No Download Link
Rate this Novel
Episode 48
ولی تیز تیز فٹ پاتھ پر چل رہا تھا جب اسے سڑک پار جینیفر نظر آئی۔ ریڈر اینڈ بلیک فراک پہنے، سر پر پرنسس ہیٹ ۔۔۔۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح ولی کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی ۔ ولی نے رک کر اسے ہاتھ ہلایا اور وہ شاید کسی کو پھول بیچ رہی تھی یا جان بوجھ کر نظر انداز کر گئی ۔
ولی نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ایک چھوٹا سا پتھر اٹھا کر سڑک پار اس کی باسکٹ پر مارا۔ تب اس نے چونک کر ولی کی طرف دیکھاجس پر اس نے مسکراتے ہوئے سر کو خم دیا اور دیوار سے ٹیک لگا کے کھڑا ہو گیا ۔
کچھ وقت وہ یونہی اِدھر اُدھر دیکھتی رہی مگر پھر سڑک کراس کر کے ولی کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔
بہت بہت ہی برے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔ جنیفر نے اپنی پھولوں والی باسکٹ زور سے نیچے پٹخی ۔
شکریہ مگر مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ اتنی دیر بعد آئینگی ولی نے گلہ کیا ۔
مجھے بھی امید نہیں تھی کہ آپ مجھے بتائے بغیر پاکستان جائیں گے وہ بھی اتنے دنوں کے لئے۔۔۔۔۔۔؟ جنیفر نے منہ بنایا
اچھا تو آپ مجھ سے ناراض ہیں ولی نے ایکٹنگ کی ۔
بالکل۔۔۔۔۔۔۔ جے نے سر ہلایا
سوری میں اگلی دفعہ کوشش کروں گا کہ آپ کو بتائے بغیر جا سکوں ۔۔۔۔۔۔ ولی کے جواب پر پہلے جے نے سر ہلایا مگر پھر بات سمجھتے ہی خفگی سے بھی گورا ۔
پاکستان کیوں جاتے ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا ہے مت جایا کریں وہاں پر ۔۔۔۔۔۔۔
میں کسی کو لینے گیا تھا اگر آپ چپ کریں گی تو میں بتاؤں گا نا ولی نے وضاحت دی ۔
کسے، اپنی بیوی کو ۔۔۔۔۔۔ ؟جے نے سوچتے ہوئے پوچھا
ارے واہ آپ نے ایک دم درست جواب دیا ۔
وہ آپ کو اچھی لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جے نے مشکوک نظروں سے گھورا
بالکل بھی نہیں ولی نے مسکرا کر جواب دیا
پھر آپ انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟ جے نے بہت سوچ کر اگلا سوال پوچھا
نہیں تو ۔۔۔۔۔ولی نشانے اچکائے
محبت وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔؟ جے کی آواز آہستہ مگر نظریں ولی پر تھیں۔
توبہ کرو ۔۔۔۔۔ ولی نے کانوں کو ہاتھ لگائے
شکر ہے ۔۔۔۔۔۔ جے ایک دم کھلا کر ہنسی اور اپنی جگہ پر گھومیں جس سے اس کا گھیرے دار فراک بل کھا کر اس کی ٹانگوں ساتھ لپٹ گیا ۔
ولی اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔پتہ مجھے تم بہت پسند ہو اور بہت زیادہ اچھی لگتی ہو اور محبت اس کا فیصلہ اب تمہیں خود کرنا ہے ولی نے اس کی باسکٹ سے ایک پھول نکال کر اس کے آگے کیا۔
آپ اس وقت فلرٹ کر رہے ہیں۔ جے نے مسکراتے ہوئے پھول لے لیا۔
اور تم اس کی پریکٹس کر رہی تھی وہ بھی میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔ “گندی بچی” ان فضول کاموں کے لئے میں ہی ملا ہوں تمہیں۔۔۔۔۔۔ ولی نے ہنستے ہوئے اس کے سر پر ٹوپی درست کی اور ہاتھ جھاڑ کر کھڑا ہو گیا ۔
آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں پریکٹس کر رہی تھی. جے شرمندہ ہوئی۔
دیکھو اگر تم مجھے یہ بتا دو کہ وہ کون ہے تو میں تمہارا یہ کام تم سے زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتا ہوں ۔
سچی ۔۔۔۔۔۔جے نے خوشی سے ولی کو دیکھا
ہاں مگر تمہیں مجھے اس کے لئے ایک پھولوں بھری باسکٹ گفٹ کرنا پڑے گی ولی نے باسکٹ کی طرف اشارہ کیا۔
یہ کیا بات کہی، اگر آپ نہ بھی مانگتے تو آج میں نے آپ کو ہی سارے پھول دینے تھے یہ لیجئے۔۔۔۔۔۔ جے نے پوری باسکٹ ولی کے ہاتھ میں تھما دی۔
شکریہ میں متاثر ہوا ولی نے باسکٹ سے پھولوں کی خوشبو اندر اتاری اور جیسے ہی آنکھیں کھولیں جے نے اپنا ہاتھ آگے لہرایا ۔
ولی نے ناسمجھی سے پوچھا ۔ اب کیا ہے۔ ۔۔۔۔؟
پیسے اور کیا جلدی کریں مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔ جنیفر نے اپنے اردگرد آتے جاتے لوگوں کی طرف دیکھا
کیا تم نے یہ پھول مجھے پیسوں کے دیے ہیں مگر میں نے تو۔۔۔۔۔۔ ولی کو صدمہ ہوا
آپ نے پھولوں بھری باسکٹ کا کہا تھا یہ کب کہا کہ مفت۔۔۔۔۔۔۔ جے نے معصومیت سے جواب دیا ۔
توبہ کتنی تیز ہو۔۔۔۔۔( ولی نے جیب سے وائیلٹ نکالا)
آپ سے کم اور جے نے سر کو خم دیتے ہوئے پیسے وصول کیے۔
آپ پوچھیں ناااااا کہ مجھے کون پسند ہے۔۔۔۔۔۔؟ جے نے پیسے پکڑتے ہوئے کہا
مجھے معلوم ہے ویسے بھی اب میری جیب میں مزید پیسے نہیں ولی نے منھ بنایا
آپ ایسا کریں کہ۔۔۔۔۔۔ جے نے کچھ سوچتے ہوئے ولی کی طرف دیکھا
تمہیں جو کہنا ہے کہو یقین مانو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا ڈرو مت ولی نے حوصلہ دیا ۔
آگے تو آپ نے پتھر مارا تھا جے نے یاد دلایا۔
میرے پاس پتھر پڑا تھا میں نے وہی مار دیا. یاد رکھو جس کے پاس جو چیز ہوتی ہے وہی دوسرے کو دیتا ہے اب تمہارے پاس پھول ہیں تو تم بدلے میں مجھے وہ مار دو حساب برابر۔۔۔۔۔ ولی نے پھولوں بھری باسکٹ جے کو لوٹاتے ہوئے کہا
شکریہ ۔۔۔۔۔۔جے نے باکسٹ پکڑ لی۔
کچھ دیر دونوں خاموشی سے چلتے رہے۔آپ کیٹ سے شادی کرلیں وہ آپ سے بہت محبت کرتی ہیں تھوڑی سی نخرے والی ہیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔
ولی کی نظر سڑک کنارے جیولر کی دوکان پر پڑی اب اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا کہ جے کیا کہہ رہی ہے سوائے اس ایک جملے کہہ
” آپ مجھے لے دیں گے ناااا ڈائمنڈ رنگ”
سنو تم نے میرا ایک کام کرنا ہے ولی نے جلدی سے جے کو ٹوکتے ہوئے شاپ کی طرف اشارہ کیا ۔
🎀🎀🎀🎀
جیسے ہی ولی نے فلیٹ میں قدم رکھا مزیدار کھانوں کی خوشبو نے اس کا استقبال کیا ۔
قدم خود بخود کچن کی طرف بڑھ گئے لیکن اگلا منظر دیکھتے ہی ولی کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہوا ۔
ڈیانا کوکنگ کر رہی تھی جبکہ آئمہ اس کی مدد اور وہ دونوں کسی بات پر ہنس بھی رہی تھیں۔
یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔؟ ولی نے کچن کے دروازے ساتھ ٹیک لگا کر پوچھا
میں آئمہ کو اپنے ہاتھوں سے کچھ بنا کر دے رہی ہوں۔ ڈیانا نے اک ادا سے ولی کو دیکھا۔
جی وہ تو میں دیکھ رہا ہوں (میں اور پاپا ساری زندگی ترستے رہے ہمیں تو کچھ نہیں پکا کے کھلایا سوائے گالیوں کے) پھر سر جھٹکتا ائمہ کی طرف متوجہ ہوا ۔
مجھے تمہارے واپس جانے کے کوئی چانس نظر نہیں آرہے جانا ہے یا نہیں ورنہ میں تو جاؤں ۔۔۔۔؟
آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ میں آپ کے ساتھ ہی جاؤں گی۔ بس کھانا کھا لو ورنہ یہ ناراض ہو جائیں گی انھوں نے اتنی محنت کی ہے آئمہ نے نرمی سے جواب دیا ۔
ڈیانا نے آئمہ کی مدد سے ٹیبل پر کھانا لگایا جب کے ولی بہت گہری نظروں سے آئمہ کو مسلسل دیکھ رہا تھا کچھ تو گڑبڑ ہے۔۔۔۔۔۔؟ دل میں سوچتے ہوئے اس نے کھانا شروع کیا ۔
میں آج ڈیوڈ سے ملا تھا۔ وہ آپ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ میرے خیال سے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ہوسکتا ہے میں کل کلاں کو پاکستان شفٹ ہو جاؤں۔ تو پھر آپ۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے جان بوجھ کر اپنا جملہ ادھورا چھوڑا ۔
مجھے حیرت ہے ایشیائی لوگ “یورپ” کے لیے مر رہے ہیں اور تم پاکستان کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری عقل اس لڑکی نے بالکل ختم کر دی ہے ۔ یا باپ کی فلحال محبت کا “بھوت” سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ ڈیانا طنزاً مسکرائی۔ (دونوں ماں بیٹا اس وقت انگلش میں بات کر رہے تھے اور وہ ان دونوں سے بے نیاز آرام سے اپنا کھانا کھا رہی تھی ۔)
آپ مجھے مجبور مت کریں کہ میں بتاؤں “بھوت” کس کو چڑھا تھا آپ کو یا پاپا کو اور پہلے اترا کس کا آپ کا یا پاپا کا۔ ولی۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈیانا نے پورے زور سے اپنا ہاتھ ٹیبل پر مارا جس پر آئمہ چونکی ۔ اب میں چلتا ہوں اور امید ہے کہ آئندہ آپ سے ملاقات نہیں ہو گی. میں آپ کو اپنی زندگی سے دور ہی رکھنا چاہتا ہوں. جس طرح آپ نے رکھا تھا مجھے اور ہاں اگر میری بیوی سے میرے بارے میں آپ نے کسی قسم کی کوئی بکواس کی ہے تو یاد رکھنا میں اسے آپ کی اصلیت بتانے میں زیادہ ٹائم نہیں لوں گا۔ میں نے کچھ نہیں کہا اسے تم خواہ مخواہ مجھ پر شک کر رہے ہو ۔ڈیانا نے اپنا غصہ دباتے ہوئے جواب دیا ۔ پھر آئمہ بہت محبت سے ڈیانا کو ملی اور ولی اسے لے کر باہر نکل آیا ۔ تھوڑی دور جانے کے بعد ولی نے آئمہ کو مخاطب کیا ۔ تم مجھے کبھی کبھی بہت حیران کرتی ہوں۔ پتا مجھے ایسے لگتا ہے جیسے تم ایک نہیں بلکہ دو ہو۔ ایک آئمہ خاموش ، چپ چاپ ،ڈری سہمی اور بھولی بھالی سی ہے جبکہ دوسری بہت تیز، چالاک اور ہوشیار سی ہے_ اپنی بات کے آخر میں ولی خود ہی زور سے ہنسا
یہ تو غلط بات ہے میں ایک ہی ہوں۔ وہ تو آپ نے ڈرایا تھا کہ آنٹی بہت غصے والی ہیں تو میں نے تھوڑا سا ” مکھن “لگا دیا ۔آئمہ نیچے منہ کر کے ہنسی جبکہ ولی نے گھور کر دیکھا
اچھا چلو اب تم یہاں سے گھر جانے کا راستہ بتاؤ گی۔۔۔۔۔۔۔؟ ( ولی کی بات پر ائمہ پریشان ہوگی) میں۔۔۔۔۔۔؟
کیوں کیا ہوا ۔۔۔۔؟ اس دن بھی تو تم خود ہی گھر آئی تھی۔ میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ راستہ بھی تمہیں یاد ہو گیا ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بظاہر عام سے انداز میں پوچھا
مگر مجھے تو ذرا بھی یاد نہیں کہ آپ کس راستے سے لائے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ آئمہ روہانسی ہوئی ۔
اچھا میں تمہاری کچھ مدد کرتا ہوں۔ ہم سڑک کے ساتھ ساتھ آئے تھے۔ ولی نے پاؤں میں پڑے پتھر کو زور سے ٹھوکر ماری۔ جبکہ آئمہ نے مدد طلب نظروں سے ولی کو دیکھا
“ڈائمنڈ رنگ” چاہیے تو اپنی مدد آپ کے تحت گھر چلو۔۔۔۔۔۔۔ ولی کی بات پر آئمہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ۔
رنگ نہیں لے کر دینی تو صاف انکار کر دیں یہ بہانے کیوں بنا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟ آئمہ کو بے حد افسوس ہوا۔
میں بہانہ کیوں بناؤں گا ۔۔۔۔۔؟ میں تو صرف یہ دیکھنا چاہ رہا تھا کہ تم نے کیسے اتنی جلدی گھر کا راستہ یاد کیا تھا ۔ جب کہ تمہیں لندن آئے صرف “چند گھنٹے ” ہوئے تھے ۔ ولی کا سرد لہجہ اندر تک ائمہ کو جھنجوڑ گیا ۔
آپ ابھی تک ناراض ہیں۔ حالانکہ میں نے آپ سے معافی بھی مانگی تھی۔ سوری آئمہ نے سر جھکایا ۔
عبث ہیں وہ ریاضتیں جو یار کو نہ منا سکیں…!!!
وہ ڈھول،تھاپ،بانسری وہ ہر دهمال مسترد!…..!!!!
کیا تمہیں واقعی ہی نہیں معلوم کہ ہم کس راستے سے آئے تھے۔۔۔۔۔۔؟ ولی نے رک کر آئمہ سے پوچھا
جواب میں آئمہ نے صرف سر نفی میں ہلایا جس پر ولی نے ایک گہرا سانس خارج کیا۔
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے.
