Meri Eidi Tum Ho By Amna Mehmood Readelle50149 Last Episode Last Part
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Last Part
آپ تھوڑا صبر سے کام لیں میں بس تین چار دن میں واپس آ رہا ہوں ۔
سوری ہم لوگ تمہارا انتظار نہیں کرسکتے۔ بس تمہیں بتانا تھا وہ بتا دیا۔ ڈیوڈ کے جواب دے ولی کو بہت غصہ آیا۔
میرے خیال سے بتانے کی ضرورت بھی نہیں تھی ۔ولی نے اپنا غصہ نکالا۔
ہاں صحیح کہا تم نے کہ “بتانے کی ضرورت تو نہیں تھی”۔ تم نے ہمیں کون سا بتا کر شادی کی تھی ۔کہ ہم تمہیں بتا کر شادی کریں۔ آگے بھی ڈیوڈ تھا ولی کا استاد ۔۔۔۔۔۔
جو بھی ہے آپ لوگ میرا انتظار کریں گے میرے بغیر شادی نہیں کریں گے بلکہ آپ میرے بغیر شادی کیسے کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ولی بے بس تھا ۔
ویسے ہی جیسے تم نے کی تھی۔ ڈیوڈ کے جواب میں ولی نے غصے سے فون کو گھورا پھر آنکھیں بند کرکے خود کو نارمل کیا ۔
شادی مبارک ۔۔۔۔۔۔۔ ولی کے جواب پر ڈیوڈ نے قہقہ لگایا اور کال کٹ گئی۔
” استاد ،استاد ہی ہوتا ہے “ولی الرحمان” ڈیوڈ نے بلیک سکرین کو دیکھتے ہوئے سوچا۔
ولی نے زور سے موبائل بیڈ پر اچھالا ۔اسی لمحے ائمہ کمرے میں داخل ہوئی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ولی کے قریب آ بیٹھی ۔ ولی اس کی ایک ایک حرکت بڑی فرصت سے نوٹ کر رہا تھا ۔
آپ مجھ سے ناراض ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ میں نے اس لیے جھوٹ بولا تھا تاکہ آپ شرمندہ نہ ہوں کہ میں نے آپ کی کال سن لی ہے ۔آئمہ نے آہستہ سا ولی کے بازو کو پکڑتے ہوئے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھا ۔
اس طرح “کہنے ” اور “کرنے” سے تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں معاف کر دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ ولی نے اس کے سر کو گھورا
ہاں کیونکہ آپ تو” فرشتے” ہیں اور میں “انسان”یعنی خطا کا پتلا ۔۔۔۔۔۔ آئمہ ہلکا سا مسکرائی سر نہیں اٹھایا۔
فرشتہ یا چور ۔۔۔۔۔ ولی نے تلخ لہجے میں پوچھا
میرے لیے تو “فرشتے” ہیں باقی لوگوں کا میں نے “ٹھیکہ” نہیں لے رکھا ۔آئمہ نے مسکراتی آنکھوں سے سر اٹھا کر ولی کی آنکھوں میں دیکھا ۔
میں تمہیں یہاں چھوڑ جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔ ولی نے دھمکی دی
آپ میرے بغیر جا ہی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔ آئمہ کے پراعتماد لہجے پر ولی نے اسے حیرانی سے دیکھا
آپ مجھ سے بہت “محبت” کرتے ہیں اور محبت اندھی ہوتی ہے۔ اب میں جیسی بھی ہوں آپ کی ہوں۔ آپ اپنی چیزوں ، دوستوں کے بارے میں اتنے “پوزیسیو ” ہیں۔ میں تو پھر بیوی ہوں آپ کی ۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی آپ پہلے چھوڑ کر نہیں گئے تو اب کیا چھوڑ کر جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ آئمہ کی باتوں پر ولی ہلکا سا مسکرایا
بیا نے “یاد” کرایا ہے ناااااا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ولی کی بات ہے ائمہ نے سر جھکا لیا آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے وہ شرمندہ ہوئی۔
کیونکہ تم ایسی باتیں نہیں کرتیں خیر ۔۔۔۔۔۔ میں نے معاف کیا بس اتنا بتا دو یہ “آسیب” کا کیا چکر ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ آئمہ نے ایک لمبا سانس اندر کھینچا اور ولی کی طرف دیکھا
شروع شروع میں ،میں جب بھی اکیلی گھر پر ہوتی یا اکیلی سوتی تب مجھے ایک “کالے برقعے “والی عورت نظر آتی اسے دیکھ کر میں ڈر جاتی تھی ۔
پھر “دم درود” کے بعد فرق پڑ گیا ۔ مگر میں نے ایک بات نوٹ کی کہ وہ مجھے کبھی بھی کوئی “نقصان” نہیں پہنچاتی تھی۔ بلکہ الٹا وہ میری مدد کرتی جب میں کسی مصیبت میں ہوتی۔ مگر اب ایسا بہت کم ہوتا ہے ۔میں نماز پڑھتی ہوں ۔دعا کرتی ہوں۔ اب مجھے وہ بہت کم نظر آتی ہے اور ڈر بھی نہیں لگتا ہے۔ مگر اس عورت کی کیا “حقیقت” ہے یہ میں نہیں جانتی ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
اچھا اگر تمہاری اس ” آسیب” نے مجھے کچھ نقصان وغیرہ پہنچایا تو ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ ولی نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا
نہیں وہ کسی کو کچھ نہیں کہتی۔ میں اور بیا ایک ساتھ ایک کمرے میں رہتے تھے۔ مگر اس نے کبھی بیا کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ بلکہ بیا نے کبھی اسے دیکھا ہی نہیں ۔
چلو ٹھیک ہے۔ ہم عید کے تیسرے دن واپس جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ ولی نے کچھ سوچ کر جواب دیا ۔
آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے۔ آپ کا بہت شکریہ ۔آپ بہت اچھے ہیں۔ آئمہ نے دوبارہ اپنا سر ولی کے کندھے پر رکھ دیا ۔
زیادہ محبت دکھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ؟ولی نے مصنوعی غصے سے کہا
میں کب دکھا رہی ہوں۔ آپ خود دیکھ رہے ہیں۔ آئمہ کے جواب پر ولی مسکرانے لگا۔
“تیرے بغیر سب ہوتا ہے
بس اب گزارا نہیں ہوتا “
🎀🎀🎀🎀
اس وقت تمام اہل خانہ چھت پر موجود تھے داجی اور دادی رقیہ کو چھوڑ کر ۔۔۔۔۔۔
حارب صحیح طرح دیکھو ناااااااا چاند نکلا کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ میں تو اب ایک بھی روزہ مزید نہیں رکھ سکتی ۔ بیا نے حارب کو مخاطب کیا ۔
تم نے تو باقیوں کو بھی روزہ رکھنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ ساری کھجوریں کھا لیں ہیں۔ ائمہ نے منہ بناتے ہوئے تبصرہ کیا جس پر سب ہی ہنس پڑے۔
باقی چھتوں پر بھی اس وقت لوگ چاند دیکھنے میں مشغول تھے ۔ولی کا یہ پہلا تجربہ تھا مگر اسے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ پھر اچانک آئمہ نے چیخ کر کہا وہ دیکھیں پھپھو چاند نکل آیا ہے ۔صبح “عید” ہے اور ساتھ ہی ان کے گلے لگ گئی ۔
آئمہ کی آواز پر سب نے اس سمت دیکھا۔ وہاں واقعی ہی پہلے رات کا چاند چمک رہا تھا۔
پھر سب نے نئے چاند کی دعا پڑھی اور اپنے اپنے لیے دعائیں مانگیں اور گلے مل کر چاند کی مبارک دی ۔
حارب مجھ سے بھی تو گلے ملو ناااااا اور یہ بھی بتاؤ کہ تم نے کیا مانگا۔۔۔۔۔؟؟ بیا نے حارب کے قریب جا کر سرگوشی کی
شرم کرو سب کے سامنے ۔۔۔۔۔۔ حارب نے نے آنکھیں دکھائیں۔
اچھا یہ ہی بتا دو کہ کیا دعا مانگی ۔۔۔۔۔۔ ؟؟ پیا نے منہ بنایا
میں نے” سی ایس ایس” میں کامیاب ہونے کی دعا مانگی ہے۔ حارب نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔
“بیوقوف” وہ تو تم پاس ہی پاس ہو۔ تمہیں پتا ہے کہ میں نے کیا دعا مانگی ہے۔ بیا نے آنکھیں مٹکا کر حارب کو دیکھا
کیا ۔۔۔۔۔ ؟؟؟ حارب نے بے چینی سے پوچھا
“جڑواں بیٹے ” اور اب تم شرم سے مر جاؤں گا کیونکہ مجھے بالکل نہیں آرہی اور پھر نیچے چلی گئی جبکہ حارب اسے ہکا بکا دیکھنے لگا
چاند مبارک اور آپ نےکیا مانگا ۔۔۔۔۔ ؟ آئمہ نے ولی سے پوچھا
خوشیاں اور سکون ۔۔۔۔۔ ولی نے اوپر دیکھتے ہوئے گہرا سانس خارج کیا اور تم نے ۔۔۔۔۔ ؟؟
میں نے آپ کی “محبت” ۔۔۔۔ آئمہ کے جواب دے ولی نے اسے دیکھ کر سر نفی میں ہلایا ۔
جو چیز تمہیں پہلے ہی میسر ہے اسے پھر مانگ لیا ۔۔۔۔۔۔ اب حیران ہونے کی باری آئمہ کی تھی ۔
آپ کو مجھ سے سچ مچ محبت ہے ۔۔۔۔ ؟ آئمہ نے بے یقینی سے پوچھا
پہلے مجھے بھی” شک “تھا مگر اب اگر میں تمہیں آسیب سمیت قبول کر رہا ہوں تو یہ ” محبت” ہی مجھ سے کرا سکتی ہے ۔
سارہ دعا کرو ہمارے بچے ہمیشہ ایسے ہی خوش رہیں۔ اللہ انہیں بری نظر سے بچائے۔ ثنا بیگم نے آئمہ اور ولی کو ایک ساتھ کھڑے دیکھ کر دعا مانگی ۔
آمین بھابی اللہ بہت مہربان ہیں۔ آپ پریشان مت ہوں۔ سارہ نے ثنا بیگم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی ۔
🎀🎀🎀🎀
کچن میں اس وقت بہت گہما گہمی کا سماں تھا ۔کہیں لوبیا اور چنے ،چاٹ کے لیے اُبل رہے تھے _ تو کہیں کباب بنائے جا رہے تھے کہیں دادی رقیہ ہر سال کی طرح اپنے ہاتھوں سے “مکھنڈی حلوہ” بنانے میں مصروف تھیں۔
ولی کی پہلی عید ہے۔ میں چاہتی ہوں وہ ” یادگار” بنے اس کے لئے بھی اور ہمارے لئے بھی ۔۔۔۔۔ دادی رقیہ نے پیار سے اپنی دونوں بہوؤں کو دیکھ کر کہا
انشاءاللہ ایسا ہی ہوگا وہ اب ہر سال ہمارے ساتھ ہی عید کیا کرے گا ۔میرا دل کہتا ہے۔ کرن بیگم نے جواب دیا جس پر سارہ اور ثنا مسکرانے لگیں۔
امی ہم لوگ ذرا باہر جا رہے ہیں ۔۔۔؟ ابھی آتے ہیں کچھ دیر میں ۔۔۔۔۔ اگر آپ لوگوں نے کل کے لئے کچھ منگوانا ہے تو بتا دیں ۔۔۔۔۔۔ بیا نے کچن کے دروازے میں کھڑے ہو کر پوچھا
ہائے لڑکی پاگل ہو کیا ۔۔۔۔۔۔ ؟ اس وقت کہاں جا رہی ہو ۔۔۔۔۔ کرن بیگم کو بیا پر غصہ آیا
پاگل تو میں “پیدائشی” ہوں۔ مگر اس وقت میں اکیلی نہیں بلکہ آئمہ ،ولی اور حارب بھی میرا اس “پاگل پن” میں بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ ہم سب شہر جا رہے ہیں چاند رات دیکھنے ۔۔۔۔۔۔۔ بیا کی بات پر سب خواتین نے اسے گھورا ۔
یہ “تجویز” کس کی ہے اور کس چیز پر جاؤ گے اس وقت ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ پھپھو سارہ نے پوچھا
میرے علاوہ کون ہو سکتا ہے اور ہم مقصود نمبردار اور المعروف “کالے “کی گاڑی پر جا رہے ہیں۔ حارب لایا ہے۔ بیا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
ہمیں کچھ نہیں منگوانا ۔بس تم لوگ خیریت سے جلدی واپس آ جانا ۔کرن بیگم نے جواب دیا اور بیا خدا حافظ کہتے ہوۓ باہر چلی گئی ۔
یہ کیا ابھی تک حارب نہیں آیا ۔۔۔۔ بیا نے گاڑی میں دیکھا تو ولی اور ئمہ کے سوا اور کوئی موجود نہ تھا جبکہ ڈرائیونگ سیٹ بالکل خالی تھی۔
پتا نہیں بھائی کدھر رہ گئے ہیں۔ میں تو سمجھی تمہارے ساتھ ہوں گے ۔ آئمہ نے جواب دیا
اچھا میں دیکھتی ہوں ۔ بیا کہتی ہوئی پلٹ گئی۔
ویسے تمہارا “بھائی” اصل میں تمہاری “بھابھی” ہے اور تمہاری “بھابھی” اصل میں تمہارا” بھائی ” ۔۔۔۔۔۔ ولی نے تبصرہ کرتے ہوئے قہقہ لگایا جس پر آئمہ نے منہ بنا لیا ۔
تم کیا تلاش کر رہے ہو جلدی آؤ ناااااا ۔۔۔۔۔ بیا نے کمرے میں قدم رکھا تو حارب ڈریسنگ ٹیبل کی دراز میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
یار بیا میں نے یہاں کچھ پیسے رکھے تھے۔ جو اب مجھے مل نہیں رہے ۔۔۔۔۔ ؟ تمہیں گفٹ لے کر دینا تھا۔ حارب نے سیدھا ہوتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں میرے پاس پیسے ہیں فی الحال میں تمہیں شاپنگ کرا دیتی ہوں۔ پھر ساری زندگی تم نے ہی مجھے شاپنگ کرنی ہے۔ آخر کو گریڈ 17 کے آفیسر بننے والے ہو ۔ بیا نے اپنی گردن اکڑائی جس پر حارب مسکرا دیا۔
🎀🎀🎀🎀
ارے لڑکیوں جلدی کرو وہ لوگ نماز پڑھ کر آتے ہی ہونگے۔ دادی رقیہ مسلسل بیا اور آئمہ کو آوازیں دے رہی تھیں جبکہ ثنا اور کرن بیگم چاٹ ، کباب اور سویاں ٹیبل پر لگا رہی تھیں۔
بس آ رہی ہوں۔ یہ آئمہ ہی دیر لگا رہی تھی میں تو صرف عید کے عید منہ ہی دھو لو تو چاند مجھ سے شرماتا ہے۔ بیا کی آواز پر سارہ پھوپھو مسکرا دیں۔
توبہ ہے اس لڑکی سے “کہاں کہاں سے جواب” نکلتی ہے۔
” جہاں جہاں سے سوال بھی پیدا نہیں ہوتا” بیا نے سارہ پھپھو کا جملہ مکمل کیا ۔جو اس وقت سفید فراق میں کسی پری کی طرح خوبصورت لگ رہی تھی۔ جب کہ آئمہ نے آسمانی کلر کا کام دار جوڑا پہنا ہوا تھا ۔
ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔ اللہ میری بیٹیوں کو بری نظر سے بچائے ۔ دادی رقیہ نے دیکھتے ہی نظر اتاری ۔
بس میری نظر اتار دیں۔ ائمہ نے تو “رو” کر تھوڑی دیر میں خود ہی اپنی نظر اتار دینی ہے۔ بیا نے اسے تنگ کیا ۔
اتنی دیر میں دا جی، راجہ فرخ، راجہ خرم ، حارب اور ولی نے صحن میں آ کر سلام اور عید مبارک کہا جبکہ بیا اورآئمہ بھاگ کر داجی کے گلے لگیں اور عید مبارک سے گھر گونج اٹھا ۔
تم دونوں اس گھر اور ہماری زندگیوں کی رونق ہو۔ اللہ تمہیں خوش رکھے۔ داجی نے دونوں کے سر پر باری باری پیار دیا۔ جبکہ ولی اور حارب دادی رقیہ، کرن ،ثنا اور سارہ سے مل کر دعائیں سمیٹنے لگے۔
آج میں بہت خوش ہوں۔ میرا گھرانہ مکمّل ہو گیا ہے۔ داجی نے سربراہی کرسی پر بیٹھتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا ۔
بیٹا سویاں لو اس میں مرچ بالکل نہیں ہے۔ ولی جو حیرانی سے کباب اور چاٹ دیکھ رہا تھا سارہ نے سویاں والا ڈونگا آگے کرتے ہوئے کہا جس پر سب ہنس دیے ۔
ارے حارب کدھر گیا ۔۔۔۔۔ ؟ اچانک ثنا بیگم نے اس کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا
اب یقیناً مجھے ہی جانا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔ ؟ اپنے اوپر سب کی نگاہیں دیکھ کر بیا نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا
کافی سمجھدار ہے آپ ۔۔۔۔۔۔ ولی نے ٹکڑا لگایا
تعریف کا شکریہ ۔۔۔۔۔۔ بیا نے جاتے جاتے چاٹ مصالحہ سویاں پر چھڑک دیا ۔
🎀🎀🎀🎀
تم کمرے میں اکیلے کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔ ؟ بیا نے حارب کو ڈریسنگ ٹیبل کے آگے جھکا دیکھ کر پوچھا
پیسے دیکھ رہا تھا شاید مل جائیں ۔ وہ آئمہ کو عیدی بھی تو دینی ہے ۔۔۔۔۔۔ حارب نے ڈریسنگ ٹیبل ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے جواب دیا ۔
اور مجھے ۔۔۔۔۔۔ بیا نے آگے ہاتھ پھیلائے جسے حارب نے تھام لیا ۔
سوئیں مگر میرے پاس اس وقت تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے قسم سے بیا میں نے پیسے رکھے تھے مگر ۔۔۔۔۔۔ حارب خاموش ہوگیا ۔
مگر _ اگر مگرمچھ _ یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ چھوڑو اور باہر چلو ۔سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔کچھ کھا پی لو ۔عیدی کی فکر مت کرو۔ کیونکہ “میری عیدی تم ہو” بیا نے پیار سے باری باری حارب کے ہاتھ چومے اور حارب نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔
“عید مبارک” تم بہت اچھی ہو۔ تم نے کل بھی مجھے شرمندگی سے بچا لیا تھا اور آج بھی ۔۔۔۔۔۔ ہاں رب نے احسان مندانہ لہجے میں کہا
اپنی بات پر قائم رہو گے ناااااا ۔۔۔۔۔۔ بیا نے سر اٹھا کر حارب کو دیکھا
ہاں بالکل ہمیشہ قائم رہوں گا حارب نے پر اعتماد لہجے میں کہتے ہوئے بیا کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔
اچھا پھر میں تمہیں بتا دیتی ہوں کہ تمہارے پیسے میں نے “چوری” کیے تھے کیونکہ مجھے اپنی پسند کی شاپنگ کرنی تھی تمہاری پسند کی نہیں اس لیے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہتی ہوئی بیا حارب سے الگ ہوگئی جب کہ حارب کو یقین نہیں آیا کہ بیا نے ابھی کیا کہا ہے ۔
“حضورِ والا اِک مسئلہ ، فقہُ عشق کی رو سے
کوئی دل چُرا لے تو کیا اُس کا ہاتھ کاٹیں گے ؟”
زیادہ غصے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے اور اب اچھے کپل کی طرح میرے ساتھ مسکراتے ہوئے باہر چلو کیونکہ جو بھی ہے اور جیسا بھی ہے آخر میں تمہاری اور “میری عیدی تم ہو” بیا نے آنکھ ماری اور ہنسنے لگی۔
“جو اختیار تمہیں ہے وہ ہر کسی کو نہیں
تمہارے ساتھ محبت ہے سب سے تھوڑی ہے”
حارب سوچتا ہوا اس کے پیچھے چل پڑا کیونکہ اسے بہترین کپل بننا تھا.
🎀🎀🎀🎀
