Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

تمہارا میرے اوپر بہت بڑا احسان ہے کہ تم نے مجھ جیسی پولیو کی مریض سے شادی کی جبکہ تمہیں کسی قسم کی کوئی کمی نہ تھی.
سارہ اب اگر تم نے یہ فضول بات دوبارہ دہرائی تو میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا.
ابراھیم نے مصنوعی غصہ سے سارہ کی طرف دیکھا جو گولڈن میرون کامدار فراک میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی.
میں نے تمہیں ہمیشہ اپنا بہت اچھا دوست مانا ہے کزن تو کبھی سمجھا ہی نہیں. ہم ہمیشہ دوست ہی رہیں گے میاں بیوی بننے کے بعد بھی…..
ابراھیم نے محبت سے سارہ کے نرم و ملائم ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا
مگر میری ایک شرط ہے…!!!
سارہ جو ابراھیم کی محبت بھری باتوں میں گم تھی لفظ ” شرط” پر چونک پڑی.
کیسی شرط…. ؟
اوہو سارہ بی بی آپ تو ایسے ڈر گئیں ہیں جیسے میں نے آپ سے آپ کی جان مانگ لینی ہے ریلیکس یاررررر…..
ابراھیم کے مسکرانے پر سارہ کی جان میں جان آئی مگر اس کا دل اسے کسی انہونی کی خبر دینے لگا.
بس تم اسے میری شرط سمجھو یا جو بھی مگر میں چاہتا ہوں کہ تم ایک اچھے دوست کی طرح ہمیشہ میرا ساتھ دو. میرے ہر فیصلے میں، چاہے میں غلط ہی کیوں نہ ہوں….؟
بابا کی تم بہت لاڈلی ہو اور آج کے بعد میری ہر بات تم ہی مجھے بابا سے منوا کر دو گی.
منظور……
ابراھیم نے مسکرا کر اپنا ہاتھ سارہ کے آگے پھیلایا.
تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا بس اتنی سی بات….
بے فکر رہو تمہیں جو بھی کام یا مسئلہ ہوا مجھے بتانا میں اپنے تایا جی کی بیٹی ہوں بہو نہیں…
وہ میری ہر بات مانتے ہیں.
سارہ نے بڑے مان سے ابراھیم کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا.
اور یہی میری سب سے بڑی غلطی تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ میری بدنصیبی یہیں سے شروع ہو گئی.
میں نے اپنی زندگی کے گزرے ہوۓ سالوں سے خاموش رہنا سیکھا ہے.
کوٸی دل دکھاۓ،خاموش ہو جاٶ، کوٸی آپ کے بارے میں غلط بات کرے،خاموش ہو جاٶ.
رونے کا دل چاہے،خاموش ہو جاٶ. ازیّت حدوں کو چھونے لگے،خاموش ہو جاٶ.
ماضی کے دکھ دن و رات کے کسی بھی پہر آپ کو رلائیں خاموش ہو جاٶ. کوٸی آپ کو آپ کی برداشت کی آخری حد تک ستاۓ،تب بھی خاموش ہو جاٶ.
قسم سے آپ کی اس خاموشی کا اجر آپ کو آپ کا رب ایسے عطا کرے گا کہ آپ کی آنکھیں تشّکر سے بھیگ جائیں گئیں.
آپ کا دل ان شکر کے سجدوں میں ہی کہیں رہ جاۓ گا اور اس لمحے آپ کو احساس ہو گا کہ خاموش ہو جانا کس قدر بہتر ہے گلہ و شکوہ کرنے سے…..
“خاموشی اتنی گہری ہونی چاہیئے، کہ ناقدری کرنے والوں کی چیخیں نکل جائیں”.
اور مجھے اپنے اللہ سے امید ہے کہ تمہاری چیخیں نکلتیں ہوں گی.
مگر اس سب کے باوجود میں تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں، تمہارے بارے میں جاننا چاہتی ہوں، کہاں ہو…؟ کیسے ہو…؟
بس……!!!
اس سے زیادہ جزباتی ڈائیلاگ میں نہیں پڑھ سکتی. میری تو بس ہو گئی ہے.
بیا نے سارہ پھپھو کی ڈائری بند کر کے دراز میں رکھی اور آئمہ کی طرف دیکھا. جو انتہائی دکھی نظر آ رہی تھی.
اب تمہیں کیا ہوا ہے…؟
اتنی دکھی شکل کیوں بنا رکھی ہے…؟
یار ماضی میں پھپھو ساتھ کتنی زیادتی ہوئی ہے..؟
کیا زیادتی ہوئی ہے زرا مجھے بھی تو پتا چلے…. ؟
بیا نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے آئمہ سے پوچھا
تم نے ابھی پڑھا تو ہے.
میں نے جو کچھ پڑھا ہے اُس میں کہیں بھی ایسا کچھ نہیں تھا جس کی بنا پر ہم کہہ سکیں کہ پھپھو ساتھ زیادتی ہوئی ہے.
ہاں البتہ مجھے صرف اتنی سمجھ آئی ہے کہ پھپھو اس ابراھیم کے چکر میں ابھی بھی پڑیں ہوئیں ہیں.
بقول شاعر…..
“جب دل سے اتر گئے تو کیا فرق پڑتا ہے.
اِدھر گے، اُدھر گے، یا مر گے”.
پھپھو نے ابھی تک اُس ابراھیم کو دفا نہیں کیا. مجھے اصل حیرت اس بات پر ہے…..
بیا تم پھپھو کے بارے میں ایسا سوچ رہی ہو.
آئمہ نے اپنی حیرت زرہ آنکھوں سے بیا کو دیکھا
زیادہ آنکھیں نہ دکھاؤ اور میں پھپھو کے بارے میں یہ بھی سوچ رہی ہوں کہ ہماری پھپھو جنھیں ہم آج تک نیک، شریف، صبر والی، اللہ والی سمجھتے آئے ہیں. ان سب صفات کے ساتھ ساتھ کتنی ” لیچڑ” ہیں.
ابھی تک اس شخص کے بارے میں سوچتی ہیں جو پتہ نہیں زندہ بھی ہو گا کہ نہیں اور شاید اُسے مرے ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا ہو گا….!!!
بیا کے منہ سے یہ جملہ نکلا ہی تھا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے کہا
کہیں وہ قبر ابراھیم کی تو نہیں……
🎀🎀🎀🎀
سناؤ کیا سنانا چاہتے ہو.
ولی کی بات پر پیٹر نے دلچسپی لیتے ہوئے کیٹ کی طرف دیکھا.
تم دونوں یہ بات تو جانتے ہو گے کہ مجھے اپنی ماں اور Marry دونوں سے ہی بہت نفرت ہے.
مگر تم دونوں کو یہ معلوم نہیں کہ اس نفرت کی وجہ کیا ہے….؟
کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ آج سے تقریباً 30 سال پہلے پاکستان سے ایک پڑھا لکھا اور زمیندار گھرانے کا لڑکا مستقل طور پر لندن مقیم ہونے کے لیے یہاں آیا.
گرین کارڈ حاصل کرنے کے چکر میں اس نے ایک انتہائی خوبصورت “کال گرل” سے شادی کر لی. جو کے انتہائی لالچی اور بدکردار تھی.
اس پاکستانی لڑکے نے اپنی عیاشیوں اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر برے کام میں اپنی سو کالڈ بیوی کا بھرپور ساتھ دیا.
اللہ اپنے بندے کی رسی دراز ضرور کرتا ہے مگر اسے چھوڑتا نہیں.
وقت گزرتا گیا دونوں ہی اپنی دھن میں مگن تھے کہ اچانک لڑکے کی دنیا ایک حادثے سے بدل گئی.
جب مصیبت آن پڑی تو اس خوبصورت کال گرل نے اس سے آنکھیں پھیر لیں کیونکہ اب وہ اس کے لیے فائدہ مند نہیں رہا تھا.
اسے اپنے گھر والوں کی شدت سے یاد ستانے لگی. مگر اب پچھتانے سے کچھ حاصل ہونے والا نہ تھا کیونکہ وقت بہت گزر چکا تھا.
اُدھر اس کال گرل نے اپنے دھندے کو جاری رکھتے ہوئے اپنی خوبصورتی کا خوب فائدہ اٹھایا اور بڑے بڑے لوگوں کو پھنسانے کا سلسلہ جاری رکھا.
اب اِسے خوش قسمتی کہیے یا بدقسمتی مگر ایک لارڈ کا دل اُس کال گرل پر آ گیا.
دونوں میں قربتیں دن بدن پڑھنے لگیں. ان قربتوں کے نتیجے میں وہی ہوا جو ہوتا ہے ان کے ہاں ایک بچی نے جنم لیا.
اتنا کہہ کر ولی نے ایک لمبا سانس خارج کیا. جبکہ پیٹر اور کیٹ دم بخود اسے دیکھ رہے تھے.
اب تم لوگ سوچ رہے ہو کہ اس کہانی کا Marry یا میری ماما سے کیا تعلق تو سنو…..
اس کہانی میں وہ جو پاکستان سے لڑکا آیا تھا وہ میرا باپ ” راجہ ابراھیم” ہے.
اور کال گرل میری ماں “ڈیانا” لارڈ جو میری ماں کا اسیر ہوا وہ “لارڈ کرس” اور ان کی جو بچی تھی وہ میری سوتیلی بہن اور پیٹر کی محبت ” Marry” ہے.
ولی کا جملہ جیسے ہی پورا ہوا پیٹر اور کیٹ ایکدم سکتہ میں آ گئے.
مگر تم نے کبھی……
پیٹر بمشکل اتنا ہی کہہ پایا.
مجھے اسی لیے Marry سے نفرت تھی کیونکہ وہ میری ماں کی طرح حرکتیں کرتی تھی میری کوئی بات نہیں سنتی تھی اور ایک وجہ جیلسی بھی تھی…..
ولی نے کافی کا سپ لیا جوکہ اب بلکل ٹھنڈی ہو چکی تھی.
جیلسی….!!
کیٹ نے لفظ دہرایا.
ہاں جیلسی….!!!
میری ماں نے مجھے کبھی پیار نہیں کیا کیونکہ اس کے خیال میں پاکستانی مرد احسان فراموش ہوتے ہیں اور میں بلکل اپنے باپ جیسا گھٹیا ہوں.
جبکہ Marry میں وہ ہمیشہ اپنا آپ دیکھتی تھیں اُسے لارڈ کی وجہ سے بھی بہت پیار کرتیں تھیں.
اب آتے ہیں Marry کے قتل کی طرف کہ اُسے کس نے اور کیوں قتل کیا…؟
کس نے قتل کیا…؟
پیٹر نے بےتاب ہوتے ہوئے پوچھا
لارڈ کے کہنے پر ڈینیل نے Marry کو قتل کیا. کیونکہ لالچی ماں کو جب کہیں سے بھی آمدن کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آ رہا تھا تو اُس نے لارڈ کو بلیک میل کرنے کا سوچا.
شروع میں لارڈ نے اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی کچھ خاندانی پراپرٹی اور زیور Marry کے نام کر دیے مگر جلد ہی اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا.
ڈیانا اور میری دن بدن اس کے لیے مشکلات کھڑی کر رہیں تھیں تو اُس نےاُن سے جان چھڑانے میں ہی عافیت سمجھی تاکہ الیکشن سے پہلے پہلے سارا معاملہ صاف ہو جائے.
کیسے قتل کیا…؟
کیٹ کے سوال پر ولی نے مسکرا کر اسے دیکھا
اصولاً یہ سوال تو مجھے تم سے پوچھنا چاہیے.
جہاں اتنی بکواس کی ہے تھوڑی اور کر دو.
کیٹ کے منہ بنانے پر ولی نے کھوکھلا قہقہ لگایا.
ہوا کچھ یوں کہ میں نے چند ماہ سے ڈیانا کو پیسے دینے بند کر دیے تھے کیونکہ وہ مجھے ہر وقت گالیاں نکالتی رہتی تھی اور ڈیڈ کا بھی خیال نہیں رکھتی تھی.
میرا خیال تھا وہ مجھ سے اس سلسلے میں بات کرے گی تو میں اپنے ڈیڈ اور اُس میں طلاق کا مطالبہ رکھ کر ڈیڈ کو اِس مصیبت سے نجات دلا دوں گا.
ویسے تو جو کچھ ڈیڈ نے کیا ہے ان کی سزا یہی بنتی ہے مگر پھر بھی…..
ولی نے دکھ سے یہ جملہ ادا کیا.
مگر میری سوچ کے برعکس میری ماں نے پیسوں کے لیے Marry کا سہارا لیا.
میں Marry کو سمجھانا چاہتا تھا کہ وہ پیٹر ساتھ ایک اچھی زندگی گزارے کیونکہ میں پیٹر کے جزبات سے بخوبی واقف تھا. میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اپنی ماں جیسی ذلت آمیززز زندگی گزارے.
اسی لیے میری اس سے اکثر بحث رہتی اور کلب والے سمجھتے کہ میں خامخواہ ہی اس سے لڑتا رہتا ہوں.
ہماری لڑائی کا ڈینیل نے خوب فائدہ اٹھایا اور کلب کے ممبرز کے ساتھ ساتھ تم لوگوں کے دلوں میں بھی میرے لیے نفرت کا بیج بو دیا.
جس دن اُس کا قتل ہوا میں اُس دن اُس سے ملنے اُس کے گھر گیا جیسے ہی میں نے گھر میں قدم رکھا تو ایک عجیب سے” بُو” نے میرا سر چکرا دیا………
🎀🎀🎀🎀