Rate this Novel
Episode 27
وہ سب اس وقت ہسپتال میں موجود تھے، عائشہ کو اس وقت ڈرپ لگی ہوئی تھی، وہ بے ہوش تھی۔
“کتنا گھٹیا انسان ہے، اس کو میں چھوڑوں گا نہیں، کیسے ایسے گندے الزام لگا سکتا ہے” بلاج کو کسی طور اسکے لگاۓ الزام برداشت نا تھے وہ غصے میں ادھر اُدھر چکر لگا رہا تھا وہ سب اس وقت کوریڈور میں کھڑے تھے،
“بھابھی کیسی ہیں؟ کہاں ہیں؟” مشی میرال کے ساتھ ہسپتال آئی تھی، وہ دونوں انکو کوریڈور میں دیکھتے بھاگ کر وہاں آئیں۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو، اپنے سنکی بھائی کے پاس جاؤ جاہل کہی کا” بلاج نے مشی کو دیکھتے ہی جھاڑا۔
“کیا ہو گیا ہے اس سب میں میری کیا غلطی، میں نے تھوڑی کچھ بولا” مشی رونے والا منہ بنا کر بولی۔
“مشی یار دوبارہ سے رونا شروع مت کر دینا تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے، یہاں ایک نہیں اور بھی بہت سے سنکی لوگ موجود ہیں تو بلاوجہ پاگلوں کی باتیں ذہین پر سوار مت کرو” میرال کو بلاج کی بات بالکل پسند نا آئی وہ مشی کو اپنی طرف کرتی اسکا چہرہ صاف کرتے ہوۓ بولی۔ اسکے سنکی کہنے پر بلاج نے اسکی طرف دیکھا،وہ امرحہ کی طرف متوجہ تھی۔جو موبائل پر بار بار ہارون کا نمبر ملا رہی تھی، جو کہ کال نہیں اُٹھا رہا تھا۔
“بھاڑ میں جاؤ سب کے سب” بلاج نے وہاں رکھی کرسی کو غصے سے لات ماری اور وہاں سے چلا گیا۔
“وہ ٹھیک ہے، ڈریپ لگی ہے، تھوڑی دیر بعد ہوش میں آ جاۓ گی ڈونٹ وری” حسام نے مشی کی رونی صورت دیکھتے ہوۓ جلدی سے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے میں ویٹ کرتی ہو” مشی وہی رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
“میرال کیا تم پانی لا سکتی ہو” حسام مشی کے برابر رکھی کرسی پر بیٹھ کر تھکے ہوۓ لہجے میں بولا۔
“ہممم لاتی ہوں” وہ ان سبکا پریشان چہرہ دیکھ کر بولی۔ اور ہسپتال کی کینٹین کی طرف چلی گئی۔ اسنے وہاں سے پانی کی بوتل لی اور ساتھ میں کھانے کو سینڈویچ لیے۔ اور واپس جانے لگی۔ جب اسکی نظر بلاج پر پڑی۔ جو اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں ایک ہاتھ سے سگڑیٹ پی رہا تھا اور دوسرے ہاتھ کو مٹھی کی شکل میں بھیچ رہا تھا۔ میرال وہاں تھٹکی جب اسکی نظر اسکے ہاتھ سے نکلنے والے خون پر پڑی۔ وہ جلدی سے باہر آئی۔
“تم پاگل ہو یہ کیا کر رہے ہو” وہ اسکے پاس آئی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر بولی جو کافی زخمی ہو چکا تھا۔ وہ اسکی آواز پر چونکا۔
“کچھ نہیں کر رہا تم جاؤ اندر” اسنے سگڑیٹ کو پاؤں کے نیچے مسلتے ہوۓ بولا۔
“ہاتھ کھولو اپنا” وہ اسکے زخمی ہاتھ کو دیکھتے ہوۓ غصے سے بولی۔
“میرال پلیز جاؤ مجھے فل حال تم سے بات نہیں کرنی” وہ گہرا سانس لے کر آنکھیں بند کرتے ہوۓ بولا۔ میرال نے زبردستی اسکے ہاتھ کی مُٹھی کھلوائی۔ بلاج نے اپنا پین ہاتھ میں زور سے بھیجا ہوا تھا اسکی نب اندر تک گھس چکی تھی۔۔
“تم سچ میں پاگل ہو” میرال کو اسکی حرکت پر بے تحاشہ غصہ آیا۔ اسنے آرام سے وہ پین اسکے ہاتھ سے نکالا۔ اور پاس پڑی چھوٹے سے شاپر میں ڈالا۔ بلاج خاموشی سے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
“رومال دو” میرال نے اسکی طرف بنا دیکھے بولا۔ بلاج نے رومال نکال کر اسکو دیا۔ میرال نے اسکے زخم کو اچھے سے ڈھک دیا۔ اور اسکا ہاتھ چھوڑا۔
“ہر مسلے کا حل ہمیشہ خود کو یا دوسروں کو تکلیف دے کر نہیں نکتا، کبھی کبھی ٹھنڈے دماغ سے بھی کام لینا چاہیے، جو تمہارے پاس تو صفر پرسنٹ ہے” وہ طنزیہ لہجے میں کہتی وہاں سے چلی گئی۔
“عائشہ کو کیا ہوا؟ کہاں ہے وہ؟” وہ اپنی ہی سوچ میں گم تھا جب پاس سے ہارون کی آواز آئی۔ وہ کافی دیر کا دور کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
“اندر ہے، بے ہوش ہے ابھی ڈریپ لگی ہے” بلاج نے مختصر سا اسے حال بتایا۔
“ہمم” ہارون اندر کی طرف بڑھا۔ وہ بھی اسکے پیچھے ہی چلا گیا۔
چار گھنٹے بعد جا کر عائشہ کو ہوش آیا۔ انہوں نے گھر میں کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ اسکی ڈریپ ختم ہو چکی تھی، ٹیسٹ کا ریزلٹ کل آنا تھا۔ وہ اس وقت خاموش سی بیڈ پر لیٹی اوپر کمرے کی خالی چھت کو دیکھ رہی تھی۔
“عائشہ تم اب کیسا محسوس کر رہی ہو؟” حسام نے اگے بڑھ کر پوچھا۔
“ٹھیک ہوں” وہ بس اتنا ہی بولی۔ تبھی کمرے کا دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا آنے والی شخصیت کو دیکھ کر سبکے ماتھے پر بل پڑے۔ عائشہ نے اسکی طرف خالی نظروں سے دیکھا
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد یہاں پر آنے کی” بلاج راحیل کو دیکھتے ہی غصے میں اسکی طرف لپکا، حسام اور ہارون نے اسے روک لیا۔
“یہ ہسپتال ہے یہاں یہ سب مت کر” حسام نے اسے شانت کرنے کے لیے کہا۔
“عائشہ چلو گھر چلیں” وہ ان سبکو اگنور کرتا عائشہ کے پاس آیا۔
“وہ تمہارے ساتھ نہیں جاۓ گی، اپنے گھر جاۓ گا تو اپنا یہ تھوپڑا لے کر یہاں سے دفع ہو جا” بلاج نے غصے سے کہا۔ راحیل نے اس پھر اگنور لیا۔
” اپنے گھر ہی جا رہی ہے، اپنے شوہر کے گھر، مشی، میرال تم دونوں بھی چلو ساتھ” راحیل نے پاس کھڑی مشی اور میرال کو کہا۔
“راحیل تمہیں زرا شرم محسوس نہیں ہو رہی، خود کو اسکا شوہر بتا رہے ہو، اور کچھ گھنٹے پہلے تم ہی اس ہر گھٹیا الزام۔۔۔۔” امرحہ نے حیرانگی سے اسکا ڈھیٹ پنا دیکھ کر کہا۔ اسکی بات پر راحیل نے ایک نظر عائشہ کو دیکھا جو خالی نظروں سے اب سامنے دروازے کو دیکھ رہی تھی، جیسے وہ یہاں ہو ہی نا۔
“ہاں نہیں ہے کوئی شرم، خوش اب تم سب اپنے گھر جاؤ عائشہ کو لے کر میں جا رہا ہوں” راحیل نے جواب دیا اور عائشہ کاا پکڑ کر اسے بیڈ پر بیٹھایا۔
“عائشہ تم خاموش کیوں ہو بولو کچھ اسکا منہ بند کرواؤ” حسام نے خاموشی سے اسکی باتیں مانتی عائشہ کو دیکھا۔
“میں گھر جا رہی ہوں، تم سب بھی جاؤ” وہ اتنا ہی بولی اور اپنی سینڈل پہن کر کھڑی ہوئی۔ اسکی بات پر سب حیران ہوۓ، بلاج کو تو بے تحاشہ غصہ آیا۔ وہ وہاں سے راحیل کے ساتھ چلی گئی۔ مشی اور میرال بھی انکے پیچھے چلی گئیں۔
“یہ پاگل ہو چکی ہے؟ ایسے شخص کے ساتھ واپس کیسے جا سکتی ہے؟” بلاج کو بے تحاشہ غصہ آیا۔
” چھوڑ چلو چلتے ہیں” حسام کہتے ہوۓ کمرے سے باہر چلا گیا۔۔
راحیل انکو لے کر گھر آ گیا۔ سمائرہ بیگم عالم صاحب کے ساتھ آج دوپہر میں لندن کے لیے روانہ ہو گئیں تھیں، ابھی گھر میں وہ سب موجود تھے اسماء کو کسی سے فرق نہیں پڑتا تھا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے نکلی ہوئی تھی۔ راحیل عائشہ کو لے کر کمرے میں آیا۔ مشی اور میرال فریش ہوئیں، میرال مشی کے ساتھ مل کر کیچن میں عائشہ کے لیے سوپ بنانے لگ گئی۔
“لیٹی رہو تمہاری طبعیت خراب ہے” وہ اُٹھنے لگی تھی جب راحیل نے ٹوکا۔
“مجھے فریش ہونا ہے” وہ بنا اسکی سنے الماری سے نائیٹ سوٹ نکال کر واشروم میں گھس گئی۔ راحیل کمرے میں چکر لگاتا اسکا انتظار کرنے لگا۔ اپنے آج کے بی ہیوئیر کو لے کر وہ خود پر غصہ تھا۔ غصے میں وہ حد پار کر گیا تھا۔۔ اسے تھا کہ عائشہ اس سے لڑے گی، غصہ کرے گی، برا بھلا بولے گی،پر وہ نارمل ری ایکٹ کر رہی تھے جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔ آدھے گھنٹے بعد وہ گیلے بالوں کو تولیتے میں لپیٹتے ہوۓ فریش سی باہر نکلی۔ ڈریسنگ کے سامنے جا کر وہ کھڑی ہوئی اور بالوں کو ڈراۓ کرنے لگی۔
“عائشہ!” وہ اسکے پیچھے آ کر کھڑا ہوا۔
“ہمم کیا بات ہے؟” وہ ڈرائیر بند کرتے پلٹ کر بولی۔
“وہ۔۔۔، آج جو بھی ہوا، اسکے لیے سوری” وہ نظریں جھکاۓ بولا۔ عائشہ اسکی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ پھیکا سا ہنسی۔
“آج کیا ہوا؟ ایک شوہر نے بھری محفل کے سامنے اپنی بیوی کے کردار پر بس سوال ہی تو اُٹھایا تھا۔ اس میں بری بات کیا ہے، مجھے برا نہیں لگا، خود پر فخر ہوا، کہ میرا انتخاب بہت اچھا نکلا” وہ اسکے جھکے سر کو دیکھتے ہوۓ خود پر ہنستے ہوۓ بولی۔
“میں غصے میں تھا پتہ نہیں کیا کیا بول گیا ایم سوری” اسنے اسکا چہرہ ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کی پر وہ جھٹ سے پیچھے ہٹ گئی
“ارے تم بھول گے تم راحیل عالم ہو، تم بدکردار لڑکی کو کیسے چھو سکتے ہو، اور میں نے تو سنا تھا غصے میں اندر کی سچائی نکلتی ہے، تم اسکا مطلب ہے تم بہت پہلے سے ایسا سوچتے تھے تمہیں لگتا تھا میں نے اس وقت بلاج کو چنا کیونکہ میرے دل میں گھوٹ تھا۔ ہم دونوں مل کر تمہیں دھوکہ فے رہے تھے، واؤ راحیل عالم تمہاری سوچ تو ماشااللہ۔۔۔ ” وہ تالیاں بجاتے ہوۓ بولی۔ آنکھیں نم ہو گئیں تھیں۔ راحیل کو اسکے الفاظ تقلیف دے رہے تھے۔
“ایسی بات نہیں” راحیل نے بولنا چاہا۔
” راحیل پتہ مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا تھا کہ میں نے تم سے محبت کر کے کچھ غلط کیا، تمہیں اپنا شوہر چن کر غلط کیا۔ پر آج شدت سے اس بات کا احساس ہو رہا ہے، میں نے تم جیسے شخص کو چن کر سچ میں غلطی کر دی، جسکو اپنی بیوی پر بھروسہ ہی نہیں، جسکی سوچ اتنی گھٹیا ہے اس شخص سے میں اور کیا ہی امید رکھوں گی، حالنکہ تم بہت اچھے سے جانتے ہوشروع سے مجھے بلاج اپنے بھائی جیسا لگتا ہے، پھر بھی تم نے اتنا برا الزام لگایا۔ اگر کوئی اور الزام بھی لگانا ہے تو لگا دو” وہ روتے ہوۓ بولی۔۔ اور وہی بیڈ پر بیٹھ گئی۔راحیل کو خود پر بے تحاشہ غصہ آیا۔
“عائشو پلیز میری بات سنو، غصے میں بول دیا میں ایسا نہیں سوچتا، اس بلاج کو دیکھ کر ہی غصہ آجاتا ہے، اسی لیے وہ سب بول دیا، مجھے تم پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے، پلیز معاف کر دو” وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیے نم لہجے میں بولا۔ وہ نفی میں سر ہلاتی روتی رہی۔۔
“میں انکل آنٹی کے آتے ہی واپس اپنی ماما کے پاس چلی جاؤں گی مجھے اب تمہارے ساتھ نہیں رہنا ایک تو میں مرتی بھی نہیں، میری دوائیاں بھی نہیں ہیں، میرا سر پھٹ رہا ہے” وہ اپنے سر کو ہاتھوں میں لیے بہکی بہکی باتیں کر رہی تھی۔ راحیل اسکے ساتھ بیٹھا اور اسے اپنے حصار میں لیا۔
“ریلیکس میری جان! کچھ کھا لو پھر دوائی کھا کر سو جانا” راحیل نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی۔ پر وہ نفی میں سر ہلاتی بار بار بول رہی تخی۔ تبھی مشی ہاتھ میں چکن سوپ کا بول لیے اندر۔ داخل ہوئی۔
“مجھے جانا ہے مجھے اب تمہارے ساتھ نہیں رہنا” وہ روتے ہوۓ یہی بول رہی تھی۔۔ راحیل نے مشی کو بول رکھ کر جانے کا اشارہ کیا وہ چلی گئی۔
“ٹھیک ہے چلی جانا پہلے یہ سوپ پیو اور دوائی کھاؤ” راحیل نے اسے بیڈ گروان کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھایا اور سوپ کا بول پکڑ کر پلانے لگا۔ عائشہ نے غصے سے اسکے ہاتھ سے باؤل لیا اور جلدی جلدی خود پینے لگی تھوڑا سا پی کر دوائی کھائی اور چہرے پر کمبل لے کر سونے لگی۔
راحیل بالکنی کا دروازہ کھول کر باہر آیا اور وہاں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اور اپنا سر کرسی کی پشت پر لگا دیا۔ خود کی ذات پر غور کرنے لگا۔ وہ کیا تھا اور اب کیا بن چکا تھا۔ جس بلاج کے بنا اسکا ایک سیکنڈ نہیں گزرتا تھا جسکے ہر اداسی بھرے لمحے میں وہ اسکے ساتھ تھا، جسکے ہر دکھ کو وہ اپنا دکھ سمجھتا تھا، اج وہ اسے ہر وہ دکھ دینا چاہتا تھا جس سے وہ کبھی اسے بچاتا تھا۔ اور عائشہ جسکو اسنے بچپن سے پیار کیا، جسکی ہر ضد وہ پوری کرتا، جسکے لیے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا آج اسکی حالت کا ذمہ دار وہ خود تھا۔۔۔۔
ماضعی”
بچپن سے وہ سب ایک ساتھ پرھتے،کھلتے تھے، عالم صاحب ، سکندر صاحب، جاوید صاحب، اور اکبر صاحب یہ چاروں دوست تھے، اور ایک دوسرے کے گھر بھی جاتے یوں انکی بیوئیاں بھی آپس میں گہری دوستیں بن گئیں۔ یوں وہ سب بچپن سے ایک ہی سکول میں گے، اورایک ساتھ رہے۔ حسام کے ماں باپ نہیں تھے، وہ یہاں اپنے چاچو کے پاس رہتا تھا، اسکے چاچو بھی کافی امیر تھے، انہوں نے اسے اسی سکول میں داخل کروایا، حالنکہ بعد میں حسام نے انکا گھر کسی وجہ سے چھوڑ دیا اور اپاٹمنٹ میں رہنا تھا۔ یوں اسکی دوستی ان سب سے ہوئی، وہ بچپن سے کافی شرارتی اور ہنس مکھ تھا۔ اور انکے ساتھ کافی جمتی تھی۔
وہ سب بلاج کے ڈیڈ کے فام ہاؤس پر موجود تھے میٹرک کے پیپرز دے کر سب فری تھے تو ا اسی خوشی میں پارٹی کر رہے تھے۔
” بائیک ریس ہو جاۓ؟” یونہی بیٹھے بیٹھے بلاج نے سبکو دیکھ کر کہا۔
“اس وقت نہیں” امرحہ جوس کا گلاس پیتے ہوۓ بولی۔
“ارے یار اسی وقت تو مزہ آۓ گا، چلو” وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔
“چل ٹھیک ہے جو ہارا کل کے ڈنر وہ کرواۓ گا” راحیل بھی کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔
“یہ ہوئی نا بات میرے یار” بلاج اسکے گلے لگتے ہوۓ بولا۔۔۔
“تیری خوشی کے لیے کچھ بھی” راحیل اسکے بال بگاڑتے ہوۓ بولا۔ وہ جانتا تھا ابھی چڑ جاۓ گا۔
“اف یار! ہاں تو کون کون چل رہا ہے؟” بلاج نے چڑ کر اپنے بال ٹھیک کیے اور باقی سبکی طرف دیکھ کر پوچھا۔
“مجھے تو بائیک سے ہی ڈر لگتا ہے میں تو نہیں چلاؤں گی، ہاں اپنے بھائی کے لیے ہوٹنگ کروں گی” مشی چکن کا پیس کھاتے ہوۓ بولی۔
“ہاں حیات عرف چوہیا تمہیں بس دوسروں کو تنگ کر کے انکا جینا حرام کرنے سے ڈر نہیں لگتا، انکی فیورٹ شرٹ کو کاٹ کر پھینک دینے سے ڈر نہیں لگتا بس بائیک سے ڈر لگتا کے حالنکہ اس بے چاری کو تم جیسی چڑیل سے ڈرنا چاہیے” حسام جل بھن کر بولا۔ وہ صبح کا اس پر تپا ہوا تھا۔ کیونکہ وہ صبح اسکے گھر میں گھس کر اسکی نیو شرٹ کو خراب کر چکی تھی۔ اور اسکی وجہ بھی نہیں بتائی تھی۔
“کیوں تمہیں اتنی کیوں تپ چڑھی ہوئی یے، کسی لڑکی نے دی تھی؟ اور سوری تمہاری شکل کہاں ایسی جو تمہیں کوئی لڑکی تحفہ دے میرے بچارے معصوم سے بھائی نے ہی دی تھی۔ اور بھائی کو بھی دیکھو تم سبکو ہی تحفے دیتے رہتے ہیں میں یہاں بے چاری جسکے پاس ایک بھی نیو شرٹ نہیں پانچ سال سے ایک چیز نہیں لی اسے کچھ نہیں دیا تم سبکو تحفے دیے” وہ خود پہلے بہت بھری پڑی تھی۔ حسام کے چھیرتے ہی اسنے اہنے دکھوں کے پہاڑ کھول دیے۔
“توبہ توبہ حیات شرم کرو ابھی پرسوں ہی میرے ساتھ شاپنگ کر کے آئی ہو، اور ابھی دیکھو لمبے لمبے جھوٹ بول رہی ہو” امرحہ کا تو پانچ سال سن کر ہی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“ہاہا ہا تم چپ رہو اور یہ حیات بولنا بند کرو کتنی دفع بول ہے سب۔ مشی بولا کرو” وہ چرتے ہوۓ بولی۔
“گفٹ تمہیں تمہارے بھائی نے نہیں دیا تو میرا گفٹ پھاڑنے کی کیا ضرورت تھی؟” حسام اپنی بات اگنور ہوتے دیکھ چلایا۔
“میری مرضعی” وہ بھی اسی کے انداز میں چلائی۔
“چپ کرو تم دونوں، حیات تمہارا تحفہ گھر پر ہے، اور حسام تمہیں میں ایک نئی شرٹ لا دوں گا” راحیل نے درمیان میں آ کر دونوں کی بحث ختم کی۔
“چوہیا تمہیں تو دیکھ لوں گا” حسام نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔ مشی اپنے تحفے کا سنتی خوش ہوتی اسکی دھمکی اگنور کرتی واپس بیٹھ گئی۔
“میرے پاؤں میں بھی درد ہے تو میں بھی نہیں چلاؤں گی” عائشہ نے بھی کنارہ کیا۔
“کیوں؟ درد کیوں ہے؟ اور کب سے ہے؟ تم نے بتایا کیوں نہیں ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں” راحیل ایک دم اسکے پاس آ کر اسکا پاؤں دیکھتے ہوۓ بولا۔
“راحیل میں ٹھیک ہوں معمولی سا درد ہے ہلکا سا مڑ گیا تھا” عائشہ اسکے یوں پریشان ہونے پر سبکی دبی دبی مسکراہٹیں دیکھ کر فوراً بولی۔
“تم خود کا خیال کیوں نہیں رکھتی، بولا بھی ہے دھیان سے چلا کرو” راحیل نے اسے ڈانٹا۔
“ارے میرے بھائی حوصلہ کر، ویسے ہی معمولی سا درد ہے ٹھیک ہو جاۓ گا، تو اپنا خون مت جلا، ویسے بھی سبکے سامنے کنٹرول کیا کر” بلاج نے ایک دم اسکی گردن کے گرد بازو ڈال کر کھڑا کیا۔ اور ہنستے ہوۓ بولا۔
” حوصلہ میرے اندر موجود نہیں، اس پر ایک کھڑوچ بھی برداشت نہیں کر پاتا اور تو یہ بات اچھے سے جانتا ہے” اسکا لہجہ فکر اور محبت سے بھرا تھا۔ بلاج کے ساتھ ساتھ باقی سبکے چہرے پر بھی مسکراہٹ بھکری۔
“جی میرے مجنوں جانتے ہیں، چلو گائیز جس جس کو ریس لگانی ہے آ جاؤ،اس محبت کے مارے کو میں لے کر جا رہا ہوں”۔ بلاج اسکو گردن سے دبوچتا فام ہاؤس کے گراج کی طرف لایا اور بائیکس نکالیں۔ سبھی نے ایک ایک کر کے اپنی بائیک نکالی۔ پچھلے ایک سال سے وہ سب بائیکس کی پریکٹس کر رہے تھے، اور دو دفع ریس بھی لگاچکے تھے۔ ابھی بلاج، راحیل، حسام، ہارون اور امرحہ سبھی اپنی اپنی بائیکس پر بیٹھے تیار تھے۔
” سو گائیز جو بھی دو کلو میٹر تک جا کے دوبارہ واپس یہاں سب سے پہلے آۓ گا وہی جیتے گا” عائشہ نے رولز بتاۓ اور وہاں مشی کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گئی۔
“میری بات سنو آہستہ چلانا کسی کو چوٹ نا لگے” راحیل نے سبھکو کہا۔
” آہستہ بائیک چلانا مطلب بائیک کی انسلٹ” بلاج بائیک سٹارٹ کرتے ہوۓ مسکرا کر بولا۔ مشی نے گو کا اشارہ کیا سبھی نے بائیکس چال دیں۔ اور ایک سیکنڈ کے اندر سبھی کی بائیکس نظروں سے اوجھل تھیں۔ پانچ منٹ بعد ہی انکو بائیک واپس آتی نظر آئیں سب سے اگے بلاج کی بائیک تھی۔ وہ بہت تیز چلا رہا تھا۔ تبھی اسنے چلاتے چلاتے ہاتھ چھوڑ دیے۔ وہ فینش لائین پر آنے سے پہلے ہی اسکی بائیک لڑکھڑائی اور زمین پر گھسیٹتی چلی گئی۔
“بلاج” سبھی ایک دم چلاۓ۔ تھوڑی دور جا کر اسکی بائیک رُکی وہ پہلے ہی گڑ چکا تھا۔ سبھی نے بائیکس روکیں اور بھاگ کر اسکے پاس آۓ۔
“بلاج تو ٹھیک ہے؟” راحیل نے اسے اُٹھایا، اسکی کہنی گھسیٹنے کی وجہ سے چھل چکی تھی۔ وہ بچ گیا تھا۔ ورنہ بری چوٹ لگتی۔
“ہاں ٹھیک ہوں” وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔ راحیل نے اسے گلے سے لگایا۔
“شکر ہے تو ٹھیک ہے تیرا دماغ خراب ہے، جو اسطرح ہاتھ چھوڑ دیے پتہ کتنا خطرناک ہوتا ہے، پاگل اگرزیادہ لگ جاتی” علحیدہ ہوتے اسنے ڈانٹنا شروع کر دیا۔ اور بلاج ہنس کر اسکی ڈانٹ سن رہا تھا۔ ہارون نے بائیک سیدھی کی۔
“تم لوگوں کو تو ہمیشہ لگتا ہے میں غلط بولتا ہوں” راحیل کھڑا ہو کر غصے سے بولا۔اسے بھی کھڑا کیا اور اسکی کہنی پر اپنا رومال باندھا۔
“کس نے بولا تو غلط بولتا ہے، میں تو سبکو کہتا ہوں، میرا دوست ایک دم ٹھیک ہے، بس تھوڑا سا پوزیسو ہے پر ہم میں جان بستی ہے اسکی، ہاں ایک میں تھوڑی زیادہ بستی یے” بلاج اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔۔۔۔ سبھی کی دبی دبی ہنسی چھوٹ گئی۔ راحیل نے سبھی کو گھورا۔۔
حال
وہ انہی سوچوں میں گم تھا، جب کمرے میں آہٹ سی ہوئی، وہ ایک دم ماضعی سے نکلا۔ اور چونکا، وہ کہاں سے کہاں پہنچ چکا تھا اُٹھ کر وہ کمرے میں آیا، تو عائشہ کی طرف دیکھا جو پانی پی کر اب لیٹ رہی تھی۔ وہ چلتا ہوا اسکے پاس بیڈ پر لیٹا، اور اوپر کالے پنکھے کو بے مقصد گھورنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد اسنے عائشہ کی طرف دیکھا جو کہ اسکی طرف پیٹھ کیے کمبل میں گھسی ہوئی تھی۔ جانتا تھا سوئی تو نہیں تھی۔ یونہی اسے دیکھتے۔ اسنے ایک فیصلہ کیا۔۔۔۔۔ اب اس فیصلے کو وہ کیسے انجام تک لاۓ گا وہ اسکے اوپر تھا۔ پر اب وہ سوچ چکا تھا پیچھے تو نہیں ہٹے گا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
