Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

چل اپنے یار کو فون کر کے پوچھ کہوہ منحوس کب لندن واپس آ رہا ہے….؟
پیٹر کے ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے ہوئے تھے اور آنکھیں زیادہ سونے کی وجہ سے سوجھی ہوئیں تھیں.
کسی نے اس کے منہ پر ٹھنڈا پانی کے چھنٹے مارے جس سے اس کا پورا منہ اور شرٹ گیلی ہوگی.
یاد رکھو ولی تمہارا بہت برا حشر کرے گا تم جانتے نہیں ہو ولی کو_ وہ انتہائی سفاک انسان ہے. پیٹر کی بات پر کسی نے زور دار قہقہہ لگایا جس میں بہت سے لوگوں نے اس کا ساتھ دیا اس سے پیٹر کو اس بات کا اندازہ ہوا کہ کمرے میں ایک سے زیادہ تعداد میں لوگ موجود ہیں لیکن آنکھوں میں پڑنے والی تیز روشنی کی وجہ سے وہ کچھ بھی دیکھنے اور سمجھنے سے قاصر تھا. یہ پکڑو فون اور پوچھو اس سے کہ وہ کب واپس آ رہا ہے….؟ تھوڑی دیر میں ایک فون پیٹر کے کان ساتھ لگایا گیا جس کے سپیکر سے ولی کی آواز آ رہی تھی. 🎀🎀🎀🎀 تھوڑی دیر میں مولوی صاحب آئمہ سے اجازت لے کر آگئے اور نکاح شروع ہوا. جیسے ہی ولی نے نکاح نامے پر سائن کیے مبارک ہو، مبارک ہو کی آوازیں گونجنے لگیں. چل یار اب تو ہمارا پکا رشتہ دار ہو گیا ہے اٹھ کے گلے مل. حارب نے خوشی سے ولی کا ہاتھ کھینچ کے اوپر کی طرف اٹھایا. پھر باری باری سب نے ولی کو گلے لگایا اور بہت ساری دعائیں دیں. ولی کو بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا حالانکہ وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا اسے ائمہ یا شادی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ اس وقت بہت خوشی محسوس کر رہا تھا اور اس کی یہ خوشی اس وقت پھیکی پڑی جب اس کا موبائل بجنے لگا اور پھر بچتا ہی چلا گیا. ہیلو پیٹرر کیسے ہو…؟ کہاں ہو….؟ کتنے دنوں سے فون کیوں نہیں کیا..؟ ولی نے کال اٹینڈ کرتے ہی سوالوں کی بوچھاڑ کر دی.
میں بالکل ٹھیک ہوں نہ چاہتے ہوئے بھی پیٹر کے منہ سے یہ الفاظ نکلے. تم کب واپس آرہے ہو…؟ میں تمہیں لینے آؤں گا بہت دن ہو گئے تیری شکل دیکھے ہوئے.
بس میری جان زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ اور لگے گا. اگلے ویک اینڈ پر ہم دونوں ایک ساتھ ہوں گے وہی ہمارا کیفیٹیریاوہی ٹیبل وہی دو کپ کافی کے!!! پتہ نہیں ولی خود کو تسلی دے رہا تھا یا پیٹر کو لیکن اس وقت دونوں کے درمیان صرف “احساس” تھا جو وہ دونوں “محسوس” کر سکتے تھے کوئی “تیسرا” نہیں. فون بند کرتے ہی ولی کے چہرے کے تاثرات یک لخت سخت ہو گئے اور اس نے کیٹ کو فون ملایا. مجھے بہت دکھ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے آفیسر کیٹ کہ آپ میں “انسانیت” نام کی کوئی چیز نہیں
“دوستی اور محبت” تو بہت دور کی بات ہے.
ایک کام کہا تھا تم سے اور وہ بھی تم سے نہیں ہو سکا اتنے دن ہو گئے ہیں.
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا کیٹ بول پڑی.
میں نے بھی یہی کہنا تھا کہ اتنے دن ہو گئے ہیں اور تم پاکستان میں کیا کر رہے ہو واپس کیوں نہیں آتے….؟؟ ؟
اتنا ہی دل لگ گیا ہے تو رہو پاکستان میں مگر یہاں پر جو تم “ادھورے کام” چھوڑ گئے ہو کم از کم ان کو تو پورا کر دو.
تمہیںMarry بھول گئی ہے، لارڈ بھول گیا ہے، جو لڑکی میرے حوالے کی ہے وہ بھی یاد نہیں، دوست مصیبت میں ہے، الیکشن سر پر ہیں میں اکیلی کیا کروںتم کام خراب کرو اور میں ٹھیک مسٹر ولی الرحمن یہ بھی “انسانیت، دوستی اور محبت” کے زمرے میں نہیں آتا.
کیٹ جو اتنے دنوں سے ولی کو مس کر رہی تھی اس کی طرف سے شکایت پر غصے میں آ گئی.
تم بے فکر رہو. مجھے اپنے کام ادھورے چھوڑنے کی عادت نہیں ہے اور مجھ سے آئندہ اس لہجے میں بات مت کرنا میں یہ لہجہ سننے کا عادی نہیں ہوں. تم پیٹر کو تلاش نہیں کر سکتی تو ٹھیک ہے مجھے خود ہی کچھ کرنا پڑے گا. ولی نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی.
کیٹ سے بات کرنے کے بعد ولی کا غصہ آسمان کو چھونے لگا اور ابھی تھوڑی دیر پہلے جو اردگرد کا ماحول بہت اچھا لگ رہا تھا وہی ماحول اب اسے تنگ کرنے لگا تھا اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اسے پیٹر پاس پہنچنا تھا جلد از جلد……
🎀🎀🎀🎀
مہمانوں کو کھانا کھلانے اور رخصت کرنے کے بعد اس وقت کمرے میں آئمہ اور ولی کے ساتھ گھر کے تمام افراد موجود تھے اور بہت ہی جذباتی سین چل رہا تھا.
سب آئمہ کے سر پہ ہاتھ رکھ کے دعائیں دے رہے تھے ثنا بیگم رو رہیں تھیں سارہ پھوپھو بھی اداس تھیں.
میرے خیال سے یہ لڑکی تمہاری بہن لگتی ہے تم بھی تو بھائی ہونے کا حق ادا کرو. بیا نے حارب کے کان میں سرگوشی کی.
تمہارے خیال سے مجھے ایسا کیا کرنا چاہیے جس سے میرے بھائی ہونےکا حق ادا ہو جائے.
ظاہری سی بات ہے تم بھی آگے جاؤ بہن کو اپنے ساتھ لگاؤ سر پر پیار دو
اور اپنے بہنوئی پر تھوڑا رعب ڈالو کہ اگر اس نے تمہاری بہن کو خوش نہ رکھا یا ذرا بھی تکلیف پہنچائی تو تم اس کی ٹانگیں توڑ ڈالو گے.
حارب نے بیا کی بات پر گھور کر اسے دیکھا.
میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ لوگوں کی امیدوں پر پورا اتر سکوں. لیکن ظاہری سی بات ہے میرے لیے یہ سب اتنا اچانک ہوا ہے کہ مجھے کچھ وقت لگ سکتا ہے امید ہے آپ اس سب میں میرا ساتھ دیں گے یقین مانے میں آج آپ سب لوگوں سے بہت” امپریس” ہوا ہوں میں آپ جیسا نہیں ہوں.
ولی نے کچھ ہچکچا تے ہوئے جملہ ادا کیا .
” دوسروں سے امپریس ہونا چھوڑ دیں کیوں کہ سامنے والے میں ایسا اضافی کچھ بھی نہیں ہے جو آپ کے اندر موجود نہیں. فرق بس اتنا ہے کہ وہ اپنے آپ سے واقف ہیں. اور آپ ابھی خود سے واقف نہیں”
اس سے پہلے کہ کوئی بڑا ولی کو “تسلی” دیتا یا اس کی “حوصلہ افزائی” کرتا ہے
بیا کی اس بات نے سب کو حیرت میں ڈال دیا.
بیا تمہاری آواز پتہ مجھے کیسی لگتی ہے
حارب نے غصے سے دانت پیستے ہوئے بیا کی طرف دیکھا. پتہ نہیں لیکن کوئی کہہ رہا تھا کہ” اس دنیا کے سارے ساز میری آواز کے سامنے بےاثر ٹھہرتے ہیں” بیا کی معنی خیز مسکراہٹ نے حارب کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیا. ویسے یہ بات اخلاق کے دائرے سے باہر ہے کسی کی باتیں چوری چوری سننا. آپ کی معلومات میں اضافے کے لئے عرض ہے کہ آپ اتنا آہستہ بولتے ہیں کہ دوسرے کمرے میں بیٹھا بندہ آپ کی بات آسانی سے سن سکتا ہے چوری نہیں کرنی پڑتی. اگر آپ لوگوں کو برا نہ لگے تو میں آئمہ سے تھوڑی دیر اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں. ولی نے جب دیکھا کہ سب کمرے موجود ہیں اور جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تو بالآخر بول پڑا اور امید کے عین مطابق سب نے “ہاں” میں سر ہلایا اور باری باری کمرے سے نکل گے. اس وقت کمرے میں بلا کی خاموشی تھی آئمہ اپنے دونوں ہاتھوں کو گھور رہی تھی اور ولی سامنے دیوار پر لگی پینٹنگ کو اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ یہ بات کیسے کہے کہ نہ تو آئمہ اسے پسند ہے اور نہ ہی وہ یہ شادی کرنا چاہتا تھا اور آئندہ وہ اس شادی کو جاری نہیں رکھ سکے گا. مطلب یہ کہ وہ جانے سے پہلے طلاق دے کر جائے گا.
مگر یہ سب وہ کیسے کہے یہ سمجھ سے باہر تھا
ابھی تھوڑی دیر پہلے جس کمرے میں شور ہنگامہ برپا تھا کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، خوشیاں تھی، قہقہے تھے، دعائیں تھی. اب وہاں ہو کا عالم تھا. اس خاموشی کو بالآخر آئمہ کی نرم آواز نے توڑا۔ آپ شاید مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں ۔۔۔؟ تقریبا زبردستی مسکراتے ہوئے آئمہ نے ولی کی طرف دیکھا. جی بالکل میں آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہ رہا ہوں امید ہے کہ آپ میری بات سمجھیں گئی ہم دونوں دو مختلف علاقوں، معاشروں کے رہنے والے ہیں آپ میری بات سمجھ رہی ہیں نااااا میں کیا کہہ رہا ہوں. ولی کو کنفیوز دیکھ کر آئمہ کی ہمت بڑھی. آپ پریشان نہ ہوں اور آرام سے کہیں جو بھی کہنا چاہتے ہیں. آپ یقین مانے میں ناراض نہیں ہوں گی. بہت شکریہ مجھے امید ہے کہ آپ میری فیلنگ سمجھیں گی. ولی کی بات پر ائمہ نے سر اٹھا کر ولی کی طرف دیکھا جو اب پہلے کی نسبت کم کنفیوز لگ رہا تھا. کچھ فیلنگز ایسی ہوتی ہیں جو صرف کسی خاص شخص کو دکھائی جاتی ہیں
جہاں پتہ ہوتا ہے غصہ کریں گے تو برداشت کیا جائے گا
ضد کریں گے تو مانی جائے گی روئیں گے تو چٌپ کرؤایا جائے گا پیار مانگیں گے تو بےتحاشا ملے گا آپکا چٌپ ہونا وہ خود بخود سمجھ جائے گا آپ کو بتانا نہيں پڑے گا اور جن رشتوں میں صرف چہرے پہ مٌسکراہٹ ہو کوئی ضد ، غصہ ، لڑائی نہ ہو وہ رشتے اچھے تو ہوتے ہیں پر خاص نہيں اور وہ خاص رشتہ خاص شخص کیساتھ ہی ہو سکتا ہے جذبات وہاں دکھائے جاتے ہیں جہاں فرق پڑتا ہو کسی کو اور…..
اور……
ولی نے انتہائی حیرت سے ائمہ کا ایک ایک لفظ سنا اور جب وہ “اور” پر اٹک گئی تو ولی نے دہرایا اور…..
” اور” وہ آئمہ کو یاد نہیں آرہا تھا کہ آگے بیا نے کیا کہا تھا. یہ باتیں آپ کو شادی سے کتنے دن پہلے بیا نے بتائیں تھیں……؟ ؟؟ ولی نے بغور آئمہ کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا تین دن پہلے….. کہتے ساتھ ہی آئمہ نے اپنی انگلیاں دانتوں میں لیں. ولی کا سوال اتنا اچانک تھا کہ آئمہ کو سمجھ نہیں آئی اور سچ اس کے منہ سے نکل گیا جبکہ ولی کا قہقہ کمرے میں گونجا. اب وہ بھی بتا دیں جو رہ گیا ہے میرا مطلب ہے کہ اور بیا نے آپ کو کیا کیا کہا تھا…..؟
یہی کہ اگر آپ مجھے طلاق دے کے جانا چاہتے ہیں تو جاسکتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے _ اگر آپ کو میں اچھی نہیں لگتی تو مجھے بھی آپ سے کوئی محبت نہیں ہے مجھے بھی آپ ذرا پسند نہیں ہیں میں بھی آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہیں ان ساری باتوں کے بعد اگر آپ کا ارادہ نہ بھی ہوا تو آپ مجھے طلاق دے دیں گے اس طرح آپ اپنے ملک میں خوش اور ہم اپنے میں. پیاری مسیز..!!! اب آپ میری بات غور سے سنیں یہ جو آپ کا “سافٹ ویئر ڈویلپر” ہے نااا یعنی “بیا” ان کو جا کر بتا دیں کہ اب “ہم” میں “آئمہ اور بیا” نہیں بلکہ “آئمہ اور ولی” آتے ہیں اور میرا ارادہ آپ کو طلاق دینے کا ہرگز نہیں ہے اتنی معصوم بیوی بھلا مجھے کہاں ملے گی اس لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں آپ کو اپنے ساتھ” لندن” لے کر جاؤں گا. کیا مگر بیانے تو کہا تھا کہ___آئمہ کی حالت دیکھنے کے لائق تھی. جبکہ ولی کو اپنی ہنسی دبانے مشکل ہو رہی تھی.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے