Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episide pt.1

مجھے خوشی ہے کہ تم لوگوں نے میرے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ تمہیں کتنا فائدہ پہنچائے گا یہ تمہاری سوچ ہے ۔۔۔۔۔۔
لارڈ کرس نے سگار منہ میں رکھتے ہوئے تفکر سے کہا
عالی جاہ۔ ۔۔۔۔ مجھے آپ کے ساتھ کام کرکے بہت خوشی ہو گی ۔ مگر میری والدہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے جان بوجھ کر ڈیانا کا نام نہیں لیا۔ (پیٹر کو تو یوں اچانک ڈیانا کا حوالہ دینا عجیب سا لگا مگر وہ خاموش رہا ۔)
ہاں کہو کیا کہنا چاہ رہے ہو۔ مجھے وہ لوگ بہت پسند ہیں جو صرف مجھ سے ہی نہیں بلکہ سب سے سچ بولتے ہیں اور تمہیں نوکری کی آفر بھی میں نے اسی لیے دی تھی کہ تمہاری یہ کوالٹی مجھے پسند آئی تھی۔
سر میری والدہ چاہتی ہیں کہ میں آپ کے ساتھ کام کرو مگر کسی کو پتہ نہ چلے۔ ولی نے سامنے پڑے شیشے کے میز کو گھورا جیسے کوئی تحریر پڑھ رہا ہو۔( ولی کیا بول رہے ہو آنٹی کو تو اس بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں۔پیٹر بڑبڑایا۔)
یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔؟ تم میرے لیے کام کرو اور کسی کو پتا نہ چلے ۔میرے تمام ورکرز کا ایک مخصوص لباس ہے اور ہر ورکر کا ایک مخصوص کارڈ ہوتا ہے ۔ لارڈ نے قدرے تیز لہجے میں جواب دیا ۔
سر اگر آپ میری بات کو غور سے سنیں تو آپ ( مجھے )کو بہت فائدہ ہوگا ۔اب کی بار ولی نے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے اپنا جال پھینکا
کہو۔۔۔۔۔۔۔ لارڈ آگے کو جھکا اور سگار ایش ٹرے میں رکھا۔
جناب عالی۔ ۔۔ الیکشن ہونے والے ہیں اور میئرشوکت اپنے بیٹے کی وجہ سے بہت پریشان اور اپ سیٹ رہتے ہیں۔ اگر آپ مجھے ان کی جگہ میئر بنوا دیں جو کہ یقیناً آپ کے بائیں ہاتھ کا کام ہے ۔(ولی نے بھرپور مکھن لگایا اور ذہن میں آئمہ کا عکس نظر آیا ) تو کوئی بھی مجھ پر یہ شک نہیں کر سکتا کہ میں آپ کا آدمی ہوں ۔ مگر میں وہی کروں گا جو آپ کہیں گے۔ اس طرح دوسیٹیں کیبنٹ میں آپ کی ہوں گی۔ باقی آپ کی مرضی آپ سمجھ رہے ہیں جو میں کہنا چاہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔
ولی کے جواب پر جہاں لارڈ کے چہرے پر فکر کے آثار نمودار ہوئے وہیں پیٹر کے لب خود بخود مسکرانے لگے۔
تم کب سے سیاست میں دلچسپی لینے لگے پیٹر کی سرگوشی پر ولی نے اپنا بوٹ اس کے پاؤں پر مارا ۔
بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر شوکت میرا بہت پرانا آدمی ہے۔ خیر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم تمہیں اپنی پاس نہیں رکھنا چاہتے مگر ۔۔۔۔۔۔ لارڈ نے پرسوچ انداز میں اپنے ساتھ کھڑے ملازم کی طرف دیکھا ۔
آپ میری قابلیت کو چیلنج کر رہے ہیں ایک دفعہ مجھے آزما کر تو دیکھیں آپ کے کام یوں کروں گا کہ آپ کو بھی خبر نہیں ہوگی لیکن اگر آپ کو مجھ پہ اعتبار نہیں تو میری طرف سے معذرت قبول کریں۔ میں ہاتھ باندھ کر ادھر ادھر کھڑا نہیں رہ سکتا ۔ ولی کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور ساتھ ہی پیٹر بھی ۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے تم دو دن بعد مجھے ملو پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے……. ؟ لارڈ نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے حکمانہ انداز میں کہا
آج میں آیا ہوں کیونکہ مجھے کام تھا ۔کل آپ کو کام ہے تو آپ کا ملازم آئے گا میرے پاس میں نہیں آؤں گا اور ہاں اگر تسلی کرنی ہو تو میں ایک ہفتہ فری میں آپ ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں ۔آپ کو مجھ میں اور ان Mummays میں فرق خود بخود معلوم ہو جائے گا۔ ولی نے ہاتھ باندھے فرمابردار ملازموں کی طرف اشارہ کیا اور خود روم سے باہر نکل گیا ۔
یہ بات تو ماننی پڑے گی کہ لڑکے میں دم ہے۔ کیا خیال ہے اسے آزمانا چاہیے۔۔۔۔۔۔ لارڈ نے مسکراتے ہوئے اپنے ساتھ کھڑے گارڈز کی طرف دیکھا جو سر ہلا رہے تھے۔
تم نے آنٹی کا حوالہ کیوں دیا۔ مجھے ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ تم ویسے بھی میئر کی سیٹ کا مطالبہ کر سکتے تھے اور ڈاکہ تو ڈالا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ پیٹر مسلسل سڑک پر چلتا ہوا بول رہا تھا جبکہ ولی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مسکرا رہا تھا ۔
اگر اب تو نے مجھے جواب نہ دیا تو میں تیرے سے ناراض ہو جاؤں گا ۔ کل بھی تم نے نہیں بتایا کہ کون مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیٹر رک گیا تھا اس لئے مجبورا ولی کو بھی رکنا پڑا ۔
میری ماں لارڈ کی “محبوبہ” رہ چکی ہے اور تمہیں پتہ ہے محبوبہ “طوائف” ہی کیوں نہ ہو بندہ اس کی بات بغیر کسی دلیل کے مان لیتا ہے کیونکہ عقل اور سمجھ ایک طرف بندے کی “گندی عادتیں” ایک طرف یعنی “محبت” ولی نے زوردار قہقہ لگایا۔
اب لارڈ اپنی محبوبہ پر “منہ بولی” محبت کو ثابت کرنے کے لئے مجھے میئر کی سیٹ دلوائے گا ۔ اس کے ہمیں دو فائدے ہوں گے۔
1.پہلا (ولی نے شہادت کی انگلی اٹھائی ) ہمیں لارڈ کی غلامی نہیں کرنا پڑے گی۔
2.دوسرا (ولی نے دوسری انگلی اٹھائی) شوکت آؤٹ ہمیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔

تیسرا ۔۔۔۔۔ ہم خود سیاست میں اپنے قدم جمائے گے اور لارڈ کے “راز “حاصل کر کے اس سے پیسہ کمائیں گے ۔کیسا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ یہ ڈاکہ ہی ہے میری جان مگر “پڑھا لکھا” ولی نے پیٹر کے کندھے پر ہاتھ مارا ۔
تمہیں یقین ہے کہ لارڈ کے “راز” ہوںگا۔ پیٹر نے حیرت سے پوچھا
ہر انسان کے راز ہوتے ہیں مگر خطرناک راز وہ ہوتے ہیں جو وہ اپنے آپ سے بھی چھپاتا ہے ۔ہم وہ والے معلوم کریں گے پھر عیش ہی عیش ۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے کندھے اچکائے
زبردست ۔۔۔۔۔۔ یہ ہوئی بات۔۔۔۔ اب مزہ آئے گا۔۔۔۔۔۔ ولی ماننا پڑے گا تیرا دماغ ہے۔ پیٹر ، ولی کے کندھوں پر بازو پھیلا کر چل پڑا ۔
سیدھا ہو کر چل زیادہ” بندروں” کی طرح میرے ساتھ جھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تجھے خود ہی بتا دیتا ہوں کہ کون تجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولی کے جواب پر پیٹر شرمندہ سا ہو کر اپنا سر کھجانے لگا ۔
ایک بہت ہی پیاری سی لڑکی ہے بلکہ “پری” ہے۔ کل ملواتا ہوں۔ (ولی نے ایک نظر اپنی ارد گرد جلتی بجھتی روشنیوں کو دیکھا ) مجھے لندن کی شامیں ہمیشہ ہی سے بہت اچھی لگتی ہیں۔ جس پر پیٹر نے مسکرا کر کن انکھیوں سے ولی کو دیکھ کر پوچھا
ولی تجھے نہیں لگتا کہ تجھے محبت ہوتی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔؟
محبت مجھے مگر کس سے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ولی نے رک کر حیرت سے پوچھا
تیرا ہر وقت کا ہنسنا مسکرانا ظاہر کرتا ہے کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اور محبت کس سے ہے وہ تو تجھے ہی پتہ ہوگا۔ پیٹر نے جان بوجھ کر آئمہ کا نام نہیں دیا کہیں وہ برا نہ منا لے۔
تجھے پتا ہے کہ محبت کیا ہے۔۔۔۔۔؟ ولی نے الٹا سوال کیا
محبت ، محبت ہے کیا بتاؤں کیا ہے ۔۔۔۔؟؟؟؟ مجھے Marry بہت اچھی لگتی تھی میں اسے بہت مس کرتا ہوں اور بس۔۔۔۔۔۔ پیٹر نےکندھے اچکائے۔
میں بتاتا ہوں ۔محبت اصل میں کیا ہے۔۔۔۔؟ محبت کا مطلب ہے “دھوکا” جیسے کڑوی گولی کے اوپر میٹھی کوٹنگ کر دی جاتی ہے ۔ تاکہ وہ کڑوی نہ لگے۔ بالکل ایسے ہی دھوکے کے اوپر” محبت” کی کوٹنگ کردی جاتی ہے تاکہ لوگ اسے آسانی سے کھالیں۔
ایک عام سے انسان کو یہ کہنا کہ وہ بہت “خاص ” ہے بہت “خوبصورت “ہے اور اس جیسا دنیا میں کوئی دوسرا نہیں۔ پھر اس سے اپنا مطلب نکل جانے کے بعد جان چھڑانا ” دھوکا “عرف عام میں “محبت” ہے اور اللہ بچائے مجھے اس محبت سے ۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے دونوں ہاتھ اوپر کرتے بات ختم کی ۔
محبت سے تو لاکھ درجے اچھی چیز “دوستی” ہے۔ چاہے وہ کسی کمینے ، نکمے انسان سے ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے سر سے پاؤں تک پیٹر کو دیکھتے ہوئے آنکھ ماری جس پر وہ چیخ پڑا۔
تو نے مجھے کمینہ اور نکما کہا جبکہ ولی سنی ان سنی کرتا آگے چل پڑا ۔
🎀🎀🎀🎀
ولی بیڈ پر آنکھیں بند کیے آرام سے لیٹا ہوا لارڈ کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اب آگے کیا کرنا چاہیے……؟ جبکہ آئمہ” پاؤں جلی بلی” کی طرح پورے کمرے کے چکر بے چینی سے لگا رہی تھی.
آپ مجھ سے پوچھ کیوں نہیں رہے کہ میں یوں کمرے میں کیوں چکر لگا رہی ہوں…….. ؟ ولی کے نظر انداز کرنے پر بالآخر آئمہ نے زور سے کہا
میرے پاس ان فضول باتوں کے علاوہ بھی بہت کام ہیں. ویسے بھی کمرے میں چکر لگانا کوئی بری بات نہیں ہے. اب مجھے ڈسٹرب مت کرنا. ولی نے ایک تیکھی نظر آئمہ پر ڈالی اور دوبارہ بند آنکھوں سے میئر بننے کے خواب دیکھنے لگا
ہونہہ…… میں اتنی پریشان ہوں اور انھیں فکر ہی نہیں اب کیسے بتاؤں ……؟ کچھ دیر تک تو آئمہ ،ولی کو گھورتی رہی پھر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ولی کے برابر آ بیٹھی۔
سنیں ۔۔۔۔۔ میں بہت پریشان ہوں ۔۔۔۔۔ ؟ آئمہ نے آہستہ آواز میں پکارا ۔
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تو جب میں آپ سے پہلی دفعہ ملا تھا تب سے لے کر آج تک آپ پریشان ہی ہیں۔ ولی نے بند آنکھوں سے ہی جواب دیا اور آئمہ کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے۔
جب کچھ دیر تک مکمل خاموشی چھائی رہی تو ولی نے دل میں شکر ادا کیا۔ ” کہ لگتا ہے چلی گئی” اور آنکھیں کھولتے ہی جو منظر نظر آیا وہ ولی کو غصہ چڑھانے کے لئے کافی تھا ۔ آئمہ خاموشی سے ولی کے پاؤں میں بیٹھی رو رہی تھی۔
اب ایسا کیا ہوا ہے جس پر جناب کو اتنا رونا آرہا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ وہی ناگواری سے کہتا ہوں اٹھ بیٹھا ۔
یہی تو میں آپ کو بتانا چاہ رہی ہوں مگر آپ پتا نہیں کن خیالوں میں گم ہے آئمہ نے زکام زدہ آواز میں جواب دیا ۔(میں میئر بننے کا خواب دیکھ رہا تھا جیسے تم نے چکنا چور کر دیا ۔ ولی نے دل میں سوچتے ہوئے اسے پکارا)۔
اچھا ادھر آؤ میرے پاس اور بتاؤ کہ کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔؟ ولی کے نرم لہجے نے آئمہ کو ہمت دی اور وہ آنسو صاف کرتی ولی کے پہلو میں آ بیٹھی۔
وہ جو آپ نے مجھے رنگ گفٹ کی تھی نااااااا وہی ڈائمنڈ والی۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ میں نے برتن دھوتے وقت سنک پر رکھی تھی۔ اب مل نہیں رہی۔ پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے۔۔۔۔۔۔؟ میں صبح سے ڈھونڈ رہی ہوں۔ اپنی بات کے آخر میں وہ پھر رونے لگی۔
بس اتنی سی بات ۔۔۔۔۔۔ ولی نے پیار سے آئمہ کے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے پوچھا
آپ کو غصہ نہیں آیا کہ میں نے اتنی قیمتی انگوٹھی گم کردی ہے ۔آئمہ نے حیرت زدہ آنکھوں سے ولی کی نیلی آنکھوں میں دیکھا ۔
بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میری ایک بات یاد رکھو چیزیں اللہ نے انسانوں کے لیے بنائی ہیں۔ انسان چیزوں کے لئے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے ان کے گم ہونے پر پریشان کبھی مت ہونا ۔ایک چیز گم ہوگئی تو دوسری مل جائے گی ۔مگر انسان نہیں ملتے صرف ان کی قدر کرنی چاہیے ان کے لیے پریشان ہونا چاہیے۔
ایک رنگ کے گم ہونے پر تم نے اپنے اتنے قیمتی آنسو ضائع کیے مجھے بہت برا لگا ۔ دوسرا میں نے تمہیں وہ انگوٹھی دے دی تھی اب وہ تمہاری ہے۔ تم جو چاہے اس کے ساتھ سلوک کرو۔ سنبھال کر رکھوں یا گم کردو مجھے اس سے کچھ لینا دینا نہیں تم مجھے جوابدہ نہیں سمجھی۔ ۔۔۔۔۔۔
ولی کی باتوں نے آئمہ کے دل میں اس کی اہمیت اور محبت بہت بڑھا دی۔
آپ بہت اچھے ہیں بلکہ آپ تو “فرشتہ” ہیں. اتنی قیمتی انگوٹھی کے گم ہونے پر بھی مجھے کچھ نہیں کہا۔ شکریہ آئمہ نے گیلی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے ولی کو دیکھا
اگر تم واقعی ہی میرا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہو تو پلیز جہاں سے تمہیں پانی کی سپلائی آتی ہے اسے بند کر دو۔ مجھے اتنا پانی پسند نہیں اور تمہاری آنکھوں میں تو بالکل بھی نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ ولی نے پیار سے آئمہ کی دونوں آنکھوں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کیا ۔
چائے پیئے گے۔۔۔۔۔؟ آئمہ نے نرمی سے ولی کے ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے پوچھا
ہاں مگر پانی مت ڈالنا ۔ ولی کے کہنے پر وہ سر ہلاتی کمرے سے باہر چلی گئی۔
ولی نے گہرا سانس لیتے بند دروازے کو دیکھا جہاں سے ابھی ابھی آئمہ باہر گئی تھی اور دوسرے ہاتھ سے پینٹ کی جیب میں کچھ محسوس کیا ۔
آئمہ بی بی معافی چاہتا ہوں۔ مگر میں اتنی مہنگی انگوٹھی افورڈ نہیں کر سکتا ۔ایسا کرنا مجبوری تھی ورنہ تم میرا دماغ کھا تی رہتی “کہ مجھے ڈائمنڈ رنگ چاہیے”۔
اور میں فرشتہ ہوں یہ خوب کہا……….
🎀🎀🎀🎀
اللہ کا شکر ہے کہ بچے گھر واپس آ گئے ہیں ورنہ ہمارا گھر تو ان کے بغیر “سائیں سائیں” کر رہا تھا ۔دادی رقیہ نے بیا کا سر چومتے ہوئے پیار سے کہا جبکہ حارب باقیوں سے مل رہا تھا ۔
ہائے اللہ میرا بچہ کتنا کمزور ہوگیا ہے کیا ٹھیک سے کھاتا پیتا نہیں تھا ۔۔۔۔۔؟؟؟ ثنا بیگم نے حارب کو چومتے ہوئے ممتا سے چور لہجے میں کہا
توبہ کریں چچی کھانا تو اتنا کھاتا تھا کہ میرے حصے کا بھی سب کھا جاتا تھا۔ میں نے اس کے کھانے پینے، سونے جاگنے کا بہت خیال رکھا ہے۔ مگر جب پیپر دینے جاتا تھا تو وہاں تو میں نہیں جا سکتی تھی واپسی پر اتنی دیر لگا کر آتا تھا میں اکیلی ہوٹل میں ڈر جاتی تھی۔ اور یہ جناب فلم دیکھ کر لوٹتے تھے ۔بیا کے بیان پر گھر والوں کے ساتھ ساتھ حارب کا بھی پورا منہ کھل گیا ۔
بیا۔ ۔۔۔۔۔۔ حارب کے منہ سے بمشکل اتنا ہی نکلا
دیکھا اپ مجھے ڈانٹ رہا ہے کیوں گھر والوں کو بتا رہی ہو۔ میں سارا دن اکیلی کمرے میں پڑی رہتی تھی ۔قسم سے پھپھو اتنا ڈر لگتا تھا میرا تو وہاں دل ہی نہیں لگ رہا تھا ۔میں تو اسے روز کہتی تھی کہ ہم کب واپس گھر جائیں گے۔۔۔۔۔۔؟ بیا نے پیار سے سارہ پھپھو کو گلے لگاتے ہوئے کہا جبکہ حارب نے دل میں سوچا ( جناب ابھی بھی آنے کو تیار نہیں تھی زبردستی لایا ہوں توبہ یہ ڈرامے تو اس پر ختم ہیں۔ )
ہائے میری بچی مرجھا گئی ہے۔ کبھی اکیلی نہیں رہی ناااا۔ ۔۔۔۔ اب کرن بیگم بیا کو چوم رہی تھیں۔
حارب تمہیں شرم نہیں آتی ایسی حرکتیں کرتے ہوئے ۔ثنا بیگم دبا دبا سا حارب کو ڈانٹ رہی تھی اب اگر تمہارے ابو کو پتہ چلا تو وہ کتنا غصہ کریں گے ۔ انہیں راجہ فرخ کی فکر ہو رہی تھی۔
چھوڑیں امی میں سب دیکھ لوں گا۔ اسے تو عادت ہے جھوٹ بولنے کی۔ آپ بھی کس کی باتوں کو سیریس لے رہی ہیں۔ حارب نے ماں کوسہاتھ لگا کر تسلی دی۔
تم لوگ ادھر دادی اور پھپھو کے ساتھ بیٹھو۔ ہم تمہارے لئے گرماگرم گاجر کا حلوہ اور دودھ پتی بنا کر لاتے ہیں۔ بچوں کے تو چہرے ہی اتر گئے ہیں مجھے تو اسی لئے شہر پسند نہیں۔
کرن بیگم کہتی ہوئی کچن کی طرف چل پڑیں جبکہ ثنا بیگم نے ایک دفعہ پھر پیار سے حارب کے سر پہ ہاتھ پھیرا ۔
امی میں ٹھیک ہوں آپ بھی پریشان مت ہوں ۔ حارب نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر چوما
پھوپھو سچ سچ بتائیں آپ نے ہم دونوں میں سے کسی زیادہ یاد کیا۔۔۔۔۔۔؟ بیا نے بیٹھتے ہی سوال کیا
جب تمہیں جواب معلوم ہے تو ایسے سوال کیوں کر رہی ہو۔ حارب نے مسکرا کر پیا کو ٹوکا اور سارہ کی مشکل آسان کی ۔
مجھے تو معلوم ہے مگر تمہیں بھی تو معلوم ہونا چاہیے کہ میری اہمیت کیا ہے۔۔۔۔۔؟ بیا نے گردن اکڑائی۔
آئمہ کی کچھ خیر خبر ہے ۔۔۔۔۔ حارب نے اب کی بار سارہ کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔
ہاں ٹھیک ہے فون آتا رہتا ہے مگر ابھی تک اس کا دل نہیں لگا۔ ویسے کہہ رہی تھی کہ ولی اس کا بہت خیال رکھتا ہے لندن بھی گھمایا پھرایا ہے ۔ ہاں البتہ کل بہت پریشان تھی ۔ دادی رقیہ بتاتے ہوئے یکدم اداس ہو گئی۔
کیوں کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔ ؟ بیا نے چونک کر پوچھا
ولی نے اسے “ہیرے کی انگوٹھی” لے کر دی تھی جو اس سے گم ہو گئی ہے۔ لاپرواہی کی حد ہوتی ہے۔ وہ تو ولی بہت اچھا اور سلجھا ہوا بچہ ہے۔ کچھ نہیں کہا کوئی ساس نند گھر پر ہوتیں تو اسے بتاتیں۔ رقیہ بیگم نے تفصیل بتائی جبکہ بیا ہیرے کی انگوٹھی کا سن کر حارب کو گھورنے لگی ۔
چل بچے حارب تیری تو اب خیر نہیں۔۔۔۔۔۔ ولی تجھے اللہ پوچھے یہ انگریز اتنا مہنگا محبت کا تحفہ کیوں دیتے ہیں۔۔۔۔۔؟ حارب کے سر میں شدید درد شروع ہوگیا تھا جبکہ بیا کچھ سوچ رہی تھی ۔
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے