Yaaron Ki Yaari Season 1 By Fatima Tariq Readelle50127 Episode 20 Pt.2
Rate this Novel
Episode 20 Pt.2
“بڈی تو ٹھیک ہے؟” وہ حسام اور ہارون کے پاس آیا جو کہ یونی کی پارکنگ میں اسکا انتظار کر رہے تھے۔ اسکے آتے ہی ہارون نے پوچھا۔
“ہاں ٹھیک ہوں، مجھے کیا ہونا ہے” بلاج اپنے موبائل پر آنے والی کنول بیگم کی کال کو کٹ کرتے ہوۓ بولا۔
“تو اب اگے کیا کرنا ہے؟ مطلب شادی کو روکنا ہے؟ کیسے؟” حسام نے اپنے زہین میں اۓ سوال پوچھے۔
“چھوڑو جو عائشہ چاہتی ہے وہی کرتے ہیں وہ ڈائیوس نہیں چاہتی تو اب بلاوجہ لڑنے کا مطلب نہیں” بلاج نے نفی میں سر ہلاتے اسکو جواب دیا۔ اسکے جواب پر حسام کی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
“چلو اچھا ہے، امرحہ کی کال ائی تھی عائشہ بہت پریشان ہےا ور رو رہی ہے، کہی تم دوبارہ سے لڑائی نا کرو تو اسکے گھر چلتے ہیں” ہارون کچھ دیر پہلے آنے والی کال کے بارے میں بتاتے گاڑی میں بیٹھا۔ اور امرحہ کو کال ملائی۔
“تجھے کیا ہوا؟ اتنی انکھیں پھاڑ کر کیوں دیکھ رہا ہے؟” بلاج نے نوٹ کیا حسام کافی دیر کا ایک ہی پوزیشن میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
“میں سوچ رہا ہوں، ایسا کون سا دم تم پر پڑھا گیا ہے، کہ تم جیسا انسان جو ایک گھنٹے پہلے عائشہ کے فیصلے کے خلاف بول رہا تھا، اس راحیل کو پیٹ کر آیا تھا، اب اس یونی میں آتے ہی ایسا کیا ہوا، جو تمہاری سوچ سر سے لے کر پاؤں تک بدل گئی، بول ایسا کیا ہوا؟” حسام اسکے اردگرد گول گول چکر لگاتے بول رہا تھا۔ اور بلاج اسکی حرکتوں کو دیکھ رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہوا، بس دماغ کو تھوڑا سا ٹھنڈا رکھ کر سوچا” بلاج کندھے اچکاتے ہوۓ بولا۔
“واہ تیری یہ کوائلٹی تو پہلی بار پتہ چلی تو اور دماغ کو ٹھنڈا رکھے واٹ آ جوک، میرا ذہین دماغ مجھے ایسے کیوں سگنل دے رہا ہے، کہ کچھ دیر پہلے کسی بہت ہی ٹھنڈے،اور سمجھدار انسان نے تجھے سمجھایا ہے” حسام اپنی دائیں آنکھ کی ایک آئی برو اچکاتے ہوۓ آخر میں شریر انداز میں بولا۔ بلاج نے اپنا موبائل پینٹ کی جیب میں ڈالا۔
“تو میرا بیٹا گاڑی میں بیٹھ اور عائشہ کے گھر پہنچ، اپنا بہت ذہین دماغ زیادہ استعمال نا کر” بلاج اسے بازو سے پکڑتے فرنٹ سیٹ پر ہارون کے بگل میں بیٹھاتے ہوۓ بولا۔
“بلاج حمدانی صحیح جا رہا ہے تو سالے” بلاج کے دروازہ بند کرنے سے پہلے حسام اونچی اواز میں ہنس کر بولا۔ بلاج اپنی مسکراہٹ دباتا دروازے کو بند کرتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔
“کیا ہوا؟” اسکے یوں ہنسنے پر ہارون بولا۔
“کچھ نہیں جلد بتاؤں گا” حسام مسکرا کر بولا۔ ہارون نے کندھے اچکاتے ہوۓ گاڑی چلا دی۔ کچھ ہی دیر میں وہ عائشہ کے گھر پہنچے۔
“حسام! کیا بات ہے؟ تم سب پریشان لگ رہے ہو، اور عائشہ بھی روتی ہوئی گھر واپس آئی، کچھ ہوا ہے ؟ روبینہ بیگم ٹیوی لاونچ میں بیٹھیں تھیں جب حسام لوگ اندر داخل ہوۓ، وہ کب سے یہ سب نوٹ کر رہیں تھیں، تو فوراً پوچھ بیٹھیں۔
” ارے نہیں آنٹی کچھ نہیں ہوا، بس عائشہ میڈیم کو شادی سے پہلے والی گھبڑاہٹ ہو رہی ہے جو عموماً ساری لڑکیوں کو ہوتی ہے، اور ویسے بھی اتنی اچانک شادی ہو رہی یے تو تھوڑی سی سٹریس میں ہے، پر ہم سب ا گے ہیں وہ یوں ٹھیک ہو جاۓ گی، بس آپ پلیز کچھ کھانے کو بھجوا دیں، بہت بھوک لگی ہے” حسام جھٹ سے اگے ہوا اور بات سھنمبال لی، اپنے طریقے سے اسنے روبینہ بیگم کو مطمین کر دیا۔
“چلو ٹھیک ہے، تم لوگ جاؤ میں کچھ بنوا کر بھیجتی ہوں” روبینہ بیگم اسکی بات سن کر ریلیکس ہوئیں، وہ تینوں عائشہ کے کمرے میں پہنچے۔ جہاں سامنے بیڈ پر وہ دونوں بیٹھیں ہوئیں تھیں۔
“عائشہ! تم سچ میں یہ رخصتی چاہتی ہو؟ تمہیں کوئی مسلہ نہیں؟ کیا تم ساری زندگی اسکی شکل برداشت کر پاؤ گی؟” بلاج پاس پڑی کرسی کو گھسیٹ کر بیڈ کے پاس بیٹھتا سوالیہ انداز میں بولا سبھی خاموش تھے۔
“بلاج دو سال پہلے ایک فیصلہ میں نے اپنی مرضعی سے کیا تھا، آج ایک فیصلہ میں اپنے گھر والوں کی مرضعی سے کرنا چاہتی ہوں، میں جانتی ہوں یہ فیصلہ شائد میری زندگی کو بدل کر رکھ دے، پر میں سھنمبال لوں گی” وہ نم لہجے میں بولی۔
“صحیح کہا، ٹھیک ہے، مجھے کوئی مسلہ نہیں، اب میں مزید کوئی جھگڑا نہیں کروں گا، پر اگر تم یہ کہو کہ میں اس راحیل سے اچھے سے بات کروں تو ایم سوری یہ مجھ سے نہیں ہو گا، اسکے علاوہ تم جو کہو گی میں وہ سب کروں گا” وہ ہاتھوں کو ایک دوسرے میں اُلجھاۓ عائشہ کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔
“میں ایسا نہیں کہوں گی، تم چاروں میری شادی پر خوشیاں بکھیر دو، مزید کچھ نہیں چاہیے” وہ ان چاروں کو دیکھتے نم لہجے میں بولی۔
“ارے ہماری دلہن تو ایموشنل ہو گئی، تو بھائی لوگوں آج سے اپنی شاپنگ شروع سب سے بہترین کپڑے ہم زیب تن کریں گے” حسام اپنا کالر اُچکاتے ہوۓ بولا۔سبھی مسکرا دے۔
“اور ڈانس پریکٹس بھی تو کرنی ہے، مہندی پر کریں گے” امرحہ ایکسائیٹڈ ہو کر بولی۔
“افکورس!” حسام اونچی آواز میں بولا۔ پانچوں شادی کی پلانگ کرنے لگے۔ ماحول کافی خوشگوار ہو گیا۔
شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں، امرحہ عائشہ کے ساتھ مل کر اسکے ڈریسز، جیولری سبھی چیزوں کو خرید رہی تھی، صبح کو یونی جاتے،گیارہ بجے کے بعد دو گھنٹے وہ ڈرامہ کی پریکٹس کرتے، اسکے بعد شادی کی شاپنگ میں مصروف ہو جاتے۔ بہت مصروف ترین دن گزر رہے تھے، ہر کوئی مصروف تھا۔ بلاج جان بوجھ کر چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے میرال سے بات کرنے لگ گیا، میسج کالز پر باتیں ہونے لگیں، یہ سب میرال کو کافی اچھا لگ رہا تھا، بلاج کے نا بولے بھی وہ اسکی فیلنگ کو سمجھ رہی تھی، اور بلاج اب خوش رہنے لگا تھا، بنا بات کے مسکرا دیتا، اور حسام اسکی درگت بنانے سے پیچھے نا رہتا، وہ بھی بلاج کے لیے بہت خوش تھا۔ راحیل زیادہ تر اپنے ڈرامے کی شوٹنگ میں مصروف رہتا۔ شادی کی ساری شاپنگ سمائرہ بیگم اسماء کے ساتھ کر رہیں تھیں۔ مشی نے میرال کو شادی پر انوائیٹ کیا، وہ چاہتی تھی وہ تینوں فنگشن اٹینڈ کرے۔ پر میرال نے صرف برات پر آنے کی ہامی بھری۔ مشی کے لاکھ منانے پر بھی وہ نا مانی۔
“میرال تمہیں واڈن بلا رہی ہے” آمنہ نے ہوسٹل کے کمرے میں آتے میرال کو واڈن کا پیغام دیا۔ میرال اپنی اسائیمنٹ وہی چھوڑ کر سر پر ڈوپٹہ لیے واڈن کے افس میں داخل ہوئی۔
“میرال تمہیں ہوسٹل آۓ ایک مہینے سے اوپر ہو چکا ہے، پچھلے مہینے کا کرایہ تم نے دیا تھا پر اس مہینے کا نہیں، وجہ؟” واڈن نے اسکے آتے ہی سوال کیا۔
“ایم سوری میں کچھ دن میں دے دوں گی” میرال کو یہ یاد ہی نہیں تھا کہ ہوسٹل کا کرایہ دینا ہے، وہ تو اپنی اسکالر شپ کو لے کر مطمین تھی، پر اسکالر شپ تو صرف پڑھائی کی تھی۔
“تمہارے پاس ایک ہفتہ ہے کرایہ دو ورنہ ہوسٹل سے نکال دوں گی” واڈن کافی سخت تھی۔۔
“جی میں دے دوں گی” میرال جلدی سے بولی۔ واڈن نے اسے جانے کا کہا۔ وہ پریشان سی کمرے میں واپس آئی۔
“اب کیا کروں؟ جتنے پیسے امی نے بینک میں میرے نام پر جمع کرواۓ تھے وہ تو لیپ ٹاپ کتابیں، اور کچھ کپڑے لینے میں ہی ختم ہو گے، اب تو بس کھانے کے لیے ایک مہینے کے ہی پیسے ہیں، یہ بات میرے دماغ میں پہلے کیوں نہیں آئی کیا کروں؟” وہ اپنی سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی اس نئی پریشانی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
“اف کیا کروں؟” اپنا سر ہاتھوں پر گڑاۓ وہ بہت پریشان لگ رہی تھی۔
“اسکا تو ایک ہی حل کے کہی پاٹ ٹائم جاب کروں، پر پھر سٹڈی متاثر ہو گی، پر اگر کرایہ نا دیا تو رہوں گی کہاں” کہی سارے سوال اسکے دماغ میں چل رہے تھے۔ وہ نیٹ سے جاب کی تلاش کرنے لگی۔
مہندی کا دن آ پہنچا، آج یونی میں میرال کے علاوہ کوئی نہیں گیا تھا۔ سبھی رات کی تیاری کر رہے تھے۔ کلاس ختم ہوئی تو میرال باہر نکلی، ایک جگہ اسکا جاب انٹرویو تھا، وہ تیز تیز چلتی باہر جا رہی تھی۔ تبھی سامنے سے بلاج آتا دیکھائی دیا۔ وہ اسے دیکھ چکا تھا۔
“ہیلو! کیسی ہو؟” وہ اسکے قریب آ کر بولا۔
وعلیکم السلام! بالکل ٹھیک ،کتنی دفع بولا ہے سلام لیا کرو یہ ہیلو ہُلو مت کیا کرو” میرال نے اسکے سلام نا لینے پر ٹوکا۔
“اپس بھول گیا” وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو، آج تو عائشہ کی مہندی ہے” میرال بولی۔
“بس یہاں سے گزر رہا تھا تو سوچا تم سے ملتا جاؤں، مجھے پتہ تھا تم تو آئی ہو گی،تم میں پڑھنے کا کیڑا جو ہے” بلاج مسکراتے ہوۓ بولا۔
“میں بھی ایک ضروری کام سے جا رہی تھی” میرال مسکراتے ہوۓ کہا۔
“کہاں، چلو میں چھوڑ دیتا ہوں” بلاج ایک دم بولا۔
“نہیں میں چلی جاؤں گی، تم بھی مصروف ہو” میرال نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
“تم مہندی پر نہیں آ رہی؟ کیوں؟ اور مجھے کیوں نہیں بتایا” بلاج کو صبح ہی ہارون سے معلوم ہوا کہ وہ مہندی پر نہیں آ رہی۔ کیونکہ کل ہارون نے اس سے پوچھا تھا۔
“بس ویسے ہی میری راحیل سے کوئی ایسی گہری دوستی بھی نہیں، اور عائشہ کی طرف سے تو نہیں نا سکتی، وہ اور امرحہ تو مجھے بہت نا پسند کرتیں ہیں، تو منہ اُٹھا کر نہیں جا سکتی” میرال نے ہلکے پھلکے انداز میں گول مول سی وجہ بتائی۔
“میرے ساتھ تو گہرا رشتہ ہے نا میرے کہنے پر آجاؤ” بلاج نے ایک دم کہا میرال کچھ پل کو خاموش ہو گئی۔
“میرا تمہارے ساتھ بھی ایسا کوئی گہرا رشتہ نہیں جسکے ناطے میں وہاں جاؤں، جس دن ہو گا ضروری جاؤں گی” میرال سنجیدہ انداز میں بولی۔ اب چپ ہونے کی باری بلاج کی تھی۔
“ڈونٹ وری چشمش جلد ہی پورے حق سے تمہیں اپنے ساتھ کے کر جایا کروں گا، ایک بیوی کے حق سے بلاج حمدانی کی بیوی میرال بلاج حمدانی کے حق سے، بولو منظور ہے؟” بلاج اسکی بات سن کر اسکی انکھوں میں دیکھتا محبت سے بھرے لہجے میں بولا۔ میرال کو لگا اسکے آس پاس خاموشی سی چھا گئی ہو، صرف بلاج کی آواز سنائی دے رہی ہو، بلاج نے یونی کے درمیان میں کھڑے ہو کر ایک الگ انداز میں محبت کا اظہار کیا تھا۔ اور میرال کو اسکا وہ انداز بہت خوبصورت لگا۔ اسے ابھی تک یقین نہیں ہو رہا تھا بلاج نے یہ سب اسی سے کہا۔ بلاج کے چہرے پر اسے یوں شاک میں جاتے دیکھ گہری مسکراہٹ چھائی۔
“کل تو آؤ گی تو اپنے ساتھ میرے سوال کا جواب بھی لے کر آنا چشمش چلتا ہوں” وہ اپنی آنکھوں پر کلاسس لگاتا بولتا پلٹ گیا۔ میرال اسے جاتے ہوۓ دیکھتی رہ گئی، جب وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ تب اسے احساس ہوا وہ کتنی بری بات بول گیا تھا۔ اسکے دل کی دھڑکنیں جیسے تھم سی گئیں تھیں۔ وہ جلدی سے کینٹین کی طرف گئی، اور پانی کی بوتل لے کر ایک ہی سانس میں پی گئی۔ اپنے آس پاس اسی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ایک شرمیلی سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر بکھری۔ وہ خود کو ہواؤں میں اُڑتی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔کچھ دیر بعد وہ انٹرویو دینے نکل گئی۔
جاری ہے
