Rate this Novel
Episode 47
ازقلم فاطمہ طارق
بلاج اب خطرے سے باہر تھا، اسے روم میں شفٹ بھی کر دیا گیا تھا، پر ابھی وہ سکون آور انجکشن کے زِر اثر گہری نیند میں تھا۔ میرال اسکے پاس ہی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ سکندر صاحب عمیر اور ہرا اسکے پاس پہنچ گے تھے۔
دوسری طرف راحیل کا ابھی اپریشن ہو رہا تھا۔ وہ سب باہر کھڑے اسکے لیے دعائیں کر رہے تھے، وہ آپریشن تھیٹر کے دروازے کے پاس کھڑی تھی، اور ڈاکٹر کے نکلنے کا انتظار کر رہی تھی۔ ان کچھ دنوں میں انکے درمیان ہوئی تلخ کلامی میں کہے گیا ہر لفظ اسکے کانوں میں مسلسل گھونج رہا تھا۔ اور آج ہی تو جاتے ہوۓ اسنے جس انداز میں اسے دیکھا تھا۔ وہ بھول نہیں پا رہی تھی۔ وہ وہی بے بس سی کھڑی اپنی پچپن کی محبت، اپنے شوہر کی سلامت کی دعائیں کر رہی تھی۔
“عائشہ یہاں بیٹھ جاؤ تھک جاؤ گی ابھی اپریشن نا جانے کتنی دیر چلنا ہے” ہارون اسکے پاس آ کر بولا۔ اسنے کوئی جواب نا دیا۔ وہ یونہی کھڑی رہی، جیسے اگر یہاں سے ہلی تو وہ چلا جاۓ گا۔ پاس ہی سمائرہ بیگم، عالم صاحب کا رو رو کر برا حال تھا۔ ایک طرف انکی بیٹی کو گرفتار کر لیا گیا تھا تو دوسری طرف انکا بیٹا زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔ مشی اپنی ماما کو مشکل سے ہی سھنمبال رہی تھی۔ پونہی دو گھنٹے مزید بیت گے، دو گھنٹوں بعد ڈاکٹرز کی ٹیم اپریشن ٹھیٹر سے باہر نکلی۔
“راحیل کیسا ہے؟” حسام جھٹ سے اگے بڑھتے ہوۓ بولا۔
“پیشنٹ کی حال کافی بری تھی، اتنے اوپر سے گرنے کی وجہ سے بہت زیادہ چوٹیں آئی تھیں، اور دائیاں ہاتھ فیکچر ہو گیا ہے، اور سب سے بری بات بائیں ٹانگ پر لگنے والے سریے کی وجہ سے ہڈی کو کافی نقصان ہوا ہے ، کافی گہری چوٹ لگی ہے، کچھ مہینے وہ چل نہیں سکیں گے، اہستہ آہستہ بیتر ہو جائیں گے۔ انہیں روم میں شفٹ کر دیا جاۓ گا ، کچھ گھنٹوں تک ہوش بھی آ جاۓ گا” ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں کہتا اگے بڑھ گیا۔ اور پیچھے سب پر سکتا طاری ہو گیا۔ کچھ مہینوں کے لیے وہ چل نہیں پاۓ گا، ڈاکٹر کے یہ الفاظ کسی طور قبول نا تھے۔ پھر بھی وہ زندہ ہے اس بات کی سب کو خوشی تھی۔۔ اسے کچھ دیر بعد روم میں شفٹ کر دیا گیا۔۔۔۔
شام نو بجے تک بلاج کو ہوش آ گیا تھا۔ اسکے کندھے پر پٹی لگی ہوئی تھی وہ اپنا بازو ہلا نہیں پا رہا تھا۔ اسکے علاوہ اسکی ٹانگ پر بھی پٹی کی گئی تھی، جہاں گولی لگی تھی۔۔ اسکی آنکھ کھولی تو اپنے پاس بیٹھی میرال کو اسنے ایک نظر دیکھا اور پھر باقی سبکو دیکھا۔ آہستہ آہستہ سارا واقع ذہین کے پردے پر لہرایا۔
“راحیلللللل ؟” وہ لڑکھڑاتے ہوۓ انداز میں بولا۔ اور اُٹھنےلگا درد کی لہر کندھے میں اٹھی۔ عمیر جھٹ سے آگے ہوا۔
“وہ بالکل ٹھیک ہے ساتھ والے روم میں ہے تو لیٹ جا آرام کر ڈاکٹر آتے ہوں گے” عمیر اسے واپس بیڈ پر لٹاتے ہوۓ بولا۔ وہ وہی لیٹ گیا۔ درد سے آنکھیں میچیں۔ اسکے چہرے سے درد صاف ظاہر تھا جو میرال نے محسوس کیا۔ ڈاکٹر آیا اور چیک اپ کر کے چلا گیا۔ نرس نے ڈرپ لگائی
“اتنے زیادہ لوگ یہاں نہین رہ سکتے پلیز پیشنٹ کو آرام کرنے دیں اور گھر جائیں صبح آجائیے گا” نرس بول کر چلی گئی
“بیٹے اپنا دھیان رکھا کرو، جسنے گولیاں چلائیں وہ پکڑا جا چکا ہے کبھی باہر نہیں نکل پاۓ گا، ” سکندر صاحب آگے بڑھے اور اسکے بالوں میں ہاتھ پھیریتے محبت بھرے لہجے میں کہا۔ اس پر گولیاں چلی ہیں کا سن کر وہ کانپ کر رہ گے تھے۔ بلاج خاموشی سے لیٹا رہا کچھ نا بولا نا اچھا اور نا ہی برا۔۔۔۔۔۔
“ڈیڈ آپ گھر جائیں آپکی بھی طبیعت خراب ہے، جا کر آرام کریں میں یہی ہوں اسکا اچھے سے خیال رکھوں گا” عمیر نے سکندر صاحب کا اداس چہرا دیکھا جب بلاج نے کوئی جواب نا دیا تو انکے کندھوں کے گرد بازو پھیلا کر بولے۔ سکندر صاحب حرا کے ساتھ گھر چلے گے، حسام یہی روکا، وہ راحیل کے پاس تھا۔ جہاں عائشہ اور عالم صاحب تھے۔ امرحہ ہارون کے ساتھ جانے لگی۔ جب میرال کو عنیر نے جانے کا بولا پر وہ نا مانی۔۔۔
“میں یہی ٹھیک ہوں” میرال نے بلاج کی طرف دیکھ کر کہا۔ وہ بھلا اسے یہاں کیسے چھوڑ کر جا سکتی تھی۔
“تمہیں چوٹ لگی ہے جاؤ آرام کرو صبح جلدی آ جانا” عمیر نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔
“پررر عمیر بھائی۔۔۔۔۔” وہ پھر بھی نا مانی
“ہارون میرال کو گھر چھوڑ آؤ، امرحہ اسکے ساتھ آج رات رہ لو” تبھی درمیان میں بلاج بولا۔ اسکا لہجہ عام سا تھا۔ میرال کو گھبڑاہٹ ہوئی جب سے وہ اُٹھا تھا ایک بار بھی اس سے بات نا کی تھی۔ اسکی وجہ بھی وہ جانتی تھی۔میرال نے ایک نظر اسے دیکھا جو اسے اگنور ہی کر رہا تھا۔ بنا کچھ بولے وہ ہارون اور امرحہ کے ساتھ آ گئی۔۔۔۔۔۔۔
“””
اگلی صبح نو بجے وہ ناشتہ بنا کر ہارون اور امرحہ کے ساتھ ہسپتال پہنچی۔ راحیل کو ہوش آ چکا تھا۔ ڈاکٹر اسکا چیک اپ کرنے کے بعد اسے آرام کا بول کر جا چکا تھا۔
“آہو آہو” راحیل کو ایک دم کھانسی آئی۔ عائشہ جو کہ اسکے پاس ہی کھڑی تھی۔ اسنے جھٹ سے پاس پکڑا اور اسے سہارا دے کر بیٹھا کر پانی پلایا۔ اور لٹا دیا۔
“گئی نہیں؟ یہاں کیا کر رہی ہو؟ تمہاری تو فلائیٹ تھی” وہ بولا تو وہ جو پلٹ کر کرسی پر بیٹھنے والی تھی اسکی بات پر جہاں تھی وہی تھم گئی۔
“نہیں گئی” وہ بس اتنا ہی بولی۔ ایک آنسو اسکی گال پر بہا۔۔
“کیوں؟” نا جانے وہ کیا سننا چاہتا تھا۔ وہ گال صاف کر کے پلٹی۔
“میری جگہ تم ہوتے تو جا پاتے” اسکا سوال راحیل کی زبان کی چپی لگا گیا۔
“اللہ نا کرے کبھی میری جگہ تم۔۔۔۔” اس سے جملہ بھی مکمل نا ہو پایا،
“تو اتنا عجیب سوال پوچھنا بھی نہیں چاہیے” وہ وہی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
“مجھے یہ آنکھ مچولی بالکل نہیں کھیلنی، اگر واپس آنا چاہتی ہو تو سیدھے سیدھے بولو” اسکا بازو سختی سے پکڑتے وہ ہلکا سا غصے سے بولا۔ زخموں کا درد کہی جا سویا تھا ابھی تو اپنی زندگی سنوارنی تھی، جو کب سے الجھی پڑی تھی۔ اور اسکے مطابق یہی موقع تھا۔
“مجھے کچھ نہیں بولنا، تم بہت بدتمیز ہو بنا، ایک تو کل سے میری جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی، تمہیں اپنے آنکھوں سے بلڈنگ سے گڑتے ہوۓ دیکھنا کتنا برا صدمہ ہے تم سوچ بھی نہیں سکتے، گھنٹوں صرف تمہاری سلامتی کی دعائیں کیں، اور ابھی بھی تمہیں سوالوں جواب کرنے ہیں کہ میں یہاں کیوں ہوں، تم سے محبت کرتی ہوں اور اسی کی پل پل تم مجھے سزا دیتے ہوں، بہت برے ہو تم بہت زیادہ” وہ اپنا چہرا ہاتھوں پر گِراۓ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ راحیل نے اسے بیڈ پر بیٹھایا اور اپنے سینے سے لگاتے اسکے گرد بازوں کا حصار تنگ کیا۔ وہ بس روتی رہی ۔۔۔۔۔
“کبھی دوبارہ ڈائیوس کی بات نا کرنا کتنے انگاروں پر لوٹا ہوں صرف میں اور میرا رب جانتا ہے، تم سے جدائی میں برداشت نہیں کر سکتا میری جان” اسکے بال سہلاتے وہ نم لہجے میں بولا۔ عائشہ ہچکی بھرتی لال آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا۔ اور اگے بڑھتے اسکی تھوڑی پر بوسہ دیا۔
“وہ فیصلہ میرے لیے بھی سخت تھا، ایم سوری” اسکا چہرا ہاتھوں مین لیے وہ نم لہجے میں بولی۔۔
“اگر اتنے پیار سے مناؤں گی تو کون کم بخت نہیں مانے گا” چہرے پر مسکراہٹ سجاے وہ بولا تھا۔ اسکی خوبصورت دل کو چھو لینے والی مسکراہٹ دیکھ عائشہ کو لگا کہ زندگی میں ملے ہر دکھ کے اوپر یہ مسکراہٹ مرہم کی طرح لگی ہو۔ وہ دل کھول کر مسکرائی۔ تبھی دروازے سے حسام اور مشی اندر داخل ہوۓ۔۔۔
“اووو ہوو ہو یہ کیا دیکھ لیا معاف کرنا میرے دوست معاف کرنا” حسام مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔۔۔۔ مشی کو بھی ہنسی آ گئی۔ عائشہ ایک دم سے الگ ہوئی اور ایک طرف کھڑی ہو گئی۔
“تمہیں معلوم نہیں میاں بیوی کے کمرے میں آئیں تو دروازہ ناک کر کے آتے ہیں بالکل مینرز نہین ہیں” راحیل نے ہلکا سا اسے ڈانٹا۔
“سالے صاحب یہ آپکا بیڈ روم نہیں، جہاں کھلے عام رومانس کرو یہ ہسپتال کا کمرہ ہے کچھ شرم کرو ” وہ روانگی میں بولا گیا۔ راحیل اسکی بات پر چونکا۔
“یہ میں تیرا سالا کب سے ہو گیا؟” آئی برو اچکاتے وہ حیرانگی سے بولا۔ مشی کی تو جان پر بن آئی۔ اس حسام کی چلتی زبان پر قابو جو نا تھا
“اپنی بہن سے پوچھو، بتا نا مشی” وہ اپنے دونوں ہاتح الجحاتا گردن جھکا کر شرماتے ہوۓ بولا۔ مشی کا دل کیا اسکا سر ابھی پھاڑ دے۔ راحیل کچھ کچھ سمجھ گیا۔ اسکا رخ اب مشی کی طرف تھا۔
“بھائی ڈیڈ بلاج کے کمرے میں ہیں میں انکو بلا کر لاتی ہوں روکیں” وہ کہتی کمرے سے رفو چکر ہو گئی۔
“شرما گئی بچاری ” وہ اسی طرح شرماتے ہوۓ بولا۔
“سالے تو بھی کچھ شرم کر لے” راحیل نے ہنستے ہوۓ کہا۔ عائشہ بھی مسکرا دی۔۔۔۔
وہ بلاج کے لیے سوپ لے کر آئی تھی، سوپ نکالتے اسے ٹرے میں رکھتے وہ اسکے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی۔ ایک چمچ بھر کر اسکی طرف کیا
” ہارون باسط کا کیا بنا وہ سالا نکلنا نہیں چاہیے اور اس سائیکو اسماء کو کسی مینٹل ہسپتال میں بھیجوا کر رہوں گا” وہ اسکے ہاتھ سے چمچ پکڑتے ترے کو بیڈ پر رکھتے خود سوپ پینے لگا۔ میرال کا دل ایک دم بھر آیا۔
“ہاں دونوں پولیس کسٹڈی میں ہیں، کچھ دنوں میں ہیرینگ ہے پھر فیصلہ ہو جاۓ گا انکا کیا کرنا ہے تو فکر مت کر” ہارون نے اسے سب بتایا ہاس ہی امرحہ اور عمیر بیٹھے تھے ۔ وہ ہاں سے اُٹھی اور بنا کچھ بولے کمرے سے چلی گئی۔ اسکو جاتا دیکھ بلاج نے بری مشکل سے باقی کا سوپ پیا۔ ایسا کرنا اسکے مطابق بالکل صحیح تھا۔ اسے بنا بتاۓ اتنا برا قدم لے لیا، اس سے سارے میسجز کالز چھپائیں اسکی کچھ تو سزا ملنی تھی اسکا اترا چہرا اسے بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا پر اسکے مطابق یہی ٹھیک تھا۔
کچھ دیر ہی گزری تھی کہ میرال کمرے میں آئی اسکے ساتھ ملائکہ اور تقی بھی تھے۔
” السلام علیکم! کیسے ہو؟” تقی آگے بڑھ کر بولا۔
” وعلیکم السلام! ٹھیک ہوں” وہ سخت لہجے مین بولا۔
“اللہ کا شکر ہے تم ٹھیک ہو، میں کل ہی آجاتی پر تم سب جانتے ہو، ” ملائکہ شرمندگی سے بھرے لہجے میں بولی۔
“آپی کوئی بات نہیں” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔
“بلاج تم نے بالکل ٹھیک کیا، تم اپنی جگہ صحیح ہو میرا بھائی غلط ہے اسے سزا ملنی چاہیے، تم اپنا خیال رکھو بھابھی مین باہر ہی ہون آ جانا ” تقی نے بہت ہمت سے یہ سب بولا تھا وہ باہر کی طرف بڑھ گیا۔ امرحہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور اسکے پیچھے آئی۔
وہ باہر گارڈن میں ا گیا تھا وہ اسکے ساتھ آکر کھڑی ہوئی۔
“ان سب میں تمہار اکوئی قصور نہیں، زیادہ مت سوچو” امرحہ ہولے سے بولی اسکی آواز سن کر وہ چونکا۔ اور پلٹا اسے اپنے پاس دیکھ اسے سکون ملا یہ لڑکی ہر دفع اسکے پاس آجاتی تھی چاہیے وہ اسکی کتنی ہی انسلٹ کیوں نا کر دے ۔
“وہ میرا سگا بھائی یے تو میرا قصور نا ہوتے ہوے بھی مین انوال ہو ہی جاتا ہوں، جانتا نہین تھا میرا بھائی اتنا گڑ سکتا ہے، اسکی اصلیت ہلکی پھکی تو جانتا تھا پر وہ اتنا گڑ جاۓ گا یہ نہیں سوچا تھا” وہ گہرا سانس لے یر بولا۔ امرحہ کو کافی پریشان دیکھ رہا تھا۔
“تم اس میں کچھ نہیں یر سکتے تو زیادہ مت سوچو” وہ سامنے دیکھتے ہوے بولی۔۔
“دیکھ لیا نا میری فیملی کیسی یے اسی لیے تمہیں دور رکھ رہا ہوں، اس دلدل میں تم دھنس جاؤ گی سر سے کے کر پاؤں تک اس دلدل میں دھنستی جاؤگی چاہ کر بھی نکل نہیں پاؤ گی اور اسی تقلیف سے دور رکھنے کے لیے تمہیں خود سے دور کیا تھا ورنہ۔۔۔۔”
“ورنہ کیا ؟ کیا تم مجھے پسند کرتے ہو؟” امرحہ کے لیے اور کوئی جواب میٹر نہیں کرتا تھا بس یہی جواب وہ سننا چاہتی تھی۔
“ہاں کرتا ہوں، پر صرف محبت سے زندگی نہیں چلتی فیملی اچھی ملنی چاہیے تمہین جا تو اپنی فیملی مین سکون ملا اور نا یی تمہیں میری فیملی میں سکون ملے گا اسی لیے دور کیا” وہ گہرا سانس لیے بنا ادے دیکھ کر بولا۔ اور امرحہ جو لگا اسکے آس پاس ایک دم سے آکسجین بڑھ گئی ایک دمسے پھول کھل گے وہ اظہار کر رہا تھا۔ مطلب اسکی محبت یک طرفہ جا تھی۔ یہ بات ہی اسکے لیے کافی تھی۔
“تمہیں میرے گھر ایک پل سکون یا نہیں ملے گا میری امی نے آج تک ایک دن بھی بھابھیوں کو سکون سے رہنے نہیں دیا، ہمارے گھر کا ماحول تمہارے لیے کمفرٹیبل نہیں” وہ اب اسکی طرف مڑکر بولا۔ جو اسکی بات پر مسکرا رہی تھی آنکھوں کی چمک ہزار گنا بڑھی تھی۔
“کیا یہ کم ہے تم مجح سے محبت کرتے ہو اس سفر میں اکیلی نہیں ہوں تم ہو، تو مجھے کسی چیز کا خوف نہیں، مجھے صعف تمہاری محبت چاہیے باقی سب میں یوں سحنمبال لوں گی تو میری فکر مت کرو، آخر کو محبت کا دعوا کیا ہے تو پورا تو کروں گی” وہ چہک کر سب بول رہی تھی۔ تقی کو وہ ایک سر پھری لگی۔ اسکے چہرے پر بھی سمکراہٹ ابھری۔
“سوچ لو اگر ایک دفع میرا ہاتھ پکڑا تو چاہ کر بھی چھوڑ نہیں پاؤ گی، جانے نہیں دوں گا ساری عمر ” وہ دو ودم اگے بڑھ کر بولا۔
“چھڑوانا کون کم بخت چاہے گا آپکے حکم پر تو جان حھی قربان ہے جی تسی کی سانوں کملی سمجھیا اے جو توانوں چھوڑ دوں گی مر کے وی نہی” وہ مسکراتے ہوۓ بولتی آخر میں پنجابی انداز میں بولی۔ تقی کی ہنسی چھوٹی۔
“پنجابی ایکسینٹ کافی سوٹ کرتا یے ” وہ ہولے سے بولا۔ امرحہ نے کندھے اچکاۓ۔۔۔۔ دور قسمت انہیں دیکھ کر مسکرائی تھی۔۔۔
بلاج کو رات کو چھٹی مل گئی، راحیل کو کل ملنی تھی، اس سے چلا تو جا نہیں رہا تھا وہ ویل چئیر پر بیٹھا ہوا تھا۔ اسنے حسام کو راحیل کے کمرے میں جانے کا بولا۔ وہ ساتح والے کمرے میں ادے لے کر آگیا۔ اسکے پیچھے باقی سب بھی تھے۔ آج تقریباً تین سال بعد وہ یوں ملنے والے تھے۔ وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا۔ راحیل عائشہ کو کسی پر ہر چھیر رہا تھا جس پر وہ شرما رہی تھی۔ اور راحیل کا قہقمہ بلند ہو رہا تھا۔ بلاج کو آتا دیکھ دونوں چپ ہوۓ۔ اسنے عائشہ کو اشارہ کیا ادنےا سے سیدھا کیا۔ حسام اسکے بیڈکے قریب لایا۔ کچھ دیر تو دونوں کچھ نا بولے۔
“معلوم نہیں تھا یوں بھی کبھی ملیں گے تم بیڈ پر اور مین یوں ویل چئیر پر، پر خیر یہ وقت بھی ٹل جاۓ گا، حسام زرا مجھے بیڈ پر بیٹھانا” بلاج نے حسام کو بولا۔ حسام اور ہارون نے مل کر اسے بیڈ پر بیٹھایا۔
“اہممم بلاج وہ۔۔ ایم سو۔۔۔۔۔۔” راحیل کے ابھی الفاط بھی مکمل نا ہوۓ تھے کہ بلاج کی حرکت پر سب چونکے۔ اسنے اسے گلے سے لگایا تھا۔ چاروں کی طرف خاموشی تھی۔ تین سال پہلے کے دوست جو دشمن بن چکے تھے اب دوبارہ سے دوست بن رہے تھے۔ کافی دیر وہ اسے طرح گلے لگے رہے اس ایک ہگ میں ساری ناراضگیاں، رنجیشیں، گلے، شکوے سب مٹ گے تھے۔۔ کچح دیر بعد وہ علحیدہ ہوۓ۔ راحیل کو سکون سا ملا۔ اپنے دوست کو واپس پا کر۔
“پرانی کوئی بات نہیں کریں گے سب نیا ہو گا”کچھ دیر بعد بلاج بولا۔
” بالکل کوئی پرانی بات نہیں سب نیا ہو گا تم دونوں تحوڑے ٹھیک ہو جاؤ ہمارے گروپ کے واپس جڑنے پر بری سب اپنے اڈے پر جا کر پارٹی کریں گے یاہووووو” حسام اونچی اواز میں چیختے ہوۓ بولا۔
“آہستہ بولو یہ ہوسپٹل ہے” عمیر نے اسے ڈانٹا۔
“ارے بھائی جان چھوڑیں سب باتیں چلو گائیز ایکس میٹ کے نام ایک یاد گار سیلفی لے لیں دو یاروں کے ملنے کی خوشی میں” حسام بلاج کا موبائل نکالتے ہوۓ کیمرہ آن کرتا سارے گروپ کو اسکے اندر آنے کا بولتے پوزیشن لے کر کھڑا ہو گیا۔ عائشہ راحیل کے پاس بیٹھی۔ مشی ہارون اور امرحہ بیڈ کے پیچھے کھڑے ہوۓ، حسام نے ون ٹو تھری کہتے سیلفیاں بنائیں۔ میرال نے انکی دوستی کو سلامت رہنے کی دعائیں دیں۔۔۔۔۔
