بول کر چاہنے والوں کے منہ بند کرتے ہیں، پر افسوس کبھی کبھی جھوٹ پکڑے بھی جانتے ہیں کیوں تو تقی صاحب؟” وہ طنزیہ انداز میں بولی۔ ملائکہ کو اسلا لہجہ عجیب لگا۔ تقی نے چہرا موڑا۔
“بھابھی چلیں؟” وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر بولا۔
“جھوٹے کہی کے اب کیوں بھاگ رہے ہو، میں نے اپنی محبت کا اظہار کیا کر دیا، تم نے جان چھڑوانے کے لیے اتنا برا جھوٹ بول دیا، یہ بھی نہیں سوچا میرا کیا حال ہوا ہو گا ” امرحہ سے مزید برداشت نا ہوا وہ اسکو ہلکا سا دھکہ دیتے ہوۓ غصے سے بولی۔ اور یہاں ملائکہ اور میرال کو ساری بات سمجھ میں آگئی۔
“ہاں بولا جھوٹ، کیوں تم میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہی تھی، ہر وقت ٹپک پڑتی تھی، تو اسی لیے بس تم سے پیچھا چھڑوانے کے لیے جھوٹ بولا ” وہ بھی اسی کے انداز میں بولا۔ امرحہ کو سبکے سامنے سبکی کا احساس ہوا۔
“بھاڑمیں گے تم اور بھاڑ میں گئی میری محبت، اب امرحہ شاہ مر جاۓ گی پر کبھی تمہارے پیچھے نہیں آۓ گی” وہ غصے اور نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوۓ بولی اور باہر کی طرف بھاگی۔عائشہ بھی اسکے ییچھے بھاگی۔ تقی سے انہیں یہ توقع بالکل نہیں تھی، بلاج تو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔ حسام جب تک باہر پہنچا وہ گاڑی چلا کر جا چکی تھی، اسنے اپنی گاڑی اسکے پیچھے لگا دی۔
“چلیں بھابھی” وہ خود پر ضبط کرتے ہوۓ بولا۔ ملائکہ نے ماحول سمجھا اور میرال سے ملتی اسکے ساتھ چلی گئی۔
بلاج نے جھٹ سے عائشہ کو کال کی تاکہ پتہ کر سکے وہ امرحہ سے ملا کہ نہیں۔۔
“وہ سب کیا تھا؟” گاڑی میں بیٹھتے ہی ملائکہ نے تقی سے سوال کیا جو خود برا اپسیٹ لگ رہا تھا۔
“کچھ نہیں وہ لڑکی پاگل یے کب کی پیچھے پڑی ہوئی ہے” وہ نظریں چڑاتے ہوۓ گاڑی کو سڑک پر ڈال کر بولا۔ ملائکہ نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا
“اچھا! پر مجھے تو کوئی اور ہی معاملا لگ رہا ہے، اسکو پسند کرتے ہو نا؟ تو منگنی والا جھوٹ کیوں بولا” ملائکہ نے جیسے سوال کیا اسکے سٹرینگ پر رکھے ہاتھ لڑکھڑاۓ۔
“ہممممم میرے محبت کرنے سے کیا ہی ہو جاۓ گا۔ میری اور اسکی کلاس میں بہت ڈفرینس ہے، وہ ہمارے جیسے گھر میں نہیں رہ پاۓ گی، اور نا ابھی میں اتنا انڈیپنڈنٹ ہوں کہ اسے الگ گھر لے کر دے سکوں، اور سب سے مشکل کی بات امی کا رویہ ہے وہ کبھی اپکو تو دل سے قبول کر پائیں تو امرحہ کا رہن سہن تو ہم سے بہت الگ ہے، میری محبت اسگ خوشی نہیں دے پاۓ گی، گھر کا ماحول اسے پرسکون رکھے گا ویسے بھی ساری زندگی اسنے اپنے ماں باپ کو لڑتے ہی دیکھا ہے۔ میں اسکو ویسی ہی زندگی نہیں دینا چاہتا” وہ گہرا سانس لے کر سب بول گیا۔ ملائکہ کچھ دیر کے لیے چپ کر گئی۔
“یہ باتیں اسکو بتائیں؟”
“نہیں میں اسے کوئی جھوٹی امید نہیں دینا چاہتا، وہ خود ہی سھنمبل جاۓ گی، درد تو ہو وہ اس درد کو سہ لے گی، اتنی سٹرونگ ہے وہ جانتا ہوں میں، ابھی کے لیے اگر وہ بول بھی دے کہ وہ سب سحنمبال لے گی، پر مین جانتا ہوں وہی لڑائی جھگڑے ہوں گے ” وہ سامنے سڑک پر دوڑتی گاڑیوں کو دوڑرتے ہوۓ دیکھ کر بولا۔ ملائکہ نے مزید بات کرنا مناسب نا سمجھی۔
