Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43

حارب یہ ہوٹل کتنا پیارا ہے قسم سے ، بالکل فلموں جیسا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پتہ مجھے بہت شوق تھا کہ میں ایسی سیڑھیوں پر چڑھوں جو خود بخود چلتی ہوں اور دیکھو یہ سیڑھیاں خود بخود چل رہی ہیں۔ بیا نے خوش ہوتے ہوئے حارب کی طرف دیکھا
بیا پلیز۔ ۔۔۔۔اپنے جذبات پر کنٹرول رکھو ۔ حارب نے آہستہ آواز میں تنبہہ کی ۔
حارب اگر تم نے مجھے اکیلا سمجھ کر ڈانٹا یا رعب ڈالنے کی کوشش کی تو میں اس بات کا لحاظ نہیں رکھوں گی کہ ہم دونوں پرائےشہر میں ہیں اور لوگ ہمیں دیکھ کر کیا کہیں گے سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔
بیاکی وارننگ پر حارب نے اپنے سر کو خم دے کر دوستانہ رویہ اختیار کیا کیونکہ وہ کسی بھی قسم کا تماشہ نہیں لگانا چاہتا تھا ۔
اپنے روم کے باہر پہنچ کر حارب نے بیگز نیچے رکھے اور جیب سے چابی تلاش کرنے لگا۔
کوئی بھی کام ٹھیک سے نہیں کرتے ہو۔ تمہیں یہی روم ملا تھا۔ یہ روم تو ٹھیک نہیں ہے ۔ہم نے یہاں نہیں رہنا۔ بیا نے کمرے کی نمبر پلیٹ دیکھتے ہوئے شور مچایا ۔
اب کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ بیا کے شور مچانے پر حارب نے زچ ہو کر پوچھا
نظر نہیں آرہا کمرے کا نمبر 420 ہے بیا نے کمر پہ ایک ہاتھ رکھ کر دوسرے ہاتھ سے دروازے کی طرف اشارہ کیا ۔
تو۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حارب غرایا
تو یہ کہ ہم کوئی” چور اُچکے” ہیں جو اس کمرے میں رہیں پلیز روم چینج کرو۔
بیاااااااا ۔۔۔۔۔حارب نے دانت پیس کر اپنا پاؤں زمین پر مارا اور مینیجر کی طرف چل پڑا۔
🎀🎀🎀🎀
یہ میرا بلکہ فی الحال ہمارا فلیٹ ہے ۔چلو اندر میں تمہیں سارا فلیٹ اچھے سے دیکھا دو ۔ولی نے بیگز ایک طرف رکھتے ہوئے آئمہ کو اندر آنے کا اشارہ کیا جو اجنبیت سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی ۔
کیا ہے بھئی اب اندر آ بھی جاؤ ولی کے ٹوکنے پر آئمہ اندر داخل ہوئی اور اس نے دروازہ لاک کیا ۔
یہ کچن ہے اور یہ ٹی وی لانچ اور یہ دونوں میرے خیال سے بیڈرومز ہیں ولی نے باری باری دونوں رومز کے دروازے کھولے اور پھر مڑکر ائمہ کی طرف دیکھا جو شدید تھکن اور اپنوں سے دوری کی وجہ سے عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
او ہیلو میڈم کہاں گم ہو۔۔۔۔؟ میں کب سے تمہیں بلا رہا ہوں اور تم ہو کہ کوئی جواب ہی نہیں دے رہی ہوں۔ ولی نے آئمہ کے آگے اپنا ہاتھ لہراتے ہوئے چٹکی بجائی جس سے وہ چونک پڑی۔
تم بھی ذرا آرام کر لو میں فریش ہو جاؤں پھر کھانے کے بارے میں سوچتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔؟ ولی کہتا ہوا روم میں چلا گیا جب کہ آئمہ کو اپنے گھر والے یاد آنے لگے اور اس کی آنکھیں خود بخود بھیگ گیئں۔
ماما میں آپ سب لوگوں سے بہت ناراض ہوں ۔بیا کو آپ نے اپنے پاس رکھ لیا اور مجھے یہاں اتنی دور سات سمندر پار بھیج دیا ۔میں اکیلی یہاں کیسے رہوں گی ایک دفعہ بھی آپ لوگوں نے سوچا۔۔۔۔۔۔۔؟ ائمہ ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلی تھی ابھی وہ خود سے باتوں میں مصروف تھی کہ ولی تولیے سے اپنا سر صاف کرتا بلو کلر کے ٹراؤزر اور سفید ٹی شرٹ پہنے روم سے باہر آیا ۔
تم ابھی تک یہاں ہی کھڑی ہو ولی کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔
مجھے اپنے گھر اور گھر والے سب یاد آ رہے ہیں ولی کے سختی سے پوچھنے پر آئمہ کو کھل کر رونے کا بہانہ مل گیا۔
اوہ پلیز ۔۔۔۔خبردار جو تم نے رونے دھونے والا چینل ٹیون کیا تو ۔۔۔۔۔۔۔اب جلدی سے اندر جاؤ فریش ہو کر کپڑے تبدیل کرو۔ولی نے انگلی کے اشارے سے اسے آڈر دیا اور تولیہ صوفے پر پھینکتا خود کچن کی طرف بڑھ گیا ۔
میں نے اپنی زندگی میں ایسی لڑکی نہیں دیکھی۔ اسے رونے کا کتنا شوق ہے۔رونے کے لئے بس بہانہ چاہیے ۔اس کی آنکھیں بھی درد نہیں کرتیں۔ ولی مسلسل بڑبڑا رہا تھا اور ساتھ ساتھ الیکٹرک کیٹل میں پانی ابلنے کو رکھنے لگا ۔
ابھی سوئچ لگا کے چھوڑا ہی تھا کہ اس کے موبائل پر پیٹر کالنگ لکھا آیا ۔
اب یہ بھی سر کھائے گا مجھے لگتا ہے کہ آج میرا سر درد سے پھٹ جائے گا ولی نے کن پٹی دباتے ہوئے موبائل کی سکرین کو گھورا اور پھر نہ چاہتے ہوئے کال اٹینڈ کی ۔
ہیلو ولی تم آگئے ہو۔۔۔۔۔۔ پیٹر نے فکر مندی سے پوچھا
نہیں ابھی جہاز میں ہی ہوں۔۔۔۔۔ ولی نے بیزاری سے جواب دیا۔
اچھا جب تم لندن آجاؤ تو پلیز ذرا احتیاط سے کام لینا۔ میئرنے ٹونی کے قتل کے سلسلے میں تمہارا نام پولیس کو دیا ہے بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ آتے ہیں پہلے کسی وکیل سے ملنا یا ڈیوڈ سے رابطہ کرو میرے خیال سے اس وقت وہ تمہاری سب سے بہتر مدد کر سکتا ہے ۔
اور کچھ کہ بس اتنا ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ولی نے ایک جمائی لیتے ہوئے ناگواری سے پوچھا ۔
کیا مطلب اور کچھ۔۔۔۔؟ تجھے ذرا پریشانی نہیں ہوئی۔ پیٹر کے لہجے میں اس دفعہ حیرانی جھلک رہی تھی ۔
ابھی میرے سر میں شدید درد ہے (اور یہ درد میں اپنی مرضی سے لایا ہوں) دوائی لے کر سونے لگا ہوں۔ اگر کل اٹھ گیا تو پھر دیکھتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟
مگر ہاں مجھے دوبارہ فون کرکے ڈسٹرب مت کرنا۔Marry کے ساتھ والی جگہ بالکل خالی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ خالی ہی رہے سمجھا۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے کہتے ہوئے کال بند کی۔
اس سے پہلے کہ وہ فون دوبارہ جیب میں رکھتا فون پھر بجنے لگا ۔” ڈیانا کالنگ” ولی نے سکرین کی طرف دیکھا ۔
مجھ میں ابھی آپ سے مزید بحث کرنے کی ہمت نہیں ہے لہذا مسز ابراہیم سوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے دل میں کہتے ہوئے موبائل پاور آف کر دیا۔
پانی ابلتے ہی اس نے دو کپ کافی کے بنائے ساتھ کچھ بسکٹ رکھے اور ٹرے کو اٹھا کر روم کی طرف چل پڑا ۔
روم کا دروازہ کھولتے ہی جو منظر ولی نے دیکھا وہ اسے غصہ دلانے کے لئے کافی تھا ۔
آئمہ بیڈ پر نیم دراز سو رہی تھی ۔جوتے پاؤں میں موجود تھے جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ فرش ہونے نہیں گئی۔
اگر مجھے ذرا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لڑکی اتنا ستائےگی تو اس سے اچھا میں بلی کا بچہ پال لیتا کم ازکم نفسیاتی طور پر ٹھیک تو رہتا یہ تو مجھے چند دنوں میں پاگل کردے گی کسی بات کا اثر ہی نہیں ہوتا ۔ولی نی ٹریسنگ ٹیبل پر ٹرے رکھی اور ائمہ کی طرف چل پڑا ۔
آئمہ تھوڑا سا کچھ کھا پی لو کپڑے چینج کر لوں پھر سو جانا۔ اٹھو شاباش ولی نے ائمہ کا کندھا ہلایا ۔
میرا کچھ کھانے پینے کو دل نہیں کر رہا مجھے شدید نیند آ رہی ہے ۔آئمہ نے نیند سے بوجھل آنکھیں کھول کر ولی کی طرف دیکھا۔
اچھا ایسا کرو پھر جوتے اتار کر اوپر ہو جاؤ ۔ولی نے کمفرٹ آئمہ کے اوپر اچھے طریقے سے دیا اور خود ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا ۔
🎀🎀🎀🎀
حارب میں نے ساری لسٹ بنا لی ہے کہ کل ہم نے کہاں کہاں سیر پر جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ اور ہاں رات کا کھانا بھی باہر ہی کھائیں گے۔
اب روز روز تو ہم اسلام آباد آئیں گے نہیں ۔ اب آئے ہیں تو اچھے طریقے سے دیکھ کر ہی جائیں گے ٹھیک ہے نا ااااا
ویسے بھی بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ شادی کے شروع کے دن ہی گھومنے پھرنے کے لیے” اچھے” ہوتے ہیں۔ بعد میں “بچے” ہو جاتے ہیں ۔تو ان کے ساتھ گھومنا پھرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
کسی بچے کو “سردی” نہ لگ جائے۔ کوئی بچہ “بیمار “ہے ۔تو کوئی “دانت” نکال رہا ہے ۔تو کوئی “ابھی “چھوٹا ہے سمجھ رہے ہونا تم میری باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔ بیا نے اپنی بات کے آخر حارب کی طرف دیکھا
اب یہ کیا مذاق ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ میں نے تو اپنے تجربے سے سیکھا ہے کہ بندہ جس مرضی سے شادی کرلی مگر اپنی کزن سے کبھی بھی شادی مت کریں۔ خاص طور پر اس کزن سے جو آپ کے ساتھ ہی گھر میں پل کر جوان ہوئی ہو۔
تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم میری مدد کرو گی مگر اب تم مجھے صرف تنگ کر رہی ہو ۔
پہلی بات یہ کہ تم نے مجھ سے شادی نہیں کی بلکہ میں نے اپنے “زورِ بازو” پر تم سے شادی کی ہے ۔اس لیے سارا “کریڈٹ” مجھے جاتا ہے تمھیں نہیں۔ لہذا اپنا تجربہ اپنے پاس رکھو اور میری بات غور سے سنو ۔ بیانے حارب کے مزید قریب ہوتے ہوئے کہا
اگر تم دماغ استعمال کرو تو تمہیں پتہ چلے گا کہ میں تمھاری مدد ہی کر رہی ہوں۔ پوچھو ناااااا وہ کیسے۔۔۔۔۔۔؟
کیونکہ اگر تم پوچھو گے نہیں تو میں نہیں بتاؤں گی بیا نے منہ بنایا ۔
اچھا بتاؤ کیسے ۔۔۔۔۔۔ حارب نے ہار ماننے والے لہجے میں پوچھا کیونکہ اب اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا ۔
(تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو جب مجھ سے ہار جاتے ہو۔بیا نے دل میں سوچا) ہاں تو میں کہہ رہی تھی وہ ایسے کہ گھومنے پھرنے سے تمہارا دماغ فرش رہے گا۔تو تم اچھا اچھا پڑھ سکو گے جو بھی یاد کرو گے خوب اچھی طرح یاد رہے گا ۔
دوسرا کھانا میں خود اس لئے تمہارے لیے نہیں بنا رہی کہ تمہیں کہیں “فوڈ پوائزن” نہ ہوجائے ۔اس لئے کھانا باہر کھائیں گے ۔
تیسرا شاپنگ کرانے سے بیگم خوش رہتی ہے۔”بیگم خوش تو تم خوش” اور جب تم خوش ہوں گے تو خوب پڑھو گے۔
نتیجہ: تم اچھے نمبروں سے css پاس کر لو گے۔ بیا نے خوش ہوں کر حارب کو دیکھا جس نے اسے دیکھتے ہی سر نفی میں ہلایا
تم کیا ہر وقت گائے، بھینسوں کی طرح سر ہلاتے رہتے ہو ۔ہمارا “ہنی مون “پیریڈ ہے۔
مجھے پیار سے دیکھو نااااااا تاکہ میرے دل میں کچھ کچھ ہو اور وہ زور زور سے دھڑکے پھر میں خوب شرماؤں اور لال ٹماٹر ہو جاؤں اور کہوں کہ “حارب تم مجھے ایسے نہ دیکھو مجھے کچھ ہوتا ہے”۔ بیا نے دوپٹہ سر پر لیتے ہوئے حارب کی طرف شرما کر دیکھا
