Rate this Novel
Episode 26
میرال کی آنکھ صبح گیارہ بجے کے قریب کھلی، اسنے آنکھوں کو مسلتے اس پاس دیکھا، سامنے کرسی پر مشی بیٹھی موبائل چلا رہی تھی۔ اسکا بخار اب اتر چکا تھا۔ اسنے اُٹھنے کی کوشش کی مشی کی نظر اس پر پڑی تو جلدی سے اسے بیٹھنے میں مدد کی۔تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے آ کر چیک اپ کیا۔ ڈرپ ختم ہونے کے بعد جانے کا کہا۔
“ارے تم تو میری بہادر دوست ہو، اتنے سا مسکرابخار تمہارا کچھ نہیں بگار سکتا” مشی اسکا ہاتھ پکڑ کر ہسپتال سے باہر لے کر جاتے ہوۓ بولی۔
“تھینکس مشی، تم میری وجہ سے ساری رات یہی رہی” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔ مشی نے ایک نظر اسے دیکھا، اور پھر سامنے دیکھنے لگی۔
“رات کو میں چلی گئی تھی، بلاج یہاں رُکا تھا، میرا دل تو نہیں کیا جانے کو پر اسنے زبردستی بھیج دیا، صبح جب میں آئی اسکے بعد وہ چلا گیا” مشی اسے لیے گاڑی کی طرف بڑھتے ہوۓ بولی۔ میرال کچھ نا بولی۔ مشی کے ساتھ وہ ہاسٹل پہنچی۔ جہاں واڈن نے انہیں آتے ہی کمرے میں بلایا تھا۔
“جی!” میرال اور مشی واڈن کے کمرے میں آئیں۔
“تمہیں ایک ہفتے کا وقت دیا تھا، دو ہفتے گزر گے، تم نے ابھی تک ہاسٹل کی فیس ادا نہیں کی؟” واڈن سخت لہجے میں بولی۔
“مجھے معاف کیجے گا، اصل میں دو تین جگہ پر نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے پر کہی سے جواب نہیں ملا، جبھی مجھے نوکری مل جاۓ گی میں وعدہ کرتی ہوں کرایہ ادا کر دوں گی” میرال منت بھرے لہجے میں بولی۔ مشی کو اس پر بہت غصہ آیا اسنے یہ بات اسے کیوں نہیں بتائی۔
“دیکھو لڑکی، یہ میرا کام ہے، اگر میں ہر دوسری لڑکی کی دکھ بھری کہانیاں سننے بیٹھ جاؤں گی تو میرا جو کباڑہ ہو جاۓ گا، تمہیں وقت دیا تھا تم نے کرایہ ادا نہیں کیا، تمہارے پاس آدھے گھنٹے کا وقت ہے، سامان پیک کرو اور ہاسٹل سے نکلو، یہ بے وجہ کے چونچلے ہم برداشت نہیں کرتے” واڈن اسکی بات سن کر غصے سے بولی۔ سبھی جانتے تھے وہ کتنی کھڑوس ہے۔
“واڈن جی آپ مجھے تو جانتی ہیں، یہ میری دوست ہے، اسکو تھوڑا وقت اور دے دو” مشی اگے بڑھ کر بولی۔ واڈن نے نفی میں سر ہلایا۔
“اکیلی لڑکی ہے، ماں باپ مر چکے ہیں، ایسی لڑکی کہاں سے پیسے دے گی، ویسے بھی اکیلی لڑکی کا کوئی بھروسہ نہیں ناجانے کیا کیا گل کھلا دیں۔ میرا تو زندگی کا اصول ہے، سب سے پیارا پیسا، تم دونوں اب نکلو” واڈن نے تلخ لہجے میں انہیں جانے کا بولا۔
“او ہیلو نہیں رکھنا تو مت رکھو، یہ بلاوجہ کسی کے کردار پر باتیں مت کرو” مشی تو اسکی گھٹیا بات سن کر غصے سے بولی۔ میرال اگلے ہی لمحے پلٹ کر چلی گئی۔ مشی اسکے پیچھے بھاگی۔
وہ کمرے میں آئی، اور اپنا سامان پیک کرنے لگی۔
“میرو کہاں جاؤ گی؟” وہ میرال کو جلدی جلدی سامان پیک کرتے ہوۓ بولی۔
“جتنی بے عزتی ہونی تھی ہو گئی، یہ شہر ہی مجھے راس نہیں آیا، یہاں کے لوگ بہت گھٹیا ہیں، میں واپس گاؤں جا رہی ہوں” وہ سارا سامان پیک کرتے ہوۓ بولی۔ اسکا دماغ اب گھوم چکا تھا۔
“ارے پاگل ہو، اتنی سی بات پر تم پڑھائی چھوڑ دو گی، میری جان اپنے خواب برباد نہیں کرتے اور ویسے بھی جب مشی جیسی انتہا کی ذہین لڑکی سامنے ہو تو کسی بھی پریشانی سے گھبرانے کی ضرورت نہیں” مشی اسکے ساتھ سامان پیک کرتے ہوۓ ساتھ میں اپنی تعریفیں کرتے ہوۓ بولی۔
“اچھا تو بتاؤ اس مسلے کا کیا حل ہے؟ اگر آپی نا نکالتیں تو وہی چلی جاتی میں کون سا چاہتی ہوں کہ پڑھائی چھوڑ دوں اسکے لیے میں نے بہت کچھ کیا ہے” میرال کتابیں بیگ میں ڈالتے تھکے ہوۓ لہجے میں بولی۔
“ان سب لوگوں کو دفع کرو، میری بات سنو میرے پاس بہت اچھا حل ہے، تم میرے ساتھ میرے گھر پر رہو گی کیسا لگا میرا حل” مشی چہک کر بولی۔
“تمہارا دماغ ہل چکا ہے، میں تمہارے گھر نہیں رہوں گی، تمہارے گھر والے کیا سوچیں گے، بالکل نہیں” میرال نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔ اور اب کپڑے بیگ میں ڈالنے لگی۔
“تم میرے ڈیڈ اور ماما کو نہیں جانتی وہ بہت سوئیٹ کچھ نہیں بولیں گے، رکو میں ابھی مما سے بات کرتی ہوں” مشی بولتے ہی موبائل نکال کر سمائرہ بیگم کو کال ملا دی۔ اور انہیں سب سچوئیشن بتائی۔
“لو ہو گئی بات مما نے بولا ہے گھر لے آؤ” مشی بات ختم کر کے بولی۔ میرال نے گہرا سانس لیا۔ وہ اب نا چاہتے ہوۓ بھی اسکے ساتھ چل دی۔
وہ دونوں گھر پہنچیں، سامنے ٹیوی لاونچ میں سمائرہ بیگم عائشہ اور اسماء کے ساتھ بیٹھیں ہوئیں تھیں۔ وہ ہچکچاتے ہوۓ مشی کے ساتھ انکے قریب آئی۔
“مما میری دوست آ گئی” مشی زور سے چلا کر بولی تینوں چونکیں۔ سمائرہ بیگم دونوں کو دیکھ کر مسکرائیں اور بہت محبت سے میرال سے ملیں۔ اسماء اسے اپنے گھر سامان کے ساتھ دیکھ کر حیران ہوئی۔ عائشہ نارمل تھی۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
“مشی یہ سب کیا چل رہا ہے؟” اسماء سے مزید برداشت نا ہوا وہ جاننا چاہتی تھی۔ میرال نے اسکی طرف دیکھا۔ کچھ دنوں کے واقع اسکی آنکھوں کے سامنے لہراۓ۔
“چلنا کیا ہے میرال بھی اب سے ہمارے ساتھ رہے گئی” مشی چہکتے ہوۓ بولی۔ اسماء کو اسکی بات پر غصہ آیا۔ جس لڑکی کو وہ دیکھنا بھی پسند نا کرتی وی اسکے گھر میں رہے گی۔
“ہمارا گھر کب سے دارُو امان بن گیا؟ جو کسی کو بھی اُٹھا کر کے آؤ” اسماء نے ہر لحاظ باۓ طاق رکھتے ہوۓ کہا۔ اسکی بات میرال کو بہت بری لگی۔
“آپی میں نے مما سے پوچھ کر اسے لایا ہے، آپ پلیز اب مزید کچھ نا بولیں وہ میری دوست ہے، جب اپکی دوستیں یہاں رہ سکتی ہیں تو میں بھی رکھ سکتی ہوں” مشی کو اسکی بات ایک آنکھ نا بھائی۔ میرال کو اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہوا۔ وہ ویسے ہی کھڑی تھی۔
“مشی تم میرال کو اپنے کمرے میں کے جاؤ،اسکی طبعیت خراب ہے تھوڑا آرام کر لے پھر لنچ کا وقت ہو جاۓ گا، جاؤ” سمائرہ بیگم نے میرال کے چہرے پر شرمندگی نوٹ کی تو فوراً بولیں۔ اپنی بیٹی کی باتیں انہیں بھی پسند نا آتیں تھیں۔ مشی میرال کو لے کر اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
“اسماء تم بھی اپنی زبان کو تھوڑا کم چلایا کرو، تمہیں بالکل نہیں پتہ کہاں کیا بولنا ہے” سمائرہ بیگم نے اب اسے ڈانٹا
“مما آپ اس بے وقوف سی لڑکی کے لیے مجھے ڈانٹ رہی ہیں، حد ہو گئی” وہ غصے سے کہتی باہر کی طرف چلی گئی، اور تھوڑی ہی دیر بعد گاڑی لے کر چلی گئی۔
★* آج چونکہ یونی سے چھٹی تھی تو کوئی بھی یونی نا گیا، بلاج ساری رات ہسپتال میں روکا اور صبح مشی کے آنے کے بعد وہ وہاں سے نکل گیا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کر، اسنے اپنا موبائل بھی بند کر دیا تھا۔ وہ ابھی فل حال کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسمے اپنی گاڑی حمدانی ہاؤس کی جانب بڑھا دی۔ ایک بجے کا وقت تھا، یقیناً سکندر حمدانی گھر پر موجود نا تھے۔ وہ گاڑی سے نکل کر اندر آیا تو اسکی نظر صوفے پر بیٹھ کر چاۓ پیتے ہوۓ کنول بیگم پر پڑی، جو ملازمہ سے بات بھی کر رہیں تھیں۔ “موم کیسی ہیں؟” وہ چلتا ہوا انکے پاس آیا اور انہیں حصار میں لیتے ہوۓ بولا۔ یوں اسے سامنے دیکھ کر کنول بیگم حیران ہوئیں۔ “میں بالکل ٹھیک میرا بچہ کیسا ہے؟” کنول بیگم نے مسکراتے ہوۓ بولا۔ “ٹھیک ہوں بس تھوڑا سا تھک گیا ہوں سر درد کر رہا ہے چاۓ پلوا دیں” وہ وہی انکے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔ اور اپنے جوتے اتارنے لگا۔ کنول بیگم نے ملازمہ سے چاۓ کا کہا۔ بلاج انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔ آنکھیں بند کر لیں۔ کنول بیگم کی آنکھیں نم سی ہوئیں۔ وہ جانتیں تھیں بچپن سے جب وہ حد سے زیادہ پریشان ہوتا تو یونہی انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ جاتا، اور کنول بیگم اسکا سر سہلاتیں اور وہ سکون کی نیند سو جاتا۔ یوں جیسے اپنی ساری پریشانیاں اسنے انکے حوالے کر دیں اور خود پرسکون ہو گیا۔ ابھی بھی بنا اسکے کہے کنول بیگم نے اسکا سر دبانا شروع کر دیا۔ “کیا بات ہے، میرا بچہ تھکا ہوا لگ رہا ہے؟ اور جی چوٹ کیسے لگی؟” کنول بیگم اسکا سر دباتے ہوۓ بولیں۔ انکی نظر سر پر لگے سنی پلس پر پڑی۔ “بس زندگی تھکا دیتی ہے” وہ گہرا سانس لیتے ہوۓ بولا۔ اور چوٹ کی بات گول کر گیا اگر انہیں پتا چلتا وہ بائیک سے گڑا ہے تو پریشان ہو جاتیں۔ “اتنی سی عمر میں تھک گے، پگلے” کنول بیگم اسکے کندھے پر تھپر رسید کرتے ہوۓ بولیں۔وہ ہلکا سا مسکرایا۔ “او تو اچھا جی سارا پیار اس اکیلے بیٹے کے لیے میں تو آپکا کچھ لگتا ہی نہیں” عمیر گھر ایک فائل لینے آیا تھا تبھی بلاج کی گاڑی دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی، وہ اندر آیا۔ اسکی نظر کنول بیگم اور بلاج پر پڑی۔ “تو جیلس مت ہوئیں، فل حال مما کے پیار پر میرا حق ہے، کبھی کبھی آتا ہوں آپ تو چوبیس گھنٹے یہی ہوتے ہو” بلاج اسکی آواز سن کر کھڑا ہوا اور اسے گلے سے لگاتے ہوۓ بولا۔ “ویسے مما گھر کا چھوٹا بچہ ہونے کا اسنے ہر دفع فائدہ اُٹھایا ہے” عمیر اسکا کان کھینچتے ہوۓ بولا۔ بلاج کی چیخ حمدانی والا میں گھونجی۔ “کیا بھائی! یار لال کر دیا” وہ اپنا کان چھڑوا کر اسے مسلتے ہوۓ بولا۔ عمیر نے اسکے بال بگاڑے۔ کنول بیگم دونوں کو سالوں بعد اسطرح مستی کرتے دیکھ خوش ہوئیں “اف بھائی ایک تو اپکو میرے بالوں سے نا جانے کیا مسلہ ہے” وہ اپنے بگڑے بالوں کو دوبارہ ٹھیک کرتے ہوۓ بولا۔ “جانتا ہوں کتنے پوزیسو ہو اپنے بالوں کو لے کر، اسی لیے انہیں بگاڑ کر مزہ آتا ہے” عمیر ہنستے ہوۓ بولا۔ بلاج کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔ اتنی آواز سن کر سکندر صاحب جو کہ اپنے کمرے میں آرام کر رہے تھے وہ باہر آۓ۔ انکی نظر سامنے دونوں پر پڑی۔۔ بلاج کو انہوں نے کافی دیر بعد ہنستے ہوۓ دیکھا وہ اگے بڑھے۔ “کنول لنچ بن گیا بھوک لگی ہے” وہ لاونچ میں داخل ہوتے بولے۔ انکی آواز پر بلاج ساکت ہوا۔ اسے لگا وہ گھر نہیں ہیں۔ اسکے چہرے سے مسکراہٹ سمٹی، اور سخت تاثر چہرے پر آگیا۔ وہ پلٹا اور اپنے شوز پہننے لگا۔ “بلاح لنچ بن گیا ہے کھا کر جاؤ” کنول بیگم اسے تیزی سے جوتے پہنتے ہوۓ دیکھ کر بولیں۔ “بھوک نہیں ہے ” وہ دوسرا جوتا پہنتے ہوۓ بولا اور کھڑا ہوا۔ “ویسے کسی نے بولا تھا اس گھر میں قدم نہیں رکھے گا، حیران یوں اپنے لفظوں سے کیسے لوگ پلٹ جاتے ہیں” سکندر صاحب اخبار پکڑ کر اسے کھولتے ہوۓ بلاج پر طنز مارتے ہوۓ بولے۔ “موم چلتا ہوں” وہ بنا کوئی جواب دیے عمیر سے ملتا وہاں سے چلا گیا۔ کنول بیگم اداس دل سے ملازمہ کو لنچ لگانے کہ کر آئیں۔ “مجھ سے بات کرنے پر ہی نواب کی اکڑ جاگتی ہے” سکندر صاحب اسکے یوں جانے پر چڑتے ہوۓ بولے۔ “آپکا ہی بیٹا ہے،ڈیڈ” عمیر ہلکی آواز میں کہتا سٹڈی روم میں گیا اور فائل لے کر آفس چلا گیا۔ ★★★★
راحیل رات کو ایک بجے گھر آیا۔ سبھی سو چکے تھے وہ کافی تھکا ہوا تھا۔ کمرے میں آیا تو سامنے بیڈ پر بیٹھ کر عائشہ ہاتھ پر پڑی گولیاں پانی سے نگلنے والی تھی۔ ۔۔
“عائشہ تمہارا دماغ خراب ہے تم دوبارہ سے وہی گولیاں کھا رہی ہو، مرنا ہے” راحیل کا دماغ اسے گولیاں کھاتے دیکھ بھک سے اُڑا۔ اسنے جلدی سے گولیاں اسکے ہاتھ سے پکڑئیں
“تو تمہیں اس سے کیا، مرنا ہوا تو مر جاؤں گی، ویسے بھی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا گولیاں واپس کرو” وہ کندھے اچکا کر بولی۔ اسکا جواب سن کر راحیل نے دانت پیسے۔ اور سائیڈ ٹیبل کھول کر اسکی ساری دوائیاں نکالیں۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے دوائیاں واپس دو” وہ بیڈ سے اُٹھ کر اس سے دوائیاں لینے کی کوشش کرنے لگی۔ راحیل نے اپنے بازو پر پڑا کوٹ بیڈ پر پھینکا۔ اور واشروم کی طرف بڑھا۔ اور ساری دوائیاں فلش کر دیں۔۔
“راحیل تم پاگل ہو، میری دوائیاں کیوں فلش کیں،مجھے روز کھانی ہوتی ہیں” وہ راحیل کو دھکہ دیتے ہوۓ بولی۔
“اگر نہیں کھاؤ گی تو مر نہیں جاؤ گی، ویسے بھی وہ سب دوائیاں تمہاری صحت کے لیے ٹھیک نہیں” راحیل اسے دونوں بازوں سے پکڑ کر واشروم سے باہر لاتے ہوے بولا۔
“تمہیں کچھ نہیں پتہ، میں انہی کی وجہ سے زندہ ہوں، مجھے نیند اسی وجہ سے آتی ہے مجھے سکون بھی انہی کی وجہ سے ملتا ہے، اگر نہیں ملیں گی میں میں سو نہیں پاؤں گی، میں پاگل ہو جاؤں گی، مجھے مجھے ابھی کے ابھی لا کر دو، جاؤ،،” عائشہ بات کرتے کرتے رو دی۔
“ریلکس عائشہ نہیں کھاؤ گی تو کچھ نہیں ہو گا” راحیل کو اسکا انداز بہت عجیب لگا وہ دوائیوں کے لیے پاگلوں کی طرح رو رہی تھی۔
“تم سمجھ نہیں رہے، وہ میری ضرورت ہیں، پلیز لا دو میں ہاتھ جوڑتی ہوں، مجھے نیند نہیں آۓ گی” وہ ہاتھ جوڑ کر روتے ہوۓ بولی۔ راحیل کے دل کو اسکی حالت دیکھ کچھ ہوا۔۔ وہ ایک دم نرم پڑا۔
” ریکس عائشو میں ہوں نا نیند آجاۓ گی۔ ریکس،،” وہ اسے اپنے حصار میں لے کر چپ کروانے کی کوشش کرنے لگا۔
“نہیں تم نہیں ہو، تم چلے جاتے ہو، ہمیشہ کی طرح آج بھی چلے جاؤ گے، پتہ جب تم نے چھوڑ دیا تھا نا تب مجھے نیند نہیں آتی تھی میں تب وہ دوائی کے کر سوتی تھی اور پھر ایک سکون بھری نیند ملتی تھی، دل کرتا تھا ایسے ہی سوتی رہوں، تا کہ تم یاد نا آؤ، پر پھر خوابوں میں بھی تم ا جاتے تھے” وہ اسکے سینے سے لگی، روتے روتے روانگی میں بولے جا رہی تھی۔ راحیل کو اپنی آنکھیں بھیگتی ہوئی محسوس ہوئیں۔
“اب نہیں جاؤ گا” وہ اسے بازوں میں اُٹھاۓ بیڈ پر لایا۔ اسے لٹا کر اس پر کمبل درست کرتے لائیٹ آف کی اور ہلکی سی روشنی والی لاییٹ جلد دی۔
“اب آنکھیں بند کرو میں یہی ہوں” وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے اسکے روۓ چہرے کو دیکھتے ہوۓ بولا۔ عائشہ نے آنکھیں بند کئی۔ راحیل اور دیکھتے ہوۓ کافی دیر تک اسکا سر سہلاتا رہا۔ اور نا جانے کب وہ گہری نیند میں چلی گئی۔ یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی۔ وہ یونہی اسے دیکھتا رہا۔
“کاش وہ سب نا ہوتا تو آج ہماری زندگی اسطرح بکھری نا ہوتی، ہم دونوں یوں نا ہوتے” وہ اسکے چہرے پر مٹے ہوۓ آنسوں کے نشانوں کو دیکھتے ہوۓ دل ہی دل میں بولا۔ اور پھر نا جانے کیا ہوا وہ اگے بڑھا اور اسکے ماتھے پر بوسہ دیا اور ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا دیا۔
“
اگلی صبح اسکی آنکھ فجر کی اذان پر کھلی، مشی آرام سے سو رہی تھی، وہ اُٹھی اور وضو کر کے نماز ادا کی۔ دعا کے لیے ہاتھ اُٹھاۓ تو کافی دیر وہ بس اپنے ہاتھوں کی ٹیرھی میڑھی لکیروں کو دیکھتی رہی، نا جانے کب ہتھیلیوں پر آنسوں گڑنا شروع ہوۓ۔
“یا اللہ مجھے ہمت دے، میں اس مشکل سفر کو پار کر پاؤں، پچھلے کچھ مہینوں سے جو کچھ بھی ہو رہا ہے، مجھے اسکو اپنانے میں بہت مشکل آ رہی ہے، مجھے بس ہمت دے میں اپنی پڑھائی پوری کر کے یہاں سگ چلی جاؤں” وہ اپنے رب سے دل کی باتیں کر رہی تھی، کافی دیر وہ ویسے ہی بیٹھی رہی، پھر جاۓ نماز سمیٹا، اور مشی کو اُٹھایا۔ دونوں یونی جانے کے لیے تیار ہو کر نیچے آئیں۔ سامنے ٹیبل پر عائشہ راحیل ، سمائرہ بیگم اور عالم صاحب بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔
“گُڈ مارئینگ ڈیڈ” مشی نے انہیں پیچھے سے ہگ کرتے ہوۓ کہا۔
“ارے واہ آج تو ہماری بیٹی وقت پر تیار ہو گئی، اور ناشتے پر بھی آگئی، خیر تو ہے نا” عالم صاحب نے مشی کے جلدی نیچے آ جانے پر چھیڑا کیونکہ روز وہ دیر سے آتی تھی۔
“میرال نے ہی اُٹھایا ہو گا، خود تو یہ اُٹھنے سے رہی، میرال بیٹھو ناشتہ کر لو” سمائرہ بیگم پاس کھڑی میرال کو دیکھتے ہوۓ بولیں۔ وہ عالم صاحب کو سلام کرتی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔ سمائرہ بیگم پہلے ہی عالم صاحب اور راحیل کو میرال کے بارے میں بتا چکیں تھیں۔
اسماء تیار ہو کر اپنے کمرے سے نکلی۔
“اسماء آؤ ناشتہ کر لو” سمائرہ بیگم نے اسے نکلتے ہوۓ دیکھ کر کہا۔ اسماء کی نظر ناشتہ کرتی میرال پر پڑی۔
“نو تھینکس موم پہلے آپ غریبوں کو کھلا لیں، مجھے دیر ہو رہی ہے، میرے دوست میرا انتظار کر رہے ہیں” اسماء اپنے گلاسس آنکھوں پر لگاتے ہوۓ وہاں سے نکل گئی۔ اسکی بات پر میرال کا منہ کو جاتا نوالہ رک گیا۔ سمائرہ بیگم نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ ٹیبل پر خاموشی چھا گئی۔
“بھائی چلیں دیر ہو رہی ہے” مشی اپنی جگہ سے کھڑی ہوتے ہوۓ بولی۔ میرال اور عائشہ بھی کھڑی ہو گئیں۔
“ہممم چلو” راحیل چاۓ کا آخری گھونٹ بھرتے ہوۓ بولا۔
راحیل کی گاڑی میں سب یونی پہنے۔ میرال گاڑی سے اتر رہی تھی جب بائیک سے اترتے بلاج کی نظر اس پر پڑی اور پھر راحیل اور مشی پر پڑی۔ اسکے ماتھے پر بل پڑے۔
“یہ اسکی گاڑی میں کیا کر رہی ہے؟” وہ اپنا ہیلمٹ اتارتے ہوۓ اس طرف جانے لگا۔ میرال مشی اور عائشہ کے ساتھ اگے بڑھ گئی۔ راحیل بلاج کو دیکھ چکا تھا۔ اسکے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ ابھری۔
“کیا ہوا؟ اتنے غصے میں کیوں ہے؟ او اچھا میرال کو میری گاڑی میں دیکھ کر غصہ آیا ہو گا” راحیل اسکے پاس آ کر ہنستے ہوۓ بولا۔ بلاج کا دل کیا اسکو ایک گھونسا مارے۔
“اب سے وہ میرے گھر پر ہی رہے گی،اور روز اسی طرح میرے ساتھ ہی یونی آۓ گی، ویسے یار اتنی پیاری لڑکی کو تو نے جانے کیسے دیا، اور ہاں افسوس تمہارے دوست کو بھی وہی پسند تھی، ویسے ایک بات تو بتا، ہمت تو لگتی ہو گی نا کسی کے لیے اپنی محبت کو چھوڑنے کی، اسے کرمہ کہتے ہیں، اگر کسی کی محبت چھینوں گے تو ایک دن اوپر والا تم سے تمہاری محبت چھین لے گا پھر وہ کسی بھی انداز میں ہو اور اب نا تو تیرے پاس دوست رہا اور نا محبت ” راحیل پہلے ہنس کر اور پھر سنجیدگی سے بولا۔ بلاج نے اسکی ساری بات سنی۔
” راحیل عالم تمہاری یاداشت کمزور ہے میری نہیں، میں نے تم سے تمہاری کوئی محبت وحبت نہیں چھینی، عائشہ کو تم نے خود اپنے سے دور کیا تمہاری ہی شرط تھی نا یا تو مجھے چنو یا بلاج کو، تو بلاوجہ مجھ پر الزام مت لگاؤ، اور دوسری بات یہ جو تو کر رہا ہے نا ہمیں الگ کرنے کی کوشش بند کر دے کوئی فائدہ نہیں، میرے دوست تیری طرح کمزور نہیں ہیں جو بیچ راستے بنا سچ جانے سامنے والے کو بولنے کا موقع دیر بغیر ساتھ چھوڑ دیں، نا تو میرے دوست مجھ سے الگ ہوں گے اور نا ہی محبت، بلاج حمدانی کو اتنا تو جانتا ہی ہو گا، اپنے لوگوں کو دور جانے نہیں دیتا، ہاں بس ان لوگوں کو اپنے سے الگ کر دیتا ہوں، جو یقین کے قابل نا ہوں، تو اپنی یہ فضول حرکتیں کرنی بند کر دے” بلاج نے سخت لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
“میں تو تجھے اچھے سے جانتا ہوں، پر تو مجھے نہیں جانتا تم سب کو ایک دوسرے سے نفرت کرنے پر مجبور کر دوں گا، یہ وعدہ رہا راحیل عالم کا” وہ پُر اسرا مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔ اور یونی کے اندر چلا گیا
بلاج کلاس میں داخل ہوا تو سامنے وہ چاروں اپنی جگہ پر بیٹھے تھے، اسکی نظر ہارون پر پڑی جو کہ لیپ ٹاپ پر ٹائپ کر رہا تھا۔ حسام نے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ وہ چلتا ہوا اپنی جگہ پر پینچا۔ بیگ دوسری کرسی پر رکھا، اور نظر اُٹھا کر میرال کی طرف دیکھا۔ جو خاموشی سے چہرہ جھکاۓ پیپر پر کچھ لکھ رہی تھی۔ وہ اسے آتا دیکھ چکی تھی، اسی لیے خود کو مصروف دیکھانے کے لیے پیپرر پر لکھنے لگی۔ بلاج نے اسے نظر بھر کر دیکھا اور پھر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔
“کیسا ہے؟” حسام نے پاس میں بیٹھے بلاج سے پوچھا۔
“میری چھوڑ ہارون سے بات ہوئی؟” بلاج نے آخری سیٹ پر بیٹھے ہارون کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
“ہاں اسے پرسوں ہی سب بتا دیا تھا، تجھ سے ناراض ہے، آج چھٹی کے بعد ہم امرحہ کے گھر جائیں گے وہی بات کر لینا” حسام نے پلین بناتے ہوۓ کہا بلاج نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنا سر پیچھے کرسی پر گڑا دیا۔ تھوڑی دیر بعد کلاس میں سر امجد کلاس میں آۓ۔ لیچکر ختم ہوا۔ مشی میرال کے ساتھ کینٹین جانے کے لیے اُٹھی۔تبھی میرا کے موبائل کی میسج ٹون بجی۔ اسنے موبائل کو آن کیا تو سامنے بلاج کے نمبر سے میسج تھا۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے دو منٹ پلیز” بلاج کا میسج پڑھ کر میرال نے اسکی طرف غصے سے دیکھا، اور مشی کے ساتھ باہر چلی گئی۔
” کیا ہوا بھاؤ نہیں مل رہا؟ تیری حرکتیں ہی ایسی ہیں اب تو مجھے بھی دیکھنا ہے، بلاج حمدانی کسی کو منانے کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے” حسام اپنے دانت نکالتے ہوۓ بولا۔
“منہ بند کر لے ورنہ بتیس کے بتیس توڑ دوں گا” بلاج اسکا منہ بند کرتے ہوۓ بولا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔
“بلاج کہاں جا رہا ہے؟” حسام جان بوجھ کر اونچی آواز میں بولا۔ بلاج نے اسے گھورا۔
“کینٹین جا رہا ہوں کچھ چاہیے تم سبکو؟” بلاج نے ان چاروں کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
“ہاں ایک کوک کا کین،” امرحہ نے موبائل چلاتے ہوۓ کہا۔
“میرے لیے پانی کی بوتل” عائشہ نے کہا۔ بلاج کی نظر اب ہارون پر تھی وہ خاموشی سے اپنے کام میں مصروف رہا۔
“ہارون تجھے کچھ چاہیے” بلاج نے اس سے پوچھا۔
“تم سے کچھ نہیں چاہیے احسان کی ضرورت نہیں پاؤں سلامت ہیں خود لے آؤں گا ” وہ سرد انداز میں بولا۔ اور کام میں لگا رہا۔ سبھی کو اسکا انداز برا لگا۔
“ہارون تجھے نہیں لگتا تو بہت روڈ ہو گیا تھا” امرحہ نے اسکے اسطرح بولنے پر ٹوکا۔
“تمہارے ساتھ ہوا، نہیں نا، تو زیادہ مت بولو” ہارون کو اسکا ٹوکنا برا لگا۔ وہ اس وقت حد سے زیادہ بلاج سے ناراض تھا۔
“ایک لگاؤں گی تمہیں” امرحہ نے اسکے سر پر رجسٹر مارتے ہوۓ کہا۔ راحیل مسکرا کر سب دیکھ رہا تھا۔ مشی اور میرال کینٹین سے ہو کر آ گئی، اور ابھی دروازے میں کھڑیں تھیں۔
“حد میں رہو امرحہ، ہر وقت تم لوگوں کی بدتمیزیاں برداشت نہیں کروں گا، سمجھ کہ پتہ نہیں کیا رکھا ہے” ہارون اپنی جگہ سے اُٹھ کر چلایا۔ ساری کلاس اسکی طرف متوجہ ہوئی۔ کلاس کا سب سے زیادہ خاموش رہنے والا لڑکا تھا جو آج یوں چھوٹی سی بات پر بھڑک گیا تھا۔
“ہارون! کیا ہو گیا ہے؟ اتنا کیوں غصہ کر رہے ہو؟” بلاج اسکے پاس آکر بولا اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“کیونکہ پاگل ہوں، اور بے وقوف ہوں اسی لیے غصہ کر رہا ہوں، مجھے تم سب کا کوئی احسان نہیں چاہیے اور خاص کر تمہارا” ہارون نے غصے میں اسکا ہاتھ جھٹکا۔
“ہارون میری بات سن” بلاج نے کچھ بولنا چاہا۔
“کیا سنو ہاں، بتا کیا سنو، کیا بتانا چاہتا ہے، کہ تیرا بہت برا دل ہے، کیا دیکھنا چاہتا ہے، کسی کے لیے کچھ بھی چھوڑ سکتا ہے، اپنا یہ برا پن اپنے پاس رکھ مجھے کچھ نہین چاہیے۔ بھیک میں ملی کوئی چیز نہیں لوں گا تو مجھے اتنا گڑا ہوا مت سمجھ آئی، سمجھ اپنی دوستی کے آڑ میں میری سیلف رسپکٹ کی دھجیاں مت اُڑا” ہارون غصے میں اس پر چیخا، بلاج نے حیرانگی سے اسکے منہ سے نکلنے والے الفاظ سنے۔ ہارون کرسی کو پاؤں مارتا کمرے سے چلا گیا۔
“واؤ مزہ آ گیا” اسکے جاتے ہی راحیل اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور تالیاں بجاتا بلاج کے سامنے آیا۔
“ویسے کچھ دیر پہلے بلاج حمدانی کچھ بول رہا تھا۔ کیا الفاظ تھے ہاں۔۔۔۔ یہ جو تو کر رہا ہے نا ہمیں الگ کرنے کی کوشش بند کر دے کوئی فائدہ نہیں، میرے دوست تیری طرح کمزور نہیں ہیں جو بیچ راستے بنا سچ جانے سامنے والے کو بولنے کا موقع دیر بغیر ساتھ چھوڑ دیں،،، ڈائیلگ مزے کے تھے، پر صرف ڈائیلگ ہی رہ گے، سچائی تو ایک پرسنٹ نہیں نکلی اسکا نمونہ ابھی دیکھ چکا ہوں تو بلاج صاحب بری بری پھینکنا بند کر دو” راحیل اسکے کچھ دیر پہلے کہے الفاظ کو دھراتے ہوۓ بولا۔ بلاج کے ماتھے پر بل پڑے ابھی وہ اسکی کوئی بات سننا نہیں چاہتا تھا۔
” دیکھ راحیل میں ابھی تجھ سے منہ نہیں لگنا چاہتا تو اچھا ہے چپ رہ” بلاج نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا۔
“کیوں! دوستی ٹوٹتی ہوئی دیکھ کر برا لگا، دکھ ہوا، مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہوا تھا ” راحیل ایک قدم اگے بڑھ کر اسی کے انداز میں بولا۔
“راحیل بس کرو اور کتنا گِرو گے اس دن ویڈیو دیکھا کر تمہارا دل نہیں بھرا” عائشہ کو اس پر بہت غصہ آیا، وہا سکے سامنے آکر اسے آج سے دور کرتے ہوۓ بولی۔ اسکی بات سبھی پر بم کی طرح گڑی۔ راحیل نے عائشہ کو گھورا۔
“او تو وہ تمہارا کام تھا جان تو میں گیا تھا اب شک پر مہر لگ گئی” حسام اگے بڑھتے ہوۓ اسے مارنے لگا۔
“گائیز پلیز مزید کوئی بات نہیں یو گی میم کلاس میں آنے والی ہیں، حسام پلیز” عائشہ نے اسے روک دیا۔
“ٹھاہ!” پر بلاج نے تبھی راحیل کے منہ پر پنچ مارا۔ وہ لڑکھڑایا۔ پلٹ کر راحیل نے بھی مارنا شروع کر دیا۔ حسام اور عائشہ نے ان دونوں کو الگ کیا۔
“راحیل پلیز بس کرو بس کرو” عائشہ اسے پیچھے دکھیلتے ہوۓ چلا کر بولی۔
“کیوں بس کرو ہاں کیوں، اور تم تو آج بھی اسی کی سائیڈ پر ہو، ویسے اتنی سائیڈ کیوں لیتی ہوں ہمم کیا ہے؟” راحیل اسکا بازو دبوچتے ہوۓ بولا۔
“بھائی کیا کر رہے یو؟” مشی راحیل کے پاس آکر اسکا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرتے ہوۓ بولی
“بتاؤ ہر وقت اسی کی سائیڈ کیوں لیتی ہو؟ کہی تم دونوں کا سب سے چھپا کر چکر۔۔۔۔” ابھی اسکے الفاظ اسکے منہ میں ہی تھے کہ بلاج نے اسکے چہرے پر تھپر مارا۔
“راحیل پاگل ہو چکا ہے کیا بکواس کر رہا ہے” اسے تھپر مارتے ہوۓ بلاج چلایا۔ راحیل کا دماغ تو گھوم چکا تھا۔
“کیوں سچائی کڑوی لگی، میں بھی سوچوں ہر دفع اسی کو کیوں چنتی ہو، میرے اوپر ہر وقت اسی کو فوقیت کیوں؟ اب سمجھ مین آیا تم دونوں ہمیں بے وقوف بناتے ہوۓ خود۔۔۔۔ اوووو تو مسلہ ہی کیا ہے، اس میں ہڈی تو مین ہوں، میری بیوی ہو نا تم تو اچھا ہے اس قصے کو ابھی اسی وقت ختم کرتا ہوں، طلاق دے کر سارا قصہ ختم اور تم دونوں ایک ساتھ رہنا” راحیل اب غصے میں نا جانے کیا کیا بول رہا تھا۔ سبھی حیرانگی سے اسکے الفظ سن رہے تھے۔ اور عائشہ تو شاک میں تھی۔ وہ اسکے منہ سے کچھ بھی سن سکتی تھی پر یہ الزام وہ کیسے سنتی۔ اسے بس راحیل کے ہلتے ہوۓ ہونٹ نظر آرہے تھے، اسکا دماغ معاؤف ہو رہا تھا۔ اسے سب دھندلا ہوتا محسوس ہوا۔ اور تبھی وہ لڑکھڑا کر زمین پر گڑی۔۔
“عائشہ!” سب ایک ساتھ بولے راحیل کے منہ کو بریک لگی، امرحہ نے اسکا چہرہ تھپتھپایا، پاس پڑا پانی اسکے چہرے پر چھینکا۔ پر وہ ویسے ہی پڑی رہی۔ اسکا چہرہ مزید سفید پڑ رہا تھا۔۔
“اسکی نبض بہت سلو ہے ہاسپٹل لے کر جانا پڑے گا” بلاج اسکی نبض چیک کرتے ہوۓ بولا جو کہ بالکل مدھم چل رہی تھی۔ راحیل کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ اسے اب احساس ہو رہا تھا وہ کیا کیا بول گیا۔۔۔ عائشہ کو لیے وہ سب گاڑی کی طرف پہنچے۔۔۔
“بھائی آپ نے اچھا نہیں کیا، اتنا کچھ کیسے بول سکتے ہیں، بھابھی کو اگر کچھ ہو گیا تو اچھا نہیں ہو گا میرال میرے ساتھ ہاسپتال چلو گی” مشی روتے ہوۓ راحیل کو بولتی میرال کی طرف پلٹی۔
“ہاں ابھی رونا بند کرو” میرال اسکے آنسو پونچھتے ہوۓ گلے سے لگا کر بولی۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
