No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
ولی کی نظر جیسے ہی اس لڑکی پر پڑی حیرت سے اُسے دیکھنے لگا.
یہ پھولوں والی لڑکی یہاں پر کیا کر رہی ہے اور اِن لوگوں کے ہاتھ کیسے لگی…. ؟
دل میں سوچتے ہوئے ولی نے گارڈ کی طرف قدم بڑھائے.
کہاں لے کر جا رہے ہو اور کیا کام ہے اس سے….؟
ولی نے ایک گارڈ کو روک کر پوچھا
کام ہمیں نہیں لارڈ کو ہے اور کیا کام ہے یہ آپ اُن سے پوچھ لیں ویسے میرے خیال سے پوچھنے کی ضرورت تو نہیں ہے…..؟
وہ مکرو ہنسی ہنستا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا.
تو جانتا ہے اس لڑکی کو پیٹر نے حیرت سے ولی کی طرف دیکھا.
نہیں…..
ولی نے کندھے اچکائے اور باہر کی طرف بڑھ گیا جبکہ لڑکی نے ایک نظر ولی کی طرف دیکھا شناسائی کی رمق اُس کی آنکھوں میں ایک لمحہ کے لیے ابھر کر معدوم ہو گئی.
تو یہاں رک کر مجھے لگتا ہے میں اپنا موبائل اندر بھول آیا ہوں.
ولی نے گیٹ کراس کرتے ہی اپنی جیکٹ کی جیبوں کو ٹٹولتے ہوئے پیٹر سے کہا اور تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گیا ۔
سنو یہ جو لڑکی ابھی ابھی گارڈ لیکر جا رہے تھے دیکھنے میں کافی اچھی لگتی ہے تمہارا کیا خیال ہے اس بارے میں…… ؟
ولی نے گیٹ کے قریب کھڑے گارڈ کے ساتھ ہاتھ ملایا گارڈ نے پہلے حیرت سے ولی کو اور پھر اپنے اور اس کے ہاتھ کے درمیان نوٹوں کو محسوس کیا.
ولی نے مسکراتے ہوئے نرمی سے اپنا ہاتھ جدا کیا جس پر گارڈ نے اس کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے سر ہلا دیا.
شکریہ بے شک تم باقیوں کی نسبت زیادہ سمجھدار ہو اور وہی انسان زیادہ سمجھدار ہوتا ہے جو موقع کی مناسبت سے فیصلہ کرتا ہے اور تم ایک ذہین انسان ہو اور مجھے لگتا ہے کافی ترقی کرو گے.
ولی نے جاتے ہوئے گارڈ کے کندھے پر تھپکی دی اور خود باہر کی طرف بڑھ گیا.
ولی اور پیٹر ابھی لارڈ کے محل سے کچھ دور ہی گئے تھے کہ ایک سنسان گلی میں جا کے ولی رک گیا.
اب یہاں پر کیا ہے پیٹر نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے ولی سے پوچھا شدید سردی کی وجہ سے اس کے منہ سے دھواں نکل رہا تھا
گٹر…..
ولی نے مسکرا کے اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کیا
اونو شٹ….
ولی کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے پیٹر نے نفی میں سر ہلایا.
تو گھر میں ہی پیدا ہوا تھا ناااااااا……. جتنی تجھے گٹروں سے محبت ہے مجھے شک ہوتا ہے تجھ پر،ایسا لگتا ہے کہ لندن میں جتنے بھی گٹر ہیں تو ان کا انچارج ہے .
Shutt your mouth and come down…..
پیٹر نہ چاہتے ہوئے بھی ولی کے پیچھے گٹر میں اتر گیا.
🎀🎀🎀🎀
مگر بابا جان ہم یہ سب کیسے کر سکتے ہیں جب کہ ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہی نہیں ہے کہ ابراہیم اس دنیا میں نہیں رہا.
اگر وہ کل کلاں کو واپس لوٹ آتا ہے تو آپ کو پتا ہے ہمیں قانون کے مطابق کتنی بڑی سزا ہوسکتی ہے نہیں مجھے آپ کی بات کسی صورت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی.
راجہ فرخ نے داجج کی بات سے اتفاق نہیں کیا اور خرم کی طرف دیکھا وہ بھی اپنے تاثرات میں فرخ کے ہمنوا لگ رہے تھے.
اگر اُس نے آنا ہوتا تو وہ اب تک آ جاتا 25 سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے. اُس نے واپس نہیں آنا اور ہم اب مزید گاؤں والوں کو کسی مشکل کا شکار نہیں کر سکتے. میرے خیال سے ہمیں وہ کھنڈر والی زمین بیچ دینی چاہیے.
رقیہ بیگم جو اس وقت سے چپ چاپ داجی کی باتیں سن رہی تھیں اب مزید چپ نہ رہ سکیں تو وہ بول پڑیں.
فرض کریں کہ ابراہیم فوت ہوگیا ہے لیکن اُس کی اولاد تو ہوگی نااااا…..
اگر کل کلاں کو اس کی اولاد پاکستان آکر اپنی باپ کی جائیداد کا ہم سے مطالبہ کرے اور اپنی وراثت ہم سے مانگے گی تو ہم کیا کریں…؟
کیوں بڑھاپے میں عدالت میں خوار ہونا چاہتے ہیں اچھی خاصی عزت ہے آپ کی، ہمیں کسی لالچ کی ضرورت نہیں ہے اللہ کا دیا سب کچھ ہے ہمارے پاس.
او نیک بخت…!
بات لالچ کی نہیں ہے بات جگہ کی ہے اس نے آنا ہوتا تو ان پچیس سالوں میں ایک دفعہ تو رابطہ کرتا ابراہیم کے ذکر پر داجی کی آواز میں اپنے بھتیجے کے لیے دکھ بول رہا تھا.
وہ حویلی نما عمارت جو اَب کھنڈر کا نقشہ پیش کر رہی ہے. پہلے اس میں میرا بھائی اوربھتیجا رہتے تھے. مگر اب اس میں آسیب رہتے ہیں.
کتنا عرصہ گزر گیا ہے اگر اُس نے یا اُس کی اولاد نے آنا ہوتا تو کم از کم ایک دفعہ چکر تو لگایا ہوتا. انہوں نے نہیں آنا تو کیوں اب تک تم ان کی راہ تک رہی ہو.
داجی نے یہ جملہ کہتے ہوئے سارہ کی طرف دیکھا.
اگر اپ وہاں سے سرکاری سڑک گزر رہی ہے تو میرے خیال سے ہمیں وہ جگہ بیچ دینی چاہئے کم از کم وہ جگہ لوگوں کے کام تو آئے گی نااا. ویسے بھی ابراہیم میرے اور گاؤں والوں کے لئے کب کا مر ہی چکا ہے.
کیوں کہ میں اپنے بھائی اور بھتیجے کی جائیداد کا اکلوتا اور قانونی وارث ہوں. اس لیے میں ان کی جائیداد بیچ سکتا ہوں. میں نے سوچا ہے میں یہ جگہ حکومت پاکستان کو بیچ دوں گا اور اس سے جو بھی رقم ملے گی وہ میں بینک میں جمع کرا دوں گا.
اگر اس کے وارثوں میں سے کل کلاں کو کوئی پاکستان آ کے مطالبہ کریں گے تو ہم انہیں یہ پیسہ دے دیں گے اور اگر کوئی نہیں آیا تو ہم یہ پیسہ اُس کے نام پر خیرات کر دیں گے اب ٹھیک ہے….؟
داجی نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے سب کی طرف باری باری دیکھا.
ابراہیم ہمارا بہت اچھا بھائی اور دوست تھا فرخ نے دکھ سے آہ بھری
“تھا” نہیں “ہے”.
خرم نے سارہ کی طرف دیکھتے ہوئے فرخ کا جملہ درست کیا.
بس فیصلہ ہوگیا ہے ہم ابراہیم کی جائیداد بیچ رہے ہیں.
🎀🎀🎀🎀
آج صبح سے ہی ابراہیم کی طبیعت کافی خراب تھی. اُس کا دل بہت گھبرا رہا تھا. اُسے اپنے باپ، اپنے آبائی گاؤں، اپنے بھائی کی یاد ستا رہی تھی.
لگتا ہے میرا آخری وقت آن پہنچا ہے اور میں مرنے سے پہلے اپنوں کو نہیں دیکھ پاؤں گا. میں یہیں دیارِغیر میں مروں گا غیروں کے درمیان……
ابراہیم کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے جو اُس کے تکیے میں جذب ہوئے.
کتنے دن ہو گئے ولی بھی گھر نہیں آیا. اُس کو بھی نہیں دیکھا اتنی ہمت ہی نہیں جسم میں کہ اُس کو کال کروں.
کچھ لوگوں کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہوتا ہے اور ڈیانا کا بھی میرے لئے ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے.
مجھے میرے کیے کی سزا اس دنیا میں مل گئی ہے اللہ کرے آخرت میں معافی مل جائے. کاش میں ایک دفعہ پاکستان جاسکتا اور سارہ سے معافی مانگ سکتا.
حالانکہ میں نے سارہ کو کوئی دھوکا نہیں دیا تھا. میں نے اسے بتا دیا تھا کہ میں باہر رہنا چاہتا ہوں اپنے خواب کی تکمیل کرنا گناہ نہیں ہے. لیکن پھر بھی شاید جانے انجانے میں مجھ سے غلطی ہوگئی اور میں نے اپنی بہت اچھی دوست کو کھو دیا.
ابراہیم نے اپنے آپ کو تسلی دینے کے لئے سوچا مگر پھر دوبارہ افسردہ ہوگیا.
اگر آج میں پاکستان میں ہوتا اور ڈیانا کی جگہ سارہ ہوتی تو یقیناً میرے یہ دن بہت خوشگوار گزرتے.
میرے ساتھ میرے پیارے ہوتے، ان کی ہمدردی ہوتی، اپنی مٹی کی خوشبو ہوتی اور سب سے بڑھ کر سارہ کا پیار اور ساتھ ہوتا اور ولی بھی ایسا نہ ہوتا جیسا آج ہے.
ولی کی سوچ آتے ہی ابراہیم کا دھیان پھر ولی کی طرف گیا. اس نے بڑی ہمت کر کے سائیڈ ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل اٹھانا چاہا مگر موبائل ہاتھ آنے کی بجائے زمین پر گر گیا.
یا اللہ میرے آخری وقت سے پہلے ولی کو یہاں پہنچا دے میں نے کچھ بہت ضروری باتیں کرنی ہے اس سے….
ابراہیم نے اپنے دل میں سوچتے ہوئے اللہ سے دعا کی اور بے بسی سے زمین پر گرے ہوئے موبائل اور پھر اپنے کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھا.
🎀🎀🎀🎀
آئمہ آئمہ…..
حارث زور سے آئمہ کو آوازیں دیتا ہوا اپنے کمرے سے برآمدے میں آیا.
جی بھائی کیا ہوا ہے؟ آئمہ جو کچن میں برتن صاف کر رہی تھی اپنے ہاتھ خشک کرتی ہوئی باہر نکلی.
میری بلو کلر کی شرٹ تم نے دھوئی ہے یا امی نے…؟
حارب نے انگلی کے اشارے سے آئمہ سے پوچھا جب کہ نظریں بیا کو تلاش کر رہی تھیں.
نہیں بھائی میں نے تو نہیں دھوئی شاید امی نے دھوئی ہے کیوں کیا ہوا…..؟
امی جان امی جان…..
حارب نے فورا آئمہ کی طرف سے منہ پھیر کر ماں کو آواز دینا شروع کیں جبکہ ثنا بیگم پہلی آواز پر ہی کمرے سے باہر آگئی.
کیا چھوٹے بچوں کی طرح شور مچا رکھا ہے اب کیا ہوا ہے…..؟
ثنا بیگم نے قدرے غصے سے پوچھا
میری بلو کلر کی شرٹ آپ نے دھوئی ہے حارب نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی شرٹ ماں کی طرف کرتے ہوئے پوچھا
میرے خیال سے تمہارے کپڑے میں ہی دھوتی ہوں تو میں نے ہی دھوئی ہوگی نااااا…..
ثنا بیگم نے حارب کو ڈانٹا اور کچن میں جانے لگی جب اس کی آواز پر پلٹیں.
مگر امی جان میری اس شرٹ کی جیب میں 25 ہزار روپے تھے وہ کہاں ہے….. ؟
کیا کہہ رہے ہو اس کی جیب میں کوئی پیسے نہیں تھے. میں نے خود دیکھے تھے. کہیں اور رکھ دیے ہوں گے کمرے میں جا کر دیکھو.
میں نے پورا کمرہ چھان مارا ہے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں نے اپنی شرٹ کیل پر لٹکائی تھی تو اس کی جیب میں 25 ہزار موجود تھے آپ اپنی لاڈلی کو بلائیں اُس کے علاوہ یہ کسی کی حرکت نہیں ہے.
حارب کچھ شرم کرو اور اپنی آواز آہستہ رکھو اگر تمہاری تائی جان نے سن لیا تو انھیں دکھ ہوگا تم بیا کو چور کہہ رہے ہو.
اب جو چوری کرے گا اس کو چور ہی کہیں گے نااااا.
آپ کی وہ لاڈلی ہر روز ایک نئی حرکت کرتی ہے اس کے علاوہ اس گھر میں کوئی بھی اس قسم کی عجیب و غریب بلکہ عجیب و امیر حرکتیں نہیں کرتا.
حارب کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا برآمدے میں شور کی آواز سن کر بیا بھی کمرے سے باہر آگئی یہاں پر کیا تماشا ہو رہا ہے…. ؟
وہی جس کی آپ نے چند دن پہلے ریہرسل کی ہے اُس کا بقیہ حصہ ہے. میری رقم شرافت سے واپس کر دو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا.
حارب نے بیا کی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے آنکھیں نکالیں.
حارب کی بات سنتے ہیں بیا کے چہرے پر “پُر اسرار” مسکراہٹ آگئی جو اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ گڑبڑ ابیہا نے کی ہے.
چچی جان حارب مجھے چور کہہ رہا ہے مجھے کیا پڑی ہے اُس کی جیب سے پیسے چوری کرنے کی. ویسے کتنی رقم تھی اس میں…؟
پچیس ہزار پورے پچیس ہزار تھے. حارب نے 25 ہزار پر زور دے کر بیا کی طرف دیکھا.
نہیں نہیں میرے خیال سے تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے یہ تو بہت زیادہ ہے اچھی طرح سوچو کتنے پیسے تھے…؟
بیا…..
کرن بیگم نے بیاکی بات سن کر اسے زور سے پکارا.
کیا ہے مجھے کیوں اتنے غصے سے بلا رہیں ہیں کبھی پیار سے بھی پکار لیا کریں. آخر میں آپ کی اکلوتی بیٹی ہوں. بیا نے منہ بنایا
سیدھی طرح بتاؤ کہ تم نے پیسے دیکھیں ہیں یاد رکھو اگر یہ تمہاری شرارت نکلی تو پھر آج خیر نہیں.
ویسے ہی مجھ پر شک کرتی ہیں مجھے کیا پتہ کہ اس نے پیسے کہاں رکھے تھے مجھ سے پوچھ کر رکھے تھے.
بیا کی آواز پر فرخ صاحب بھی برآمدے میں آ گئے.
کون ہماری رانی بیٹی کو تنگ کر رہا ہے. انھوں نے بیا کا پھولا ہوا منہ دیکھا تو پوچھا
چچا جان دیکھیں حارب کہتا ہے میں نے اس کی جیب سے پیسے چوری کیے ہیں….؟
یہ کیا بکواس ہے حارب شرم کرو.
ابو وہ…..
مزید ایک لفظ اور نہیں اپنے کمرے میں جاؤ اور جتنے پیسے ضرورت ہیں اپنی ماں سے لے لو.
اس سے پہلے کہ حارب کچھ کہتا راجہ فرخ نے بات ختم کی.
حارب بیا کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ باقی لوگ صحن میں چلے گئے اور بیا کچن میں آئمہ پاس…..
سنو کیا حارب کی جیب میں سچ مچ 25 ہزار تھے مگر مجھے تو صرف 20 ملے ہیں…؟
بیا نے آئمہ کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے سرگوشی کی.
بیا کی بچی چوری…..
آئمہ نے حیرت سے اسے دیکھا.
چوری نہیں کہتے سمجھی میں بھول گئی تھی. مجھے اس وقت یاد نہیں رہا وہ کیا ہے ناااااا کہ
” بھول جانا خدا کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے. خاص طور پر اس وقت جب آپ کی جان خطرے میں ہو.”
بیا نے کہتے ہوئے آئمہ کی طرف دیکھا جو بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی.
دیکھو ضرور دیکھو مگر پیار سے، خوبصورت لوگوں کو دیکھنے سے آپ کی نظر پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں.
بیا نے آئمہ کی حیرت کو انجوائے کیا.
اور جیب پر….
آئمہ بمشکل اتنا ہی بول پائی تھی کہ بیا کا قہقہ کچن میں گونجا.
