Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

خبردار جو اب توُ نے میرے آفس میں قدم بھی رکھا تو…… ابھی دل نہیں بھرا تیرا………. تجھے کچھ اندازہ ہے کہ اُس دن تو نے میرا کتنا نقصان کیا ہے……. ؟؟؟ وہ نقصان کون بھرے گا تیرا…….. پھر کسی خیال کے تحت ڈیوڈ خاموش ہو گیا.
کہہ دے نااااا تیرا باپ…… ولی نے انتہائی خوش دلی کے ساتھ جملہ پورا کیا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر ڈیوڈ کے سامنے بیٹھ گیا.
کیا بات ہے……. ؟ آج کل ولی الرحمن کو غصہ نہیں آتا بلکہ ہر وقت بلاوجہ چہرے پر مسکراہٹ رہتی ہے. ڈیوڈ نے تفتیشی نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھا
یہ دنیا بھی ناااااا….. کسی حال میں خوش نہیں رہتی.. ولی نے سرد آہ بھری جو بلکل مصنوعی تھی.
تو اور تیرے ڈرامے……… ولی سچ سچ بتا لائف میں کیا چل رہا ہے…..؟
میں تجھے تب سے جانتا ہوں جب تو 6 سال کا تھا اس لیے میرے ساتھ جھوٹ بولنے کی کوشش بھی مت کرنا. ڈیوڈ کو غصہ آیا.
ہممممم….. سب یاد ہے…… بس یاد نہ کرایا کر…….. پھر مجھے اپنے والدین پر شدید غصہ آتا ہے انھوں نے میرا بچپن چھین لیا مجھ سے……. ولی نے سیدھے ہاتھ کا مکس بنا کر کرسی کی سائیڈ پر مارا.
اگر غلطی سے تیرے اندر کا “درندہ” نیند کی گولیاں کھا کر سو گیا ہے تو پلیززز اب اسے جگانے کی کو شش مت کر اور یہ بتا کافی پیئے گا……؟ ڈیوڈ نے ولی کو غصے میں آتا دیکھ کر فوراً اپنی بات بدلی
میں نے شادی کر لی ہے……. ولی کو اندازہ تھا کہ اب ڈیوڈ کا کیا ری ایکشن ہو گا اسی لیے باوجود کوشش کے اس کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گی.
کیا ناممکن….؟ ڈیوڈ جو کافی کا آڈر دینے کے لیے رسیور اٹھا رہا تھا ایکدم کرسی سے ” اچھل” پڑا.
ولی تُو نے نشہ کرنا شروع کر دیا ہے. مجھے پچھلی دفعہ بھی تجھ پر شک پڑا تھا جو اب یقین میں بدل گیا ہے………. شادی نارمل لوگ کرتے ہیں تیرے جیسے عورت بیزار نہیں…… ڈیوڈ نے اب کی بار ولی کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی.
ہاں وہ تو ٹھیک ہے مگر……….. اگر کوئی مجھ سے ” زبردستی” شادی کر لے یعنی کوئی خود ہی کنواں میں گرنا چاہے تو میں کیا کر سکتا ہوں سوائے دعا کے …..؟ ولی نے کندھے اچکائے
کون ہے وہ….، میرا مطلب کون ہے وہ بد نصیب جسے کنواں میں گرنے کا شوق ہوا ہے کم از کم وہ کیٹ نہیں ہو سکتی….. ؟ ڈیوڈ نے سوالیہ نظروں سے ولی کو دیکھا
تمہیں کیسے پتہ کہ وہ کیٹ نہیں ہے. اب کی بار حیران ہونے کی باری ولی کی تھی جو ایکدم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا.
اگر کیٹ ہوتی تو تیرے چہرے پر یہ جو ” چمک” نظر آ رہی ہے وہ نہ ہوتی اس لیے بتاؤ کہ کون ہے…..؟
ڈیوڈ کے جواب پر ولی ایک بار پھر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا.
عجیب سی بات ہے مگر………. بات کچھ یوں ہے کہ میں اسے جانتا نہیں ہوں بس دو تین بار دیکھا ہے مجھے اس کے نام سے زیادہ اُس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے.
کہ اس کی تعلیم کتنی ہے…… ؟؟؟ کیا پسند ہے اور کیا نہیں…….؟؟؟ صرف اتنا معلوم ہے کہ “دماغ” نام کی کوئی چیز اس میں موجود نہیں انتہائی بےوقوف اور ڈرپوک ہے. ولی نے چھت کو گھورتے ہوئے بتایا.
تمہیں تو “شادی” اور ” عورت” دونوں سے ہی شدید نفرت تھی. پھر یوں اچانک مگر……. میرا سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ ہے کون……. ؟ ڈیوڈ نے اپنی بات کہتے ہوئے رک کر دوبارہ اپنا سوال دہرایا.
مسلمان اور پاکستانی…… دو لفظی جواب آیا.
ولی تم مجھے آج پاگل کر دو گے. تمہارا دماغ تو خراب ہو ہی چکا ہے پلیززز میرا نہ کرو. ڈیوڈ اس وقت آفس میں چکر لگا رہا تھا.
ایک منٹ ایک منٹ…….. جہاں تک مجھے یاد پڑتی ہے تمہیں تو پاکستان سے بھی بہت “نفرت” تھی. ڈیوڈ نے رک کر ولی سے پوچھا جس پر وہ مسکرا دیا.
کوئی محبت وحبت کا چکر تو نہیں ہے…… ڈیوڈ نے سرگوشی کی.
محبت اور مجھے…. مذاق اچھا ہے. ولی طنزیہ ہنسا
تو پھر شادی کیسے کی تم نے…..؟ مجھے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی. ڈیوڈ نے سرکھجایا.
میں اپنے باپ کو وہاں ان کی نصیحت کے مطابق دفنانے گیا تھا تو اُن کے رشتےداروں نے پکڑ کر میری اپنی بیٹی سے شادی کر دی. بس اتنی سی بات ہے. ولی نے ڈیوڈ کو مختصر بتایا.
اچھا تو یہ بات ہے. اب تم ایسا کرو جتنی جلدی ہو سکے اسے طلاق دے دو اور جان چھڑاؤ…. ڈیوڈ اب قدرے نارمل انداز میں کہتا اپنی کرسی پر بیٹھ گیا.
ہاں میں بھی یہی سوچ رہا ہوں مگر اس کے لیے تمہیں میرا ساتھ دینا ہو گا……. ولی نے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
ہاں بولو…… مگر جلدی مجھے کسی کام سے باہر بھی جانا ہے. ڈیوڈ نے ایک نظر ولی کو جبکہ دوسری نظر اندر داخل ہوتے ہوئے اپنے PA کو دیکھا.
سر کافی……… اس نے مسکرا کر دونوں کی طرف دیکھا اور ٹیبل پر ٹرے رکھ کر چلا گیا.
مجھے تمہارے رائل روڈ والا فلائٹ چاہیے میرے آنے تک وہ بلکل تیار ہو میں کچھ دنوں تک پاکستان جا رہا ہوں اور واپسی پر اسے بھی ساتھ لے کر آؤں گا.
ولی کہتے ساتھ جانے کے لیے پلٹ گیا جبکہ ڈیوڈ پیچھے سے اسے آوازیں دیتا رہا.
🎀🎀🎀🎀
جناب عالی میئر شوکت کا بیٹا “ٹونی” آ گیا ہے اب آگے کیا حکم ہے………. ؟؟؟ لارڈ کے ملازم نے مودبانہ انداز میں جھک کر اطلاع دی.
ٹھیک ہے تم اسے اندر بھیج دو مگر شوکت کو کسی بھی طرح یہ پتا نہیں چلنا چاہیے کہ ٹونی کو ہم نے بلایا تھا یا ابھی وہ ہمارے پاس ہے.
جو حکم عالی جاہ ایسا ہی ہوگا ملازم سر ہلاتا ہوا باہر چلا گیا. جب کہ لارڈ پُرسوچ انداز میں دروازے کی طرف دیکھنے لگا. چند منٹوں کے بعد ٹونی دروازے کے اندر داخل ہوا.
خیریت جناب آپ نے مجھے یاد کیا. ٹونی نے لارڈ کے سامنے ادب سے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا.
بس کچھ کام پڑ گیا تھا ادھر آؤ ہمارے پاس……… لاڈ نے اپنے سامنے پڑے صوفے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا.
ٹونی کو اچانک کسی گڑبڑ کا احساس ہوا کیونکہ اس طرح اسے اکیلے میں بلانا اور پھر اپنے پاس بیٹھانا یہ اشارہ تھا کہ کوئی عجیب بات ہے.
جناب مجھ ناچیز سے کوئی غلطی ہوگئی ہے تو میں معافی کا خواستگار ہوں…….. ٹونی نے بیٹھتے ہوئے ڈرے انداز میں پوچھا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ غلطی پر یہاں کیا سزا ملتی ہے.
اگر تم میری باتوں کا صاف، سیدھا اور سچا جواب دوگے تو تم یہاں سے اپنے قدموں پر واپس جا سکو گے……… ورنہ دوسری صورت میں اندھا کنواں اپنی آب و تاب سے آج بھی محل کے اندر موجود ہے. لارڈ نے انتہائی سرد لہجے میں ٹونی پر نظریں گاڑھتے ہوئے کہا
جناب غلام حاضر ہے آپ عرض کریں جبکہ ٹونی کے دل کی دھڑکن کبھی آہستہ اور کبھی تیز ہورہی تھی اس نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے لارڈ کی طرف زبردستی مسکرا کر دیکھا.
مجھے صرف اتنا جاننا ہے کہ تم نے Marry کا قتل کس کے کہنے پر کیا……….. ؟؟؟ اور Marry کے پاس جو ہماری شاہی انگوٹھی تھی وہ کیا اب تمہارے پاس ہے……… ؟؟؟ لارڈ کے منہ سے نکلنے والے یہ الفاظ آگ کی طرح ٹونی کو اپنی لپیٹ میں لے گئے اور وہ اچھل کر اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا.
اس سے پہلے کہ وہ بھاگ کر کمرے سے باہر نکلتا کمرے کے دروازے پر دو گارڈ نمودار ہوئے جو اسلحہ سے لیس تھے.
بیٹھ جاؤ بھاگنا ناممکن ہے. اپنا پسینہ صاف کرو اور میری بات کا جواب دو میں وعدہ کرتا ہوں تمہاری جان بخش دوں گا.
میں نے کچھ نہیں کیا…… میں نے کچھ نہیں کیا….. مجھے چھوڑ دیں….. مجھے جانے دیں…….. آپ پلیز میرے بابا کو بلا دیں…… ٹونی منتیں کرتا لارڈ کے قدموں میں بیٹھ گیا اسے اپنی موت صاف دکھائی دے رہی تھی.
جو پوچھا ہے وہ بتاؤ……. ؟ لاڈو نے ایک گرجدار آواز کے ساتھ ٹونی کو لات بھی دے ماری جس کی وجہ سے وہ دور صوفے ساتھ جا لگا.
جناب ہمیں نہیں معلوم تھا کہ Marry آپ کی بیٹی ہے. ہم تو ویسے ہی شرارت کرنے کے لیے وہاں گئے تھے.
جھوٹ مت بولو اور صاف بات کرو. مجھے سب کچھ پہلے سے ہی معلوم ہے میں صرف تمہارے منہ سے تصدیق چاہتا ہوں. لارڈ نے ایک اور لات اُس کے منہ پر ماری جس کی وجہ سے ٹونی کا ہونٹ پھٹ گیا اور خون نکلنے لگا.
جناب میں سچ کہہ رہا ہوں ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ آپ کی بیٹی ہے. جیسے دوسری لڑکیوں سے دوستی تھی اُسی طرح Marry بھی ہماری دوست تھی.
پھر ہمارا کسی بات پر “اختلاف” ہوگیا اور بات یہاں تک پہنچی ہم اسے مارنا نہیں چاہتے تھے مگر……. ٹونی نے تھر تھر کانپتے ہوئے ایک ہاتھ سے اپنا خون صاف کیا.
کس بات پر اختلاف ہوا تھا جلدی بولو. لارڈ نے ٹونی کے بال کھینچتے ہوئے اس کا منہ اپنی طرف کیا.
وہ ہم سب مل کر کلب میں “جوا کھیلتے تھے. ایک دن Marry جوئے میں کچھ رقم ہار گئی تھی ۔اس نے کچھ رقم مجھ سے ادھار لی تھی جو بار بار مانگنے کے باوجود وہ واپس نہیں کر رہی تھی.
اس بات پر ہمارا اس سے کئی بار جھگڑا بھی ہوا تھا دوسرا وہ پیٹر کے بہت قریب ہوتی جا رہی تھی اور میں پیٹر کو پسند نہیں کرتا تھا ۔میرے منع کرنے کے باوجود بھی اس نے پیٹر سے دوستی نہیں چھوڑی بلکہ وہ اس سے شادی کرنے جا رہی تھی۔
جب وہ میرے بار بار منع کرنے کے باوجود باز نہیں آئی تو پھر میں نے اسے سزا دینے کا سوچا.
میں اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گھر گیا پہلے تو ہم ڈرائنگ روم میں نارمل طریقے سے بات کرتے رہے کہ شاید وہ مان جائے مگر پھر بات بڑھ گئی اور اس نے کہا کہ وہ پیٹر سے شادی کر رہی ہے اس لیے میں اس کی زندگی سے دفع ہو جاؤں.
وہ مجھے کوئی پیسے واپس نہیں کرے گی کیونکہ میں اس کا پہلے ہی کافی استعمال کر چکا ہوں…… ٹونی نے اپنی بات کے آخر میں نظریں چرائیں۔
میں اس کے پیچھے گیا اسے باتھ روم سے کھینچ کر باہر لایا بات بڑھتے بڑھتے کافی بڑھ گئی مجھے اتنا غصہ آیا کہ میں نے اسے زور سے دیوار کے ساتھ مارا جس کی وجہ سے وہ بیہوش ہو گئی.
پھر میں نےاسے باتھ ٹب میں پھینکا اس نیت سے کہ اسے ہوش آ جائے مگر وہ جیسے ہی اسے ہوش آیا وہ دوبارہ زور سے چیخنے اور ہاتھ پاؤں مارنے لگی تو میں نے غصے میں آ کر اسے پانی میں ڈبو دیا چند لمحوں میں اس کی جان نکل گئی.
ٹونی نے اپنی بات کے آخر میں ایک گہرا سانس لیا جس کی وجہ سے اس کے گلے کی گلٹی ابھر کر معدوم ہو گئی.
اور انگوٹھی…..؟؟؟
اسے مارنے کے بعد ہم نے پورے گھر کی تلاشی لی تاکہ کوئی ایسی قیمتی چیز ہاتھ لگ جائے جسے بیچ کر ہم اپنی رقم پوری کرسکیں تو مجھے اس کی الماری سے وہ انگوٹھی ملی.
مگر افسوس کہ ہم وہ انگوٹھی بیچ نہیں سکے کیونکہ ہم جس دکان پر بھی اسے بیچنے کے لئے جاتے تھے وہ پہلے شاہی اجازت نامہ مانگتے تھے.
ہممممم……..کیا تمہارے باپ کو اس سارے معاملہ کا پتہ ہے. لاڈو نے اب کی بار صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
نہیں بابا کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں پلیز آپ مت بتائیے گا. مجھے معاف کریں. میں آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گا. ویسے بھی مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ آپ کی بیٹی ہے. اگر مجھے پتا ہوتا کہ وہ آپ کی بیٹی ہے تو میں کبھی بھی ایسی کوئی حرکت نہ کرتا. ٹونی ایک دفعہ پھر لارڈ کے قدموں میں بیٹھ کے رونے لگا.
مجھے وہ شاہی انگوٹھی چاہیے.
لاڈ نے کہتے ہوئے دروازے میں کھڑے اپنے محافظوں کی طرف دیکھا.
🎀🎀🎀🎀
پورا گھر بہت ہی خوبصورت انداز میں سجایا جا رہا تھا. ابھی کچھ دن پہلے گھر میں ساری سفیدی کرائی گئی تھی. اور اب بیا کے کہنے پر سارے گھر پر لائٹیں لگائی جارہی تھیں.
حارب کو ان تمام چیزوں سے بہت چڑ ہو رہی تھی. وہ پڑھ نہیں پا رہا تھا. ایک طرف اسے اپنی پڑھائی کی ٹینشن تھی جس کے لیے اس نے دو سال محنت کی تھی اور دوسری طرف گھر میں شادی کے ہنگامے اور کام…… جو حارب کو سخت مشقت میں ڈالے ہوئے تھے.
ابھی بھی وہ گاؤں کے “نائی” کے پاس سے ہی آ رہا تھا جس نے اسے شادی پر پکنے والے کھانوں کے بارے میں کافی تفصیل سے بتایا تھا اور اس کی ایک نہیں سنی تھی.
میری شادی ہے اور کوئی میری سن ہی نہیں رہا ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے. حارب بڑبڑاتے ہوئے گھر میں داخل ہوا تو نظر برآمدے میں کھڑی بیا پر پڑی جو سادہ پیلے جوڑے میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی.
شکر ہے تم مجھے آج اکیلی مل گئی ہو. ادھر آؤ مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے. حارب نے جلدی سے بیا کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ پر کیا
چھوڑو میرا ہاتھ…… تمہیں نہیں پتا کتنی بدشگونی ہوتی ہے شادی سے پہلے اس طرح دلہن سے نہیں ملتے اور نہ ہی اس سے باتیں کرتے ہیں سیانے کہتے ہیں کہ اس طرح روپ نہیں آتا. بیا نے اپنا ہاتھ حارب سے چھڑاتے ہوئے اسے سمجھایا.
بڑی بی……… اگر آپ تھوڑی دیر کے لئے اپنے “سیانے ریڈیو سٹیشن” کو بند کر دیں تو میں کچھ عرض کروں. حارب نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے بیا سے کہا
ہاں اب بولو بھی کیا بات ہے ویسے ہی ہر وقت ٹینشن پیدا کرتے ہی رہتے ہو بات وات ہوتی کچھ نہیں بس “پبلسٹی” سے گزارا کرتے ہو……. بیا کا سخت موڈ آف ہوا.
تم وعدہ کرو کہ پہلے میری بات اچھی لڑکی کی طرح چپ کر کے سنو گئی.
یہ تو تمہاری بات سن کے میں فیصلہ کروں گی کہ چپ کر کے سننی ہے یا شور مچانا ہے ۔بیا نے دوبدو جواب دیا.
دیکھو میں چاہتا ہوں کہ ہم فلحال نکاح کر لیتے ہیں لیکن شادی تب کریں گے جب میری نوکری لگ جائے گی. منظور…….
نا منظور اور نا ہی مقصود……… سمجھے یہ شادی ہو گئی اور اپنے وقت پر ہی ہوگی تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں آزادی دے دوں اور تم پڑھ لکھ کر افسر بن کر “رفو چکر” ہو جاؤ اور میں پیچھے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھی تماشا دیکھتی رہوں. تو مسٹر حارب آپ پیشگی معزرت قبول کریں میں “بیا” ہوں بھولی بھالی سارہ نہیں.
بیا نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے حارب کو جواب دیا.
میں اپنی شادی بہت دھوم دھام سے کرنا چاہتا ہوں تمہیں میری بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی. (اگر تم ہمارے خاندان میں پیدا نہ ہوتی تو میں سوچتا ہوں کہ ہمارے خاندان میں کتنا سکون اور امن ہوتا. حارب نے دل میں سوچا ).
اس لیے کہ مجھے صرف وہی باتیں سمجھ آتی ہیں جنہیں میں سمجھنا چاہتی ہوں اور فی الحال میں تمہاری یہ بات سمجھنے کے موڈ میں نہیں ہوں……… بیا نے منہ بناتے ہوئے حارب کی طرف دیکھا.
ارے میں نے سارا گھر چھان مارا ہے اور تم دونوں ادھر کھڑے ہو ویسے یہاں پر ہو کیا رہا ہے…….. آئمہ نے کمر پہ ہاتھ رکھ کر پوچھا
بس ایک تمہاری کمی رہ گئی تھی سو وہ بھی پوری ہو گئی. حارب بڑبڑایا
تمہارے بھائی صاحب چاہتے ہیں کہ ہم شادی کینسل کر دیں اب تم ہی بتاؤ یہ کوئی بات ہے کرنے والی…… بیا نے آئمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا اور اُسے اپنی توقع کے عین مطابق آئمہ بھی حارب پر افسوس کرتی ہوئی نظر آئی.
بیااااااااا……. حارب نے آہستہ مگر چپا کر اس کا نام لیا.
پتا نہیں تم کس قسم کے انسان ہو . میں نے اچھے خاصے “چھچھورے” لوگوں کو بھی” صنف نازک” سے انتہائی پیار بات کرتے ہوئے دیکھا ہے. حالانکہ وہ ان کی عزت افزائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں. وہ پھر بھی کہہ رہے ہوتے ہیں.
“اتنے شیریں ہیں تیرے لب کے رقیب
گالیاں کھا کر بھی بےمزہ نہ ہوئے”
‏صنف نازک سے گفتگو کرتے ہوئے خود بخود زبان انگلش ، لہجہ پیار بھرا اور لفظوں میں مٹھاس آ جاتی ہے۔ مگر تم جب بھی میرا نام لیتے ہو تو پہلے “کریلوں کے جوس” کا ایک گلاس پیتے ہو۔
یاد رکھو شادی کے بعد میں تمہاری یہ بدتمیزی بالکل برداشت نہیں کروں گی تمہیں مجھے انتہائی پیار سے بلانا ہوگا.ایسا کرو کہ کوئی پیار بھرا نام سوچ لو جس سے تم مجھے شادی کے بعد پکارا کرو گے جیسے…. چاندی، خوشبو، میری روشنی وغیرہ
اس سے پہلے کہ حارب مزید کچھ کہتا دروازے پر دستک ہوئی.
اس وقت کون آگیا ہے…… ؟؟؟ حارب نے ایک نظر دروازے پر اور دوسری اپنے ہاتھ پر بندھی ہوئی گھڑی کی طرف دیکھا.
شادی والا گھر ہے لوگ آ جا رہے ہیں. زیادہ منہ مت چڑھاؤ اور بسم اللہ کرکے دروازہ کھول. بیا نے پیچھے سے حارب مزید چڑایا.
خودہی دروازہ کھول لو ویسے بھی گاؤں کی کوئی عورت ہی ہوگی حارب اندر جانے لگا جب اسے آئمہ نے روکا.
بھائی شرم کریں ہم اس وقت دروازہ کھولتی اچھی لگیں گی آپ دروازہ کھولیں۔
حارب نے بادنخواستہ دروازہ کھولا جب کہ بیا اور آئمہ دونوں حارب کے دائیں بائیں فرشتوں کی طرح موجود تھیں۔
جیسے ہی دروازہ کھلا سامنے موجود شخص کو دیکھ کے تینوں کی بولتی ہی بند ہو گئی۔
کون ہے دروازے پر……. پیچھے سے دادی رقیہ نے آواز لگائی تو تینوں جیسے ہوش میں آئے.
دادو ووووووووہ………. ولی آیا ہے. حارب نے جواب دیا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے.