No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
ہر طرف گھپ اندھیرا تھا اُسے اپنے بدن میں کہیں کسی حصے میں تکلیف کا احساس بھی ہو رہا تھا مگر کوشش کے باوجود نہ تو کچھ دکھائی دے رہا تھا اور نہ جسم حرکت کرنے کے لئے تیار تھا مگر تکلیف کا احساس آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا تھا جو پاؤں کی طرف سے اب شدت اختیار کر رہا تھا۔
اس سے پہلے کہ ڈینیل اپنی پوزیشن کو اچھے طریقے سے سمجھتا، اچانک کمرے کی لائٹس آن ہوگئیں اور تیز روشنی نے اس کی آنکھوں کو چندھیا دیا.
سمجھ نہیں آ رہی تمہیں خوش آمدید کہوں _ یا تمہارے ساتھ افسوس کا اظہار کروں یا تمہاری مزید خدمت کرو کہوں کیا کروں ولی اپنی کرسی گھسیٹتا ہوا ڈینیل کے برابر آ کر بیٹھ گیا.
نہ سمجھی سے ڈینیل نے ولی کی طرف دیکھا جس میں حیرت کا عنصر بھی نمایاں تھا.
تمہیں یقیناً مجھے زندہ دیکھ کر خوشی نہیں ہوئی ہوگی مجھے بھی تمہاری خوشی خراب ہونے کا افسوس ہے مگر _ مارنے سے پہلے میں تمہاری” حیرت” کو ختم کرنا چاہیے ہوں. وہ کیا ہے ناااااا آخرکار “مہمانداری” کے بھی کچھ تو تقاضے ہوتے ہیں جو میزبان کو بہرحال نبھانے پڑتے ہیں. پہلی بات جو تمہاری حیرانگی کی وجہ بنی وہ یہ ہے کہ تمہارے خیال سے مجھے کل آنا تھا اور میں اتنی جلدی تمہارے پاس کیسے پہنچ گیا تو اس کے لئے عرض ہے کہ میں نے غلط میسج کیا تھا تمہاری اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میں پیٹر کا لہجہ اور آواز بہت اچھے سے پہچانتا ہوں جتنی گھبراہٹ، تکلیف اور پریشانی سے وہ مجھ سے بات کر رہا تھا مجھے پتا چل گیا تھا کہ وہ ضرور کسی تکلیف میں ہے.
اور “تکلیف” سے یاد آیا کہ تمہیں بھی اپنے پاؤں میں تکلیف کا احساس ہوگا تو ذرا غور سے اپنے آپ کو دیکھوں مجھے ایسے لگتا ہے جیسے تمہارے پاؤں ہے ہی نہیں…..
ولی کی بات پر ڈینیئل کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا اور اس نے فورا اپنے پاؤں کی طرف دیکھا جہاں اس کے دونوں پاؤں سفید ” خون آلود پٹیوں” میں لپٹے ہوئے تھے۔
نہیں تم میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کرسکتے بالکل بھی نہیں _ ڈینیل نے بڑبڑاتے ہوئے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا۔ ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے سوائے اس کے کہ آپ کے پاؤں کاٹے ہیں جن سے چل کے آپ میرے دوست اور دشمن دونوں پاس جاتے ہیں _ نہ پاؤں ہوں گے اور نہ آپ کہیں جانے کے قابل رہیں گے. ولی تمہیں یہ سب بہت “مہنگا” پڑنے والا ہے تم جانتے نہیں ہو میں کس کا آدمی ہوں. اب یہ رونا دھونا بند کرو مجھے معلوم ہے تمہیں کوئی “درد” نہیں ہو رہا کیوں کہ تمہارے پاؤں بالکل سُن ہیں اور آدھے گھنٹے تک تمہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوگی. اس لیے میری بات غور سے سنو میں تمہیں” پانچ منٹ” دونگا اور اس پانچ منٹ میں تم میرے” تین سوالوں” کے جوابات دو گے وہ بھی بالکل ٹھیک ٹھیک…… اگر تم مجھے تینوں سوالوں کے جوابات بلکل درست دو گے تو بدلے میں، میں تمہاری جان بخش دوں گا اب اتنا ظالم بھی نہیں ہوں ولی نے کہتے ہوئے اپنی کمر سے دو دھاری خنجر نکالا جس کی تیز دھار کی چمک بلب کی لائٹ میں مزید چمکدار ہوگی.
ڈینیل نے ایک نظر ولی پر اور دوسری خنجر پر ڈالتے ہوئے بہت مشکل سے سانس لیا جیسے اس کے گلے میں کوئی چیز پھنس گئی ہو.
ابھی میں نے آپ کے “ہاتھ” کاٹنے ہیں پھر اس کے بعد آپ کی “زبان” کی باری آئے گی اور آخر میں آپ کی “آنکھیں” بھی نکالنی ہے تاکہ آپ کسی کو کچھ بتانے کے قابل نہ رہیں. رہی بات کے مجھے یہ سب بہت “مہنگا” پڑے گا تو جانی مجھے “سستی” چیزیں پسند ہی نہیں ہیں۔ اور ہاں مجھ سے کسی رحیمدلی یا ہمدردی کی بالکل بھی امید مت رکھنا میں انتہائی ظالم، سفاک اور درندہ صفت انسان ہوں. انڈرگراؤنڈ لوگ مجھے “ایول” کے نام سے جانتے ہیں. زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں نے تمہاری” زندگی” بخش دی ہے رہی بات پاؤں، ہاتھوں، آنکھوں اور زبان کی تو دنیا میں کتنے لوگ ایسےجو ان چیزوں کے بغیر بھی زندہ ہیں یہ چیزیں زندہ رہنے کے لیے ضروری نہیں ہوتیں ضروری صرف “زندگی” ہے اور وہ میں نے تمہاری بخش دی ہے.
ولی نے ڈینیل کو پریشان ہوتے دیکھ کر اسے تسلی دی اس کا کندھا تھپتھپایا۔
مجھے کچھ معلوم نہیں ہے تم یقین جانو مجھے کسی بارے میں کچھ بھی پتا نہیں ہے ڈینیل نے ولی کو نرم پڑتا دیکھ کر تقریبا فریاد کرنے والے انداز میں کہا سوال نمبر 1 تم نے پیٹر کو کیوں اغوا کیا….؟ سوال نمبر2 مِیری کا قتل کس نے اور کیوں کیا…..؟ سوال نمبر 3 وہ پھولوں والی لڑکی کو تم نے اس اندھے کنواں میں کیوں پھینکا یعنی اسے بھی قتل کی نیت سے پھینک دیا اگر وہاں سے نہ نکالی جاتی تو یقینا مر جاتی. ولی نے سوال کرنے کے بعد اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کی طرف دیکھنا شروع کر دیا جبکہ ڈینیل کا رنگ سوالوں کو سنتے ہی زرد پڑ گیا. میں سوچ رہا ہوں ویسے تو ہاتھ، پاؤں، آنکھ اور زبان کے بغیر بھی زندگی اچھی گزر جاتی ہے لیکن اگر یہ چیزیں بندے کے پاس ہوں تو پھر دنیا اور زندگی زیادہ اچھی لگتی ہیں ہے. میرے خیال سے “آنکھوں” کے بغیر تو بالکل ہی بیکار ہو گئی زندگی تمہارا کیا خیال ہے اس بارے میں……. ؟ ولی نے خنجر کو ڈینیل کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے پوچھا چلو تمہارے دو سوالوں کے جواب میں دے دیتا ہوں ایک کا تم دے دینا کیا یاد کرو گے میں نہیں چاہتا کہ تم اس انتحان میں فیل ہو. تم نے پیٹر کو مجھے پھنسانے کے لیے اغوا کیا تھا اور خود پھنس گے یعنی “چوروں کو پڑ گئے مور” مِیری کا قتل لارڈ نے نہیں کیا بلکہ تم نے اور مئیر کے بیٹے نے مل کر کیا تھا. اب کیوں کیا تھا کیسے کیا تھا ؟ یہ مجھے تم بتاؤ گے اور پھولوں والی لڑکی کا لارڈ کے محل سے کیا تعلق ہے یہ بھی تمہی بتاؤ گے؟ تمہارے لیے بچا ہے پیچھے ایک سوال اور منٹ ہیں تین……
اگر تم یہ سوچ رہے ہوں کہ تمہارے ساتھی تم تک پہنچ جائیں گے تمہیں بچا لیں گے یا تم زندہ بچ نکلو گے میرے ہاتھوں سے اور پولیس کو سب کچھ بتا دو گے _ میں پکڑا جاؤنگا تو میں تمہیں بتا دوں کہ یہ تمہاری بھول ہے تم” زندہ” تو بہت دور کی بات ہے” مردہ” بھی کسی کو نہیں ملوں گے.
ہاں مگر میرا وعدہ اپنی جگہ ہے میں تمہیں ماروں گا نہیں تم خودہی مر جاؤ تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ولی نے دونوں ہاتھ اوپر ہوا میں لہرائے.
🎀🎀🎀🎀
بندے میں کچھ “شرم” ہوتی ہے اور اگر وہ نہ ہو تو کم از کم “حیا” تو ضرور ہوتی ہے. تمہارے بھائی میں تو پہلے بھی یہ دونوں چیزیں فقدان سے پائی جاتیں تھیں مگر اب آئمہ بی بی تم میں بھی ختم ہوگئی ہیں.
بیا نے پورے زور سے تکیہ آئمہ کے سر پر مارا جو بڑے مزے سے کتاب پڑھنے میں مصروف تھی.
اب کیا ہوا ہے آئمہ نے سر سہلاتے ہوئے بیا کی طرف دیکھا.
وہ جو تمہارا بھائی ہے وہی نکما، نالائق یاد آیا وہ پیپرز کے لئے شہر جا رہا ہے وہ بھی بالکل اکیلے ۔ اب تم ہی بتاؤ جس طرح کا ہمارے ملک کا ماحول اور حالات ہیں کیا ایک خوبصورت لڑکے کو اکیلے تن تنہا شہر جانا چاہیے ؟ آئمہ نے نہ چاہتے ہوئے بھی گردن نہ میں ہلائیں. تم تو بالکل ہی اللہ میاں کی “گائے” بن گئی ہو سوائے گردن ہاں اور نہ میں ہلانے کے اور کچھ کرتی ہی نہیں ہو. کبھی منہ سے بھی کچھ بولو کرو یہ جو اللہ تعالی نے ہمیں ایک “زبان” دی ہے اس کا یہی کام ہے کہ اس کو ہم بولنے کے لیے استعمال کریں. کیا بولوں آئمہ نے انتہائی فرمانبرداری سے بیا سے پوچھا جس پر بیا نے اپنا سر پیٹ لیا.
تمہارے آگے بات کرنا اور گدھے کے آگے بین بجانا دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے دونوں ہی نہیں سمجھتے……. ؟؟
تو تم کھل کر کیوں نہیں بتاتی کہ کیا بات ہے……؟؟
بات بالکل صاف ہے میں نے بھی حارب کے ساتھ شہر جانا ہے اور بس…..
مگر تم بھائی کے ساتھ شہر کیسے جا سکتی ہو میرا مطلب ہے کہ وہ آئمہ نے کنفیوز ہو تے ہوئے ادھر ادھر دیکھا .
کیسے کا کیا مطلب ہے…..؟؟؟بیا نے تیکھی آنکھوں سے آئمہ کی طرف دیکھا.
وہ میرا مطلب ہے کہ جب تک تم دونوں کی “شادی” نہیں ہو جاتی تو تب تک تم بھائی ساتھ کہیں نہیں جا سکتیں.
ہاں تو تم میری شادی کراؤ نا خود تو شادی کر کے بڑے مزے سے بیٹھ گئی ہو اب میری باری میں “موت” پڑ رہی ہے.
تم جیسی “بہنوں” کا یہی مسئلہ ہوتا ہے وہ چاہتی ہی نہیں ہیں کہ ان کے بھائی کا گھر بسے اور ایک چاند جیسی “بھابھی” ان کے گھر میں آئے. معمولی شکل و صورت کی نندوں کے مسائل بھی اپنے ہی ہوتے ہیں.
ہائے اللہ بیا کیا بکے جا رہی ہو میں کیوں نہیں چاہوں گی کہ میرے بھائی کی شادی نہ ہو. ٹھیک ہے پھر تم میرا “نکاح” حارب کے ساتھ کروا کر مجھے اس کے ساتھ شہر بھیجو بس مجھے نہیں پتا _ بیا پھولے منہ کے ساتھ بیڈ پر آئمہ کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔ اچھا کرتی ہوں کچھ مگر آئمہ نے سوچتے ہوئے بیا کی طرف دیکھا
اوئے لڑکی تو زیادہ سوچا نہ کر کیونکہ جب تو سوچتی ہے نہ تو اچھی خاصی بات بھی ایک “مسئلہ” کی شکل اختیار کر لیتی ہے.
بیا وہ میں سوچ رہی تھی کہ مجھے وہ یاد کر رہا ہو گا کہ نہیں جب سے گیا ہے نہ کوئی میسج نہ کال آئمہ نے ہچکچاتے ہوئے بیا سے کہا
کون وہ لنڈے والا انگریزززززززز بیا نے شرارت سے لفظ انگریز کو لمبا کیا.
بیااااااااا آئمہ نے غصہ سے اسے پکارا
“ایک وہ اتنا خوبرو توبہ اُس پہ چُھونے کی آرزو توبہ ! ہاتھ کانپیں گے روح مچلے گی جب وہ آئے گا روبرو توبہ !
چاند تاروں سے رات سجتی ہوئی تیری آواز اور تُو توبہ ! لب نہیں اُس کی آنکھ بولتی ہے _ ایسا اندازِ گفتگو توبہ !”
🎀🎀🎀🎀
