No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
مجھے لندن کی شامیں ہمیشہ سے ہی پسند رہی ہیں بلند و بالاعمارتیں، رنگ برنگی لایٹیں، تیز رفتار گاڑیاں، صاف شفاف سڑک اور اس پر چلتے ہوئے مختلف لوگوں کی جوتوں کی آوازیں اور سرگوشیاں خاص طور پر اگر بارش ہورہی ہو تو پھر لندن کی شامیں مزید خوبصورت ہوجاتیں ہیں کیا خیال ہے تمہارا…..؟
ولی نے گردن موڑ کر اپنے برابر چلتے ہوئے پیٹرسن سے پوچھا
پتہ نہیں ولی مجھے کبھی بھی تمہاری باتیں سمجھ نہیں آئیں کبھی تم لندن کو برا بھلا کہہ رہے ہوتت ہو اور کبھی اس کی تعریف میں زمین آسمان ملا رہے ہوتے ہو.
پیٹرسن نے کندھے اچکا کر دونوں ہاتھ جیکٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے سردی کی وجہ سے جھرجھری لی
مجھے پاکستان کبھی بھی پسند نہیں رہا یہ بات لکھ لو یاد کر لو بلکہ ہو سکے تو رٹا لگا لو مگر……
میرے بچپن کے کچھ لمحات جو میں نے گاؤں میں گزارے وہ میری آنکھوں کے آگے آ جاتے ہیں بلکہ یوں کہوں گا کہ وہ ایک خواب بن کر میرے ساتھ رہتے ہیں میں بہت چھوٹا تھا جب لندن آیا
یہاں آکر میں نے ایک اور ہی دنیا دیکھی اور سچ پوچھو تو اصل میں دنیا میں نے یہیں آکر دیکھی.
پتہ نہیں تمہاری باتیں ہمیشہ کی طرح میرے سر کے اوپر سے گزر رہی ہیں.
پیٹر سن جو خود بہت اداس چل رہا تھا ولی کی باتوں پر بور ہونے لگا ویسے بھی اسے پاکستان سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی.
تمہیں میری باتیں کہاں سمجھ آتیں ہیں تمہاری اس کھوپڑی میں تو Merry سما گئی ہے….
یار تو اس کے خیالوں سے باہر کیوں نہیں نکلتا تو اس حقیقت کو مان کیوں نہیں لیتا کہ Merry اب اس دنیا میں نہیں ہے.
جیسے ہی ولی نے یہ الفاظ کہے پیٹرسن نے بہت غصہ سے ولی کی طرف دیکھا ہے غصے اور انتقام سے اس کی آنکھوں میں لال ڈورے واضح ہو گے.
تم یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ وہ مری نہیں بلکہ اسے مارا گیا ہے اور میں ہر قیمت پر اس کے مجرموں کو ضرور پکڑوں گا اور اس کے مجرموں میں سب سے اوپر نام بھی تمہارا ہی چمک رہا ہے” ولی رحمان“
میں نے اسے نہیں مارا کتنی دفعہ کہوں نہیں مارا میں نے اسے…..
وہ اپنی بےوقوفیوں کی وجہ سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے
ولی نے پیٹرسن کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اس کا رخ اپنی طرف موڑا اور اب ارد گرد کی گاڑیوں کا شور اور رنگ برنگی لائٹس ان دونوں کے چہرے پر پڑ رہی تھیں
ولی تم کتنی آسانی سے لڑکیوں کو بیوقوف بنا لیتے ہو کتنی آسانی سے ولی ۔۔۔
درد نہیں ہوتا تمہیں…؟ ؟؟ تمہارے سینے میں یہاں پر درد نہیں ہوتا….. ؟؟،
پیٹر نے ولی کے سینے پر مکا مارتے ہوئے پوچھا
کیسا درد..؟
ہاں کیسا درد…؟
جب یہاں کے لوگوں نے مجھے درد دیا. میری معصومیت چھین لی. تب تم کہاں تھے…؟
تب تم نے کسی سے پوچھا کیوں نہیں..؟
تب یہاں پر درد نہیں ہوا…؟
ولی نے بھی برابر کا مکا پیٹرسن کے سینے پر مارتے ہوئے کہا
فرنگیوں سے ہی ہم لوگوں نے یہ چیزیں سیکھیں ہیں. ولی نے ایک زوردار پنچ پیٹرسن کے منہ پر مارا
ولی پلیز اپنے اندر کے درندے کو کنٹرول کرو پلیز ولی ۔۔۔
ہمیشہ کی طرح پیٹر کی ولی کے آگے بس ہو گی تھی اس کے منہ سے خون نکلنے لگ گیا۔۔۔
بس پھر بکواس نہ کیا کرو میرے آگے…..
ولی نے انگلی سے وارن کیا اور اپنی جیکٹ کو کندھوں پر درست کرتے ہوئے پڑتی بارش میں پیٹرسن سے دور ہوتا چلا گیا
” ولی رحمان“
ایک دہشت، ایک خوف، ایک ڈر، انتہائی گھٹیا انسان، بے حس، جسے کسی کی تکلیف سے کوئی غرض نہیں بے انتہا خود غرض ۔۔۔ سارا دن سوکے اور راتیں لندن کے کلبوں میں گزارنے والا ایک عیاش طبیعت انسان۔۔۔۔
” ولی الرحمن“
انتہائی پیار کرنے والا،معصوم، خوبصورت، نرم گفتار، نرم دل، راز دار، محبت کرنے والا، محبت بانٹنے والا، دوسروں کا دکھ محسوس کرنے والا، جس کا دن لوگوں کی خدمت کرتے اور رات مسجد میں گزرتی ہے…
ولی الرحمن انسان ہے یا فرشتہ پتا نہیں…
جو اسے فرشتہ مانتے ہیں وہ اسے فرشتہ کہتے ہیں اور اس سے کم پر راضی نہیں ہوتے اور جو اسے شیطان کہتے ہیں وہ اس کو شیطان سے کم کہنے پر راضی نہیں ہوتے ۔۔۔۔
ولی کون ہے کہاں سے آیا ہے کیا کرتا ہے کیوں کرتا ہے کسی کو نہیں پتہ ۔۔۔۔۔؟
اور جسے پتہ ہے وہ کسی کو بتاتا نہیں۔۔۔۔۔۔؟
مگر لندن کے لوگوں میں ایک لفظ گونجتا ہے
ولی…. ولی…… ولی
🎀🎀🎀🎀
کھیتوں میں ہر طرف گہری خاموشی اور نیم تاریکی تھی اتنی خاموشی کہ اگر ایک پتا بھی ہلتا تو اس کی آواز صاف سنائی دیتی مگر دکھائی کچھ نہ دیتا…..
سوچ لو تم ٹھیک کر رہی ہو پتہ نہیں کیوں مجھے ڈر لگ رہا ہے….
آئمہ نے بیا کی طرف دیکھ کر سرگوشی کی.
چپ کر ڈرپوک بھائی کی ڈرپوک بہن….
بیا نے دونوں ہاتھوں سے ٹیوب ویل کے میٹر پر ہاتھ چلانا شروع کیے
بیا پلیز یار میں کرنٹ لگنے سے مر جاؤں گی.
آئمہ جو بیا سے کافی دور کھڑی تھی تھرتھرکانپ رہی تھی.
“کچھ لوگ خزانے کی طرح ہوتے ہیں جی کرتا ہے زمین میں ہی گاڑھ دوں”
اگر تم نے اپنی بکواس بند نہ کی تو میں تمہیں یہاں دفنا دوں گی سمجھی….
بیا کی دھمکی ہمیشہ کی طرح آئمہ کی بولتی بند کرنے میں کامیاب ہو گئی.
ایک جھٹکے سے بیا نے پاور پلگ نیچے کیا اور پانی اپنی آب و تاب سے بہنے لگا یہ ہوئی نااااا بات، آئمہ ٹیوب ویل چل پڑا.
بیا نے فاتحانہ مسکراہٹ سے آئمہ کی طرف دیکھا.
چل اب جلدی جلدی مزےدار سے خربوزے توڑ کر پانی میں پھینکتے ہیں اور اپنی صبح کا مزا لیتے ہیں اس سے پہلے دادا جان آ کر ہماری صبح خراب کریں.
کم از کم میں گاؤں کے پاگل لوگوں کی طرح ان کو حکیم نہیں مانتی اور قابل تو بلکل بھی نہیں. بھلا کبھی ریٹائرڈ صوبیدار بھی حکیم ہوا؟
نیم حکیم خطرہ جان..
آہستہ بول بیا اگر کسی نے سن لیا اور ہماری شکایت لگ گئی تو….
تو کیا ہر وقت ڈراتی رہتی ہے میں ہوں نا اور میرے ہوتے ہوئے تجھے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں.چل اب کھیت کی طرف چلتے ہیں اور اپنے من پسند خربوزے توڑتے ہیں. اس سے پہلے کہ وہ کالا بابا آ جائے….
بیا نے تقریباً ائمہ کو اپنی طرف کھینچے ہوئے کہا
توبہ ہے کونسا سا کالا بابا؟
وہی جو اپنی طرف سے نہ بابا ہے اور نہ کالا……..
بیا کی بچی شرم کر شرم مجھے اب سمجھ آئی تو نمبردار صاحب کو کہہ رہی ہے افسوس….
بیا بےساختہ قہقہے لگا رہی تھی جبکہ آئمہ افسوس کر رہی تھی.
اے ناشکری لڑکی!
اللہ کا شکر ادا کر کہ تجھے میرے جیسی کزن ملی تو مان نہ مان مگر میں تیرے لیے قدرت کاایک تحفہ ہوں.
بیا نے کاریوں سے اپنے من پسند پیلے اور سبز لائنوں والے خربوزے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالے.
🎀🎀🎀🎀
ہاں جی یہ دونوں ابھی تک اٹھی ہیں کہ نہیں….؟
دادا جان جو حارب کے ساتھ ابھی ابھی نماز پڑھ کر آئے تھے گھر میں داخل ہوتے ہی پوچھا
اتنی جلدی آپ کی اولاد نہیں اٹھتی….
رقیہ بیگم نے جواب دیا جو صحن میں بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں.
کوئی بات نہیں سونے دو بیٹیاں باپ کے گھر ہی عیش کرتی ہیں.بڑی بہو میں نے کہا تھا نیم کے پتوں کا پانی تیار کر کہ ٹھنڈا کر دو کر دیا یا نہیں…؟
راجہ فضل دین نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پہلے رقیہ بیگم کو جواب دیا اور پھر کرن سے پوچھا
تیار تو کر دیا ہے مگر وہ یہ زیر نہیں پئیں گی شرط لگا لیں مجھ سے، خاص طور پر آپ کی لاڈلی بیا تو بلکل بھی نہیں پئےگی اسے تو شہد بھی کڑوا لگتا ہے. خامخواہ آپ نے ہم سے اتنی محنت کروائی ہے…
کرن نے باورچی خانے سے ایک جگ اور دو گلاس میز پر رکھتے ہوئے جواب دیا.
ابھی کرن نے یہ کہہ کر اشارے سے دونوں کے میرے میں پوچھا ہی تھا کہ گھر کی پچھلی طرف کوئی چیز گرنے کی آواز آئی.
یہ کیا ہوا…. ؟
رقیہ بیگم نے تسبیح روکتے ہوئے اپنے دل پر ہاتھ رکھا
کچھ نہیں ماما بلی وغیرہ ہو گی. سارہ جو برآمدے سے صحن کی طرف جا رہی تھی بیا اور آئمہ کو دیوار کودتے دیکھ چکی تھی اسی لیے مطمئن انداز میں رقیہ بیگم کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی.
اب یہ بلی جیسے معصوم جانور ساتھ کتنی زیادتی ہے.
حارب نے سارہ پھپھو کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ آواز میں سرگوشی کی.
آگئی میری شہزادی، میری رانی، میری جان، میری آنکھوں کی روشنی……
سارہ پھپھو نے بیا کو صحن میں آتا دیکھ کر ہمیشہ کی طرح لاڈ سے پکارا
بس کر دیں اب زیادہ ہو رہا ہے اتنے جھوٹ پر بجلی والے ناراض بھی ہو سکتے ہیں.
حارب کی بات پر بیا کا پارہ تیزی سے اوپر کی طرف گیا.
” تُو جانتا تو ہے طبیعت کو میری، میں تیرے ہوش ٹھکانے لگا سکتی ہوں“
صبح صبح کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو..؟ کیوں لڑ رہے ہو…؟
میں کہاں لڑتی ہوں یہی میرا موڈ خراب کر دیتا ہے.
بیا نے حارب کی طرف دیکھتے ہوئے دادا جان کو جواب دیا
اچھا چلو جلدی جلدی اچھے بچوں کی طرح یہ جوس ایک ایک گلاس پیو اس کے پینے سے تم لوگوں کو سارا سال کوئی دانہ،پھنسی یا سکن الرجی نہیں ہو گی یہ سیانے لوگوں کے بنائے ہوئے نسخے ہیں کوئی مذاق نہیں.
دادا جان نے گلاس میں نیم کے پتوں کا پانی ڈالنا شروع کیا.
دادا جان یہ کون پی سکتا ہے بہت کڑوا ہوتا ہے اور ہم کیوں پیئیں حارب کو بےشک پلا دیں اس نے گرمی میں روز شہر جانا ہوتا ہے اس کے لیے بہت مفید ہے.
بیا کی شرارت پر حارب اس کا منہ دیکھنے لگا جبکہ دادا نے فوراً گلاس حارب کی طرف بڑھا دیا.
فرمانبردار حارب نے چپ چاپ ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر کے میز پر رکھ دیا جس پر بیا اور آئمہ اسے حیرت سے دیکھنے لگیں.
چلو اب آپ دونوں بھی جلدی جلدی پیو.
دادا جان وہ کیا ہے نااااا میری نماز کو دیر ہو رہی ہے میں پہلے نماز پڑھ لوں کہیں قضا نہ ہو جائے.
بیا نے آئمہ کا ہاتھ پکڑ کر جلدی جلدی اٹھنے میں عافیت جانی، جبکہ حارب نے آہستہ آواز میں کہا
” نماز پڑھیں اور دعا کریں
اللہ آپ کو آپ جیسی اولاد نہ دے آمین یا رب العالمین. “
اور منہ پر ہاتھ پھیرنے لگا
🎀🎀🎀🎀
