Rate this Novel
Episode 12
ازقلم فاطمہ طارق
“بلاج مجھے تم سے بات کرنی ہے” وہ یونی سے جا رہا تھا جب امرحہ نے اسے روکا۔
“کیا بات ہے؟” بلاج کو وہ پریشان سی لگی۔
“تو عائشہ سے ایک بار بات کر سکتا ہے، جب سے وہ راحیل واپس آیا ہے وہ تھوڑی اپ سیٹ لگ رہی ہے،اور آج تو اسکے پاوچ سے مجھے وہ پلز بھی ملیں، وہ دوبارہ سے انہی پلز کا استعمال کر رہی ہے” امرحہ کو لگا کہ بلاج کو بتا دینا چاہیے کیا پتہ وہ اسکی سن لے۔
“کہاں ہے وہ؟” بلاج اپنا موبائل پاکٹ میں ڈالتے ہوۓ بولا تھا۔
“ابھی تو گھر چلی گئی، میں نے بولا بھی میرے ساتھ چل پر منع کر دیا، میں بہت پریشان ہوں” امرحہ سچ میں اسکے لیے بہت پریشان ہو رہی تھی۔
“ریلیکس، میں گروپ مین میسج کر رہا ہوں سبھی آج میری پلیس پر آؤ، وہی باتوں باتوں میں پوچھ لیں گے” بلاج موبائل نکال کر میسج کرتے ہوۓ بولا، امرحہ نے ہاں میں سر ہلایا۔
“***
“کل ویک اینڈ ہے تو اسی لیے گھر جا رہی ہوں، آپی بہت ناراض ہیں، دو ویک ہو گے ایک دن بھی ان سے ملنے نہیں گئی” میرال اپنی روم میٹ کو جانے کی وجہ بتا رہی تھی کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ وہ نا جاۓ کیونکہ وہ اکیلی ہو جاۓ گی
“اوکے فائن چلی جاؤ پر کل شام تک آ جاؤ گی؟” آمنہ نے منہ بسورتے ہوۓ کہا۔ دونوں کی کافی اچھی دوستی ہو چکی تھی۔
“ہاں آجاؤ گی تم آرام سے سٹڈی کرنا” میرال اپنا چحوٹا سا بیگ کندھے پر ڈالتے اسے خداحافظ کرتی باہر نکلی۔ وہ ملائکہ کو بنا بتاۓ گھر جا رہی تھی۔ تا کہ اسے سرپرائز دے سکے۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسکے گھر کے سامنے اتری، دروازہ کھولا ہوا تھا وہ اندر داخل ہوئی۔
” السلام علیکم! آپی ” وہ اندر داخل ہوتے ہوۓ بولی۔ جہاں سامنے ملائکہ نمرہ کی پونی کر رہی تھی۔
“خالہ” نمرہ چلاتی اسکے پاس بھاگی اور اسکے گلے لگی۔ میرال بھی بہت خوش ہوئی۔
“کیسی ہو؟” ملائکہ اس سے ملتے ہوۓ بولی۔
“ٹھیک ہوں” وہ مسکرا کر بولی۔ اسنے محسوس کیا جیسے ملائکہ کا موڈ تھوڑا آف ہے شائد گھر میں کوئی بات ہوئی ہو۔ وہ اگنور کرتی اسکے پاس بیٹھی اور باتیں کرنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنا بیگ رکھنے کمرے مین چلی گئی۔
وہ سب بلاج کے گھر پر موجود تھے بلاج نے باہر سے کھانا آڈر کیا تھا۔ ابھی سبھی حال میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
“ماننا پڑے گا راحیل کی بہن ایک نمبر کی بے وقوف ہے، میں نے تو ایسے ہی چیلنج کر دیا مجھے لگا منع کر دے گی، پر بے وقوف نے مان لیا” حسام ہنستے ہوۓ بولا تھا۔ سبھی کی ہنسی نکل گئی۔
“راحیل خود ایک گدھا ہے تو اسکی بہن بھی ویسی ہوگی” امرحہ ہنستے ہوۓ بولی، بلاج نے عائشہ کو دیکھا وہ کھوئی کھوئی سی لگی۔
“لیو دس ٹاپک گائیز” بلاج نے کہا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا عائشہ انکمفرٹیبل فیل کرے۔
“مجھے تو ہارون سے بات کرنی ہے” بلاج نے ہارون کو دیکھتے ہوۓ کہا، ہارون کو ایک دم ڈر سا لگا جب بھی بلاج ایسے بولتا تھا مطلب وہ ایسی بات کرنے والا تھا جو وہ سب سے چھپاتا پھرتا ہو۔
“کیا بات ؟” ہارون گلا کھنگال کر بولا۔
“گائیز توجہ کیجے گا، میں آجکل محسوس کر رہا ہو، ہارون اجکل میرال سے دوستی وستی یا پیار کرنے کے چکر میں ہے۔ پارٹی میں بھی ہمیں چھوڑ کر وہ اس سے بات کرنے گیا” بلاج نے حسام کو انکھ مارتے ہوۓ ہارون کو چھیرا تھا۔
“کیا واقع سالے تو نے مجھے نہیں بتایا” حسام پاس پڑا کُشن اسکے منہ پر مارتے ہوۓ بولا۔
“نو گائیز کیسی باتیں کر رہے ہو ایک دو دفع بات کر لی اسکا مطلب یہ نہیں۔۔۔۔ حد ہے بلاج تو کتنا کمینہ ہے” ہارون نے وہی کُشن اب بلاج پر پھینکا تھا۔
“ہارون اگر کوئی پسند آ جاۓ اس میں بری بات کیا ہے اپنے دل کی بات بتاو” امرحہ اسکے پاس آ کر بیٹھ کر چھیرتے ہوۓ بولی۔ عائشہ مسکرا رہی تھی۔
“یو نو نا گائیز مجھے پیار کے بارے میں کچھ نہیں پتہ تو فضول کی باتیں بند کرو، میں نے بس اس سے ایک دو دفع بات کی ہے” ہارون نے تھوڑا غصے سے کہا۔
“برو تو کیا ہوا میں تجھے بتاتا ہوں پیار کس چڑیا کا نام ہے ” حسام فوراً سیدھا ہوتے ہوۓ بولا۔ سبھی اسکے ساتھ چھیر چھار کر رہے تھے۔ اسطرح کی باتیں انکے درمیان پہلے بھی کئی دفع ہوتیں تھیں بس آج ہارون پھس گیا تھا۔
“اگر کسی کو دیکھ کر دل کی دھڑکن بڑھ جائیں، اور آس پاس گانے سنائی دیں، ہر طرف رنگ دیکھائی دیں وہی پیار ہے” حسام جھومتے ہوۓ بولا۔
“یہ سب مُویز میں ہوتا ہے رئیل لائف میں نہیں، بچے کو غلط گائیڈ مت کر” بلاج نے اسے نیچے بیٹھاتے ہوۓ کہا۔
“تو لو گُرو بلاج جی آپ بتا دو۔ محبت کیا ہوتی ہے؟ ایم شو آپکو تو ہوئی ہو گی” حسام نے اب اسکو پھسایا تھا۔
” مجھے ابھی تک کسی سے محبت تو نہیں ہوئی، اور میں محبت عشق پیار ان سب چیزوں پر یقین نہیں رکھتا، یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ سب لوگوں کو بس محبت کے نام پر رٹرن میں چیزیں چائیں،نا دو تو محبت ختم، اسکے علاوہ میں نے جتنا سمجھا ہے،دنیا میں ہر ریلیشن شپ
Give and take
پر ڈینڈ کرتا ہے” وہ کچھ سوچتے ہوۓ بولا تھا۔ سبھی برے غور سے سن رہے تھے۔
“واہ کتنی غلط سوچ ہے”۔ امرحہ نے تالیاں بجاتے ہوۓ کہا۔ بلاج نے اسے گھورا۔
” ایک بات کہوں! جہاں تک میں تجھے جانتا ہوں، جس دن تو محبت جیسی بیماری میں مبتلا ہوا نا، داستانِ محبت لکھے گا”حسام نے مسکراہٹ دبا کر بولا۔ بلاج نے نفی میں سر ہلایا۔ ان کے گروپ مین ایک وہی تھا جو فلمی ڈائیگ مارتا تھا۔
“میرے مطابق تو زیادہ تر پیار بچارہ ایک طرفہ ہی رہ جاتا ہے یوں دل ٹوٹ جاتا ہے، پر ایک بات بتاؤ بہت پیاری فیلنگ ہوتی ہے” امرحہ نکلی آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی۔ سبھی اسکا مطلب بھی اچھے سے جانتے تھے۔
“ہارون کسی کی باتیں مت سنو ، دنیا میں پیار محبت عشق سبھی کتابی،فلمی باتیں ہیں، موقع آنے پر سبھی اپکو ٹیشو کی طرح یوز کر کے پھینک دیتے ہیں، اپکے ایموشنز کی کوئی ویلیو نہیں ہوتی، بس اپنی پڑی ہوتی ہے، اور باقی آپ بچ جاتے ہو، ٹوٹے پھوٹے، پھر اس وقت جینا بہت مشکل ہوتا ہے” عائشہ کی آواز گھونجی تھی۔ اسکی آواز مین سچائی بول رہی تھی۔ کافی دیر تک ماحول مین خاموشی پھیل گئی۔ ان میں سے کبھی کسی نے اس سے راحیل کے ٹاپک پر بات نہیں کی تھی آج وہ پہلی بار یہ سب بول رہی تھی۔
“عائشہ جو کچھ ہوا اسکا مطلب یہ نہیں تم وہی سٹک ہو جاؤ، تمہیں مُوو آن ہونا چاہیے” حسام نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔ عائشہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔ وہ یہ سب باتیں نہین کرنا چاہتی تھی
“عائشہ تم ہم سے بات کرو اس بارے میں جتنا غصہ تمہارے اندر ہے نکالو اسے یوں گھٹ گھٹ کر جینا بہت برا یے، ہم سب تمہارے دوست ہیں،پلز کھانے سے تمہارا ہی نقصان ہو رہا ہے” اُٹھ کر اسکے سامنے اتے ہوۓ بولا۔
“تم نے بتا بھی دیا واؤ ہنہہ” عائشہ بے پلز والی بات پر امرحہ کو دیکھتے طنزیہ انداز میں ہنستے ہوۓ کہا۔
“اسنے صحیح کیا ایٹ لیسٹ ہمیں پتہ تو ہو تم کیا کر رہی ہو” حسام نے اگے بڑھ کر کہا۔
“گائیز پلیز میں ہاتھ جوڑ رہی ہوں مجھ سے اس ٹاپک پر بات مت کرو اور نا ہی آئندہ کرنا” عائشہ ہاتھ جوڑا کر چیختے ہوۓ بولی۔ وہ رو دی۔
“اوکے فائن ہم کبھی اس ٹاپک پر بات نہیں کریں گے، پر ہم تمہارے دوست ہیں اور اپنے سامنے تمہیں اپنی زندگی تباہ کرتے نہیں دیکھ سکتے، تو تم اب غصہ ہو یا ناراض ہم تمہیں مزید ان گولیوں کو استعمال کرنے نہیں دیں گے ” بلاج نے اسے صوفے پر بیٹھانا چاہا۔
“مجھے گھر جانا ہے، ہارون مجھے پلیز گھر چھوڑ دو” عائشہ اپنے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی۔ اور بنا اسکی سنے باہر چلی گئی ہارون بھی پیچھے چلا گیا۔ امرحہ بھی اسکے پیچھے بھاگی۔
“یہ سب اس راحیل کی وجہ سے ہوا ہے وہ ابھی تک ان سب سے نکل ہی نہیں پائی، اور نا وہ سالے نکلنے دیتا ہے منہ اُٹھا کر اسکے سنے آ جاتا ہے” حسام کو بہت ہی غصہ آ رہا تھا۔
“یہ سب نا ہوتا اگر اس وقت وہ اسے چوز کرتی، کم از کم وہ خوش تو ہوتی” بلاج اپنا سر ہاتھوں پر گِراتے ہوۓ بولا۔
“اسنے تب وہی کیا جو اسے ٹھیک لگا ابھی ہم کچھ نہیں کر سکتے” حسام نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔
★**
“ارے واہ آج تو برے برے لوگ ہمارے گھر تشریف لاۓ ہیں” میرال اپنے کمرے سے نکل رہی تھی جب سامنے سے باسط آیا۔ وہ اگنور کر کے اگے بڑھی وہ شائد صبح آیا تھا کل رات کو اسکی ملاقات نا ہو سکی۔
“ویسے برے پر نکل آۓ ہیں بری بری پارٹیوں میں جانے لگی ہو، اس دن کس کے ساتھ گئی تھی اپنے بواۓ فرینڈ کے ساتھ، کمال ہے یار بری جلدی لڑکا پھنسا لیا” باسط تمسخرانہ انداز میں ہنسا تھا۔ میرال کے پیر وہی تھم گے یہ وہ کیا بول رہا تھا۔
“کیا مطلب ہے آپکا؟ اتنی گھٹیا بات بولتے وقت آپکو شرم آنی چاہیے” وہ ایک دم پلٹ کر غصے سے بولی۔
“اُوو پوری شیرنی ہو، پر اب پلیز مزید یہ نیک پروین ہونے کا ناٹک بند کرو، مین تمہاری اصلیت جان چکا ہوں، ایسی بری پارٹیوں میں تم جیسی چھوٹی لڑکی بنا کسی بواۓ فرینڈ کے نہیں جا سکتی” باسط طنزیہ انداز میں ہنس کر بول رہا تھا۔ وہ اسے مکمل ڈرا دینا چاہتا تھا۔
“باسط بھائی اپنی زبان کو سھنمبال کر بات کریں، ایسے گھٹیا الفاظ استعمال مت کریں، اور میں وہاں اپنی دوست کے ساتھ گئی تھی، عالم صاحب کی چھوٹی بیٹی حیات عالم کے ساتھ گئی تھی ” میرال کا غصے سے برا حال تھا وہ روانگی میں وہاں جانے والی بات قبول کر گئی۔
“ہاہا صحیح ہے بھائی اب لڑکے کو لڑکی بنا دو تمہارا کیا جاتا ہے، میرے پاس تو ثبوت بھی ہے کہ تم لڑکے کے ساتھ گئی تھی” وہ شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا تھا۔
“کیا مطلب ہے آپکا کیسا ثبوت؟” میرال ایک دم ڈری تھی۔
“یہ تصویریں اگر تمہاری آپی اور بہنوئی کو دیکھا دوں تو کیسا رہے گا” باسط نے اپنے موبائل سے کچھ تصویریں نکال کر دیکھائیں، میرال کا رنگ پھیکا پڑ گیا، کیونکہ وہ تصویریں تب کی تھیں جب وہ پارگنگ میں بلاج کے پاس کھڑی تھی، اس مین بلاج کا چہرہ واضع تھا۔
“یہ سب بکواس ہے، یہ میرا کلاس فیلو ہے، وہاں پر میں اپنی دوست کا انتظار کر رہی تھی” میرال غصے سے اسکا موبائل پکڑنے لگی جب وہ ایک دم پیچھے ہوا۔
“نانانا بے بی یہ بے وقوفی مت کرنا، اب تم وہی کرو گی جو میں کہوں گا ورنہ یہ تصویریں تمہاری باجی کے پاس جائیں گی، پھر دیتی رہنا اپنی صفائیاں کوئی یقین نہیں کے گا اور تمہارا کریکٹر خراب ہو جاۓ گا، اور خبردار اگر کسی کو بتایا” وہ خباثت سے ہنس کر بولا۔ اور پلٹ کر نیچے چلا گیا۔ میرال وہی واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کیا کرے۔ اسے تو لگا تھا وہ بچ گئی پر شائد اس دن وہ پیچھے آیا تھا اور چھپ کر تصویریں بھی بنا لیں۔ وہ اپنا سر تھامے بیڈ پر بیٹھ گئی اسکا دماغ کام نہیں کر رہا تھا۔ اسےابھی تھوڑی دیر میں یونی نکلنا تھا۔۔
اج کا موسم تھوڑا خراب تھا آسمان پر کالے بادل گھیرے ہوۓ تھے، یونی میں کافی لوگ اس موسم کو انجواۓ کر رہے تھے، میم فرحت تو آئیں نہیں تھیں، ابھی سر سعد کی کلاس تھی، وہ کلاس میں آ چکے تھے۔ اور اٹینڈنس لگا رہے تھے۔ تبھی سر امجد کلاس میں داخل ہوۓ انکے پیچھے آنے والی ہستی کو دیکھ۔ کر کچھ کے چہروں پر غصہ تھا اور کچھ بہت خوش تھے اور کچھ کو فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔
“مس اسماء کلاس کی نئی سٹودینٹ ہیں، دو سال پہلے تک یہ یہی پڑھتیں تھیں، پھر لندن چلی گئیں اب دوبارہ سے پڑھائی شروع کرنا چاہ رہی ہیں” سر امجد نے اسکا تعارف پوری کلاس سے کروایا۔
“ہیلو ایوری ون!” وہ ہاتھ اُٹھا کر سبھی کو ہیلو کرتے ہوۓ بولی۔ لیکن دیکھ وہ بلاج کو رہی تھی وہ حسام سے باتیں کرنے میں مصروف تھا جیسے اسنے اسکا انا نوٹس ہی نا کیا ہو۔ اسنے جینز شرٹ پہن رکھا تھا میک اپ کیے اوربالوں کو کھلا چھوڑے ہوۓ تھا۔
“جی یہ تو بہت اچھی بات ہے اسماء آپ کا کر بیٹھ جائیں” سر سعد نے کہا۔ وہ چلتی ہوئی راحیل لوگوں کے پاس آ کر بیٹھی۔
جاری ہے۔۔۔۔
