No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
دیکھو بیا تم تو مجھے سے کافی فاصلے پر رہا کرو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ورنہ…..
بیا جو برستی بارش کے مزے برآمدے میں لے رہی تھی حارب کی آواز پر پلٹی.
مسٹر حارب آپ جب عام طور پر کسی کو اور خاص طور پر مجھے وارننگ دیتے ہیں تو یقین جانیں خاصے مزاخیہ لگتے ہیں.
کیا مطلب ہے تمہارا…. ؟
مطلب یہ کہ تم صرف اپنی لاڈلی اکلوتی بائیک کی فکر کیا کرو جو اس وقت اس موسم میں بارش کے مزے لیتی ہوئی ناگن ڈانس ہمارے صحن میں کر رہی ہے.
ساتھ ہی انگلی سے صحن میں گری بائیک کی طرف اشارہ کیا جس پر نظر پڑتے ہی حارب سب کچھ بھول کر صحن کی طرف بھاگا جبکہ بیا زوردار قہقے لگانے لگی.
یہ کیا ہو رہا ہے….؟
پھپھو سارہ جو بارش کی آواز سن کر اپنے کمرے سے باہر نکلی تھیں بیا کے قہقے سن کر اس کہ پاس آگئی.
پھپھو اپنے لاڈلے کو دیکھیں اس وقت بلکل 7up کے کمرشل میں جو پتنگا آتا ہے ویسا لگ رہا ہے صحت تودیکھیں جناب کی…..
بہت بری بات ایسے نہیں کہتے میرا اکلوتا اور نہایت فرمانبردار بھتیجا ہے.
لیکن میرا تو نہیں ہے ناااااا…..
بیااااااااا……
سارہ نے مصنوعی غصے کا اظہار کیا.
سارہ پھپھو ایک تو آپ 1970کی ہیروئنوں کی طرح ایکٹ شروع کر دیتی ہیں بس کیا کریں…..
اب جو جیسا ہے اس کو ویسا ہی کہوں گی دیکھیں تو سہی بلکہ یقین مانیں میرے حساب سے بارش میں بھیگتے ہوئے حارب سے زیادہ موٹر سائیکل خوبصورت لگ رہی ہے۔۔۔۔۔
تم ہر وقت اس بچارے کے پیچھے پڑی رہتی ہو جب کہ وہ معصوم تمہارے کتنے کام کرتا ہے تمہیں کالج لے کر آتا جاتا ہے تمہیں شاپنگ کرواتا ہے اس کے باوجود تم اس کے پیچھے پڑی رہتی ہو. غلط بات ہے.
ہاں بات تو غلط ہے مجھے اس کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے بلکہ مجھے اس کے آگے پڑھنا چاہیے.
بیا نے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پہلے حارب کو اور پھر سارا پھپھو کی طرف دیکھا جو افسوس سے سر ہلا رہیں تھیں.
چلیں پھپھو کچن میں چلتے ہیں اور پکوڑے بناتے ہیں کیا خیال ہے….؟
خیال تو نیک ہے مگر پکوڑے بنائے گا کون کیونکہ آپ تو ماشاءاللہ سے کافی کام چور واقع ہوئی ہیں.
“جب بھی بارش کا موسم ہو اور بوندوں کی شرارت اپنے جوہر دکھائے تو آلو اور پیاز کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ بیسن کی دبیز چادر اوڑھ کر مصالحوں کے جھومر سجائے تپتے تیل میں چھلانگ لگادیں، یہ انسانی سماج کے لئے ان کی وہ قربانی ہوگی جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی”.
اگر آپ بھی گھر والوں کے لئے قربانی دے کر پکوڑے بنا دیں گی تو وہ بھی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی.
سارہ پھپھو کی بجائے پیچھے سے حارب نے برآمدے میں اپنی بائیک کھڑی کرتے ہوئے بیا کو جواب دیا.
مسٹر حارب مجھ سے بات کرتے وقت تھوڑی احتیاط سے کام لیا کیجئے یہ آپ کی صحت اور آپ کے حق دونوں میں بہتر ہوگا.
بیا انگلی کے اشارے سے وارنگ دیتی ہوئی خود کچن کی طرف بڑھ گئی.
جب کہ حارب اپنے کپڑے بدلنے کے لیے کمرے کی طرف اور سارہ پھوپھو برستی بارش کو دیکھنے لگی اور خود برآمدے میں موجود ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی بہت سی ماضی کی یادیں ٹھنڈے ہوا کے جھونکوں کی طرح ان کا چہرہ تھپکنے لگی.
“زندگی کتنی بھی مصروف کیوں نہ ہو جاۓ کچھ لوگوں سے ہمارے دھیان کا ایسا پکا رشتہ ہوتا ھے کہ وہ ہماری یادوں اور دعاؤں سے کبھی دور نہیں ہوتے !!!
اور ان رشتوں کا کوئی مول نہیں جو دعا کی صورت میں ہر پل آپکے ساتھ ہوتے ہیں !!!”.
🎀🎀🎀
ولی میں تمہیں معاف نہیں کر سکتا باوجود اس کے کہ تم میرے بہت اچھے دوست ہو مگر تم نے جو کچھ کیا وہ معافی کے قابل نہیں ہے کیوں Marry میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا…..
پیٹر Marry کی قبر پر بیٹھا اس سے باتیں کر رہا تھا اور یہ وہ اکثر ہی کرتا تھا جب اسے شدید ٹینشن ہوتی تھی اسے جتنی Marry سے محبت تھی اتنی ہی محبت ولی سے بھی تھی مگر پچھلے چند ماہ سے وہ عجیب پریشانی کا شکار تھا.
اچھا تو آج پھر میری شکایتیں لگا رہے ہو حیرت ہے Marry تم چپ چاپ اس کی بکواس سن رہی ہو, حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ تم 10۔15 مکے پیٹر کے منہ پے ماروں تاکہ یہ دوبارہ تمہیں کبھی تنگ نہ کرے کم از کم یہاں تو تمہیں سکون سے رہنا کا پورا حق ہے.اس بیچاری کو قبر میں تو سکون کر لینے دو.
پیٹر بس کر دے بعض دفعہ اپنی آنکھوں کا دیکھا بھی غلط ہو جاتا ہے میں نے کہا نا ہم Marry کے مجرموں کو ضرور پکڑیں گے تجھے میری بات پر یقین کیوں نہیں..؟
یقین ہے تجھ پر مگر جو لوگ کہتے ہیں پیٹر نے انتہائی بے بسی سے ولی کی طرف مڑ کے دیکھا جو اس کے پیچھے کھڑا اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالےادھر ادھر دیکھ رہا تھا.
اگر لوگوں کی سننی ہیں تو پھر وہی کر جو لوگ کہتے ہیں اور اگر میری بات پر یقین ہے تو بس پھر انتظار کر توڑا سا زیادہ نہیں..
اچھا ٹھیک ہے میں انتظار کرتا ہوں مگر یاد رکھ ولی اگر تو نے میرے ساتھ گیم کرنے کی کوشش کی تو ایسی جگہ جا کے ماروں گا کہ…..
تجھے مجھے تلاش کر کے مارنا نہیں پڑے گا میں خود تیرے آگے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاؤں گا ابھی پیٹر کا جملہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ ولی بول پڑا.
اچھا ٹھیک ہے پیٹر اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا کھڑا ہو گیا بتا اب کیا کرنا ہے….؟
وہی جو ہمیں کرنا چاہئے آج رات ہم Marry کے گھر جائیں گے مگر…..
مگر کیا پیٹر نے ولی کا جملہ مکمل کیا.
وہاں سے جہاں سے اکثر ہم گھروں میں داخل ہوتے ہیں.
پھر دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرایا چل پھر رات میں ملتے ہیں…..
🎀🎀🎀
ماشاء اللہ بیا اتنے زبردست پکوڑے بنائے ہیں تم نے کہ خوشبو تو پورے گھر میں پھیل گئی ہے.
آئمہ نے تعریفی نظروں سے بیا کی طرف دیکھتے ہوئے کچن میں قدم رکھا.
سچی مچی یااااا……..
بالکل سچ مگر یہ خوشبو پکوڑوں کی نہیں بلکہ پکوڑوں کے جلنے کی ہے پورا گھر مہک رہا ہے یقین مانو آس پاس کے پڑوس سے تو کچھ لوگ باقاعدہ یہ پوچھنے بھی آئے تھے کہ آج آپ کےکچن میں کونسی شخصیت موجود ہے…..؟
آئمہ کے زوردار قہقہے پر بیا نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے انتہائی معصومیت سے کہا
“کہیں دیپ جلے، تو کہیں دل جلے، لیکن ہم سےجب بھی جلے، روٹی جلے،سالن جلے،چاول جلے، پکوڑے جلے یا پھر لوگ جلے…”
جب کہ پیچھے سے آتی ہوئی ثنا بیگم نے آئمہ کو ٹوکا
بری بات ایسا نہیں کہتے ایک تو وہ بیچاری بارش کے مزے چھوڑ کر ہمارے لیے پکوڑے بنا رہی ہے اور اوپر سے تم اسے باتیں سنا رہی ہو شرم کرو تھوڑی…..
ماما آپ ہمشہ اسی کی سائیڈ لیتی ہیں آئمہ نے منہ بنایا. جبکہ بیا نے چچی کو دیکھتے ہی سکھ کا سانس لیا.
ہٹو بیا تم جا کر برآمدے میں بیٹھو میں بنا کر لاتی ہوں.
🎀🎀🎀
