55.6K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

وہ اگلے دن یونی جانے کے لیے تیار ہو کر نیچے آیا، میرال ناشتہ ٹیبل پر لگا رہی تھی۔ وہ چلتا ہوا ٹیبل کے قریب آیا کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا۔
“آج میں نے پراٹھے بناۓ ہیں، آئی نو کچھ ان ہیلدی ہیں، پر کبھی کبھی کھانا اچھا ہوتا ہے” وہ اسکے پاس ہی دوسری کرسی پر بیٹھتی ایک پراٹھا اسکی پلیٹ میں رکھتے ہوۓ مسکرا کر بولی۔
” تھیکنس” وہ ہلکا سا مسکرا کر پراٹھا کھانے لگا۔ وہ آج پہلے کی نسبت خاموش تھا۔ بس خاموشی سے اسکے ہاتھ کا بنا پراٹھا کھا رہا تھا۔ وہ چونکا تب جب میرال نے اسکے پراٹھے سے نوالہ لے کر کھایا۔ وہ روز ایسے ہی تو کرتا تھا۔
“تو میڈیم کو آج میری پوسٹ لینی ہے” اسکی طرف دیکھتے وہ مسکرا کر بولا۔ میرال نے ہاں میں سر ہلایا۔ وہ مسکرا کر دوبارہ کھانے لگا۔
” تو آج کا کیا پلین ہے؟” وہ چاۓ کا گھونٹ بھر کر بولی۔
“پلین؟ مطلب؟” وہ سوالیہ انداز میں بولا۔
“مطلب یہ کہ تم ہارون سے بات کرو گے؟” اسنے بات کا آغاز کیا۔ اسکی نام پر اسکا چلتا ہوا منہ رکا۔
” ہممم تمہیں پتہ، آج تک جتنی بھی لڑائیاں ہوئیں، ہم پانچوں کا اصول تھا،کچھ گھنٹوں بعد خود ہی سب بھول بھال کر دوبارہ سے بات کرنے لگ جاتے، کبھی کسی نے ایک دوسرے کو سوری تک نہیں بولا تھا، ہم سب مانتے تھے دوستی میں سوری بولنا تو وہ دوستی کس کام کی، لیکن پتہ اس دفع کی لڑائی مختلف تھی، مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا، جیسے جو شخص سامنے کھڑا ہو کر یہ سب بول رہا ہے، وہ میرا دوست نہیں، وہ اجنبی سا لگ رہا تھا، ورنہ ہارون جیسا انسان تھا وہ کبھی ایسی باتیں بول تو کیا سوچ بھی نہیں سکتا تھا” وہ کھوۓ ہوۓ لہجے میں بول رہا تھا میرال خاموشی سے اسے سن رہی تھی۔
” تو اس دفع تم پہل کر لو، اس سے بات کرنے کی کوشش کرو، یہ پتہ کرو کہ اسکے دماغ میں یہ سب کیوں آیا؟ وجہ جانو، اور دوستی اتنی آسانی سے تھوڑی نا ٹوٹتی ہے، دیکھنا سب ٹھیک ہو جاۓ گا ٹرسٹ می بلاج، سب ٹھیک ہو جاۓ گا” بولتے بولتے اسنے ٹیبل پر رکھا اسکے ہاتھ کو پکڑا۔
“ہممم ” وہ بس ہاں میں سر ہلا گیا۔۔ دونوں نے ناشتہ کیا اور یونی کے لیے نکلے۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ یونی پہنچے، حسام اور امرحہ جلدی جلدی چلتے ہوۓ یونی سے باہر جا رہے تھے، حسام کی نظر بلاج پر پڑی، وہ جلدی سے اسکے پاس آیا۔ اسے یوں حواس باختہ دیکھ دونوں حیران یوۓ۔
“کیا ہوا؟ اتنا پریشان کیوں ہے؟” بلاج فوراً بولا امرحہ بھی انکے پاس آ گئی۔ میرال کو دیکھتے اسکا منہ بگڑا۔ جسے میرال نے اچھے سے محسوس کیا۔
” ابھی امرحہ کو عائشہ کی ماما کی کال آئی وہ۔۔۔۔۔۔۔” حسام نے اسے سب بتا دیا۔
“اف۔۔۔۔” اسکی بات سن کر بلاج نے سر پکڑ لیا۔ کل رات اسی کی دوست کی زندگی میں کیا قیامت گزری اسے اب پتہ چل رہا تھا۔
“جلدی سے اسکے پاس چلتے ہیں” وہ اپنی گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوے بولا۔ امرحہ اور حسام گاڑی میں بیٹھے۔
“میرال بیٹھو دیکھ کیا رہی ہو؟” اسکے یوہی کھڑے رہنے پر بلاج بولا۔ میرال نے ایک نظر حسام اور امرحہ کو دیکھا۔
“تم سب جاؤ مجھے کلاس لینی ہے” وہ اپنے ہاتھوں کو مڑورتے ہوۓ بلاج سے نظریں چڑا کر بولی۔ بلاج نے گاڑی کو دروازہ بند کیا اور اسکے سامنے آ کر کھڑا ہوا۔
“تمہارا جانا بھی ضروری ہے, چلو ” وہ اسکا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولا۔ وہ کنفیوز ہوئی جانا چاہیے کہ نہیں۔ بلاج اسکی کنفیوزین محسوس کر پا رہا تھا۔
“میرو چلو میں ساتھ ہو نا” وہ نرم لہجے میں بولا اسنے ہاں میں سر ہلا دیا۔ اسے فرسٹ سیٹ پر بیٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹبا


وہ چاروں عائشہ کے گھر پہنچے، وہاں پہلے سے ہی ہارون کی گاڑی کھڑی تھی۔ وہ تینوں اسکی ماما سے ملتے اسکے کمرے میں آۓ، دائیں طرف صوفے پر بیٹھے ہارون بیٹھا ہوا تھا۔ امرحہ عائشہ کے گلے سے لگ گئی۔ وہ تینوں بھی اگے بڑھے۔ انکو دیکھ کر ہارون کے ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوا وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔
“ارے اس میں رونے کی کیا بات ہے، میں بالکل ٹھیک ہوں” امرحہ اسکے گلے سے لگی رو دی، عائشہ ہنس کر بولی انکھیں ہلکی سی نم تھیں۔
“عائشہ میں اب چلتا ہوں تم اپنے فرینڈز کے ساتھ بات کرو” ہارون کھڑا ہو کر ایک نظر ان تینوں کو دیکھتا فرینڈز پر زور دیتے ہوۓ بولا۔
“ہارون بس کر سچویشن تو دیکھ لے” حسام غصے سے اسے گھورتے ہوۓ بولی
“سچویشن کو مزید خراب نا کرنے کے لیے ہی تو جا رہا ہوں، یہاں رہا تو پھر بدمزگی ہو گی” وہ جلدی سے بول کر دروازے کی طرف بڑھا۔ تبھی حسام نے دروازہ بند کر دیا۔
“کہی نہیں جاۓ گا، آج ساری باتیں یہی ہوں گی، ساری غلط فہمیاں یہی ختم ہوں گی” دروازے کو لاک کرتا وہ سنجیدگی سے بولا۔
” مجھے تم دونوں سے بالکل بات نہیں کرنی، تو بلاوجہ میرے رستے میں مت آؤ” وہ انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوۓ بولا۔۔
” ہارون تمہیں ہوا کیا ہے، کیوں چھوٹی سی بات کو دل پر لے کر دوستی توڑ رہے ہو” بلاج نرم لہجے میں بولا۔
” میں نے پہلے بھی بولا تھا اور اب بھی بول رہا ہوں، ہماری دوستی تیری وجہ سے ٹوٹ رہی ہے، تو نے اس لڑکی کی وجہ سے ہم سب سے جھوٹ بولے، چھپ کر نکاح کیا، تجھے اسکے سامنے کچھ نہیں دکھتا انفیکٹ مجھے تو لگتا ہے ہماری دوستی کو تڑوانے والی بھی یہی لڑکی ہے، اپنی آنکھیں کھول اسی کی وجہ سے ہم میں لڑائیاں ہوئیں یہ جب سے آئی تھی تب سے ہماری دوستی میں دراڑیں آئیں اسطرح کی لڑکیاں صرف یہی کر سکتی ہیں امیر لڑکوں کو ۔۔۔۔۔۔” وہ دو قدم اگے بڑھ کر بولا۔ میرال حیرانگی سے ہارون جیسے انسان کے منہ سے اتنے خراب الفاظ سن رہی تھی۔ بلاج سے مزید برداشت نا ہوا، اسنے اسے کالر سے پکڑا اور مکہ مارنے لگا اسکا ہاتھ ہوا میں ہی لہرا گیا۔ میرال نے اسکا ہاتھ روکا تھا۔
“بلاج ” چاروں کی ایک ساتھ آواز آئی۔
اسنے نا جانے کیسے خود پر کنٹرول کیا۔
“میری بات غور سے سن، پہلے تو مجھے لگا تجھے نکاح کرنے کی وجہ بتاؤ گا اسکو چھپانے کی بھی وجہ بتاؤں گا، پر ابھی تیری گندی سوچ دیکھ کر مجھے اپنا فیصلہ ٹھیک لگ رہا ہے، تجھے سچ نا بتانا ہی مناسب ہے، اور دوسری بات آج تو نے اپنی ساری حدیں پار کر لی ہیں، تو میرا دوست تھا، اور وہ میری بیوی ہے،، اگر آئندہ تو نے میری بیوی کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے تو میں بھول جاؤں گا تو میرا دوست تھا۔ تھا کا مطلب سمجھتا ہے، آج سے تیری اور میری دوستی ختم” وہ لال آنکھیں اس کی انکھوں میں گھارے سخت لہجے میں بولتے اسکا کالر چھوڑا۔
“بلاج انف از انف وہ بھی غلط نہیں، میرال کی وجہ سے ہماری دوستی میں دراڑیں آئی ہیں تمہاری سارا فوکس اس پر ہونے کی وجہ سے تم نے ہمیں اگنور کیا ہے، مجھے تو شروع سے ہی یہ لڑکی پسند نہیں تھی” امرحہ درمیان میں بولی۔
“امرحہ اب تم مت شروع ہو جانا” حسام درمیان میں بولا۔
“ایسے تو ایسے ہی صحیح دوست ختم تو ختم ہی صحیح” ہارون اپنی کالر صحیح کرتے لال آنکھوں سے اسے دیکھتے دروازہ کھولتا باہر چلا گیا۔۔
“اب خوش ہو جاؤ سب یہ گروپ ٹوٹ گیا، اور تم اس لڑکی کے ساتھ رہو خوش” امرحہ غصے سے بولتی کمرے سے چلی گئی۔ بلاج نے گہرا سانس لیتے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑا۔ میرال سے مزید وہاں کھڑا ہونا مشکل تھا وہ اپنے آنسوں روکتی پلٹ کر کمرے سے نکلی۔
“میرال” اسکو یوں جاتا دیکھ بلاج بھی اسکے پیچھے چل دیا۔۔
“یہاں سب تمہارا حال پوچھنے کی بجاۓ خود ہی کتوں کی طرح لڑ لیے” حسام کو سبھی رہ غصہ آرہا تھا۔
“ٹھیک ہو جائیں گے فکر مت کرو” عائشہ نارمل لہجے میں بولی۔ وہ اسکے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھا۔
” عائشہ تم ٹھیک ہو نا؟ آئی مین جو بھی کل ہوا” حسام فکرمندی سے بولا۔ راحیل جو کہ ابھی ابھی آیا تھا، تا کہ اسے منا سکے وہ حسام کی اواز پر وہی رک گیا۔ دروازے کی اوٹ میں چھپ کر اسکی بات سننے لگا۔
“دکھی تو ہوں، مجھے پہلے لگا سب ٹھیک ہو گیا ہے، پر کل پتہ چلا صرف تھوڑی سی کیر کرنے یا اچھا بولنے سے سب ٹھیک نہیں ہوتا، جب تک دل نا صاف ہو، راحیل کا دل ابھی تک صاف نہیں ہوا” وہ اپنے ہاتھ کی انگلی میں پہنی رنگ کو دیکھتے ہوۓ بولی جو کہ کچھ دن پہلے ہی راحیل نے دی تھی۔
حسام خاموش رہا، کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
” تمہیں پتہ ہے حسام جب صبح میں نے اس سے بات کی نا، پچھلے دو سال سے مجھے ایسا لگتا تھا میں اسکو نکاح میں ہوں اگر اسنے اچانک نکاح توڑ دیا تب کیا کروں گی، یہ سوچتے ہی سانس آنی بند ہو جاتی تھی، ایک دم سے چاروں طرف اندھیرا سا ہو جاتا تھا۔ ایسا شخص جس سے بے پناہ محبت کی ہو جسے ہر دعا میں مانگا ہو، ایسے شخص کے بنا میں جینے کا تصور بھی جان لینے کے لیے کافی تھا، پر آج صبح جب میں نے اس سے بولا نا کہ اب یہ رشتہ ختم، تو میری سانس نہیں روکی، نا ہی آس پاس اندھیرا چھایا، سب نارمل تھا بلکہ یوں محسوس ہوا جیسے میرے کندھوں سے ایک بوجھ اتر گیا ہے، سکون سا محسوس ہوا تھا” وہ اوپر چھت کو گھورتے کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولی۔ آنکھوں کے کناروں سے نا جانے کب پانی بہا تھا۔ بولتے بولتے آواز بھی بھاری ہوئی تھی۔ پر اسکے چہرے پر سچ میں سکون نظر آ رہا تھا۔ اسنے گہرا سانس لے کر اپنی آنکھیں بند کر کے کھولیں۔ پاس بیٹھا حسام جو آج تک دوسروں کو ہنساتا تھا۔ اسکی بات سن کر وہ بھی اپنے آنسوں روک نا پایا۔ اسنے اس محبت کے لیے اتنی سی عمر میں کتنی
عزیتیں سہی تھیں وہ اسکے الفاظوں سے محسوس کر پا رہا تھا۔ راحیل کے پاؤں جیسے زمین پر ہی جم سے گے تھے، وہ اسکے الفاظ میں چھپے درد کو آج پہلی بار محسوس کر پایا تھا۔ وہ جو سوچ کر آیا تھا اسے اپنی محبت کا واسطہ دے کر منا لے گا وہ جو دل میں جانتا تھا وہ اسکی بات کو نہیں ٹالے گی۔ اسکی بات سن کر وہ جان چکا تھا وہ شائد اب اسے دل سے نکال چکی ہے۔ اب اسکے واپس آنے کا کوئی راستہ نہیں۔ وہ وہی دبے قدموں سے وہاں سے چلا گیا۔ عائشہ اسے دیکھ چکی تھی۔ وہ سر جھٹکتی حسام سے بات کرنے لگی۔۔۔


بلاج اسے سیدھا گھر ہی لے ایا تھا وہ پورا رستہ روتی رہی۔ اسنے اسے چپ کروانے کی کوشش کی پر ناکام رہا۔ وہ گاڑی سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔ ا سے پہلے کہ وہ دروازہ بند کرتی بلاج نے دروازے میں پاؤں اٹکا کر اسے بند کرنے سے روکا۔ اور خود اندر داخل ہوا۔ اسنے روتے ہوۓ اسے دیکھا۔ وہ اگے بڑھا اور اسے اپنے حصار میں لیا۔ وہ اسکے سینے میں منہ چھپا کر رو دی۔
“وہ سچ بول رہا تھا یہ سب میری وجہ سے ہی ہوا ہے۔ نا میری تمہارے ساتھ لڑائی ہوتی اور نا تمہیں مجھ سے پیار ہوتا” وہ روتے روتے بول رہی تھی۔ بے ساختہ اسکے ہونٹوں پر مسکرایٹ ابھری۔
“لڑائی کے بعد کب محبت ہوئی تھی، غلط ہو تم مجھے تو تم تو اسی وقت میرے دل کی گہرائیوں میں بس گئی تھی جب پہلی بار ہماری ملاقات ہوئی تھی، تمہاری پہلی نظر اور تمہارے یہ برے برے چشمے نے مجھے تمہاری طرف رغب کیا” وہ اسکو تھوڑی سے پکڑتا چہرہ اوپر کرتے ہوۓ اسکا چشمہ اتارتے ہوۓ بولا۔
“مجھے تمہاری زندگی میں ہی نہیں آنا چاہیے تھا تمہاری فرینڈ شپ میری وجہ سے خراب ہو گئی” وہ دوبارہ سے روتے ہوۓ بولی۔
“دوستی وہی ٹوٹتی ہے جو کمزور ہوتی ہے، ہو سکتا ہے ہماری دوست اتنی مظبوط نہیں تھی اسی لیے ٹوٹ گئی، کسی کے آنے کی وجہ سے رشتے ٹوٹتے ہوتے تو شائد دنیا میں کوئی رشتہ قائم نا رہتا اپنے دماغ سے یہ بات نکال دو تمہاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا، تم میری زندگی کا حصہ ہو، جسے مجھ سے دوستی کرنی ہے اسے تمہیں بھی رسپیکٹ دینی ہو گی ” وہ اسکے آنسوں صاف کرتے نرم لہجے میں بولا۔ اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے اسنے اپنا سر اسکے سر پر ٹکا دیا اور گہرا سانس لیا۔ کافی وقت گزر گیا۔ میرال کو لگا اسکے چہرے پر آنسوں گرے ہیں وہ چونکی۔ وہ پیچھے ہوئی۔ جب بلاج کے چہرے کی طرف دیکھا تو اسکا چہرہ بھیگا ہوا تھا۔
” بلاج ” وہ اسے روتا دیکھ پریشان ہوئی۔
“میں ٹھیک ہوں یہ تو بس ایسے ہی” وہ اپنی انکھیں صاف کرتے ہوۓ فوراً بولا۔ اسکا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا جیسے خود سے ہی جھوٹ بول رہا ہو۔ میرال نے اسے بیڈ پر بیٹھایا اور خود اسکے پاس بیٹھ گئی۔
“جو دل میں ہے مجھے بتا سکتے ہو” اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ وہ بولی۔ بلاج نے گہرا سانس لیا اور اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
” ہم سب بچپن کے دوست ہیں، ساتھ میں کھلتے، لڑتے، مستیاں کرتے برے ہوۓ، ایک ہی سکول ایک ہی کالج میں گے، کبھی ایسی سوچ بھی نہیں آئی، کہ یوں اچانک ایک جھٹکے سے دوستی ختم ہو جاۓ گی،ہماری دوستی اتنی کمزور تو نہیں تھی، ہم تینوں بھائیوں کی طرح تھے جیسے کچھ سال قبل میرا بھائی مجھ سے الگ ہوا تھا آج ٹھیک ویسا ہی محسوس ہو رہا ہے جیسے میرا بھائی ایک بار پھر مجھ سے بچھر رہا ہے” وہ بولتے بولتے آخر مین رو دیا۔۔۔۔۔ میرال کو اسکا یوں ٹوٹ کر رونا رولا دیا۔
” اسے اپنی غلطی کا جلد ہی احساس ہو گا ” میرال اسکے ہاتھ کو سہلاتے ہوۓ بولی۔ بلاج نے ایک نظر اسکو دیکھا۔
“پتہ نہیں شائد نا ہو” وہ کندھے اچکاتے ہوۓ بولا۔ بامشکل وہ اپنے آنسو کنٹرول کر رہا تھا۔ میرال نے اسکے چہرے سے آنسوں صاف کرتے اسکا چہرہ اپنی طرف موڑا۔
” سچے دوست ہمیشہ لوٹ کر آتے ہیں، اور تم سب کی دوستی سچی ہے، یہ میں جانتی ہوں، دیکھنا۔ ” اسکی نم آنکھوں میں اپنی نم انکھیں ڈالیں وہ اسے ہمت دے رہی تھی۔ بلاج نے ہاں میں سر ہلایا۔ گہرے سانس لے کر خود کو ٹھیک کیا۔۔۔
“تھینکس میرو” کچھ پل بعد جب وہ کچھ سھنمبلا تو اسکی طرف دیکھ کر بولا۔
” کس لیے؟” وہ چونکی۔
“میرے پاس رہنے کے لیے، مجھے سمجھانے کے لیے، اور مجھے ہمت دینے کے لیے، یا یو سمجھو میری ہمت بننے کے لیے” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ میرال بے ساختہ مسکرا دی۔۔
“اب تم میرے شوہر ہو، اور بے چاری بیوی کا تو کام ہی اپنے ڈفر شوہر کو سمجھانا ہوتا ہے” وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولی۔ اور کھڑی ہو کر دروازے کی طرف چل دی۔
“واٹ! ڈفر شوہر تمہیں مین ڈفر لگتا ہوں” ڈفر لفظ پر تو اسکی پوری کی پوری آنکھیں ہی کھل گئیں۔
“ہاں ہو ڈفر، پورے کے پورے ڈفر” وہ ہنستے ہوے بولی۔ وہ بھی ہنس دیا۔
“تمہارے اس ڈفر پر ساری یونی کی لڑکیاں مرتی ہیں” وہ اپنے بالوں کو سنوارتے ہوۓ اترا کر بولا۔ میرال نے انکھیں چھوٹی کرتے اسے گھورا
“تو پھر ایسی لڑکیوں کو مر ہی جانا چاہیے” وہ اگے بڑھ کر اسکے سارے بال خراب کرتے ہوۓ غصے سے بولی۔ بلاج نے اسے پکڑ لیا۔
“پر یہ ڈفر شوہر تو اپنی ڈفر بیوی پر ہی مرتا ہے” ہولے سے اسکے کان کے قریب آ کر بولتا وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔
“جانتی ہوں” اسکے جاتے ہی وہ ہولے سے مسکرا کر بولی۔ اور اسکے پیچھے آ گئی۔
**””””””
جاری ہے