Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41

اللہ کی ذات کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم اپنے بچوں کی شادیوں سے خیروعافیت سے فارغ ہو گئے ہیں. داجی نے آگ سیکتے ہوئے کہا
ہاں یہ بات تو ہے کہ ہم نے اپنے سارے بچے بیاہ دیے ہیں مگر سب اتنی جلدی ہوا ہے کہ مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا. دادی رقیہ نے مسکراتے ہوئے سارہ کی طرف دیکھا.
اماں اسے اللہ کا احسان کہتے ہیں. سارہ نے ماں کی ٹانگیں دباتے ہوئے جواب دیا.
پتہ سارہ پتر……… بعض اوقات مجھے واضح سمجھ آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ میری پکار سنتے ہیں اور کسی نہ کسی وسیلے سے مجھے جواب دیتے ہیں میں اپنے رب کی نگاہ میں ہوں، یہ احساس بہت کمال ہے……مجھے آئمہ کی بہت فکر تھی دیکھ اللہ نے کیسے ہمیں ہمارے خون سے ملا دیا اور بچی کا گھر بھی بسا دیا.
یہ تو آپ سچ کہہ رہیں ہیں. اللہ بہت مہربان ہے بس ہم لوگ ناقص العقل ہیں اس کی حکمت کو سمجھ نہیں سکتے.
بے شک ایسا ہی ہے…. سارہ کی بات سنتے ہوئے کرن بیگم نے کہا وہ اس وقت کمرے میں چائے کی ٹرے اور ثنا بیگم گاجر کا حلوہ اٹھائیں داخل ہوئیں.
یہ کام تو تم دونوں نے بہت اچھا کیا ہے. اپنے شوہروں کو بھی بلا لاؤ. تاکہ بعد میں وہ مجھ سے گلہ نہ کریں کہ داجی آپ نے ہمیں پوچھا تک نہیں اور سارا حلوہ چٹ کر لیا.
وہ دونوں اپنے بیٹوں حارب اور ولی ساتھ کھیتوں کی طرف گئے ہیں. حالانکہ اتنی سردی ہے میں نے منع بھی کیا تھا مگر ولی ضد کر رہا تھا. ثنا بیگم نے سب کو حلوہ دیتے ہوئے بتایا.
یہ بات تو میں نے بھی نوٹ کی ہے کہ وہ بچہ ولی بہت ضدی ہے. بس ہماری آئمہ کا خیال رکھے باقی جو اس کی مرضی ہے کرے ہماری بلا سے…… دادی رقیہ نے حلوہ کی چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے ولی پر تبصرہ کیا.
یہ تو غلط بات ہے اپنی مرضی سے کیوں کرتا پھرے……. ہماری آئمہ کی مرضی سے کیوں نہ کرے جو بھی کرنا ہے. بیا نے دادی کا جملہ اچکا اور ساتھ ساتھ حلوہ بھی……
بیا شرم کرو اب بڑی ہو گئی ہو ایسی حرکتیں کرتی اچھی لگتی ہو. کرن بیگم نے آنکھیں دکھائیں.
ماما بس کریں ناااااااا…… ہر وقت ایک ہی ڈائیلاگ بولتی تھکتیں نہیں ہیں. بیا کے جواب پر سب ہنسنے لگے.
ویسے کبھی کبھی تم بڑے کام کی بات کرتی ہو سارہ پھپھو نے اس کے ہاتھ سے حلوہ کا ڈونگا لے کر چائے کا کپ دیا.
یہ کیا طریقہ ہے ابھی میں نے حلوہ صحیح سے کھایا ہی نہیں اور آپ نے چائے کا کپ دے دیا مطلب کے چائے پیو اور نکلو یہاں سے…… چائے پکڑتے ہوئے بیا نے کہا
ارے واہ بیا تم تو سچ مچ سمجھدار ہو گئی ہو. تم پر تو حارب کےبڑے “مثبت اثرات” پڑ رہے ہیں. سارہ پھپھو مسکرائیں.
ہاں مگر اس پر میرے “منفی اثرات” پڑ رہے ہیں. بیا کے جواب پر داجی مسکرائے.
بس کرو کیا ہر وقت میری بچی کے پیچھے پڑے رہتے ہو.
ہاں یاد آیا ہم تو یہاں ایک بات کرنے آئے تھے مگر آپ نے اتنا میلہ لگایا ہوا ہے کہ یہاں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں. بیا نے داجی کی بات مکمل ہوتے ہی آئمہ کی طرف دیکھ کر کہا
کہو نااااا کیا بات ہے یہاں کونسا کوئی غیر ہے سب اپنے ہی ہیں. کرن بیگم کو غصہ آیا.
ماما بندے کی کچھ ذاتی باتیں بھی ہوتیں ہیں خیر آپ نہیں سمجھیں گی ہم بعد میں داجی سے ڈسکس کر لیں گے ابھی ہم چلتے ہیں چائے پلانے اور حلوہ نہ دینے کا بہت شکریہ چلو آئمہ
بیا کے انداز پر سب ہی ہنس پڑے.
🎀🎀🎀🎀
چلو اب گھر چلتے ہیں بہت دیر ہو گئی ہے آج کے لیے اتنا کافی ہے. راجہ خرم نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ہاں میں بھی یہی کہنے لگا تھا چلو ولی اور حارب اب آ جاؤ. راجہ فرخ نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے دونوں کو آواز لگائی
ویسے میرے پاپا اور دادا کافی امیر تھے مجھے اب احساس ہو رہا ہے. ولی اور حارب جو کھیتوں کے درمیان میں کھڑے اپنی زمینوں کو دیکھ رہے تھے بلانے پر پگ ڈنڈی پر چھلانگ مار کرچڑھ گئے.
بیٹا جی ایسا ہی ہے اور اب یہ ساری زمینیں اور باغات تمہارے ہیں. میرے خیال سے تمہیں اب انھیں سنبھالنا چاہیے. آخر کب تک ہم ڈیوٹی دیں. راجہ فرخ نے پیار سے جواب دیا.
مجھے ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں جیسا پہلے چل رہا تھا ویسا ہی اب چلتا رہے گا میں اپنے ملک میں بہت خوش ہوں. ولی کے جواب پر راجہ فرخ کچھ اداس ہو گئے.
اتنے میں وہ چاروں چلتے ہوئے کھیتوں سے باہر آئے اور کھنڈر سے قریب……
آؤ حارب اندر چلتے ہیں. ولی نے جوش سے کہا
نہیں ابھی نہیں شام ہو رہی ہے ابھی فلحال صرف گھر، کل دیکھیں گے ویسے بھی اس میں دیکھنے والی کیا چیزززز ہے …..؟ ؟ ہر طرف گند بلا پھیلا ہوا ہے جھاڑیاں اگی ہوئی ہیں. راجہ خرم نے تنبہہ کی.
جو بھی ہے مجھے تو جانا ہے آپ کی مرضی مت آئیں. ولی نے کہتے ساتھ ہی ایک جگہ سے ٹوٹی ہوئی دیوار پھلانگی
یہ لڑکا…… راجہ فرخ اتنا ہی بولے تھے کہ راجہ خرم نے بازو دبا کے مزید بولنے سے روکا.
اب چاروں عمارت کے اندر تھے. چلیں انکل آپ مجھے بتائیں کہ جب یہ عمارت ٹھیک تھی تب کیسی تھی اور کہاں کیا تھا. ولی نے تجسس سے پوچھا
جس جگہ ہم موجود ہیں یہ “صحن” تھا اور اس کے چاروں طرف مختلف اقساط کے پھولوں کے پودے اور پھلوں کے درخت تھے. راجہ خرم ہاتھ کے اشارے سے بتاتے ہوئے آگے بڑھ گئے.
اور یہ، یہ نشان کیسا ہے….. ؟ ولی نے اپنے جوتے کی نوک سے ایک جگہ کو رگڑا.
یہاں پر پہلے “فوارہ” لگا ہوا تھا. راجہ فرخ نے خاصی بدلی سے جواب دیا.
زبردست….. ولی نے اپنے خیالوں میں اس حویلی نما گھر کے صحن کو آباد دیکھا
بیٹا یہاں پر برآمدے تھے تمام کمروں کے دروازے یہاں کھلتے تھے. اور اس جگہ ” باورچی خانہ” تھا. راجہ خرم سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ولی کو مطمئن کرنے لگے.