فی الحال تو مجھے کچھ کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔حارب نے غصے سے منہ لال کرتے ہوئے بیا کو جواب دیا
اچھا فضول باتیں چھوڑو اور میری بات غور سے سنو پتہ میں نے ہر قسم کے اچھے اور گھٹیا ناول پڑے ہوئے ہیں مجھے ہر قسم کے ہیرو اور ہیروئن کا پتہ ہے۔
خواتین ڈائجسٹ، کرن اور شعاع کوئی بھی چیز میں نے چھوڑی نہیں جو میں نے پڑھی نہیں ہوئی ماشاءاللہ اس معاملے میں میرا “مطالعہ” بہت وسیع ہے ۔
جیسی بھی سٹوری ہوتی ہے میں پڑھ لیتی ہوں۔ میں دوسری لڑکیوں کی طرح” نخرے” نہیں کرتی کہ یہ والی نہیں پڑھنی یا وہ والی پڑھنی ہے۔ اور جھوٹ بھی نہیں بولتی کہ میں صرف “عمیرہ احمد نمرہ احمد ” کے ناول پڑھتی ہوں ۔
میں سچ کہہ رہی ہوں میں نے ہر طرح کی “ہیروئن” پڑھ رکھی ہیں۔ مجھے ایسی ہیروئنز بالکل پسند نہیں۔ جو ہیرو سے الگ رہتی ہیں اور ناول کی “آخری قسط ” کے “آخری سین” میں ہیرو ساتھ “سیٹ” ہوتی ہیں۔
کیا فائدہ ایسی “سیٹنگ” کا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پورے ناول میں “ریڈرز ” کو “اپ سیٹ” کر کے رکھا اور آخر میں جا کے خود مزے سے “سیٹ ” ہو گئیں ۔
اونہہ۔۔۔۔۔۔ یہ بھلا کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔؟ بیا نے حارب کی طرف ہمدردی سے دیکھا جیسے وہ بھی اِس کا اِس بارے میں ساتھ دینے والا ہو ۔
ریڈز کو تو ذرا بھی مزہ نہیں آتا۔ ہیروئن کے سیٹ ہونے کے انتظار میں سارا ناول پڑھ لیتے ہیں اور وہ خوامخواہ کا نخرہ کرتی ہے آخر میں جاکر “سیٹ” ہوتی ہے فٹے منہ ایسی ہیروئن کا۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ان میں سے نہیں ہوں۔ میں تو تمہارے ساتھ چپکی رہوں گی ۔
“آئی لو یو ” بیا نے مسکرا کر اپنا سر حارب کے کندھے پر رکھا دیا۔
میرے خیال سے اب تمہارے ناول کی ہیروئن تھک گئی ہے اسے سو جانا چاہیئے اور تم مجھے بھی اجازت دو تاکہ میں تھوڑا سا پڑھو لو۔ کیا خیال ہے ایسا بھی تو ہوتا ہے ناااا ناولز میں۔۔۔۔۔۔ ہیروئن مزے سے بستر پر سو رہی ہوتی ہے اور ہیرو صوفے پر کام کر رہا ہوتا ہے۔ شاید بات بن جائے دل میں سوچتے ہوئے حارب نے اس کا سر تھپکا
نہیں تم پڑھو میں تمہارے لئے چائے بنا کر لاتی ہوں اپ اتنا تو میں تمہارے لئے کر ہی سکتی ہوں اور سنو جب میں چائے بنا کر لاؤں تو تم سب چھوڑ چھاڑ کر چائے کی پیالی کی جگہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے سامنے بیٹھا لینا اور میری خوب تعریف کرنا مجھے اچھا لگے گا۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔ بیا نے شرارت بھری نظروں سے حارب کو دیکھا
ویسے تمہیں لڑکا ہونا چاہیے تھا۔ حارب نے یہ جواب دے کر خود ہی اپنی شامت کو دعوت دی۔
ہائے قسم سے۔۔۔۔۔( بیا نے تالی بجائی اور ایک بار پھر حارب ساتھ بیٹھ گئی) اگر میں تمہارا شوہر ہوتیں تو تمہاری ایسی ایسی تعریفیں کرتی۔۔۔۔۔ ایسی ایسی تعریفیں کرتی کہ تم شرم سے “لال ٹماٹر ” ہوجاتے۔
اففففففف۔ ۔۔۔۔۔۔ کتنا مزہ آتا۔ بیا نے چسکے لیتے ہوئے جواب دیا۔
بیا تم میری سوچ سے زیادہ بے شرم نکلی ہو ۔
سچ کہتے ہیں بندہ ہے ہی ” ناشکرہ” حارب کے جواب پر بیا بڑبڑاتی ہوئی روم سے باہر چلی گئی تو اس نے خدا کا شکر ادا کیا ۔
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے