Meri Eidi Tum Ho By Amna Mehmood Readelle50149 Last Episode pt.3
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode pt.3
ولی صوفے پر بیٹھا غور سے آئمہ کو دیکھ رہا تھا۔ جو خوشی خوشی اپنی چیزیں جو ابھی ابھی شاپنگ کر کے لائی تھی اسے دیکھانے لگی ہوئی تھی۔
یہ ڈریس میں آپ کے لئے لائی ہوں۔ آپ کو کیسا لگا ہے ۔۔۔۔۔؟ سفید کُرتا شلوار ولی کے آگے کرتے ہوئے آئمہ نے پرجوش لہجے میں پوچھا
اگر تمہیں اچھا لگا ہے تو اچھا ہی ہوگا ۔مجھے زیادہ اس ڈریس کے بارے میں پتہ نہیں۔ ولی نے بظاہر سرسری انداز میں جواب دیا مگر اس کا ذہن مسلسل آئمہ کی طرف لگا ہوا تھا۔
ہم عید یہاں پر کرکے جائیں گے ناااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ بھی یہیں رکیں گے یا ۔۔۔۔۔؟ آئمہ نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کے ولی کی طرف دیکھا
تم کیا چاہتی ہو میں واپس لندن چلا جاؤں یا تمہارے ساتھ ادھر ہی عید کروں ۔۔۔۔۔۔ ؟ ولی نے سوال برائے سوال کیا
ظاہری سی بات ہے میں تو یہی چاہوں گی کہ آپ ہم سب کے ساتھ یہاں پر عید کریں۔ پھر میں آپ کے ساتھ عید کے بعد واپس لندن چلی جاؤں گی ۔آئمہ نے معصومیت سے جواب دیتے ہوئے ولی کے کُرتے کو طے کرنا شروع کیا ۔
آئمہ ۔۔۔۔۔۔!!! ادھر آؤ میرے پاس اور میری ایک بات کا جواب دو۔ مگر بالکل سچ سچ ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ جھوٹ مجھے پسند نہیں ہے یہ بات میں نے تمہیں پہلے دن بھی کہی تھی۔ ولی نے انتہائی سرد لہجے میں آئمہ کو پکارا جس پر وہ چونکی.
اب میں نے کیا غلط کر دیا ہے…… ؟ ولی کے قریب بیٹھتے ہوئے انتہائی معصومیت سے پوچھا گیا.
میری دور کی نظر کمزور ہے اگر تم مجھے یہ میسج پڑھ دو تو مہربانی ہو گی….؟ ولی پوچھنا تو کچھ اور چاہتا تھا مگر پتہ نہیں کیوں بات بدل گیا شاید وہ آئمہ کو “شرمندہ” نہیں کرنا چاہتا تھا یا شاید خود کو…….
بس اتنی سی بات آپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا لائیں ۔۔۔۔۔ آئمہ نے مسکراتے ہوئے موبائل پکڑا اور ایک منٹ میں لارڈ کا میسج جس میں ولی کی کارکردگی کو سراہا گیا تھا پڑھ دیا. جبکہ ولی ہکا بکا اسے دیکھ رہا تھا.
یہ تو بہت اچھی بات ہوئی کہ انھیں آپ کے کام کرنے کا طریقہ بہت پسند آیا ہے. شکر ہے
آئمہ کہتی ہوئی ولی کے پاس سے آٹھنے لگی جب ولی نے کھوئے سے لہجے میں پکارا
آئمہ یہ انگلش میں تھا ہے ناااااا اور آپ کو انگلش نہیں آتی…..؟؟ ؟ پتہ نہیں وہ “بتا” رہا تھا یا “جتا” رہا تھا مگر اب آئمہ اپنی جگہ “جم” سی گئی تھی. ایک گلٹی گلے میں ابھر کر معدوم ہو گئی جیسے کوئی ڈوب کر نکلا ہو.
جی وہ اصل میں…….. آئمہ اپنی پوزیشن کلئیر کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈنے لگی.
جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔ مجھے کچھ دیر اکیلا چھوڑ دو پلیززززز۔۔۔۔۔۔۔ ولی ٹانگوں کی وی بناتا صوفے پر ہی لیٹ گیا جبکہ آئمہ چپ چاپ کمرے سے باہر چلی گئی.
ہاں جی “ولی الرحمن” کیسا لگا بے وقوف بن کر۔۔۔۔۔۔؟ آج تک لوگوں کو بیوقوف بناتے آئے ہو اور بڑا خوش ہوتے تھے اب بھی خوش ہو ۔۔۔۔۔۔۔ ایک عام سی لڑکی تمہیں “بے وقوف” بنا گئی شاباش ولی شاباش ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے زور سے اپنی کنپٹیوں کو دبایا۔
وہ اس وقت سکون سے سونا چاہتا تھا مگر ذہن سخت انتشار کا شکار تھا وہ لاکھ اپنے آپ کو سمجھا رہا تھا مگر سب فضول۔۔۔۔۔۔ بالآخر وہ اٹھ بیٹھا تبھی اس کا فون بجنے لگا
ہیلو ۔۔۔۔۔۔ ولی نے بغیر دیکھے کال اٹینڈ کی۔
ہیلو ۔۔۔۔ تم کہاں ہو ۔۔۔۔؟ پھر پاکستان چلے گئے ہو۔ حد ہے پتا نہیں کیا کرتے ہو وہاں جاکر۔۔۔۔۔؟ کیٹ کی آواز اسپیکر سے ابھری۔
ہاں وہ کچھ کام تھا اس لئے ۔۔۔۔۔۔۔ خیر تم بتاؤ کیسے فون کیا۔۔۔۔۔۔؟ ولی نے تحمل سے پوچھا حالانکہ اس وقت اس کو کسی سے بات کرنے کو دل نہیں کر رہا تھا ۔
تمہیں “مبارکباد” دینے کے لیے فون کیا تھا ۔ نوجوان اور سٹوڈنٹ طبقہ تمہیں بہت سپورٹ کر رہا ہے زیادہ چانسس تو یہی ہیں کہ تم ہں نئے میئر بنو گے۔کیٹ نے ناخوشگوار لہجے میں جواب دیا ۔
تمہیں “خوشی ” نہیں ہے مطلب تم مجھ سے ” جیلس” ہو رہی ہو حیرت ہے ۔۔۔۔۔ ؟ ولی اپنے مخصوص لہجے میں گویا ہوا۔
جیلس تو ہوں مگر تم سے نہیں تمہاری “بیوی” سے۔۔۔۔۔۔۔ اور رہی بات خوش ہونے کی تو میں کیوں خوش ہوں مجھے کیا فائدہ۔۔۔۔۔؟ خوش تو تمہاری بیوی کو ہونا چاہیے اس کا لہجہ ہنوز اداس تھا۔
کیٹ تم ایک بہت اچھی لڑکی ہو لیکن ۔۔۔۔۔؟ ولی کچھ دیر کے لیے رکا ۔
لیکن میں صرف” اچھی” ہوں جبکہ تمھیں اچھی کے ساتھ کچھ اور بھی چاہیے تھا کاش تم مجھے بتاتے کہ تمہیں کیا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔؟ کیٹ واقعی بہت اداس ہو گئی تھی۔
دیکھو میں نے اپنے والدین کو ہمیشہ لڑتے جھگڑتے دیکھا ۔جہاں ان کی لڑائیوں میں اور بہت سی باتیں شامل ہوتیں وہیں ایک خاص بات “مذہب” بھی تھی۔
میں شروع سے یہی چاہتا تھا کہ جس لڑکی سے میں شادی کروں وہ میری “ہم مذہب” ہو۔ تم مجھے ہمیشہ سے بہت اچھی لگتی تھی مگر تمہارا مذہب۔۔۔۔۔؟ ولی خاموش ہو گیا ۔
ولی تم نے کبھی کوشش کی مجھے “مسلمان” کرنے کی بولو ۔۔۔۔؟ کیٹ کی بات سن کر ولی “سکتہ” میں چلا گیا ۔
کیٹ ۔۔۔۔۔۔۔؟ ولی نے خود کلامی کی ۔
ولی اگر تم ایک بار مجھے یہ کہتے نااااا ۔۔۔۔۔۔ تو میں فوراً مسلمان ہو جاتی ۔اس لئے نہیں کہ مجھے تم چاہیے تھے ۔بلکہ اس لئے کہ مجھے تمہارا مذہب پسند آگیا تھا۔
مگر تم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی اور اب تو میں بالکل اپنا مذہب تبدیل نہیں کروں گی ۔کیوں کہ تم “جھوٹے ” ہو ۔تم نے کہا تھا کہ تم کبھی شادی نہیں کروں گے اور اگر کی تو “مجھ ” سے کرو گے۔ مگر پھر تم نے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟ کیٹ کی باتیں ولی کو حیران اور پریشان کر رہیں تھیں ۔
کیٹ تم یقین مانو میری شادی “حادثاتی” طور پر ہوئی ہے ۔میں خود بھی نہیں جانتا تھا کہ میری شادی آئمہ سے ہوگی۔ میں تمہیں اس بات کا کیسے یقین دلاؤں۔۔۔۔۔۔؟
ہاں اگر تم مجھ سے اب بھی شادی کے لیے تیار ہو تو “مسلمان” ہو جاؤ میں فورا تم سے شادی کر لوں گا ۔۔۔۔۔۔ ولی نے صاف گوئی سے کام لیا۔
مجھے تم سے محبت تھی اور رہے گی میں تم سے اپنی محبت باوجود لاکھ کوشش کے ختم کرنے میں ناکام رہی ہوں ۔
مگر اب تمہارے لیے اپنا مذہب نہیں چھوڑ سکتی ۔اگر کبھی میں نے اپنا مذہب تبدیل کیا تو یہ صرف میرا اور میرے خدا کا معاملہ ہوگا اس میں تم کہیں نہیں ہوگے ۔
خیر تم جہاں رہو خوش رہو۔ خوب ترقی کرو۔ مجھے اچھا لگے گا ۔کیٹ نے اداسی سے کہتے ہوئے فون بند کر دیا جبکہ ولی اب پہلے سے بھی زیادہ ڈسٹرب ہو گیا ۔
میں نے تو کبھی ایسا نہیں سوچا تھا یہ کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔؟ میں نے تو کبھی کیٹ کو کوئی “امید” نہیں دلائی پھر یہ سب کب اور کیسے ۔۔۔۔۔؟ اور آئمہ ۔۔۔۔۔۔ میں تو پاگل ہو جاؤں گا مجھے ایسا لگتا ہے ۔ ولی نے اپنا سر تھام لیا۔
🎀🎀🎀🎀
بیا یار “رمضان” تو تیزی سے گزر رہا ہے اور “عید” قریب آرہی ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ تمہیں اس عید پر ایک زبردست “تحفہ” دوں۔ جو تمہیں ہمیشہ یاد رہے کیونکہ شادی کے بعد یہ ہماری پہلی عید ہے ناااااا تو میں اسے “یادگار” بنانا چاہتا ہوں۔ بولو کیا چاہیے تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حارب نے کھلے دل سے آفر ماری۔
تم جیسا “غریب بندہ” جب اس طرح کی بڑی بڑی باتیں کرتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ تم نے “نشہ” کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ بیا کی بات پر ہاری کا دماغ گھوم گیا ۔
یہ کیا بکواس ہے۔۔۔۔۔۔؟ میں تمہیں دل سے آفر مار رہا ہوں۔ اور تم مجھے آگے سے ایسے بول رہی ہو ۔سارا موڈ خراب کر دیا ۔ حارب نے اپنا سر نفی میں ہلایا۔
دل سے نہیں آفر ہمیشہ “وائیلٹ” سے ماری جاتی ہے اور دوسری بات یہ کہ تم نارمل حالت میں ایسی آفر نہیں مارتے تو اس لئے میں نے احتیاطً تم سے پوچھ لیا خیر ۔۔۔۔۔۔۔ میں چاہتی ہوں کہ تم مجھے چاند رات کو شاپنگ کرواؤ۔ مجھے بہت شوق ہے چاند رات کی گہما گہمی دیکھنے کا ۔۔۔۔۔ بیانے پر جوش لہجے میں جواب دیا ۔
چلو ٹھیک ہے میں تمہیں شاپنگ کرا دوں گا مگر ایک شرط پر تم یہ بات کسی کو بتاؤں گی نہیں۔۔۔۔۔۔۔؟ حارب نے رازداری سے کہا
میں کونسا ہر بات کا اعلان “مسجد” میں جا کر کرتی ہوں ۔۔۔۔؟ بیا نے منہ بنایا
مسجد میں جاکر تو نہیں مگر “ڈھول ” ضرور بجاتی ہو ۔۔۔۔۔۔ حارب نے شانے اچکائے
میں تمہیں “مراثیوں” کی بیٹی لگتی ہوں کہ ہر بات پر ڈھول بجاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔؟ میں ابھی جا کر چچا جان کو بتاتی ہوں کہ حارب نے مجھے مراثیوں کی بیٹی کہا ہے پھر تم اپنا حشر دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ بیا کہتی ہوئی کرسی سے نیچے پاؤں اتار کر چپل پہننے لگی۔
ارے ارے یہ میں نے کب کہا۔۔۔۔۔۔؟ حارب سچ میں بہت پریشان ہو گیا ۔
ابھی تم نے کہا نہیں کہ میں ہر بات پر “ڈھول” بجاتی ہوں. شریف لوگوں کی بیٹیاں ڈھول بجاتی ہیں کیا۔۔۔۔۔۔؟ بیا دونوں ہاتھ کمر پر رکھے حارب سے لڑائی کرنے میں مصروف تھی جب آئمہ پاؤں پٹختی ہوئی چارپائی پر آ بیٹھی ۔
اب تمہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ بیا حارب کو چھوڑ کر آئمہ سے بولی
وہ ایک” گڑبڑ” ہو گئی ہے مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔ آئمہ نے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔
تمہیں یقین ہے کہ ایک ہی گڑبڑ کی ہے تم نے۔۔۔۔۔؟ بیا نے کنفرم کیا جس پر آئمہ نے سر ہلا دیا ۔
🎀🎀🎀🎀
داجی خاموشی سے اپنا حقہ پی رہے تھے جبکہ پاس ہی چار پائی پر بیٹھی رقیہ بیگم اپنی تسبیح پڑھ رہی تھی جب کرن اور ثنا بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔
کیا بات ہے تم دونوں اس وقت یہاں خیریت تو ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ رقیہ بیگم انہیں رات کے اس وقت اپنے کمرے میں دیکھ کر کچھ پریشان ہوئیں۔
اماں جی خیریت ہی ہے وہ ذرا سا دل پریشان تھا سوچا آپ سے بات کر لیں گےتو سکون مل جائے گا ۔ یہ کہہ کر کرن بیگم نے ثنا کی طرف دیکھتے ہوئے رقیہ بیگم کو جواب دیا۔
ہاں بہو کہو کیا بات ہے ۔۔۔۔۔؟ داجی کی بات سے کرن کو حوصلہ ہوا۔
وہ ولی کچھ دنوں سے چپ چپ سا ہے میرا دل بہت ڈر لگ رہا ہے وہ کہیں ہماری ائمہ کو۔۔۔۔۔۔ کرن بیگم نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ سارہ کمرے میں داخل ہوئیں۔
بھابی آپ بے فکر رہیں وہ ہماری ائمہ کو کبھی بھی نہیں چھوڑے گا۔ اگر اس نے چھوڑنا ہی ہوتا تو اسی دن چھوڑ دیتا ہے۔ ہاں البتہ پریشان ضرور ہے ۔سارہ کے جواب پر ثنا بیگم نے سر ہلایا۔
ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہوں مگر پریشانی کی تو بات ہے ناااا۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں وہ کیا سوچ رہا ہے کسی سے کوئی بات بھی نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔ ؟اآئمہ بتا رہی تھی اُس دن سے اس نے آئمہ سے بھی کوئی بات نہیں کی ۔
میرے خیال سے ہمیں ان دونوں “میاں بیوی” کے بیچ میں نہیں آنا چاہیے۔ انہیں اپنا مسئلہ خود حل کرنے دیں۔ سارہ کی بات پر دا جی نے سر ہلایا ۔
چھوٹی بہو تم پریشان مت ہو اور آئمہ سے کہو کہ وہ خود ولی سے اس بارے میں بات کرے یہ زیادہ مناسب ہے۔
شکریہ اماں میں ایسا ہی کرتی ہوں ۔اللہ کرے سب ٹھیک ہو جائے ۔عید بھی سر پر ہے اس کی تیاری بھی کرنی ہیں مگر دل اداس ہے۔ بچوں کی طرف سے خوشی نصیب ہو تو دل کو سکون ملے ۔ کرن بیگم نے اداسی سے جواب دیا۔
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے.