ہممممم…….. اچھا یہ بتائیں کہ یہاں کتنے لوگ رہتے تھے. ولی نے سوال پوچھا اور ساتھ ساتھ اردگرد نظریں گھمائیں جیسے کسی کو تلاش کر رہا ہوں.
زیادہ لوگ نہیں تھے بس تمہارے دادا، دادی اور پاپا……. راجہ خرم نے کہتے ساتھ ہی باہر کی طرف قدم بڑھائے جبکہ راجہ فرخ اور حارب پہلے ہی صحن میں موجود تھے.
یہاں کوئی لڑکی بھی رہتی تھی…..؟ ولی کے سوال نے سب کو منجمند کر دیا.وہ تینوں تقریباً سکتے میں چلے گئے جیسے سمجھ رہے ہوں کہ ولی نے کیا پوچھا ہے…… ؟
کیا ہوا میں نے کچھ انوکھا سوال پوچھا ہے….. ؟ولی نے چھٹکی بجائی
نہیں بیٹا وہ دراصل ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا مگر لوگ کہتے ہیں کہ یہاں کسی لڑکی کی روح بھٹکتی ہے آگے اللہ بہتر جانتا ہے. اللہ کی بہت ساری مخلوقات ہیں نوری بھی اور ناری بھی…… راجہ خرم پوری کوشش کر رہے تھے کہ ولی مطمئن ہو جائے.
میں یہ مکان دوبارہ بنوانا چاہتا ہوں بلکل ویسے ہی جیسا یہ تھا. ولی کہتے ہوئے اب راجہ خرم کے ساتھ باہر کی طرف چل پڑا.
یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ ابراھیم کا بیٹا باہر ہی رہتا ہے اگر یہاں رہا تو نہ خود زندہ رہے گا اور نہ ہمیں رہنے دے گا بےموت مروا دے گا…… راجہ فرخ آہستہ آواز میں بڑبڑائے جس پر ساتھ چلتا حارب مسکرا دیا.
🎀🎀🎀🎀
لندن میں اس وقت وقفے وقفے سے بارش جاری تھی. قبرستان میں سب لوگ اپنی اپنی چھتریاں لیے کھڑے تھے. ٹونی کو دفنایا جا رہا تھا. میئر کی حالت بہت خراب تھی جو ہر آنے والے سے ملنے کے بعد مزید خراب ہو رہی تھی.
پیچھے ہٹ جاؤ سب پیچھے ہو جاؤ لارڈ کے گاڈرز اور پولیس مین لارڈ کے لیے راستہ بنانے لگے.
ہمیں بہت افسوس ہے ٹونی کی موت کا. صبر کرو اور فکر نہ کرو……. ہم دیکھ لیں گے جس نے بھی یہ کام کیا ہے وہ بچ نہیں سکتا. لارڈ کے بیان پر جہاں میئر نے اپنا سر ہلایا وہیں لارڈ کے خاص آدمی نے نیچے منہ کر کے مسکرایا.
یہ منظر پیٹر بہت غور سے دیکھ رہا تھا. پھر آہستہ آہستہ سب لوگ اپنے گھروں کو لوٹنے لگے لارڈ بھی پانچ دس منٹ بعد چلا گیا. اب صرف میئر اس کے کچھ خاص بندے اور گھر کے چند افراد موجود تھے.
سر سب کام ہو گیا ہے میرے خیال سے اب ہمیں بھی چلنا چاہیے سردی بڑھتی جا رہی ہے. ٹونی کی قبر پر پھول ڈال کر میئر کے خاص آدمی نے اسے مخاطب کیا جو اس دنیا سے بے یاز اپنے بیٹے کی قبر کو گھور رہا تھا.
کچھ پل خاموشی سے گزر گئے پھر میئر تقریباً چیخنے والے انداز میں بولا
مجھے ٹونی کے قاتل ہر صورت چاہیں وہ بھی زندہ….. اور تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا پھر باری باری تمام گاڑیاں پانی کے چھینٹے اڑاتی گزر گئیں.
پیٹر کچھ دیر کھڑا ان گاڑیوں کو دیکھتا رہا پھر کچھ سوچ کر موبائل نکالا
ولی جو ابھی بھی اس کھنڈر کے بارے میں سوچتا اور راجہ خرم سے سوال جواب کرتا گھر پہنچا تھا. پیٹر کی کال پر مزید الجھ گیا.
ہیلو خیریت….؟ ولی نے کال اٹھاتے ہی پوچھا
ہاں خیریت ہے بس وہ تجھے ایک بات بتانا تھا.
ہاں بول سن رہا ہوں. ولی نے ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالا اور آسمان کی طرف دیکھنے لگا جہاں تارے چمک رہے تھے.
وہ میئر کے بیٹے کو کسی نے قتل کر دیا ہے. میں بھی اس کی تدفین میں شامل تھا بلکہ ابھی قبرستان کے باہر ہی کھڑا ہوں.
چلو قصہ تمام ہوا…….. پیٹر کی بات پر ولی نے ایک گہرا سانس لیا.
ولی تجھے زرا بھی حیرت نہیں ہوئی. پیٹر کو ولی کے اتنے نارمل ہونے پر حیرت تھی.
نہیں بلکل بھی نہیں…… اس میں حیران ہونے والی کیا بات ہے سب نے مرنا ہے وہ بھی مر گیا. ولی نے کندھے اچکائے
میئر کہہ رہا تھا کہ وہ ٹونی کے قاتلوں کو نہیں چھوڑے گا.
پیٹر وہ جو مرضی کر لے وہ انھیں کبھی بھی پکڑ نہیں سکتا یہ بات تو میری لکھ لے.
اور ہاں Marry کی قبر پر جا کر میری طرف سے پھول چڑھا دے میں نے وعدہ وفا کیا.
مطلب…… پیٹر نے بے یقینی سے ادھر اُدھر دیکھا کہ کہیں کوئی سن نہ لے
مطلب یہ کہ جو باتیں میں نے لارڈ کو بتائیں تھیں وہ ایک “بےغیرت انسان” کو “غیرت دلا” گئیں. دلچسپ ناااااااا……. ولی نے قہقہ لگایا.
ولی تو کیا چیزززز ہے قسم سے، میں نے تو ایسا کچھ سوچا بھی نہیں تھا. پیٹر نے بالوں میں ہاتھ پھیرا.
میں ایک گھٹیا نہیں بلکہ انتہائی گھٹیا، اول درجے کا کمینہ، خود غرض اور کرپٹ انسان ہوں سمجھے…….. چل فون بند کر مجھے بھوک لگی ہے.
ولی نے جیسے ہی کال بند کی اسے اپنے پیچھے سایہ سا محسوس ہوا اور وہ اپنی ایڑی پر گھوم گیا.
تم یہاں کیا کر رہی ہو اور کب سے کھڑی ہو….. آئمہ کو اپنے پیچھے دیکھ کر ولی کا دماغ گھوم گیا.
وہ میں آپ کو بلانے آئی تھی سب کھانے پر انتظار کر رہے ہیں.
مجھے بلانے آئی تھی اور میری باتیں سننے لگ گئی کتنی غیراخلاقی حرکت ہے. ولی اسے گھور رہا تھا
نہیں مجھے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آئی کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں……؟ آئمہ نے پریشانی سے ولی کی طرف دیکھا
کیوں تمہیں “انگلش” سمجھ نہیں آتی. ولی نے طنز کیا.
انگلش ہی تو نہیں آتی میری تو ہمیشہ انگلش میں سپلی آتی تھی اسی لیے میں نے FA سے آگے نہیں پڑھا. آئمہ نے شرمندگی سے سر جھکایا. جبکہ ولی کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا.
سیریسلی…….ولی نے بے یقینی سے پوچھا
بلکل سیریس…. آئمہ نے جھکے سر ساتھ ہی جواب دیا.
اووووو گاڈ…… کیٹ ہوتی تو اب تک میرا “ایکسرے” کر چکی ہوتی اور یہ پاگل سب سن کر بھی کہتی” نہیں سمجھ” آئی. ولی بیٹا تیرا گزارا کیسے ہو گا………….. ؟
چلو اندر چلتے ہیں باقی باتیں بعد میں….. ولی نے کہتے ساتھ آئمہ کو اندر چلنے کا اشارہ کیا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے.