No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
🌹یہ قسط ان تمام ریڈرز کے نام جنھوں نے مجھے لکھنے پر اکسایا اور میں یہ قسط لکھ سکی🌹
بیا کے جاتے ہی ولی کو نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا ابھی وہ پوری طرح سو نہیں پایا تھا کہ کسی نے اُس کے پاؤں کا انگوٹھا پکڑ کر جھنجھوڑا……
کروٹ لیتے ہی جو پہلا منظر ذہن کی سکرین پر ابھرا اور ولی کی آنکھوں نے دیکھا وہ کافی عجیب تھا.
کمرے میں ضرورت سے زیادہ اندھیرا تھا اور دروازے کے ساتھ ایک کالے لباس میں ملبوس لڑکی کھڑی تھی جس کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا.
ولی نے اسے اپنا وہم جانا اور سر جھٹک کر دوبارہ آنکھیں بند کی ابھی اُسے آنکھیں بند کیے ایک سیکنڈ ہی گزرا تھا کہ کسی لڑکی نے اسے پکارا.
ولی…. ولی… ولی الرحمان
تین دفعہ اپنا نام سننے کے بعد اب شک کی گنجائش باقی نہیں تھی.
ولی نے اپنی پوری آنکھیں کھول کر دوبارہ دروازے کی طرف دیکھا تو وہاں جُوں کی تُوں وہ لڑکی اب بھی کھڑی تھی.
کون ہو تم…؟
جیسے ہی ولی نے بیٹھتے ہوئے یہ سوال پوچھا وہ لڑکی دیکھتے ہی دیکھتے ولی کی آنکھوں کے سامنے غائب ہو گئی اور اس کے غائب ہوتے ہی کمرے کی روشنی بڑھ گئ.
یہ سب کیا ہے اور کیوں ہے وہ بھی میرے ساتھ….؟
ولی نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو نارمل کیا اور جلدی سے کمرے سے باہر نکل گیا.
باہر برآمدے میں دادی رقیہ اور پھپھو سارہ تخت پوش پر بیٹھیں کسی بات پر ہنس رہیں تھیں یوں عجلت میں ولی کو باہر آتا دیکھ کر اسے دیکھنے لگیں. جس پر وہ کچھ کھجل سا ہوا مگر دھیرے دھیرے چلتا ہوا ان کے پاس آ بیٹھا.
نیند پوری ہوئی میرے بیٹے کی…؟
دادی نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا.
(نیند تو ایسی پوری ہوئی ہے کہ اب سونے کی حسرت نہیں رہی کم از کم یہاں تو بلکل بھی نہیں) جی ہو گئی ہے. ولی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا.
اچھا ہے انسان کی نیند پوری ہو جائے تو وہ اچھا محسوس کرتا ہے.
پھپھو سارہ نے بھی اپنی امی کی تائید کی.
جی بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے.
مگر شکل سے تو نہیں لگ رہا مسٹر فرنگی…..
اس سے پہلے کہ پھپھو کچھ کہتیں بیا نے ولی کے جملہ کا جواب دیا جس پر ولی مسکرا اٹھا
میں آپ کی کمی محسوس کر رہا تھا.
سچ میں _ کھائیں قسم…؟ بیا نے پر جوش ہوتے ہوئے پوچھا جی بلکل مجھے آپ سے کچھ بات کرنا تھی. ولی نے دادی رقیہ اور پھپھو سارہ کی طرف دیکھ کر کہا . اب آپ دونوں نے بھی جو پوچھنا ہے پوچھ لیں کیونکہ مجھے آپ دونوں کے منہ پر “سوالیہ نشان” صاف نظر آ رہا ہے. بیا نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے دادی اور پھپھو کو ایک ساتھ دیکھا جس پر انھوں نے اسے گھورا. اگر آپ کو برا لگا تو میں معزرت خواہ ہوں. ولی نے مشرقی روایات کے پیش نظر اپنی بات پر معزرت چاہی. نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ تمہاری اپنی بہن ہے پوچھ لو جو پوچھنا ہے بھلا ہمیں کیا اعتراض ہو گا. دادی نے نظروں سے بیا کو تنبیہ کرتے ہوئے جواب دیا. جس پر بیا نے ایک زوردار قہقہ لگایا “بھلا اِنھیں کیا اعتراض ہو گا” اور جملہ دہرایا. ولی اور بیا چلتے ہوئے صحن میں گلاب کی کاریوں کے پاس آ رکے. ایک منٹ آپ زرا اس طرف کھڑے ہوں وہ کیا ہے ناااا مجھے بیک گراؤنڈ میں دادی اور پھپھو کو دیکھنا ہے. بیا نے شرارتی مسکراہٹ ساتھ ولی کو اپنی جگہ کھڑے ہونے کو کہا اور خود برآمدے میں موجود پھپھو سارہ اور دادی کی طرف منہ کر کہ کھڑی ہو گئی جو اُسے ہی دیکھ رہیں تھیں. جی پوچھیں کیا پوچھنا تھا…؟ بیا نے اب کی بار سنجیدہ ہوتے ہوئے سوال کیا. مجھے آپ کی بہن سے ملنا ہے. مگر میری تو کوئی “بہن” ہی نہیں ہے میں اکلوتی ہوں وہ کیا ہے ناااااا اصل میں مہنگائی بہت ہو گی ہے تو ہمارے پاکستان میں اب بچے کم ہی ہوتے ہیں. بیا نے ولی کی بات سمجھتے ہوئے ناسمجھی کا مظاہرہ کیا. میرا مطلب ہے مجھے دلہن سے ملنا ہے جس کا جمعہ کو نکاح ہے. جمعہ کو تو میرا بھی نکاح ہے میں بھی دلہن ہوں. اب کی بار بیا کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی جو پہلی بار ولی کو زہر لگی. مجھے آپ کی نند سے ملنا ہے. ولی نے چڑتے ہوئے کہا مگر میری تو کوئی “نند” نہیں کیونکہ میری شادی نہیں ہوئی تو “نند” کہاں سے آئی قسم سے میں سچ بول رہی ہوں بےشک گھر والوں سے پوچھ لیں. بیا کو مزا آ رہا تھا ولی کو تپانے میں……
مجھے اس لڑکی سے ملنا ہے جس کے ساتھ میرا نکاح ہے کیونکہ میں اس سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں.
آپ مجھ سے اس لڑکی کے بارے میں ” پوچھ” رہے ہیں یا “بتا” رہے ہیں. مجھے سمجھ نہیں آ رہی.
بعض لوگوں کا بات کرنے کا طریقہ اتنا عجیب ہوتا ہے کہ مجھے سمجھ ہی نہیں آتی کہ وہ پوچھ رہے ہیں یا بتا رہے ہیں. آپ بھی شاید انھی میں سے ایک ہیں.
بیا مجھے کم از کم آپ سے یہ امید نہیں تھی. ولی نے مایوس ہوتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا.
وہ اس وقت پیچھے جانوروں کے کمرے میں ہے آپ بات کر سکتے ہیں اور آپ کی معلومات میں اضافہ کے لیے عرض ہے کہ اس لڑکی کا نام ماں باپ نے “آئمہ” رکھا ہے.
برآمدے میں موجود پھپھو سارہ اور دادی رقیہ بیا کے سنجیدہ تاثرات سے پریشان ہو رہیں تھیں.
اللہ خیر کرے پتہ نہیں بچی سے کیا پوچھ رہا ہے بیا کی تو عادت ہی نہیں اتنا سنجیدہ ہونے کی، دادی رقیہ نے سارہ کی طرف فکر مندی سے دیکھا
مجھے بھی کافی پریشان لگ رہی ہے سارہ نے اماں کی حمایت کی.
🎀🎀🎀🎀
سمجھ میں نہیں آ رہا کہ پیٹر کہاں چلا گیا زمین کھا گئی یا آسمان مگر اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ مجھے یہاں ہونے کے باوجود نہیں پتہ کہ پیٹر کہاں ہے اور ولی کو پاکستان میں بیٹھے پتہ ہے کہ پیٹر خطرے میں ہے یہ کیا سٹوری ہے….؟
کیٹ ابھی خود سے ہی الجھ رہی تھی کہ اس کے موبائل نے بجنا شروع کر دیا.
ہیلو…..
انتہائی بےزاری سے کال اٹینڈ کی گئی.
اتنی بےزاری مس کیٹ آپ کو سجتی نہیں….
سپیکر سے ولی کی خلاف معمول خوشگوار آواز ابھری.
ولیولی تم بدل گئے ہو. کیٹ بس اتنا ہی کہہ پائی.
ہاں مجھے بھی لگتا ہے کہ میں بدل گیا ہوں کیونکہ پہلے تم مجھے دن میں دکھائی دیتی تھی مگر اب تو رات میں بھی نظر آتی ہو….؟
ولی کے ذہن پر اس کالے کپڑوں والی لڑکی کا عکس لہرایا.
مطلب…؟
کیٹ نے ناسمجھی سے پوچھا
مطلب یہ کہ تم نے ابھی تک کچھ نہیں کیا اور نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں پیٹر مل ہی نہیں رہا تو تم کیا کرو…..؟
ولی نے سرسوں کے کھیتوں ، نرم گرم دھوپ اور پیلے پھولوں سے لطف انداز ہوتے ہوئے جواب دیا.
تمہیں یہ سب کیسے پتہ…؟
اب کی بار کیٹ واقعی ہی حیران تھی.
کیٹ سچ سچ بتا دوں تم کسی کو بتاؤ گی تو نہیں…؟
ولی نے دوستانہ لہجے میں پوچھا
بلکل بھی نہیں تم بتاؤ ناااا کیسے تمہیں سب پتہ چلا.
کیٹ کی سنجیدگی کو نوٹ کرتے ہوئے ولی نے اپنی ہنسی دبائی.
وہ کیا ہے نااااا جب سے میں یہاں آیا ہوں تب سے مجھ پر ایک روح عاشق ہوگئی ہے بس وہی سب بتاتی ہے.
