No Download Link
Rate this Novel
Episode 44
آئمہ کی گہری نیند میں ڈور بیل مسلسل خلل ڈال رہی تھی کچھ دیر سے زیادہ نظرانداز نہ کر سکی اور اٹھ بیٹھی۔ اٹھتے ہی پہلا خیال جو ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔۔۔۔۔۔؟
پھر جیسے ہی سب یاد آیا اس نے اپنے اردگرد دیکھا اور اپنے برابر سوئے ” ولی” پر نظر پڑتے ہی وہ اپنی جگہ پر تھوڑا سا کھسکی ۔
بیل ابھی بھی مسلسل ہو رہی تھی جس کا ولی پر ذرا برابر اثر نہیں تھا آئمہ بیڈ سے اٹھی اور واش روم میں فریش ہونے چلی گئی تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آئی تب بھی کوئی بل بجا رہا تھا ۔
یہاں کے لوگ تو بہت ہی ڈھیٹ قسم کی ہیں۔ اب انہیں کیسے جگاؤں ۔۔۔۔۔۔۔؟ ئمہ دل میں سوچتی ولی کی طرف بڑھی مگر پھر کچھ فاصلہ پر کھڑے ہو کر آواز دینے لگی
“اٹھیں شاید دروازے پر کوئی ہے” بار بار اپنا جملہ دوہرایا مگر ولی کے کان پر جُوں تک نہیں رینگی وہ جیسے بےسدھ پڑا تھا پڑھا رہا ۔
بالآخر آئمہ نے خود ہی دروازہ کھولنے کا فیصلہ کیا اور وہ دروازے کی طرف پلٹی مگر اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ اس کا ڈوپٹہ ٹیبل لیمپ ساتھ لگا اور وہ زمین بوس ہوگیا۔
لیمپ کے گرتے ہی ولی نے ناگواری سے سر اوپر اٹھایا اور آئمہ کو اپنے سر پر کھڑا دیکھ کر آنکھیں مسلنے لگا ۔ “تمہارے ہاں سوئے ہوئے کو ایسے اٹھانے کا رواج ہے ” ولی بڑبڑاتے ہوئے دوبارہ لیٹ گیا ۔
نہیں میں تو آوازیں دے رہی تھی مگر آپ اٹھے ہی نہیں ۔اب تو میں خود ہی دروازہ کھولنے جا رہی تھی کہ میرا ڈوپٹہ لیمپ کو لگا اور وہ گر گیا ۔
آئمہ بی بی جب میں “سوتا “ہوں تو اصل میں” مر” جاتا ہوں مجھے آوازوں سے جگایا نہیں جاتا بلکہ جھنجھوڑ کے اٹھایا جاتا ہے ۔ویسے تم کیوں اٹھا رہی تھی بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔؟
اس سے پہلے کہ آئمہ جواب دیتی ایک بار پھر ڈور بل بجی اور سہی معنوں میں اب ولی کو آئمہ کی بات سمجھ آئی۔ میں دیکھتا ہوں۔ تم بیٹھو پھر ناشتے کا کچھ کرتے ہیں ولی کہتے ساتھ بیڈ سے اترا اور روم سے باہر چلا گیا ۔
بے دلی سے “ولی” نے دروازہ کھولا تو آگے” ڈیوڈ “کو کڑے تیور ساتھ پایا۔
اس وقت آپ کو یہاں دیکھ کر ذرا برابر بھی خوشی نہیں ہو رہی ہے میں نے سوچا تھا کہ آپ کے آفس آ کر فلیٹ کا شکریہ ادا کروں گا جس میں کھانے پینے کا کوئی سامان نہیں مگر آپ نے میری نیند خراب کر کے موقع گنوا دیا ۔
ولی کے جواب پر ڈیوڈ طنزاً مسکرایا۔ شکریہ ادا کرنے کے ابھی بہت مواقع باقی ہیں۔ اندر تو آنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔ ولی کو دروازے میں کھڑا دیکھ کر ڈیوڈ نے ہاتھ کے اشارے سے سائٹ پر ہونے کو کہا
سوری “مسٹر ڈیوڈ ڈیسوزا” اندر میری چڑیا نما بیوی ہے جو انسانوں سے ایسے ڈرتی ہے جیسے ہم لوگ “بھوتوں” سے لہذا جو بات کرنی ہے یہیں کرلو ولی نے نیند بھرے لہجے میں پوچھا
ولی تمہاری جان کو خطرہ ہے۔ کسی بھی وقت پولیس تمہیں آکر لے جائے گی۔ کیٹ سے بات کر لوں۔ میئر چھوڑے گا نہیں یاد رکھنا جوان بیٹے کی موت نے اسے مزید ظالم بنا دیا ہے اب کی بار ڈیوڈ کے لہجے میں فکر مندی اور پریشانی دونوں شامل تھی جسے دیکھ کر ولی مسکرایا
ڈرا رہے ہیں یا مشورہ دے رہے ہیں بہرحال جو بھی ہے آپ کا شکریہ میں اس سے بات کرتا ہوں آپ بے فکر رہیں اس سے پہلے کے ولی دروازہ بند کرتا ڈیوڈ نے پکارا
ولی ۔۔۔۔۔۔۔۔!!! اپنی ماں سے بھی مل لو پریشان ہیں تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔ ڈیوڈ کہہ کر رکا نہیں کیونکہ وہ ولی کا جواب جانتا تھا ۔
کافی سمجھدار ہوگئے ہیں مسٹر ڈیوڈ ڈیسوزا ۔۔۔۔۔۔۔ اور دروازہ بند کرتا روم کی طرف چل پڑا جہاں آئمہ بیڈ کے کنارے خاموش بیٹھی تھی ۔
جب تک میں فریش ہو کر آتا ہوں تم اپنے گھر والوں سے بات کر لو بلکہ نہیں میں تمہاری بات بیا سے کراتا ہوں۔ تمہیں اس سے بات کرکے اچھا لگے گا ولی نے سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایا
ذرا سالے صاحب کا نمبر تو بتاؤ۔ ۔۔۔۔۔ ولی نے آئمہ کی طرف دیکھے بغیر پوچھا
کون سا “سالہ” آئمہ کے جواب پر ولی ہنسا میرا سالہ یعنی تمہارا بھائی “حارب”۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری یاداشت تو نہیں چلی گئی۔ ولی کے جواب پر آئمہ نے شرمندگی سے نیچے دیکھتے ہوئے نمبر بتایا
یہ لوگ بیل جا رہی ہے میں اتنی دیر میں کپڑے تبدیل کر آؤں گا ۔ ولی نے آئمہ کے قریب بیڈ پر فون پھینکتے ہوئے خود واش روم کا رخ کیا جب کہ آئمہ نے خوشی سے فون پکڑا ۔
السلام علیکم بھائی کیسے ہیں۔۔۔۔؟
وعلیکم السلام شکر ہے تمہیں ہماری یاد تو آئی۔ کیسی ہو۔۔۔۔؟ حارب کی آواز پر آئمہ کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔
بھائی میں ٹھیک ہوں نم آواز سے جواب ملنے پر حارب حیران ہوا۔
ایسا لگ تو نہیں رہا۔ ولی نے کچھ کہا ہے۔ حارب کی بات پر بیا نے فون اس کے ہاتھ سے چھین لیا ۔
مجھے بات کرنے دو۔ تم پڑھو اپنا وقت ضائع مت کرو بہت قیمتی وقت ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔ بیا کہتی ہوئی ٹیرس پر چلی گئی جبکہ حارب نے دوبارہ کتاب کھولی ۔
آئمہ سچ سچ بتاؤ لندن کیسا ہے۔۔۔۔۔؟ بالکل ویسا ہی ہے جیسا ٹی وی پر دکھاتے تھے بیا نے پرجوش آواز میں پوچھا
پتا نہیں ابھی میں نے نہیں دیکھا ۔رات میں آئے تھے ۔پھر سو گئے ۔ابھی اٹھیں ہیں ۔آئمہ کے جواب دے بیا نے اپنے سر پر ہاتھ مارا ۔
پاگل + بیوقوف لڑکی تم وہاں سونے کے لئے گئی ہو۔۔۔۔۔بیا کی بات پر آئمہ کا حیرت سے منہ کھل گیا تو کیا کرنے آئی ہوں ۔۔۔۔۔؟
پاگل گھومو پھرو عیش کرو۔ ساری زندگی سونے کے لئے پڑی ہے اور خبردار جو اس” فرنگی” کو اکیلا چھوڑا تو ہر وقت اس کے ساتھ چپکی رہنا ۔
مگر میں کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ابھی آئمہ نے اتنا ہی بولا تھا کہ ولی واش روم سے باہر آکر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔
کیسے کا کیا مطلب ہے بس وہ جہاں بھی جائے تم کہنا مجھے گھر میں ڈر لگتا ہے ۔میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی اور ہاں وہ جو بھی چیز دے یا جو بات بتائے اسے دھیان سے سننا اور اپنے پلو سے باندھ لینا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔بیا کی بات پہ آئمہ نے ترچھی نظروں سے ولی کو دیکھا جو اس وقت جاگرز پہن رہا تھا ۔
اچھا ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گی مگر تم نے میرا تو پوچھا ہی نہیں کہ میں کیسی ہوں۔ ۔۔۔۔۔؟ آئمہ نے گلہ کیا ۔
ابھی دو دن تو ہوئے نہیں تمہیں یہاں سے گئے ہوئے تو کیا پوچھو کیسی ہو۔۔۔۔۔۔۔؟ مجھے پتا ہے ویسے ہی ہوگی جیسی دو دن پہلے تھی اتنی جلدی تم نے تھوڑی بدل جانا ہے ۔
خیر چھوڑو ان فضول باتوں کو اور سنو اس کا اچھے سے خیال رکھو ۔خاص طور پر اس کے کھانے پینے کا جیسے میں حارب کا رکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ بیا کہتی ہوئی روم میں داخل ہوئی بیا کا آخری جملہ سنتے ہیں حارب نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جیسے یقین کر رہا ہوں کہ جو اس نے سنا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔
اچھا اچھا ٹھیک ہے میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں ۔آئمہ نے ولی کو روم سے باہر جاتا دیکھ کر جلدی سے فون بند کیا اس سے پہلے کہ وہ ولی کے پیچھے جاتی وہ خود ہی دوبارہ کمرے میں داخل ہوا ۔
یہ چابی تم رکھ لو اگر کبھی میں گھر پر نہ ہوں یا تمہیں کہیں جانا پڑ جائے تو پھر لاک کرکے جانا بلکہ ایسا کرتا ہوں میں تمہیں ابھی ساتھ ہی لے چلتا ہوں تاکہ تم دیکھ لو کہ بیکری وغیرہ کس طرف ہیں ٹھیک ہے۔
ولی کی بات پر آئمہ نے سر ہلایا اس کی تو دلی مراد پوری ہو گئی تھی ۔
میرا فون تو دے دو ولی کے ٹوکنے پر آئمہ نے شرمندہ سا ہو کر فون ولی کی طرف بڑھایا تو وہ مسکرا کر آگے چل پڑا ۔
فلیٹ سے نکلتے ہی ولی نے کیٹ کو میسج کیا کہ “اگر ممکن ہوسکے تو مجھ سے ملو”اور میسج سینڈ کر دیا
فٹ پاتھ پر چلتے چلتے ولی اسے مختلف چیزیں دکھا رہا تھاجس پر آئمہ سر ہلا رہی تھی۔
بالآخر ولی ایک بڑے سے جنرل سٹور پر پہنچا جہاں اس نے کچن کی تمام ضروری اشیا کی خریداری کر ابھی وہ آئمہ کے ساتھ سٹور سے باہر نکلا ہی تھا کہ تھوڑے سے فاصلے پر کافی شاپ کے باہر اسے کیٹ نظر آئی۔
آئمہ تم دس منٹ ادھر رکو۔ میں ذرا سامنے کسی سے مل کر آتا ہوں ۔ٹھیک ہے یہاں سے جانا نہیں میں دس میں آتا ہوں ولی اپنی گھڑی پر نظر مارتا ہوا سڑک کراس کرنے لگا۔ جب آئمہ وہاں کھڑی اسے جاتے دیکھنے لگی
رکو میں نے تم سے ایک بات کرنی ہے ۔ولی کے پکارنے پر کیٹ پلٹی
تم کب آئے واپس اور انسان کبھی اگلے بندے کی بھی خیریت پوچھ لیتا ہے ۔کیٹ نے پہلے خوشی سے اور پھر ناگواری سے جواب دیا
مجھے کیا لگے کہ تم کیسی ہو۔۔۔۔۔؟ مجھے اپنے کام سے مطلب ہے اگر تم میرا کام کر دوگی تو “زبردست ” ۔۔۔۔۔۔۔اگر نہیں کر کے دو گی تو پھر بھی ٹھیک ہے یہ کہتے ہوئے ولی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا
میرا اس دفعہ تمہارا کام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ تم نے میرا زندگی میں کبھی کوئی کام نہیں کیا ۔کیٹ نے مصنوعی غصہ دکھایا
غصہ میں ویسے تم کافی پیاری لگتی ہو فلرٹ کرنے کو دل کرتا ہے ولی کھلکھلا کے ہنسا
بڑی استاد چیز ہو تم۔۔۔۔۔۔ ایک منٹ میں کیٹ کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔
زیادہ نہیں مجھے تم سے بس اتنی سی فیور چاہیے کہ جب میں گرفتار ہو جاؤں تو تم نے مجھے آزاد کرانا ہے ۔
اور اگر میں تمہیں یہ فیور نہ دو تو ۔۔۔۔۔۔۔؟کیٹ نے مسکراتے ہوئے ولی کی طرف دیکھا
تو کوئی اور آزاد کروا لے گی مگر میں چاہتا ہوں کہ یہ کریڈٹ تم لو۔ محبت کرنے والوں کا پہلا حق ہوتا ہے ناااااا ولی طنزاً مسکرایا
اچھا تو تمہارا مطلب ہے کہ تمہیں تمہاری وہ سو کالڈ بیوی آزاد کرائی گئی ہے کیٹ کا اتنا کہنا تھا کہ ولی کو ایک دم آئمہ کا خیال آیا
اوہ نو شٹ۔ ۔۔۔۔۔۔۔اور وہ الٹے پاؤں تیزی سے پلٹا ولی میری بات تو سنو کیٹ پکارتی رہ گی مگر وہ رکا نہیں
اسٹور پہنچ کر ولی نے اردگرد آئمہ کو تلاش کیا مگر وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا ۔
کہاں چلی گئی ہے کہا بھی تھا یہاں رکنا یہ کہہ کے ولی نے گھڑی کی طرف دیکھا تو تقریبا ایک گھنٹہ گزر چکا تھا غلطی اس کی تھی آئمہ کی نہیں ۔
پیٹر یار وہ گم گئی ہے پلیز میری مدد کر دے ۔ولی نے کال اٹینڈ ہوتے ہی پریشانی سے کہا
کون گم گئی ہے اور تو اس وقت کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ پیٹر بھی پریشان ہو گیا
میں تجھے اس کی تصویر سینڈ کر رہا ہوں ولی میں مختصراً ساری بات بتائی اور فون بند کر دیا
سارا دن دونوں مختلف ڈیپارٹمنٹ اسٹورز ۔۔۔۔شاپنگ مال ۔۔۔۔کلب ۔۔۔۔کافی شاپ اور فٹ پاتھ پر تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ شام ہونے لگی ۔
پیٹر مجھے تو بھوک اور پریشانی سے چکر آ رہے ہیں قسم سے کل رات سے کچھ نہیں کھایا ۔۔۔۔۔ولی نے پیٹر کی طرف دیکھا
اچھا ایسا کر تو گھر جا اور آرام کر میں تلاش کرتا ہوں اتنی دیر تو سوجا پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔؟ ورنہ مجبوری ہے کیٹ سے بات کرنی پڑے گی ہمیں اس کی مدد لینی ہو گی۔
یار مجھے صرف یہ پریشانی ہے کہ وہ کہیں کسی غلط بندے کے ہاتھ نہ لگ جائے وہ بہت بے وقوف ہے تیری سوچ سے بھی زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھکاوٹ اور بھوک سے اس کا چہرہ اترا ہوا تھا ۔
تجھے اگر پتہ تھا کہ وہ اتنی بیوقوف ہے تو نے اسے اکیلا چھوڑ ہی کیوں ۔۔۔۔؟خیر پریشان نہ ہو تو جا کر آرام کر تب تک میں تلاش کرتا ہوں۔
پیٹر کی تسلی پر ولی سر ہلاتا فلیٹ کی طرف چل پڑا ۔ ذہن میں مسلسل راجہ فرخ کے الفاظ کسی ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے کہ “اگر یہ گم گئی تو ہم اسے کیسے تلاش کریں گے۔”
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے
