No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
بیا رزلٹ آگیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ تم فیل ہو گئی ہو……؟
زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے فیل اور میں ناممکن…..
چلو ٹھیک ہے لیکن میم نے جو پاس ہونے والی لڑکیوں کے نام بتائیں ہیں ان میں تیرا نام نہیں ہے.
تیرا نام ہے…..!!! بیا نے آبرو اچکا کر پوچھا
اگر تیرا نام نہیں ہے تو میرا نام کیسے ہو سکتا ہے…. ؟
مطلب ہم دونوں کا سٹیٹس ایک جیسا ہے پھر تو ٹینشن والی کوئی بات نہیں…..
بیا ابھی یہ بول ہی رہی تھی کہ حارب بائیک لے کر کالج کے گیٹ پر پہنچ گیا ۔
چلو جلدی کرو جلدی جلدی بائیک پر بیٹھو گرمی اتنی سخت ہے میں بہت تھک گیا ہوں بیا، آئمہ Harry up.
تم بالکل ڈیزل والی گاڑیوں کی طرح شور مچاتے ہو اور جسے تم بائیک کہتے ہو اصل میں یہ…..
بیا نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑا اور آئمہ کے ساتھ حارب کے پیچھے بیٹھ گئی۔
بی بی تمہارے بہت نخرے ہیں تو کوئی گاڑی لگا لو نا میری بھی جان چھوٹ جائے تم سے اور اس بائیک کی بھی حارب نے بائیک start کرتے ہوئے جواب دیا ۔
تمہاری جان چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں تو پیدا ہی تمہاری جان عذاب میں ڈالنے کے لیے ہوئی ہوں ہاں البتہ میں تمہاری بائیک کی جان جلدی چھوڑ دوں گی کیا یاد کرو گے….
یاد سے یاد آیا تم دونوں کا آج رزلٹ آنا تھا کیا بنا تم لوگوں کے رزلٹ کا….. ؟
کچھ بھی نہیں بننا کیا تھا یہ کوئی فائنل ایگزامز تو ہے نہیں….
بیا نے جھٹ سے جواب دیا جبکہ آئمہ نے پریشانی سے بیا کی طرف دیکھا۔
زیادہ باتوں کی جلیبیاں مت بناؤ سیدھی طرح بتاؤ کہ رزلٹ کیا آیا ہے ورنہ ابھی کے ابھی بائیک سے اتار دوں گا حارب نے گاؤں میں بائیک داخل کرتے ہوئے پوچھا.
بھائی رزلٹ کارڈ پر توفیل لکھا ہوا ہے اس سے پہلے کہ بیا جواب دیتی آئمہ نے ڈر کے مارے جلدی سے بول دیا۔
ویسے ایک مشورہ ہے بیا بی بی خاص آپ کے لئے، جس طرح آپ اپنی زبان کو قینچی کی طرح چلاتی ہیں اگر ایسے ہی قلم کو پیپر کے اوپر چلائیں تو یقین مانے ٹاپ کریں……
زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے میرے ساتھ ساتھ آپ کی یہ لاڈلی بہن بھی فیل ہوگئی ہے…….
بس یہ بھی آپ ہی کی مہربانیاں ہیں حارب نے ہنستے ہوئے بیا کو جواب دیا اتنی دیر میں وہ لوگ گھر پہنچ گئے.
آئمہ جلدی سے گھر کے اندر داخل ہو گئی جب کہ بیا گیٹ کھولتے ہوئے حارب کی طرف مڑی۔
مسٹر حارب اگر آپ نے دا جی کے سامنے میری ذرا بھی بےعزتی کرنے کی کوشش کی تو آپ کے حق میں اچھا نہیں ہوگا آپ سمجھتے ہیں ناااا میں کیا کہنا چاہ رہی ہو ۔۔۔۔؟
کمال کا شیطانی دماغ پایا ہے تم نے……. یقین مانو اتنا معصوم چہرہ ہے تمہارا…….. حارب نے بائیک اندر کرتے ہوئے بیا کو جواب دیا ۔
“شرارتی دماغ کے ساتھ معصوم چہرہ بھی ایک نعمت ہے اور الحَمْدُ ِلله میں اس نعمت سے مالا مال ہوں۔”
بیا کہتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی جبکہ حارب اس کی ڈٹھائی پر حیران رہ گیا۔
🎀🎀🎀
ولی میرے خیال سے ہم گھر کی بیک سائیڈ سے اندر داخل نہیں ہو سکتے چاروں طرف پولیس ہے بہت سخت سکیورٹی ہے کیا خیال ہے تیرا ۔۔۔۔؟
میرا کیا خیال ہے۔۔۔؟
آپ Marry کے گھر آتا جاتا تھے تو بتا کہاں سے اندر داخل ہوا جائے….؟
ولی نے چیلنج کرنے والے انداز میں پیٹر سن کو جواب دیا ۔
مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہی سیکورٹی بہت سخت ہے اندر خوب اندھیرا ہے کوئی پتہ نہیں چل رہا کھڑکی کہاں ہے اور دروازہ کہاں…..؟
پیٹر نے بے بسی سے ولی کی طرف دیکھا.
چل پھر واپس چلتے ہیں ولی نے کہتے ساتھ ہی واپسی کی طرف قدم بڑھا دئیے جبکہ پیٹر نے ایک بے بس سی نظر Marry کے گھر پر ڈالی اور وہ بھی مردہ قدموں کے ساتھ ولی کے پیچھے چل پڑا ۔
ولی اپنی دھن میں سیٹی بجاتا سڑک پر چلتا چلتا ایک دم رک گیا۔
اب تو منہ لٹکا کر کیوں چل رہا ہے تجھے تو اتنا بھی نہیں پتا کہ Marry کے گھر میں داخل کیسے ہونا ہے اور دعوے کرتا ہے تو محبت کے……!
محبت کا اس بات سے کیا تعلق ۔۔۔۔؟
پیٹرر کو حقیقت میں ولی کی بات بہت بری لگی وہ بے بسی سے زمین پر اپنے جاگرز کو رگڑنے لگا.
محبت میں لوگ پہاڑ کھود دیتے ہیں.، نہریں نکال دیتے ہیں، آگ میں کود پڑتے ہیں، بستی کی بستی جلا دیتے ہیں اور تجھے اتنا بھی نہیں پتا کہ Marry کے گھر میں داخل کیسے ہونا ہے بس تو صرف یہ جانتا ہے کہ اس کی قبر پہ بیٹھ کر بیوہ عورت کی طرح رونا کیسے ہے….. ؟
ولی بس کر دے بس کر یارررررر……. ؟
ولی نے ایک جاندار قہقہہ لگایا
یہ جو میرے پاؤں کے نیچے گٹر کا ڈھکنا تو دیکھ رہا ہے ناااا اس ڈھکن کو ہم اٹھائیں گے اس کے اندر گھس جائیں گے اور سیدھا Marry کے کمرے کی بیک سائیڈ پر جو لان ہے اس کے اندر سے نمودار ہوں گے بالکل ایسے جیسے بوتل سے جن نمودار ہوتا ہے کیا سمجھا…… ؟
تجھے یہ سب کیسے پتہ پیٹر نے خوشی اور تجسس کے ملے جلے لہجے میں پوچھا
میرا نام ولی ہے پیٹر نہیں اس لیے آپ کا سوال مسترد کیا جاتا ہے ٹارچ نکال اور اندر چل…..
🎀🎀🎀
کبھی کبھی انسان بہت مجبور ہوتا ہے جو کرنا چاہتا ہے کر نہیں سکتا اور جو کہنا چاہتا ہے کہہ نہیں سکتا.
جس کی وجہ سے اک طویل خاموشی اس کی ذات کا حصہ بن جاتی ہے اور اس کے وجود کے ساتھ سائے کی طرح ہم قدم چلتی ہے.
بعض حالات و واقعات ایسے ہوتے ہیں جن پر نہ بات کی جاسکتی ہے اور نہ کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے اور اس بات کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا جاتا ہے.
جس طرح غم کی رات طویل اور تاریک ہوتی ہے اسی طرح غلط فہمیاں اور رشتوں میں پڑ جانے والے شگاف اندھیری کھائیوں کی مانند ہوتے ہیں.
اگر کسی کو آواز دے کر پکارا جائے تو وہ آواز پلٹ کے دوبارہ ہم تک پہنچ جاتی ہے.
جہاں خلوص اور چاہت کی روشنی بھی اندھیرے میں غرق ہوجاتی ہے. ..!!
سارہ نے لکھتے ساتھ ہی اپنی ڈائری بند کی اور ہر رات کی طرح کمرے میں مکمل اندھیرا کر کے ماضی کی شمعیں روشن کر دیں.
🎀🎀🎀
