Rate this Novel
Episode 5
“جی آپی جی بالکل ٹھیک ہوں، نمرہ کیسی ہے” میرال اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھی ملائکہ سے بات کر رہی تھی۔
“چلو اچھے سے پڑھو کسی قسم کی پریشانی ہو تو بتانا” ملائکہ نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔
“جی بتاؤں گی” میرال نے گہرا سانس لے کر کہا، ابھی تو اسکی زندگی کی سب سے بری پریشانی بلاج حمدانی ہی تھا۔ پر وہ یہاں پر ہوۓ واقعات ملائکہ کو بتا کر اسے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“اللہ حافظ” اسنے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔ اور موبائل بند کر دیا۔ سٹدی ٹیبل پر بیٹھی سامنے کتابیں کھولے وہ پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ لیکن اسکے دماغ میں صبح والا واقع گھومنے لگا۔
” یہ سب میرے پیچھے کیوں پر گے ہیں، میں نے ایسا بھی کیا کر دیا۔ بس جواب ہی تو دیا تھا، اور جواب کیوں نا دیتی، انکا لے کر کھاتی ہوں ہنہ برے آۓ ایکس میٹ، اور بھلا یہ کیسا نام ہے ایکس میٹ، خود کو پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں” وہ خود سے ہی سوالوں جواب کر رہی تھی اور پیپرز پر غصہ نکال رہی تھی۔
“یہ سب تمہاری غلطی ہے تمہاری وجہ سے میری اتنی بری ڈیل کینسل ہو گئی” حماد شاہ گھر پہنچتے ہی اپنی بیوی پر چلا رہے تھے۔
“واٹ میری غلطی میں نے کیا کِیا؟” اشنا شاہ نے حیرانگی دے کہا۔
“اشناہ بیگم اتنی بھی بھولی مت بنو تمہیں بولا بھی تھا، حسن صاحب کی بیوی کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا پر تم نے سب خراب کر دیا کیاضرورت تھی انکی بیوی سے بحث کرنے کی، یقیناً اسی نے ڈیل کینسل کروائی ہو گی” وہ غصے سے اپنی ٹائی ڈھیلی کرتے ہوۓ بولے۔
“وہ بلاوجہ مجھ سے اُلجھ رہی تھی تو میں نے جواب تو دینا تھا نا ہنہہ خود کو مہارانی سمجھ رہی تھی” اشنا شاہ نے اپنی ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتے ہوۓ کہا۔
“تم جیسی جاہل عورت سے شادی کرنا ہی میری سب سے بری بے وقوفی تھی پتہ نہیں کون سا دن تھ جب تم سے پالا پڑ گیا، جو چاہے کر لوں تمہارے اندر سے گوار پن ختم نہیں ہوتا” حامد شاہ دوبارہ ان پر چلاۓ تھے۔ وہ آج کافی غصے میں تھے۔
“ہنہہہ اور میں تو اپ سے شادی کر کے بہت خوش ہوں، ایک دن سکون سے نہیں گزارا زندگی عذاب بن چکی ہے” اشنا شاہ اپنا پرس صوفے پر پھینکتے ہوۓ بولی۔ امرحہ شاہ حال میں داخل ہوئی تو سامنے دونوں کو لڑتے دیکھا۔ اسکے ماتھے پر لا تعداد بل پڑے۔
“سکون ہنہہ سکون تو اس دن کا ختم ہو گیا جس دن تم میرے سر پر مسلط ہوئی” حماد شاہ نے اپنا کوٹ ٹیبل پر پھینکتے ہوۓ کہا۔ اشناہ شاہ جواب دینے لگیں۔
“بس کریں خدارا بس کریں” امرحہ زور سے چلائی۔ اسکی آواز سن کر دونوں نے چہرہ موڑ کر دیکھا تو وہ دروازے کے درمیان میں غصے سے بھرا چہرہ لیے کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی۔
“تم جلدی گھر نہیں آ گئی، تمہارے آوارہ دوستوں نے آنے دیا، ابھی بارہ بجے ہیں” حماد صاحب نے طنزیہ انداز میں کہا۔
