No Download Link
Rate this Novel
Episode 40
تم اور یہاں مجھے یقین ہی نہیں آ رہا کہ تم خود چل کر میرے آفس آئی ہو “خیریت” تو ہے ناااااا…….. سب ٹھیک تو ہے ولی کہاں ہے….. ؟؟
ڈیوڈ نے اپنے آفس میں ڈیانا کو دیکھتے ہوئے پریشانی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات میں پوچھا
تمہارا آفس بالکل ویسا ہی ہے جیسا پہلے ہوا کرتا تھا فرق صرف یہ پڑا ہے کہ اب تم “بوڑھے” ہو گئے ہو. ڈیانا نے مسکرا تے ہوئے ڈیوڈ کو جواب دیا اور خود ایک طائرانہ نظر پورے آفس پر ڈالی.
ہاں وہ تو ہے مگر تم کھڑی کیوں ہو بیٹھو ناااا اور بتاؤ کہ کیا لو گی…… ؟؟
فی الحال تو میں یہاں کچھ پینے پلانے نہیں آئی بلکہ ولی کے بارے میں بات کرنے آئی ہوں.
ڈیانا کے جواب پر ڈیوڈ کا جوہاتھ انٹرکام کی طرف بڑھ رہا تھا وہ رک گیا اور اس نے چونک کر پوچھا ” خیریت”
ہے بھی اور نہیں بھی…….. دیکھو تم شروع سے ولی کو بہت اچھے سے جانتے ہو اور ولی تمہیں مگر مجھے آج کل وہ کچھ بدلا بدلا سا لگ رہا ہے.
پہلے تو پھر بھی ہفتے میں ایک آدھ بار گھر کا چکر ضرور لگا لیتا تھا. مجھ سے لڑتا جھگڑا اور شور کرتا تھا.
مگر اب تو وہ کتنے کتنے دن غائب ہو جاتا ہے اپنی شکل ہی نہیں دکھاتا تمہیں تو پتا ہو گا کہ وہ آج کل کہاں ہے اور کیا کرتا پھر رہا ہے…… ؟
ڈیانا کی بات پر ڈیوڈ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا. (مطلب ڈیانا کو ولی کی شادی اور اس کے پاکستان جانے کے بارے میں کچھ پتہ نہیں) اُس نے دل میں سوچا.
ہممممم…… یہاں پر ہی ہے. بس کچھ دنوں کے لیے ذرا شہر سے باہر گیا ہوا ہے. تم پریشان نہ ہو. وہ واپس آتا ہے تو میں اُسے تمہارے پاس بھیجوں گا. اب تم بالکل مطمئن ہو جاؤ اور بتاؤ کہ کیا لو گی……؟ ڈیوڈ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دنیا جہان کی چیزیں ڈیانا کے سامنے لا کر رکھ دے .
نہیں پھر کبھی سہی اب میں چلتی ہوں لیکن ولی آیا تو اسے پلیززز گھر بھیجنا.
بیٹھو تو سہی اتنے عرصے بعد آئی ہو بیٹھ کے باتیں کرتے ہیں اور کچھ نہیں تو کچھ وقت تمہارے ساتھ گزار کر میں اپنی جوانی کے دنوں کو یاد کر کے انجوائے کرنا چاہتا ہوں.
مگر میں اس وقت “انجوائے” کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں. بہت معذرت………. ڈیانا کہتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھ گئی مگر پھر کچھ سوچ کر رکی.
ہم بہت جلد دوبارہ ملیں گے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اب ہمیں ملتے رہنا چاہیے اپنا خیال رکھنا.
ڈیانا کی بات پر ڈیوڈ ایک لمحہ کے لیے ماضی میں چلا گیا جب وہ اس کا بہت خیال رکھا کرتی تھیں اور وہ روز ملا کرتے تھے.
کاش وہ دن واپس آ سکتے یا کوئی ایسی ٹائم مشین ہو جس سے وقت کو ریورس کیا جاسکے وہ ڈیانا کی طرف الوداع مسکراہٹ اچھالتا ہوا سوچنے لگا.
🎀🎀🎀🎀
آج حارب اور بیا کا ولیمہ تھا۔ گھر میں کافی گہما گہمی تھی بیا کی فرمائش کے مطابق “حلوہ پوری اور چنے اچار” ناشتے میں خاص طور پر بنے تھے.
ولی نے ایک نظر اپنے سامنے پڑے ہوئے ناشتے پر ڈالی اور دوسری باقی سب پر…..
پھر گلہ صاف کرکے ایک نوالہ لگایا لیکن جیسے ہی ولی نے ایک نوالہ چنوں کے ساتھ منہ میں ڈالا اسے کھانسی شروع ہوگئی اور آنکھوں سے پانی بہنے لگا.
پانی……. آئمہ نے پانی کا گلاس ولی کے آگے کیا جو اس کے بالکل برابر والی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی.
بیا نے یہ سین بہت غور سے دیکھا اور حارب کو کہنی ماری دیکھو ایسے خیال کرتے ہیں. تمہیں میرا ذرا خیال نہیں اپنی پلیٹ بھر لی ہے میری پلیٹ میں بھی تو کچھ ڈالو ناااااا تاکہ گھر والوں کو پتہ چلے تمہیں مجھ سے محبت ہے.
میرے خیال سے تمہارے پلیٹ میں مزید کچھ ڈالنے کی گنجائش باقی نہیں ہے. حارب نے سرگوشی کی.
زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے. میں نے دو دن سے کھانا نہیں کھایا اور اب تم کیا چاہتے ہو میں شادی کے بعد بھی نہ کھاؤں بھوکی مر جاؤں.
نہیں جی مریں تمہارے دشمن….. حارب نے فوراً لقمہ دیا.
اللہ نہ کرے….. میں نہیں چاہتی کہ میں اتنی جلدی ” بیوہ” ہو جاؤں ابھی تو میرا ولیمہ بھی نہیں ہوا. بیا نے ذومعنی مسکراہٹ چہرے پر سجائی.
بیٹا تم آرام سے بیٹھو تمہیں بہو کچھ ہلکا پھلکا بنا دیتی ہے. دادی رقیہ کو ولی کی حالت پر ترس آیا. جس کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں.
نہیں بس ٹھیک ہے میں دو سلائس جیم ساتھ لے لیتا ہوں. ولی نے کہتے ہوئے بریڈ کی طرف ہاتھ بڑھایا.
میں سوچ رہی ہوں آپ کا کیا بنے گا……؟ ہماری آئمہ تو بڑے چٹ پٹے کھانے کھاتی ہے. سارہ پھپھو نے مسکرا کر ولی کی طرف دیکھا.
حالانکہ پھپھو آپ کو میری فکر کرنی چاہیے کہ” میرا اب کیا بنے گا”…..؟ حارب کی بات پر سب نے قہقے لگائے اور بیا نے زور سے حارب کے پاؤں پر اپنا پاؤں مارا.
اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے بچوں کو ایسے ہی ہنستا مسکراتا رکھنا. داجی نے سب کے مسکراتے چہروں کی طرف دیکھ کر دعا مانگی جس پر سب نے آمین کہا
🎀🎀🎀🎀
آئمہ نے آج بیا کے ولیمے پر سبز رنگ کا باریک موتیوں کے کام والا فراک پہنا تھا جس کے ساتھ سلور چوڑی دار پجامہ اور سبز جالی کا دوپٹہ تھا. اس نے خاص طور پر ساتھ کھوسہ لیے تھے کانوں میں سلور جھمکے جن کے نیچے سبز موتی لٹک رہے تھے پہنے اور ہلکے میک اپ ساتھ خود کو آئینے میں دیکھا اور اپنی چوائس کی داد دی.
حارب بلیک تھری پیس سوٹ میں “سوٹڈ بوٹڈ” تھا جبکہ آج بیا نے ٹی پنک کلر کا ہیوی کامدار کرتا پجامہ پہنا ہوا تھا. نفیس جیولری اور میک اپ نے اسے ایک پری کا روپ دے دیا تھا بلاشبہ آج یہ جوڑی نظر لگنے کی حد تک بہت پیاری لگ رہی تھی.
آئمہ نے اسٹیج پر جا کر اپنے بھائی کی نظر اتاری اور ساتھ میں بیا کی بھی…..
تم دونوں کو اللہ بری نظر سے بچائے قسم سے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت پیارے لگ رہے ہو. ایسا لگتا ہے جیسے تمہاری جوڑی “چاند سورج” کی ہے.
شکریہ مگر اس میں چاند میں ہوں. بیا کے جواب پر آئمہ اور حارب مسکرا دیے.
مجھے آج یقین ہو گیا ہے کہ تم پکی پاکستانی ہو تمہیں اتنی محبت اپنے ملک سے ہے میں نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا.بیا کی بات پر آئمہ کو حیرت ہوئی.
یہ کونسا موقع ہے ایسی باتوں کا……؟ آئمہ نے منہ بنایا
یہی تو میں پوچھنے والی تھی کہ یہ کونسا موقع ہے جھنڈا بن کر پھرنے کا….. بی بی تیرے بھائی کی شادی ہے چودہ اگست نہیں…. اپنی بات کے آخر میں بیا خوب ہنسی مگر آئمہ کا چہرہ اتر گیا. تھوڑی دیر پہلے والی فلینگ ختم ہو گئی اور وہ اداس چہرے ساتھ اسٹیج سے نیچے اتر گئی.
ہر وقت کا مذاق اچھا نہیں ہوتا کتنی بری بات ہے تم نے اسے ناراض کر دیا. حارب کو آئمہ کا یوں جانا بہت برا لگا.
زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں نے مذاق نہیں کیا میں بلکل سیریس ہوں. میں نے اسے منع بھی کیا تھا کہ یہ فراک مت لو اور اگر لینا ہی ہے تو کم از کم یہ رنگ مت لو کتنا عجیب لگ رہا ہے……. بیا نے حارب کو جواب دیا.
شٹ اپ بیا…. شرم تو تمہیں آتی ہی نہیں ہے. اس سے پہلے وہ دونوں مزید الجھتے داجی نے اسٹیج پر قدم رکھا تو دونوں کو مجبوراً خاموش ہونا پڑا.
آئمہ اس وقت سب سے آخری ٹیبلز میں سے ایک پر بیٹھی اپنی آنکھیں صاف کر رہی تھی. دل ایکدم بجھ گیا تھا. میں بلکل بھی پیاری نہیں ہوں اور نہ ہی میری چوائس….. اگر میں بیا کی بات مان جاتی تو آج میرا ڈریس سب کو ہی اچھا لگتا.
پتہ نہیں کیوں میں نے یہ رنگ لیا…….. ؟؟؟ایک ہی بھائی ہے میرا، سوچا تھا اس کے ولیمے پر میں سب سے اچھا تیار ہوں گی مگر سب غلط ہو گیا…….. سر جھکائے وہ اپنے اردگرد سے بے نیاز اپنے آپ کو برا بھلا کہنے میں مصروف تھی جب کسی نے چابی سے ٹیبل بجایا.
آپ شاید رو رہی ہیں……؟ ولی نے کہتے ہوئی آئمہ کے برابر پڑی کرسی اپنی طرف کھینچی.
دراز قد، نیلی آنکھیں، گورا رنگ اس پر رائل بلیو تھری پیس سوٹ……. یہ بھی اتنا پیارا ہے اور میں سانولی سی بےوقوف جسے کپڑے پہننے کا ڈھنگ بھی نہیں……. ہماری جوڑی کتنی عجیب ہے جبکہ بیا کی……. اس سے پہلے کے آئمہ ولی کو دیکھ کر مزید احساس کمتری کا شکار ہوتی ولی نے اسے ٹوکا
آپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہیں کیا ہوا ہے…… ؟ اب وہ کرسی پر بلکل آئمہ کے مدمقابل بیٹھ چکا تھا.
کچھ نہیں ہوا……. آئمہ نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کمزور آواز میں جواب دیا.
اچھا پانی پیئں گئیں……. ؟ ولی نے پوچھتے ساتھ ہی ٹیبل پر پڑا جگ اٹھا کر اس سے گلاس میں پانی ڈالا
نہیں مجھے پیاس نہیں ہے…. آئمہ نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا.
مگر مجھے تو بہت زور کی بھوک لگی ہے. ولی نے مسکین سی شکل بنائی.
تو آپ کھانا کھائیں. آپ کو کس نے منع کیا ہے اتنی زیادہ اور مختلف قسم کے کھانوں کی ورائٹی موجود ہے. آئمہ نے ہال کے دونوں طرف لگے کھانوں کے ٹیبلز کی طرف اشارہ کیا.
سوری مگر مجھے آپ لوگوں کے کھانے ہضم نہیں ہوتے بہت سپائسی ہوتے ہیں صبح میں نے تجربہ کیا تھا لیکن کامیاب نہ ہو سکا…… ولی کے جواب پر آئمہ کو ناشتہ یاد آ گیا اور وہ ہنس پڑی.
ہاں اب دل کر رہا ہے کچھ کھانے کو………. ولی نے کورٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا جس کا مطلب سمجھتے ہوئے آئمہ کچھ شرمندہ سی ہوئی.
سب کھانوں میں اتنی مرچ نہیں ہوتی ویسے آپ چائینززز کھا لیں حارب بھائی نے خاص طور پر اپنے شہر کے دوستوں کے لیے بنوائے ہیں. بلکہ آپ بیٹھیں میں لاتی ہوں. آئمہ کہہ کر اٹھنے لگی جب ولی نے اس کا ہاتھ پکڑا.
آپ بیٹھیں ویٹر کس مرض کی دوا ہیں ویسے بھی میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہ رہا ہوں. ولی نے کہتے ساتھ آئمہ کا ہاتھ چھوڑ دیا اور ویٹر کو بلا کر کھانا لانے کو کہا
آئمہ میں تمہیں اپنے بارے میں کچھ باتیں بتانا چاہتا ہوں میں نہیں چاہتا کہ تم میرے بارے میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی کا شکار ہو.
میری زندگی تم لوگوں کی طرح نہیں ہے یا دوسرے الفاظ میں، میں ایسا نہیں ہوں جیسے تم لوگ ہو.
مجھے والدین کی کی طرف سے عجیب سا ماحول ملا تم لوگوں کی طرح میں محبت، ناز نخروں میں پل کے جوان نہیں ہوا ہوں.
آئمہ اس وقت چپ چاپ ولی کی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ ولی ٹیبل کے کناروں پر انگلیاں پھیر رہا تھا شاید وہ اپنی بات آسان سے آسان انداز میں کہنے کے لیے لفظ جو رہا تھا ۔
آپ کہیں میں آپ کی بات سن رہی ہو……. آئمہ نے جب ولی کو کافی دیر خاموش پایا تو اس کو بولنے کے لئے حوصلہ دیا.
سمجھ نہیں آرہی کہ کہاں سے شروع کروں……. ؟ چلو جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے وہاں سے بتاتا ہوں.ولی اس وقت آئمہ کی طرف دیکھ نہیں رہا تھا ایسا لگتا تھا جیسے وہ ماضی میں پہنچ گیا ہو.
مجھے دو مختلف طبیعت، مذہب اور علاقوں کے والدین ملے.
ایک مشرقی مسلمان، تحمل مزاج، محبت کرنے والا ،حلال اور حرام میں فرق جاننے والا…….. جبکہ دوسرا یورپی عیسائی، تلخ مزاج، لالچی، خود پسند اور حلال حرام کے معنی کو نہ سمجھنے والا……
میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے گھر میں پیرنٹس کو لڑتے ہوئے دیکھا دونوں ہی ایک دوسرے کے مذہب کو، ملکوں کو، اور ایک دوسرے کی ذات کو گالیاں نکالتے تھے ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے تھے.
کم از کم میں نے اپنے ہوش میں انہیں کبھی ایک جگہ اکھٹے محبت سے بات کرتے نہیں دیکھا.
جب انہیں آپس میں ہی محبت نہیں تھی تو مجھے محبت کیا دیتے……. ؟ اپنی بات کے آخر میں ولی پھیکا سا مسکرایا
میں نے اپنا زیادہ وقت گلی کوچوں میں گھوم پھر کے گزارا. ایک ڈیوڈ نام کا بندہ ہے. اُسے پتا نہیں کیوں مجھ سے ہمدردی تھی…….. ؟ شاید میری آنکھوں کی وجہ سے، وہ میری آنکھوں میں کسی اور کی آنکھیں دیکھتا تھا.
کس کی……؟ آئمہ بے اختیار پوچھ بیٹھی مگر پھر اپنی جلدبازی شرمندہ ہوئی.
ہے کوئی بعد میں بتاؤں گا. فلحال جو بتا رہا ہوں وہ غور سے سنو……
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اس نے ہی مجھے اسکول میں داخل کرایا اور اس کی وجہ سے ہی میں پڑھ لکھ سکا ہوں.
پھر تو وہ آپ کا محسن ہوا یقیناً اچھا انسان ہو گا. آئمہ نے ڈیوڈ کے لیے ہمدردی دکھائی.
نہیں اتنا اچھا انسان بھی نہیں ہیں کیونکہ اس نے ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ جو کچھ مزید مجھے سکھایا اور میرے سے کروایا وہ میں تمہیں بتا نہیں سکتا کیونکہ تمہاری اتنی چھوٹی سی عقل میں وہ بات نہیں آئے گی.
ایک بات یاد رکھو اس دنیا میں کوئی شخص بھی بغیر مطلب اور لالچ کے کسی دوسرے کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں کرتا.
ہم سب اپنے نفس کے پجاری ہیں ہمیں صرف تب تک کوئی انسان اچھا لگتا ہے جب تک ہم اس کے کام کے ہوتے ہیں اور جیسے ہی اس کا کام ختم ہوا ویسے ہی ہماری ضرورت بھی ختم………
میں چھوٹا موٹا کام کرتا ہوں اب کیا کام کرتا ہو اس کے بارے میں تمہیں پھر کبھی بتاؤں گا لیکن مختصراً یہ کہ میرا ایک چھوٹا سا گھر ہے اور میں تمہیں جب یہاں سے لندن لے کر جاؤں گا تو ہم والدہ کے پاس نہیں جائیں گا بلکہ ہم علیحدہ ایک فلیٹ میں رہیں گے ٹھیک ہے……
کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ میرے والدہ تمہیں قبول کریں گی…..؟ مگر جیسے ہی میں اُنھیں منا لوں گا تو پھر میری کوشش ہو گی کہ ہم اپنی والدہ ساتھ رہیں یا وہ ہمارے پاس آ جائے.
مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ وہ “لندن” ہے ” پاکستان” نہیں………..جو والدین بچوں کے ساتھ رہتے ہیں یا بچے اپنے والدین کو اپنے پاس رکھتے ہیں.
وہاں پر ہر انسان سیلف میڈ ہے اپنا خرچہ خود اٹھاتا ہے جیسے ہی بالغ ہو جاتا ہے امید ہے تمہیں میری باتیں سمجھ آرہی ہوں گی.
آئمہ کو ولی کی یہ ٹوٹی پھوٹی سی “انفارمیشن” کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے اور وہ کیوں کہہ رہا ہے……. ؟
بلکہ اُسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کہنا کچھ اور چاہ رہا ہے اور کہہ کچھ اور رہا ہے. پر جو بھی تھا ائمہ نے ہاں میں سر ہلا دیا. تاکہ جان چھوٹے اور وہ اٹھ کر جا سکے.
آئمہ کے سر ہلاتے ہی ولی کے اندر ایک سکون اور اطمینان اتر گیا.
پھر اس کی نظر آئمہ کے کانوں میں پڑے جمھکوں کی طرف گئی جو ہلکے ہلکے ہل رہے تھے.
مجھے تمہارے کانوں میں یہ اچھے لگ رہے ہیں.کیا میں انھیں چھو سکتا ہوں……؟ ولی نے کہتے ساتھ ہاتھ آئمہ کے جمھکوں کی طرف بڑھایا جس پر وہ حیرت سے ولی کو دیکھنے لگی.
“تم سمجھ ہی نہیں پا رہی ہو یار اتنا بھی مشکل نہیں ہوں میں”
تم خود بھی اچھی لگ رہی ہو میرے خیال سے اس کو اردو میں “پیاری لگنا” کہتے ہیں. ولی کی تعریف پر اب حیرت کی جگہ شرم نے لے لی تھی. مگر جو بھی تھا اب آئمہ خوش تھی.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے……