شام کو انہیں ڈسچارج مل گیا , اب میرال تھوڑا سا بول پا رہی تھی، وہ اسے لیے گھر آیا، مشی، اور حسام انکے ساتھ تھے، عائشہ امرحہ کے پاس تھی۔ ان سب میں ہارون شامل نا تھا۔ وہ گھر پہنچے، میرال نے اپنے کمرے میں جانے کا اشارہ بلاج کو کیا۔ پر وہ اسے گھوری دیتا اپنے کمرے میں کے گیا۔ وہ بدلے میں اسے گھورتی ہی رہ گئی وہ بیڈ پر آرام سے لیٹ گئی۔
“حسام تو نے عائشہ کو کال کی امرحہ کیسی ہے؟ ” بلاج پلٹ کر بولا۔ حسام وہی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
“ہاں وہ ٹھیک ہے” وہ بس اتنا ہی بولا۔ بلاج وہی میرال کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اور اسکی طبعیت پوچھنے لگ گیا، اور حسام صاحب کل کے اظہارے محبت کے بعد اب پاگلوں کی طرح مشی کا انتظار فرما رہے تھے، جو کہ صبح سے اسکو اگنور ہی کر رہی تھی۔ اور اسکا دماغ گھوم رہا تھا۔
“گائیز یہ لو چاۓ ” تبھی مشی ہاتھ میں ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوئی جہاں چاۓ کے کپ اور کھانے کو کچھ چیزیں رکھیں تھیں۔ حسام اور بلاج نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا۔ وہ حیران تھے۔ مشی نے ٹرے ٹیبل پر رکھی۔ حسام نے اگے بڑھی کر چاۓ کو دیکھا جسکا رنگ بس کالا ہونا بچ گیا تھا۔ وہ انتہائی گاڑھی لگ رہی تھی۔
“یہ ہمیں پینی ہو گی؟” وہ چاۓ کے کپ کو پکڑتے اسکی خوشبو سونگتے ہی ٹیڑھے میڑھے چہرے بناتے ہوۓ بولا۔
“بدتمیز کہی کے نہیں پینی تو مت پیو، اسطرح میری چاۓ کی انسلٹ مت کرو، پوری ریسپی کے مطابق بنائی ہے، تم تنیوں لکی ہو، جو اسے پیو گے” وہ اسکے کندھے پر تھپڑ مارتے اخر میں اتراتے ہوۓ بولی۔
“ہاں پہلا اور شاید آخری بھی” حسام بے چارگی سے بولا۔ بلاج کی ہنسی چھوٹ گئی۔ حسام نے چاۓ کا ایک گھونٹ منہ میں بھرا اور پھر واشرم کی طرف بھاگا وہ انتہائی کڑوی تھی۔
“بھاڑ میں جاؤ ڈرامے باز میں اپنی دوست کو یہ چاۓ خود پلاؤ گی ساتھ یہ مزے کا کیک بھی” وہ چاۓ کا کپ لیے اب میرال کی طرف بڑھی۔
“اووو پلیز حیات میڈیم میری بیوی سے دور رہیں ابھی ابھی تو ہسپتال سے صحیح سلامت لے کر آیا ہوں یہ چاۓ پی کر دوبارہ اسے بیمار نہیں کرنا” وہ میرال کے اگے دیوارِ چین بن کر کھڑا ہو گیا۔ وہ اسکی حرکت پر ہنس دی۔ مشی نے پہلے میرال کو گھورا اور پھر بلاج کو گھورتی واپس صوفے پر بیٹھ گئی۔
“شکر ہے میری روح پرواز کرنے سے بچ گئی ورنہ اس مشی نے اتنی کڑوی چاۓ پلا کر آج مار ہی ڈالنا تھا” وہ باہر نکلتا گہرے گہرے سانس لیتے ہوۓ بولا۔ اور اب مشی کی بد ہو چکی تھی وہ چاۓ کا کپ ٹرے پر پٹختی کمرے سے باہر چلی گئی۔ اسکے یوں ناراض ہونے پر حسام کے تو چھکے چھوٹ گے وہ تو بس مزاق کر رہا تھا۔ وہ بھی اسکے پیچھے بھاگا۔
“ان دونوں کا کچھ چل رہا ہے، بس بتا نہیں رہے،” بلاج حسام کو یوں بھاگتے دیکھ بولا۔
“ایسی بات نہیں یے وہ شروع سے ایسے ہی جھگڑتے ہیں” میرال نے ٹھر ٹھڑ کر جواب دیا۔ وہ بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
“اووو بالکل میری چشمش کی طرح جیسے تم میرے ساتھ جھگڑتی رہتی تھی؟ ہممم” وہ مکمل اسکی طرف متوجہ ہوتے ہوۓ بولا۔ اور اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
“میں کب جھگڑتی تھی؟ تمہاری حرکتیں ہی ایسی تھیں، غصہ آ جاتا تھا” وہ ناک چڑھاتے ہوۓ بولی۔
“اچھا جی، ویسے کل رات کو میڈیم نے میرے ہاتھ پر کچھ لکھا تھا اسکا کیا خیال ہے؟” بلاج نے اسے کل رات کی بات یاد کروائی۔
“ہاں وہ سچ تھا، اب جب شوہر اتنا پیارا، ہینڈسم،اور کیرنگ ہو تو کوئی پاگل ہی ہو گی جو غصہ رہے گی میں وہ پاگل نہیں ہوں” وہ مسکراتے ہوۓ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔ اسکے یوں کہنے پر وہ مسکرا دیا۔۔
“شکریہ چشمش میری زندگی میں آنے کے لیے” اسکے بالوں کو کان کی لو کے پیچھے کرتے وہ محبت بھرے لہجے میں بولا۔۔میرال اگے بڑھی اور اسکے سینے سے لگ گئی، بلاج نے بھی اسکے گرد حصار تنگ کیا۔ کل کا دن دونوں کے لیے بہت بھاری تھی۔
مشی گارڈن میں تھی، وہ کافی غصے میں تھی۔ وہ وہی چکر کاٹ رہی تھی جب حسام اسکے پاس آیا۔ وہ کچھ بولنے والا تھا جب وہ چونکا۔ وہ رو رہی تھی، اسکی اتنی سی بات پر وہ رو رہی تھی؟ حسام کو لگا اسنے غلط سمجھا وہ اسکی وجہ سے رو نہیں سکتی تھی۔ بات کچھ اور تھی۔
“مشی کیا ہوا رو کیوں رہی ہو؟” وہ فوراً اسکگ قریب آ کر فکرمندی سے بولا۔ وہ مزید رونے لگی حسام نے اسے کرسی پر بیٹھایا اور پاس پڑی کرسی پر خود بیٹھ گیا۔
“بولو کیا ہوا میری بات بری لگی ایم سوری یار میں مزاق کر رہا تھا اب کیا میں اپنی مشی سے مزاق بھی نہیں کر سکتا؟” وہ کان پکڑ کر بولا۔ اس وقت مشی کو وہ بہت کیوٹ لگا۔ اسنے نفی میں سر ہلایا۔
“یہ بات نہیں یے وہ اصل میں کل جب میں گھر گئی۔۔۔۔۔۔۔” اور پھر اسکے بعد مشی نے اسے کل کا سارا واقع بتا دیا اور ساتھ ہی موبائل پر کی گئی ریکاڈنگ بھی سنا دی۔ سب سننے کے بعد وہ خود اپسیٹ ہو گیا۔
“گھر کا ماحول اب اچھا نہیں ہے، بھائی بھی بہت پریشان ہیں، اور آپی کی تو شکل دیکھنے کا دل نہیں کر رہا، وہ اتنی بری ہو سکتی ہیں میں نے کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی، انکی اصلیت جان کر بہت دکھی ہوں، بس اسی لیے رونا آ گیا” وہ اپنے آنسوں صاحب کرتے ہوۓ بولی۔
“تم پریشان مت ہو ایک نا ایک دن سچ سامنے آنا ہی تھا، جو انسان برا ہے اسکو اپنی سزا ملے گی” وہ گہرا سانس لے کر بولا۔
“تم نہیں سمجھو گے وہ میری بہن ہے، میں چاہ کر نہیں سوچ سکتی کہ اسکے ساتھ برا ہو” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔ اسکی بات پر حسام مسکرایا
“یہ تو تمہاری اچھی سوچ ہے، تم بس دعا کرو کہ اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہو” وہ ہولے سے بولا مشی نے ہاں مین سر ہلایا۔ تبھی چوکیدار نے دروازہ کھولا اور ایک گاڑی اندر آئی۔ اس میں سے عمیر اور اسکی بیوی حرا باہر نکلے۔
جاری ہے۔۔۔۔