“اب احساس ہو رہا ہے غلطی کر دی، مجھے گھر آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ پر اگر گھر نا آتی تو آپ دونوں کا ہر روز کا یہ شو کیسے دیکھتی مس کر دیتی نا اسی لیے آ گئی” وہ بھی طنز کا جواب طنز سے دیتے ہوۓ بولی۔
“تو چلی جاو تم بھی اپنی ماں کی ہی طرح بد زبان ہو ” حماد صاحب نے غصے سے کہا۔اشناہ شاہ خاموش تھیں۔
“ایک ایڈوائیس کروں آپ دونوں نا ڈائیوس لے لو، خود بھی سکون سے رہو اور مجھے بھی رہنے دو” وہ سرد لہجے میں بولی تھی۔
“ٹھاہ ” اسکی چلتی زبان کو بریک اشناہ شاہ کے تھپڑ نے لگائی تھی۔ اسنے بے یقینی سے اپنے ماں کو دیکھا۔ آج پہلی بار انہوں نے اسے تھپڑ مارا تھا۔ ضبط سے اسنے آنکھوں میں اُمنڈ آنے والے آنسوں کو روکا۔ اور بنا کچھ کہے مڑ کر اپنی گاڑی میں بیٹھی گھر سے نکل گئی۔
“دیکھو کتنی لمبی زبان ہے اسکی بالکل تمہاری طرح” حماد شاہ غصے سے کہتے اپنا موبائل پکڑ کر اوپر اپنے کمتے کی طرف بڑھ گے۔ اور اشناہ شاہ وہی صوفے پر بیٹھ گئیں۔ یہ تو ہر دوسرے ہفتے کی بات تھی۔ دونوں کے درمیان اسی طرح جھگڑا ہوتا، آج امرحہ بے تنگ آ کر ڈائیوئیس کی بات کی تھی غصے میں انکا ہاتھ اُٹھ گیا۔۔۔
وہ اپنے گھر سے نکلتی گاڑی ڈرائیو کرتی جا رہی تھی۔ اپنا موبائل پکڑ کر ایمرجنسی میٹنگ عائشہ پلیس، لفظ لکھ کر اسنے ایکس میٹ گروپ میں میسج بھیجا۔ گاڑی کی سپیڈ حد سے زیادہ بڑھا کر وہ عائشہ کے گھر پہنچی۔ اسکا میسج سب کو مل چکا تھا۔ وہ سب وہاں پہنچ چکے تھے۔ اس وقت وہ سب عائشہ کے کمرے میں بیٹھے اسکا انتظار کر رہے تھے۔
“ایسا کیا ہو گیا جو اس نے ایمرجنسی میٹنگ بلوائی” بلاج پریشان سا کمرے میں چکر لگا رہا تھا۔
“کہی اسکے مام ڈیڈ کا دوبارہ سے تو جھگڑا نہیں ہوا” حسام کچھ سوچتے ہوے بولا۔ سبھی نے اسکی طرف دیکھا۔ وہ سب جانتے تھے، وہ اپنے موم ڈیڈ کے جھگڑوں کی وجہ سے کتنی پریشان رہتی تھی۔ وہ سب یہی سوچ رہے تھے جب غصے سے بھرا چہرا لیے وہ سیڑھیاں چڑھتی عائشہ کے کمرے میں آئی۔ سبھی بے صبری سے اسکا انتظار کر رہے تھے۔
“امرحہ کیا ہوا؟” اسکے بکھرے بال اور چہرے پر پڑے نشان کو دیکھ بلاج نے فوراً اسکے قریب آکر پوچھا۔
“مام نے تھپڑ مارا” وہ نم لہجے میں بولی۔ اسکی بات پر سبھی اپنی جگہ سے اُٹھے اور اسکے قریب آۓ۔
“واٹ انکا دماغ خراب ہے” عائشہ اسکے پاس آکر غصے سے بولی اور اسکا چہرہ دیکھا۔ جہاں تھپر کا واضع نشان تھا۔ اسنے امرحہ کو گلے سے لگایا۔ امرحہ کی ہمت ٹوتی اور وہ رونے لگی۔
” ہوا کیا تھا؟ ہارون نے پوچھا۔ امرحہ نے ان سب کی طرف دیکھا۔
” میں گھر پہنچی تو دونوں لڑ رہے تھے مجھے اتنا غصہ ایا میں نے بولا اچھا ہو گا ڈائیویس لے لو تا کہ سب کی جان سکون میں آۓ اسی بات پر تھپر مارا” وہ عائشہ سے الگ ہوتی سب کو وجہ بتا رہی تھی۔
” اس بات پر تو دو بھی پڑ سکتے تھے” حسام وہی صوفے پر گرتے ہوۓ بولا۔
“جس دن کا میں نے ہوش سھنمالا ہے ایک دفع بھی دونوں کو محبت سے بات کرتے نہیں سنا ہر وقت میری یہ ڈیل میری وہ ڈیل میرا لندن والا بزنس میرا امریکہ والا بزنس بس یہی سنا ہے دونوں کو صرف پیسوں سے پیار ہے۔ اور ہر وقت لڑتے رہتے ہیں، ایک دوسرے کو قصور وار تھہڑاتے رہتے ہیں میرا بس چلے نا ابھی کے ابھی دونوں کا ڈائیویس کروا دوں ، گھر کو لڑائی کا میدان بنا کر رکھا ہے گھر جانے کو دل نہیں کرتا۔ بالکل اکیلا محسوس کرتی ہوں۔ افففففففف” وہ بولتے بولتے آخر میں اونچی اواز میں چیخی۔ جیسے اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“امرحہ یہاں بیٹھو، عائشہ پانی لاؤ” بلاج نے اسے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا۔ عائشہ نے پانی کا گلاس اسے پلایا۔
” امرحہ یہ ان دونوں کا ریلیشن شپ ہے ، اس میں وہ کیا کرتے ہیں اس پر تم کچھ نہیں کر سکتی، جب تک انہیں احساس نا ہو جاۓ وہ کتنے غلط جا رہے ہیں، تم انکے سامنے ڈھول پیٹ کر بھی اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرو گی تب بھی انہیں احساس نہیں ہو گا، تو بلا وجہ ان باتوں کے پیچھے خود کو ٹیشن مت دو، جنکا کوئی حل نہیں، اور دوسری بات تم اکیلی نہیں ہو ہم چاروں بھی تو ہیں اور تم جانتی ہو ہم پانچوں فرینڈز نہیں فیملی ہیں ، آئی سمجھ جھلی لڑکی ” بلاج بہت ہی طریقے سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“ا گئی پر مجھے ایک جواب دو، تم مجھے یہ سب سمجھا رہے ہو، اور تم خود ابھی تک اپنے ڈیڈ کی انہی دو غلطیوں میں اٹکے ہو، تم بھی ایک سیراب کے پیچھے بھاگ رہے ہو” امرحہ نے اسکی بات سن کر جواباً کہا۔ بلاج کا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہوا وہ وہاں سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
“ارے کیا پرانی باتوں کو لے کر بیٹھ گے ہو عائشہ کچھ منگواؤ” حسام نے دیکھا جب بات کہی اور ہی جا رہی ہے تو فوراً درمیان میں بولا۔
“میری بات اور ہے، اور میں کسی سیراب کے پیچھے نہیں بھاگ رہا، کچھ سوچ کر ہی سب کر رہا ہوں” وہ آج پہلی بار اس بات کے جواب میں بولا تھا بولتے ہوۓ ضبط سے اسکی آنکھیں لال ہو گئیں امرحہ نے ہاں مین سر ہلایا وہ بات کو مزید برھا کر اپنے دوست کو تقلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔
“بڈی ہمیشہ یہ یاد رکھنا تم اکیلے نہیں ہو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں” ہارون جو کب سے خاموش انکی باتیں رہا تھا۔ اُٹھ کر کھڑا ہوا اور بلاج کے گلے لگ کر بولا۔ اسکی بات کع مطلب وہ اچھے سے سمجھ چکا تھا۔
“تو کل والے پلین میں سب ساتھ ہیں” بلاج ایک دم جود پر قابو پاتے ہوۓ بولا۔
“افکورس لیکن اسکے لیے زندہ رہنے پرے گا اور زندہ تو صرف کھانا رکھ سکتا ہے اور میری کنجوس دوست نے تو کچھ کھلانا نہیں چل یاروں میں چلتا ہوں۔” حسام زور سے چلا کر بولا۔
“نوٹکنی بند کر میں نے پیزہ آڈر کیا ہے بس تھوڑی دیر مین آ جاۓ گا ” عائشہ نے اسکے کندھے پر مُکہ مارتے ہوے کہا۔
“ہاے مر گیا” وہ زور سے چلایا۔ اسکی حرکت پر سبھی کی ہنسی نکل گئی۔ امرحہ کو موڈ بھی بہتر ہو گیا تھا۔
“مِشی روکو!” وہ کلاس سے ہو کر باہر نکلی، کافی دیر سے وہ میرال کو ڈھونڈ رہی تھی۔ پر وہ کہی مل نہیں مل رہی تھی اسکو ڈھونڈنے کے لیے وہ کلاس سے باہر نکلی۔ اور گارڈن کی طرف بڑھی۔ تبحی پیچھے سے رضوان کی اواز آئی۔
“بول رجو ” وہ ادھر اُھر دیکھتے ہوۓ بولی۔
“واٹ رجو یہ کیا نام ہے کسی لڑکی کا لگ رہا ہے، مشی اگر تم بھول گیی ہو تو یاد دلوا دوں مین تمہارا دوست رضوان ہوں ایک لڑکا ہوں لڑکی نہیں” وہ تو صدمے میں ہی چلا گیا تھا۔
“میرے باپ معاف کر دے منہ سے نکل گیا، جلدی بول کیا کہنا تھا” وہ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوۓ بولی۔
“تم اب اپنی نئی دوست کے ساتھ زیادہ ہی مصروف ہو گئی ہو۔ مجھے بالکل بھول گئی ہو” وہ منہ بسورتے ہوۓ بولا۔
“اوو میرے دوست جی میں میری نئی دوست سے مت جلو، وہ بہت اچھی ہے، روکو مین ملواتی ہوں وہ رہی ” مشی گارڈن کے ایک طرف بیٹھی رجسٹر پر کچھ لکھتی میرال پر نظر پڑتے ہی بولی۔ وہ رضوان کو لے کر میرال کے پاس پہنچی۔
“میرا فون کیوں نہیں اُٹھا رہی تھی” اسکے پاس ہی بیٹھتے وہ ناراضگی سے بولی۔
سوری سائلنٹ پر تھا میرال اپنا فون دیکھتے ہوۓ بولی جہاں اسکی کافی مس کالز تھیں۔
“میرال یہ میرا دوست رضوان ہے ” مشی نے اپنے ساتھ بیٹھے رضوان کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
“ہیلو میرال” رضوان نے ہلکے سے مسکرا کر کہا۔ میرال نے ہاں مین سر ہلایا۔
“ویسے یہ کیا ہو رہا ہے” مِشی نے گارڈن کے ایک طرف چھوٹا سا سٹیج لگتے دیکھا تو حیرانگی سے بولی۔
“یونی میں کوئی پروگرام ہو اور مشی عالم کو نا پتہ وہ ایسا نہین وہ سکتا”وہ فوراٍ کھڑی ہوئی
” ایسا ہو چکا ہے تمہیں نہیں پتہ وہاں کیا ہو رہا ہے ” رضوان نے اسے چراتے ہوۓ کہا۔
“چلو دیکھتے ہیں وہاں کیا ہو رہا ہے” وہ ان دونوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے کر سٹیج کے پاس پہنچی۔ جہاں بہت سارے لوگ تھے۔ چھوٹا سا سٹیج تھا، اسکے سامنے ایک بری سی ایل ای ڈی لگی ہوئی تھی۔
“یہاں کون آرہا ہے” مِشی نے پاس کھڑی لڑکی سے پوچھا۔
“ہمارا ہیرو” وہ لڑکی اونچی آواز میں چلائی میرال دو قدم پیچھے ہوئی۔ وہاں کافی لڑکیاں تھیں جو شور کر رہیں تھیں۔ وہ وہاں سے جانا چاہتی تھی۔
“مِشی بہت شور ہے میں جا رہی ہوں” وہ مشی کے کان میں بولی، جب اسنے اسکا ہاتھ پکڑا۔
“مجھے پتہ چل گیا کون آنے والا ہےا ور کیا ہونے والا ہے رکو بہت مزہ آۓ گا” مِشی کو جیسے ایک دم ساری بات سمجھ مین آئی۔ تبھی ایک لڑکا چہرے پر ماسک لگاۓ جینز شرٹ پہنے سٹیج کے اوپر آیا۔ سب نے ہوٹنگ شروع کر دی۔
” السلام علیکم! ایوری ون” وہ مائیک لے کر چہرے سے ماسک اتارتے ہوۓ بولا۔ اونچی آواز میں سلام کا جواب دیا گیا۔ میرال جب سے یہاں آئی تھی یہ پہلا انسان تھا جس نے سلام کیا تھا ۔
“ائی نو سب نے اس ایک مہینے میں مجھے کافی مس کیا۔ پر اپ سب تو جانتے ہیں میں اپنے نئے پروجیکٹ میں مصروف تھا۔ میرا نیا ڈرامہ ا رہا ہے، جسکا ٹریلر میں یہاں اپکو دیکھاؤں گا۔ وہ مسکراتے ہوۓ مائیک میں بول رہا تھا۔ اسکے ڈرامہ کہنے پر میرال کو یاد آیا اسکو ٹیوی پر وہ دیکھ چکی ہے۔ اسنے ایک سال پہلے ہی شوبز کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔
وہ پانچوں ابھی یونی میں داخل ہوۓ تھے جب انکی نظر اس پر پڑی۔ پانچوں چلتے ہوۓ بالکل آخر میں کھڑے ہو گے۔
” جہاں بہت سے لوگوں نے مجھے مس کیا وہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی کافی مرضی چلائی۔ خیر اب میں واپس آ چکا ہوں تو سب سے پہلے میں آپکو ٹریلر دیکھاتا ہوں وہ ایک لڑکے کو اشارہ کرتے ہوۓ بولا۔ اسنے اس سکرین پر اسکے آنے والے ڈرامے کا ٹریلر چلایا۔
“واو بھائی امیزنگ ” مِشی زور سے چلائی میرال نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ کچھ غور کرنے پر اسے سمجھ آئی کہ دونوں کے سر نیم عالم ہے تو یہ مِشی کا بھائی ہے۔ وہ راحیل کو دیکھتے ہوۓ بولی۔
“یہ چمپو واپس آگیا” حسام نے سٹیج پر کھڑے راحیل کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
ٹریلر ختم ہوا۔ اسکے بعد ایک کلپ چلی۔
” تو یہ گیا پانی میں تھوڑا سا نمک، اسنے نمک کا چمچ بھر کر پانی میں ڈالا، اور یہ رہا تھوڑا سا لیموں، یہ تھوڑی سی ہری مرچ، اور ہاں سب سے اہم یہ تھوری سی کالی مرچ ، لو بھائی لوگ یہ بن گیا ہماری نیو قمر جی کے لیے پانی یہ لو پی لو ٹھیک ہو جاؤ گی”
کل ہونے والی بدتمیزی کی ساری ویڈیو چلی اسکے بعد کچیر گِڑانے والی ویڈیو چلائی گئی وہ سٹیج پر کھڑا سامنے ان پانچوں کو دیکھ رہا تھا۔ اسکی نظر بلاج پر تھی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ سبھی اپس میں چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔ وہاں کافی ٹیچرز بھی آ چکے تھے۔
“یہ سب کیا ہے؟” میرال نے مِشی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔ جسنے اسے چپ رہنے کا کہا۔ میرال کافی پریشان ہو گئی وہ سب تماشا نہیں چاہتی تھی۔
“تو یہ ہو رہا ہے ہماری یونی میں، اتنی فیمس یونی میں اسطرح کے لوگ موجود ہیں جو دوسروں پر کیچڑ، پھینک کر اور گندا پانی پلا کر ہنستے ہیں، تو آپ سب بتائیں کیا ایسے بے ہس لوگوں کو اس یونی میں رہنے کا حق دینا چاہیے، مشی میرال کو لے کر اوپر آو” اسنے مائیک پکڑ کر غصے سے کہا۔ بلاج کے ماتھے پر بل پڑے۔
“مجھے نہیں جانا” میرال نے نفی کی۔ پر مشی اسے سٹیج پر لے ہی آئی۔ میرال نے ڈرتے ہوۓ سامنے دیکھا۔ وہ پانچوں انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔ اسے ڈر سا لگا۔ یہ سب وہ نہیں چاہتی تھی۔
“تو بتائیں کیا ہماری یونی کا ایسا کلچر ہے جو نیو سٹوڈیٹنس کو ایسے ویلکم کہتا ہے، یہ تو صرف جاہل لوگ ہی کر سکتے ہیں، ایسے لوگوں کو دھکے دے کر یونی سے نکال دینا چاہیے” وہ سنجیدگی سے بولا۔
“ہاں نکال دینا چاہیے” بہت سی ایسی اوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔ راحیل مسکرایا۔
“ہم سب اگر ساتھ ہو جائیں تو بلاج سکندر حمدانی جیسے جانور کو خود دھکے دے کر نکال سکتے ہیں جسے نا تو خود کی عزت کا خیال ہے نا کسی لڑکی کی اور نا ہی اپنے باپ کی سب کے نام ڈبو رہا ہے” راحیل عالم دور کھرے بلاج کو دیکھتے نفرت بھرے انداز میں بولا۔ اور یہاں بلاج کا ضبط توٹا وہ اپنے بازو فولڈ کرتا سٹیج کی طرف بڑھا۔
“ٹھاہ” اسنے سٹیج پر پہنچتے ہی راحیل کے منہ پر مُکہ مارا
جاری ہے۔۔۔۔۔
