Meri Eidi Tum Ho By Amna Mehmood Readelle50149 Last Episode pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode pt.2
مجھے آج لارڈ نے بلایا تھا اور میرے پلان کے عین مطابق وہ ہماری بات مان گیا ہے۔ ولی نے سڑک کنارے چلتے ہوئے پیٹر سے کہا
قسم سے بڑی چیز ہے تو۔۔۔۔۔ پیٹر نے سراہا ۔
بس یار اب “چوری” کرنے کو دل نہیں کرتا ۔اب ہم “ڈاکہ” ڈالیں گے وہ بھی لارڈ کے کندھے پر بندوق رکھ کر۔ بڑا مزہ آنے والا ہے ۔سوچ میں چور لندن کا میئر بنوں گا ۔ ولی نے قہقہ لگایا
قیامت کی نشانی ہے ۔۔۔۔۔ پیٹر نے اس کا بھرپور ساتھ دیا ۔
اتنی دیر میں ولی کو دور سڑک پار جینیفر نظر آئی۔ وہ دیکھ ایک معصوم ” پری ” جو ایک “دیو ” پر عاشق ہو گئی ہے۔ ولی کی بات پر پیٹر نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا۔
ظاہری سی بات ہے اس وقت ہمارے سوا یہاں اور کون ہے۔۔۔۔۔؟ اور میں تو “فرشتہ” ہوں۔ یہ مجھے میری بیوی کہتی ہے ۔ولی کے ساتھ ساتھ اب پیٹر بھی ہنس رہا تھا ۔
اچھا سن یہ لے “رنگ” تیرے کام آئے گی۔ ولی نے نیلے موتی والی جگمگ کرتی ہوئی انگوٹھی پینٹ کی جیب سے نکال کر اسے دی۔
” ڈائمنڈ رنگ” پیٹر دیکھ کر چلایا ۔
صرف دیکھنے کی حد تک۔۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
مطلب۔۔۔۔۔۔؟ پیٹر اپنی ہتھیلی پر رکھی انگوٹھی کو الٹ پلٹ کر رہا تھا ۔
یار آئمہ سر کھا رہی تھی کہ مجھے ڈائمنڈ رنگ لے کر دیں۔ میں بیچارہ “غریب چور” کہاں سے لے کر دیتا ۔۔۔۔۔؟ اس لئے میں نے سوچا کچھ ایسا کیا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔
میں نے ہیرے کے ڈیزائن والی نقلی انگوٹھی بنوا کر آئمہ کو دے دیں تاکہ وہ خوش ہو جائے مگر ۔۔۔۔۔۔۔
مگر کیا۔ ۔۔۔۔۔؟ پیٹر نے ولی کو چپ ہوتا دیکھ کر فوراً پوچھا
مگر جب اس نے یہ کہا کہ ” میں پاکستان جا کر سب کو دکھاؤں گی۔”تو میں پریشان ہو گیا ۔
یار اس طرح تو میرا راز کھل جاتا۔ اس لئے میں نے انگوٹھی چرا لیں ۔
اب یہ تو رکھ لے ۔ وہ آرہی ہے۔ پھر کام ہو جانے کے بعد تو بھی وہی کریں جو تیرے دوست نے کیا ہے۔ محبت میں سب چلتا ہے۔ولی نے سینے پہ ہاتھ رکھ کر سر کو خم دیا اور ہلکا سا مسکرایا۔
تیرے ذہن میں ایسے آئیڈیاز کیسے آتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟ پیٹر نے ہنستے ہوئے رنگ جیب میں رکھ لی اور اب دونوں جے کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگے ۔
🎀🎀🎀🎀
دن پَر لگا کر اڑا رہے تھے۔ آئمہ کافی حد تک لندن میں سٹل ہو گئی تھی۔ مگر پھر بھی وہ پاکستان جانا چاہتی تھی۔ آج کل اسے پھر پاکستان شدت سے یاد آ رہا تھا جبکہ ولی میئر بننے کے لیے بے تاب اور دن رات کوششوں میں مصروف تھا۔
دیکھیں ۔۔۔۔۔۔ رمضان شروع ہونے والا ہے اور میں عید پاکستان میں کرنا چاہتی ہوں۔ آپ مجھے پاکستان بھجوا دیں نااااا ۔۔۔۔۔۔۔آئمہ نے ایک بار پھر اپنا مسئلہ ولی کے سامنے رکھا
لڑکی تمہارے خیال سے یہاں مسلمان نہیں رہتے یا وہ روزے نہیں رکھتے یا عید نہیں ہوتی ان کی ۔۔۔۔۔۔۔؟
آپ نماز تو پڑھتے نہیں روزے کیا خاک رکھتے ہوں گے۔۔۔۔؟ آئمہ بڑبڑا کر اٹھنے لگی جب ولی نے اس کا ہاتھ پکڑا ۔
تمہیں کس نے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھتا اور میں نماز اللہ کے لیے پڑھتا ہوں تمہارے لیے نہیں اس لیے آئندہ ایسا مت بولنا۔ ولی نے سرد لہجے میں کہتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔
آئمہ نے غصے سے بیڈ کی دوسری جانب جا کر لحاف سیدھا کیا اور لیٹتے ہی لائٹ آف کر دی ۔
اب یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔۔؟ ولی نے آئمہ کی حرکت پر قدرے اونچی آواز میں پوچھا
گڈنائٹ۔۔۔۔۔ میں پاکستان جا رہی ہوں ۔آئمہ کے جواب پر ولی ہلکا سا مسکرایا ۔
گڈنائٹ ڈئیر مگر میں ابھی لندن میں ہی ہوں اور میرے بغیر اکیلی تم پاکستان گی تو۔۔۔۔۔۔ ؟ ولی نے لحاف کھینچا
تو کیا زیادہ دھمکی مت دیا کریں۔ میں اب آپ سے ناراض ہوں۔ آئمہ نے رونی شکل بنائی۔
اچھا اچھا اب خدا کے لیے اپنا رونے والا سگمنٹ شروع مت کر دینا۔ میں کچھ کرتا ہوں۔ مگر تم بھی وعدہ کرو کہ پھر ایک سال سے پہلے پاکستان جانے کا نہیں کہوگی۔۔۔۔۔؟ ولی نے پیار سے آئمہ پر لحاف درست کیا۔
وعدہ پکا وعدہ ۔۔۔۔۔۔ آئمہ لحاف سائیڈ پر کر کے اٹھ بیٹھی ۔
ابھی تو تمہیں بہت نیند آ رہی تھی اور اب۔۔۔۔۔۔؟ ولی نے آئمہ کو گھورتے ہوئے پوچھا
میں نے پیکنگ کرنی ہے ہٹیں پیچھیں۔۔۔۔۔آئمہ کہتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتری اور سلیپر پہننے لگی ۔جب کہ ولی اسے دیکھتا رہ گیا ۔
عجیب لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
🎀🎀🎀🎀
کمرے میں اس وقت بلا کی خاموشی تھی۔ دا جی، راجہ فرخ ،راجہ خرم اور حارب سب سر جھکائے بیٹھے تھے۔ جب کہ ولی کو ان کی خاموشی بری لگ رہی تھی ۔
آخر مسئلہ کیا ہے آپ لوگ مجھے صاف صاف کیوں نہیں بتاتے اگر میں اس گھر کو تعمیر کروانا چاہتا ہوں تو آپ لوگ منع کیوں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔؟ ولی کے چڑنے پر راجہ خرم نے گلا صاف کیا۔
دیکھو بیٹا اگر ہم تمہیں سب سچ سچ بتا دیں گے تو تم ہم سے بدگمان تو نہیں ہوگے نااااا۔ ۔۔۔۔۔۔
خرم انکل آپ کیسی باتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔؟ میں بھلا آپ لوگوں سے کیوں ناراض ہوں گا۔۔۔۔۔۔؟ ولی کے جواب پر راجہ خرم نے فرخ کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تسلی دی۔
بیٹا بات در اصل یہ ہے کہ تمہارے ابو یعنی ابراہیم کو جن پکڑنے کا بہت شوق تھا اس نے اپنے طور پر ” چلہ ” بھی کاٹا مگر کیونکہ اس کا کوئی استاد نہیں تھا اس لئے بغیر رہنمائی کے جو کچھ اس سے ہو سکا اس نے کیا کوئی جن تو اس کے ہاتھ نہ آیا مگر ۔۔۔۔۔۔ راجہ خرم نے سانس لیتے ہوئے داجی کو دیکھا
مگر جب وہ حویلی سے چلا گیا تو وہاں عجیب و غریب واقعات شروع ہوگے۔ ہمارے بڑوں کا خیال تھا کیونکہ اس جگہ پہلے شمشان گھاٹ تھا شاید کوئی بدروح وغیرہ ہو ۔
گاؤں والے بھی عجیب و غریب باتیں کرنے لگے ابراہیم کے جانے کے بعد اسماعیل چچا بالکل اکیلے رہ گئے۔
ایک دفعہ ہمارے سب بچے وہاں کھیل رہے تھے کہ اچانک آگ لگ گئی ۔آگ کے شعلے بہت بلند تھے۔ تقریبا ساری حویلی ہی جل گئی۔ اس دن کے بعد سے اسماعیل چچا بھی ہمارے ساتھ رہنے لگے۔
مگر اس حادثے کے بعد ہماری زندگیوں میں بہت بڑی تبدیلی آئی۔ کیونکہ ہمارے گھر کا ایک فرد ذہنی طور پر” معذور” ہوگیا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہیں کہ اس پر کسی چیز کا “سایہ” ہوگیا ۔
ہم نے اس کا بہت علاج کرایا ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ “ٹرامے” میں ہے۔ یعنی حادثے کا بہت زیادہ اثر اس نے ذہن پر ہوا ہے۔
مگر حقیقت اً ایسا نہیں تھا کیونکہ ہم سب نے اسے عجیب حرکتیں کرتے دیکھا ۔ہم وہ سب دہرانا نہیں چاہتے ۔ لہذا تم اس حویلی کو بھول جاؤ۔ ویسے بھی تمہارا یہاں رہنے کا ارادہ تو ہے نہیں پھر پیسے ضائع کرنے کا کیا مقصد ۔۔۔۔۔۔ ؟
آپ کی کہانی اچھی ہے مگر کافی کمزور۔۔۔۔۔۔۔ میرا اس سب سے کچھ لینا دینا نہیں لہذا میں حویلی بنواؤں گا۔ ولی نے ایک نظر راجہ خرم کی طرف دیکھا اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
تم جاننا نہیں چاہو گے کہ وہ فرد کون تھا جس پر ان سب چیزوں کا اثر ہوا۔۔۔۔۔۔؟ داجی نے دکھ سے دھیمی آواز میں کہا
سارہ پھپھو ۔۔۔۔۔۔۔ ولی کہتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
نہیں آئمہ۔۔۔۔۔ آئمہ پر سایہ ہے کسی آسیب کا ۔۔۔۔۔۔دادا جی کی بات پر ولی اپنے پاؤں پر گھوم گیا اور بے یقینی سے سب کو دیکھنے لگا ۔
بیٹا ہمیں معاف کر دو ہمیں یہ باتیں تمہیں پہلے بتا دینی چاہیے تھیں۔ مگر ہم ڈر گئے تھے کہ تم کہیں شادی سے انکار مت کر دو۔ ویسے بھی آئمہ کی طبیعت اب پہلے سے بہت بہتر ہے ۔راجہ فرخ نے وضاحت کی۔
اور اگر اب میں شادی توڑ دوں پھر آپ لوگ کیا کریں گے آپ لوگ میرا کر ہی کیا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ولی کی بات پر کمرے میں ایک بار پھر پہلے جیسے خاموشی چھا گئی۔
🎀🎀🎀🎀
ولی کمرے سے باہر آیا تو اسے سخت الجھن ہو رہی تھی۔ وہ برآمدے سے ہوتا ہوا بھینسوں کی طرف چل پڑا۔
اتنا بڑا دھوکہ۔۔۔۔۔۔ جھوٹ۔۔۔۔۔ ولی نے پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور قریب پڑے چارے کے ڈھیر پربیٹھ گیا ۔
شام ہو رہی تھی ۔سورج ڈوبنے لگا تھا۔ ہر طرف خاموشی چھا رہی تھی۔ پرندے گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے اور ولی کا دل ڈوب رہا تھا ۔
تبھی تو میں کہوں کہ یہ اچانک عجیب حرکتیں کیوں شروع کر دیتی ہے۔۔۔۔۔؟
اس کا خود بخود گھر آ جانا۔۔۔۔۔ ماما سے باتیں کرنا۔۔۔۔۔ کبھی ڈر جانا ۔۔۔۔۔۔ کبھی ڈرا دینا۔۔۔۔۔ اچھا تو یہ ماجرا تھا۔ ولی ماضی اور حال کے تانے بانے بن رہا تھا جب بیا کی آواز پر چونکا
آپ یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔؟ بیا قدم قدم چلتی ٹوکے (چارا کاٹنے والی مشین) کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی ۔
کچھ نہیں بس ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔ ولی کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے ۔
اچھا پھر مہربانی فرما کر میری مدد کر دیں یہ جس چارے پر آپ بیٹھے ہوئے ہیں وہ مجھے دے دیں تاکہ میں اسے کاٹ سکوں ۔بیا کے اشارے پر ولی اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔
کیوں نہیں ویسے بھی میں ابھی فارغ ہی تھا۔۔۔۔۔ ولی نے کہتے ساتھ تھوڑا سا گھاس اٹھا کر بیا کی طرف بڑھایا جسے اس نے پکڑ کر ٹوکے کے اندر رکھا ۔
آئمہ کی وجہ سے آپ کو کوئی پریشانی تو نہیں اٹھانی پڑی ہو گی اپنے ملک میں ۔۔۔۔۔۔۔۔بیا نے سرسری سا پوچھا
جب کہ ولی نے لفظ” کوئی “کو زور دے کے دہرایا ۔
اگر کسی ملک کی زبان آتی ہو تو آدھی سے زیادہ پریشانی سے جان چھوٹ جاتی ہے اور ہماری آئمہ ماشاءاللہ انگلش میں بہت ماہر ہے ۔ایسے پٹ پٹ بلکہ فر فر انگلش بولتی ہے کہ انگریز بھی حیران رہ جاتے ہیں ۔
ہمارے سکول اور کالج کی ٹیچرز اسی سے اپنا دفتری کام کرواتی تھیں۔ اسے بچپن سے ہی انگلش اخبار ،موویز دیکھنے کا بہت شوق تھا ۔میرا “حساب” بہت اچھا تھا اور اس کی “انگلش” بس پھر نمبر پورے ۔۔۔۔۔۔ بیا ہنستے ہوئے ولی کو یہ باتیں بتا رہی تھی جب کہ ولی کے ذہن میں اب ایک طوفان برپا تھا۔
“مجھے انگلش سمجھ نہیں آتی”
یعنی روزِ اول سے لے کر آج تک میں نے جتنی بھی باتیں دوسروں سے انگلش میں کی یہ سمجھ کر کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا اور اسے سب ۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ گاڈ ۔۔۔۔۔۔۔ولی نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔
کیا ہوا آپ کیوں پریشان ہو گئے یا وہ آپ سے بھی زیادہ اچھی انگلش بولتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ بیا نے قہقہ لگایا جبکہ ولی کو اپنی پیشانی گیلی ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔
🎀🎀🎀🎀
حارب نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا آگے بیا کو ٹہلتے پایا۔
اللہ جی اپنے بندے کی حفاظت فرمانا ۔۔۔۔۔۔ حارب نے منہ اوپر کر کے دعا مانگی اور آہستہ آہستہ چلتا بیڈ پر آ بیٹھا جبکہ بیا دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اسے گھور رہی تھی۔
مجھے نیند آرہی ہے بلکہ میرے خیال سے تمہیں بھی آرہی ہوگی چلو شاباش آجاؤ ۔۔۔۔۔۔ حارب نے کمبل درست کرتے ہوئے کہا اور خلاف معمول بیا خاموشی سے چلتی ہوئی حارب کے برابر آ کر لیٹ گئی۔
“آج کوئی بہت فرمابرداری دکھا رہا ہے اللہ خیر کرے” حارب کی بات پر بیا نے اپنا سیدھا ہاتھ زور سے حارب کو مارا ۔
ہائے میں مر گیا ۔۔۔۔۔۔ حارب پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اٹھ بیٹھا۔
تم اتنی آسانی سے نہیں مر سکتے اس لیے تماشا بند کرو۔ مجھے تم سے بالکل بھی ہمدردی نہیں ہورہی۔ میں تو ولی کے بارے میں سوچ رہی ہوں کہ اب کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔؟
بیا کی بات پر حارب نے اسے غور سے دیکھا جو بالکل سنجیدہ تھی اور اپنے گھٹنوں کے گرد اپنے بازو لپیٹے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
کیا مطلب کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔؟ حارب بھی اب بیا کی طرف مڑ گیا ۔
شام کو میری اس سے بات ہوئی تھی وہ کچھ الجھا الجھا سا لگ رہا تھا ۔خاص طور پر تب جب میں نے کہا کہ وہ “انگلش” میں بہت اچھی ہے۔ تب تو وہ مزید شکن آلود پیشانی سے مجھے دیکھنے لگا۔
اب یہ کیا بات ہوئی۔ اس میں ایسی پریشانی والی کون سی بات تھی۔ میں نے تو آئمہ کی تعریف کی تھی ۔۔۔۔؟
اچھا اس بات پر پریشان تھا میں سمجھا وہ سائے والی بات پر ہوگا ۔۔۔۔۔؟ حارب کی بات پر بیا اچھل پڑی ۔
یہ کیا کیا تم نے۔۔۔۔۔۔ اسے بتا دیا کہ آئمہ ساتھ۔۔۔۔۔۔ یہ تو بہت برا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ضرورت تھی اس سب کی ۔۔۔۔۔۔ایک تو اس گھر میں سب کو سچ بولنے کی بیماری ہے۔۔۔۔۔۔ بیا نے افسوس سے سر ہلایا ۔
مجھ پر زیادہ غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے تایا خرم نے ہی بتایا ہے۔ حارب کے جواب پر بیا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔
اگر ولی نے آئمہ کو چھوڑ دیا تو۔۔۔۔۔۔۔؟ بیا نے کہتے ساتھ ہی اپنی انگلی دانتوں میں دبائی ۔
میرا نہیں خیال کہ ایسا کچھ ہوگا ۔6ماہ بہت ہوتے ہیں دو لوگوں کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی ولی ایسا انسان نہیں کہ اتنی سی بات پر اسے چھوڑ دے ۔میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ آئمہ کے لیے کافی فائدہ مند ہوتا ہے۔حارب نے کھوئے کھوئے سے لہجے میں تبصرہ کیا ۔
ہمممممم۔ ۔۔۔۔۔۔چلو اللہ خیر کرے گا۔ ہمیں ان کے معاملے میں خوامخواہ اپنی ٹانگیں نہیں اڑانی چاہیں۔ ہم اپنے بارے میں بات کرتے ہیں ۔پتہ مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی تھی۔ بیا کی ایک دم شرارت سے آنکھیں چمکنے لگیں جب کہ حارب نے لیٹنے میں عافیت جانی۔
حارب تم بے فکر رہو۔ میں تم سے ڈائمنڈ رنگ نہیں مانگوں گی مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (بیا کی بات پہ حارب نے سر سے لحاف نیچے کیا ) مگر میں اب سانپ بھی تلاش نہیں کروں گا ۔
بدتمیز ۔۔۔۔۔۔ میں تو صرف یہ کہہ رہی تھی کہ مجھے بھی تم سے ان 6 ماہ میں بہت محبت ہو گئی ہے اور تم “بندر” کی شکل والے مجھے بہت “ہیرو،ہیرو” سے لگنے لگے ہو اور تمہاری “کوے” جیسی آواز مجھے بہت سریلی لگتی ہے اور ۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کے بیا مزید کچھ کہتی حارب غصے سے اٹھ بیٹھا۔
ایک منٹ۔۔۔۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔۔۔یہ تم میری “تعریف” کر رہی ہو یا “برائی” مجھے ٹھیک سے سمجھ نہیں آرہی۔حارب کے ٹوکنے پر بیا شرارت سے مسکرانے لگی۔
وہ اصل میں محبت اندھی، گونگی ،بہری ہوتی ہے ناااااا تو اسے صحیح سمجھ نہیں آتی کہ وہ محبوب کی تعریف کیسے کرے۔ ۔۔۔۔۔۔؟
بیااااا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حارب نے بھیا کی شرارت سمجھ کر اسے زور سے پکارا ۔
جی حارب جی۔۔۔۔۔۔۔ اور اس ساتھ ٹیک لگا لی۔ حارب جو اس سے لڑنے کے موڈ میں تھا اس کی ادا پر دل ہار بیٹھا اور اس کے گرد اپنے بازو حائل کر لیے۔
مجھے بھی تم سے بہت محبت ہے ۔اب سے نہیں شروع سے۔۔۔۔۔ حارب کے اقرار پر بیا نے اس سے الگ ہوتے ہوئے اسے گھورا
مطلب تم شروع سے ہی مجھ پر “بری نظر” رکھتے تھے۔ شرم نہیں آئی گھر کی “بہن، بیٹی” کو بری نظر سے دیکھتے ہوئے۔ بیا کے جارحانہ انداز پر حارب وے اپنا سر پکڑ لیا۔
کس بلا سے اقرار کر بیٹھا۔اب ساری زندگی بھگتنا پڑے گا۔ جبکہ بیا دوبارہ اپنی فارم میں واپس آ چکی تھی۔
اففففف۔ ۔۔۔۔ غلطی ہوگئی معاف کردو۔ حارب نے ہاتھ جوڑے اور دوبارہ لیٹ گیا۔
” کوئی آج بہت محبت دکھا رہا ہے اللہ خیر کرے” بیا کہتی ہوئی خود بھی حارب کے پہلو میں لیٹ گئی جبکہ حارب لحاف کے اندر مسکرانے لگا
🎀🎀🎀🎀