ساتھ ہی ولی نے کھیتوں کے پار کھنڈر پر نظر دوڑائی.
ولی مجھے لگتا ہے کہ تم پاکستان جا کر پاگل ہو گئی ہو بات بے بات ہنستے ہو، مذاق کرتے ہو جبکہ تم ایسے تو نہیں تھے…..
کیٹ کو فکر ہوئی.
ہممممم…… ٹھیک کہا تم نے میں یہاں آ کر سچ مچ بدل گیا ہوں. یہاں کے لوگ بہت سادہ ہیں یا کم از کم ہماری طرح نہیں ہیں.
واپس کب آ رہے ہو…؟ کیٹ نے اپنی بےچینی چھپاتے ہوئے پوچھا
ابھی کچھ پتہ نہیں، لیکن میں تمہیں ایک میسج کر رہا ہوں اسے غور سے پڑھنا اور اگر تمہیں سمجھ آ جائے تو جواب میں ” رونگ نمبر” لکھ کر سینڈ کر دینا. اب کی بار ولی کا انداز بلکل روکھا اور سخت تھا جیسے وہ ہوا کرتا تھا. مذاق کی کوئی رمق نہیں تھی.
یہ کیا بات ہوئی….؟
کیٹ کو پل پل بدلتا ولی پریشان کر رہا تھا.
جتنا کہا ہے مہربانی فرما کر اتنا ہی کرو زیادہ سوال مت پوچھو مجھے پسند نہیں.
اتنا کہہ کر ولی نے فون بند کر دیا جبکہ کیٹ منہ لٹکا کر میسج کا انتظار کرنے لگی.
🎀🎀🎀🎀
حارب تم کہاں ہو کتنے دنوں سے میں نے تمہارا یہ خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا…… ؟؟؟
حارب جو اپنی بائیک کھڑی کر رہا تھا بیا کی بات پر چونکا پڑا.
ایسے کیوں دیکھ رہے ہو کیا تم خوبصورت نہیں یا میں تمہاری تعریف نہیں کر سکتی….. ؟؟؟ خیریت ہے طبیعت تو تھیک ہے سردی وردی تو نہیں لگ گی….؟ حارب بائیک کھڑی کرنے کے بعد اس ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا. بس یہی مسئلہ ہے تمہارے ساتھ، عزت تو تمہیں راس ہی نہیں آتی. ویسے اس میں تمہارا قصور نہیں ہے تمہاری جگہ کوئی اور بھی ہو تو ایسے ہی کرے. اپنی بات کے آخر میں بیا نے حارب کی طرف ہمدردی سے دیکھا کیا مطلب ہے ایسے ہی…..؟ مطلب یہ کہ جس انسان کی ہر وقت بےعزتی ہوتی رہے اسے اگر کوئی بہت پیاری خوبصورت لڑکی لفٹ کرائے تو اس کا حیران ہونا بنتا ہے. رشک آتا ہے مجھے تمہاری قسمت پر کہاں تم واجبی سی شکل صورت والے عام سے لڑکے اور کہاں میں انتہائی بلکہ شدید خوبصورت لڑکی، کوئی جوڑ نہیں دور تک بلکہ بہت دور تک بیا نے افسوس سے سر ہلایا.
بیا جی __ زرا صبر سے کام لیں جس دن میرا سی ایس ایس ہو گیا ناااا تو تم جیسیوں کی لائن لگ جانی ہے.
حارب نے مسکراتے ہوئے اپنے دونوں بازو سینے پر باندھے.
سی ایس ایس کا تو پتہ نہیں کب ہوتا ہے کب نہیں_ مگر جمعہ کو ہمارا نکاح ہے جس پر تم نے چپ چاپ سائن کر دینے ہیں زیادہ تماشا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے.بیا نے شہادت کی انگلی سے وارننگ دی. تم مجھے دھمکی دے رہی ہو اور تمہیں کس نے کہا کہ ہمارا نکاح ہے….؟ میرے اتنے نصیب کہاں کہ کوئی مجھ سے کہے (بیا نے سرد آہ بھری) میں تم سے کہہ رہی ہوں اور ہاں میں تمہیں دھمکی نہیں دے رہی بلکہ ہراساں کر رہی ہوں. بیا نے قہقہ لگایا جس پر حارب نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا. اتنی جلدی بھی کیا ہے میں چاہتا ہوں پہلے کیرئیر بناؤ، پھر شہر میں بڑا سا گھر، اس کے بعد ایک اچھی سی گاڑی اور پھر شادی اب دونوں صحن سے گزر کر برآمدے میں داخل ہو رہے تھے.
میرے خیال سے مسٹر حارب بندے کو شادی ایسے وقت میں کرنی چاہیے جب “مہندی صرف ہاتھ” پر ہی لگے.
مگر آپ کی سوچ کے مطلب اگر ہماری شادی ہوئی تو مہندی ہاتھ کے ساتھ ساتھ سر پر بھی لگے گی.
بیا کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ حارب کھڑا اس کی بات سمجھنے لگا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے
