Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

مجھے تمہارے دوست کی سمجھ نہیں آتی آخر یہ چاہتا کیا ہے…..؟ ؟؟ ابھی تو آیا تھا اور ابھی واپس بھی چلا گیا ہے. کیٹ نے جھنجھلا کر پیٹر کی طرف دیکھا.
بلکل یہی بات مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہی ہے. ولی کب سے اتنا مشرقی ہو گیا کہ وہاں کی روایات کی پاسداری کرنے لگا……؟
پیٹر کے جواب پر کیٹ نے گھور کر اسے دیکھا . “مشرقی روایات” اس بات کا کیا مطلب ہوا……… ؟
وہ اپنی “سالی” کی شادی میں گیا ہے نہیں بلکہ “سالے” کی شادی میں گیا ہے. پتہ نہیں بس کسی کی شادی میں ہی گیا ہے.ہاں یہی کہا تھا اس نے………. پیٹر نے سوچتے ہوئے جواب دیا.
یہ کب سے اتنا “سوشل” ہو گیا ہے…….. ؟
جب سے شادی شدہ ہوا ہے. پیٹر نے قہقہ لگایا.
ویسے ولی نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا. مجھے کہتا رہا کہ میں نے شادی ہی نہیں کرنی اور اگر کی تو تم سے کروں گا مگر پھر…….. کیٹ نے اداسی سے ریسٹورنٹ میں آنے جانے والے لوگوں کی طرف دیکھا
ہممممم…… ہاں وہ ایسا ہی کہتا تھا مگر غلطی اس کی نہیں بلکہ تمہاری ہے. میرے خیال سے ہم اُسے اچھی طرح جانتے ہیں وہ جو کہتا ہے کم از کم وہ کرتا نہیں ہے.
ایسا تو نہیں ہے وہ اپنے لفظوں کی ہمیشہ “پاسداری” کرتا ہے.اب تم Marry والا کیس ہی دیکھ لو وعدے کے مطابق اس نے کیس کو حل کر دیا ہے. کیٹ نے پیٹر کی بات سے انحراف کیا.
سزا تو کسی کو بھی نہیں ملی جبکہ وعدہ سزا کا تھا. پیٹر نے پھر اختلاف کیا.
ڈینیل کو تو سزا دی ہے باقی مئیر کا بیٹا بھی بچ نہیں سکے گا. کیٹ نے پر اعتماد لہجے میں کہا
چلو دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے اور وہ یہ سب کیسے کرتا ہے……….؟؟؟ کیا تم مجھے اُس کے بغیر کچھ کھانے پینے کو بھی نہیں پوچھو گی. ویسے تم ایسی تو نہیں تھی……؟ پیٹر نے ویٹر کو دیکھ کر کہا
تم نے جو بھی کھانا پینا ہے میرا نام لکھوا کر منگوا لو مجھے فلحال دیر ہو رہی ہے. کیٹ کہتی ہوئی اُٹھ کھڑی ہوئی.
ٹھیک ہے پھر بل کا گلہ مت کرنا. پیٹر نے مسکراتے ہوئے کیٹ کی طرف دیکھا.
ذلیل انسان حد میں رہ کر خرچا کرنا اگر “بل” ہم تینوں کے “بل” سے زیادہ ہوا تو میں ادا نہیں کروں گی سمجھے……. کیٹ وارننگ دیتی ہوئی چل پڑی.
ابھی اُس نے اپنی بائیک سٹاٹ ہی کی تھی کہ جے اسے اپنی طرف آتی ہوئی نظر آئی.
ہائے پیاری آفیسر کیسی ہیں…..؟ دیکھیں آپ کی طرح بلکل تازہ اور خوشبودار پھول ہیں آپ یقیناً انھیں لینا پسند کریں گئیں…… ؟
پھول تو بلاشبہ بہت اچھے ہیں مگر میرے کسی کام کے نہیں اس لیے تم یہاں سے گم ہو اور میرا ٹائم ضائع مت کرو. آگے ہی میرا موڈ کافی خراب ہے. کیٹ نے کہتے ہوئے بلیک گلاسس دوبارہ اپنی آنکھوں پر لگائے اور بائیک سٹاٹ کرنے لگی.
اگر ولی ہوتے تو سارے خرید لیتے. جے نے جان بجھ کر اونچی آواز میں کہا تاکہ کیٹ سن لے.
ولی کو توتم اب بھول ہی جاؤ. وہ اب ہمارا نہیں رہا. پاکستان کو پیارا ہو گیا ہے. کیٹ نے بائیک کو ریس دی.
بھولنے کی ضرورت آپ کو ہے مجھے نہیں. جے، کیٹ کو پریشان کرتی آگے بڑھ گئی جبکہ کیٹ اُس کے جملے پر غور کرنے لگی.
🎀🎀🎀🎀
ہمیں بہت خوشی ہے ولی تمہارے آنے کی. یقین ہی نہیں آرہا کہ تم آئے ہو…….. دا جی نے خوشی سے ولی کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا
میں نے کہا تھا کہ اب آپ کی ہر خوشی اور غم میں شریک ہوں گا تو بھلا پھر میں کیسے نہ آتا حارب تو میرا بھائی ہے. ولی نے دا جی سے الگ ہوتے ہوئے جواب دیا.
پھر باری باری سب گھر والے ولی سے ملے اور سب نے اس کو خوش آمدید کہا پتہ نہیں کیوں مگر ولی کو یہاں آنا بہت اچھا لگ رہا تھا. شاید اس لئے کہ یہ سب لوگوں اُسے بہت اہمیت دے رہے تھے. یہاں آکر ولی کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی ریاست کا “شہزادہ” ہو مگر اس کی “شہزادی” کہاں تھی جو ایک جھلک دکھا کے غائب ہوگئی تھی اور ولی کو اب اس سے ملنا تھا.
ارے بھئی…….!!! یہ تو کمال ہی ہو گیا میں تو سمجھی تھی کہ وہ لنڈے کا انگریز ایک دفعہ آیا ہے اور اب دوبارہ کبھی نہیں آئے گا مگر یہ تو دوبارہ آگیا آئمہ تمہیں حیرت نہیں ہورہی اس کے یوں اچانک آ جانے پر…….. بیا نے حیرانگی سے آئمہ کی طرف دیکھا.
نہیں مجھے تو کوئی حیرت نہیں ہورہی. جس طرح تم نے سارہ پھپھو اور باقی گھر والوں نے اس کو بلایا تھا اگر وہ نہ آتا تو مجھے حیرت ہوتی. آئمہ نے سرسری انداز میں جواب دیا
خیر جو بھی ہے مجھے بھی خوشی ہے کم ازکم بہت سارے “تحائف” تو لایا ہوگا تمہارا کیا خیال ہے وہ میرے لئے کیا لایا ہوگا……. ؟ بیانے خوشی سے سوچتے ہوئے آئمہ کی طرف دیکھا
میک اپ کا سامان……. پرفیومز…… چاکلیٹس…….. اور کیا کیا ہو سکتا ہے…… ؟؟؟ آئمہ نے بھی بیا کا ساتھ دیتے ہوئے کچھ چیزیں انگلیوں پر گننا شروع کی جب سارہ پھپھو نے کمرے میں داخل ہوئیں.
آئمہ تمہیں ولی بلا رہا ہے اور ہاں اپنا حلیہ درست کر کے جانا اسی طرح گندے کپڑوں میں اس کے سامنے مت چلی جانا ۔وہ کہتی ہوئیں جیسے تیزی سے کمرے میں داخل ہوئیں تھیں ویسے ہی نکل گئیں. جب کہ آئمہ نے بیا کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا
ایسے کیا دیکھ رہی ہو. جلدی جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ چیزیں کسی اور کے حوالے کر دے ۔
بیا کو اس وقت سب سے زیادہ چیزوں کی فکر پڑی ہوئی تھی.
تم بھی تو چلو نا میرے ساتھ میں اکیلی جاکر اسے کیا کہوں گی……؟ آئمہ نے پریشانی سے اپنی انگلیاں مڑوڑیں.
پریشانی کی کیا بات ہے. وہ “انگریز” ہے “آدم خور” نہیں جو تجھے کھا جائے گا. اسی طرح جا کر کہہ دے کہ آپ جو تحائف میرے اور بیا کے لئے لائیں ہیں وہ مجھے دے دیں اور تھوڑی سی اُس کی تعریف بھی کر دینا “مکھن شکھن”. جیسے آپ مجھے بہت یاد آرہے تھے. اچھا کیا آپ آگئے وغیرہ وغیرہ
بلکل ہو سکے تو ایک آدھ رومانٹک سا شعر بھی سنا دینا مثال کے طور پر ایک گمشدہ شاعر نے کیا خوب کہا ہے
“سنگدل ہو کے بھی عزیز ہیں آپ ؟؟؟
بندا پرور عجیب چیز ہیں آپ !!!!!!”
بیا کے شعر پر آئمہ منہ بناتی ہوئی اٹھنے لگی. ویسے ناشکری لڑکی “داد” تو دیتی جا کم از کم تیرے “لنڈے” والے سے زیادہ “عجیب” شعر نہیں تھا. بیا نے قہقہ لگایا.
میرے خیال سے اب تمہیں لندن واپس آنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تمہارے لیے اب یہاں کوئی منتظر نہیں…… کیٹ نے انتہائی غصے میں ولی کے ٹیکسٹ کا جواب دیا جس میں اُس نے اپنے واپس آنے تک لارڈ پر نظر رکھنے کا کہا تھا.
مس کیٹ یہ میرے میسج کا جواب نہیں بنتا. میرا میسج دھیان سے پڑھو اگر تم نے لارڈ پر نظر نہیں رکھی تو ہماری ساری محنت ضائع ہو جائے گی. دشمن کو کبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے میں نے پیٹر کو بھی کہا ہے دیکھتے ہیں اب آگے کیا ہوتا ہے.
مسٹر ولی الرحمن آپ تو ٹھہرے زمانے بھر کے ذمہ دار اور ہم کاہل لوگ…… بھلا ہمارا آپ سے کیا مقابلہ….. جو کرنا ہے خود ہی آ کر کرنا. اب میرا دماغ زیادہ خراب مت کرو اور اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈالو سمجھے. غصے والے ایموجی کے ساتھ ریپلائے موصول ہوا.
کیٹ تمہیں کیا ہوتا جا رہا ہے…… ؟؟؟ میں بات کچھ کہتا ہوں تم سمجھتی کچھ اور ہو….. میں لکھتا کچھ ہوں اور تم پڑھتی کچھ اور ہی ہو…… میں نے لڑنا چھوڑ دیا ہے اور تم بات بے بات لڑتی ہو……. کم پیا کرو سمجھی…….اس سے پہلے کے ولی مزید کچھ لکھتا دروازے پر دستک ہوئی.
آجائیں…… کہتے ہوئے ولی نے میسج سینڈ کیا اور موبائل اپنی پاکٹ میں رکھ لیا.
(آئمہ نے اپنے آپ کو دل ہی دل میں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ “کھا” تھوڑا ہی جائے گا اور بمشکل مسکراتے ہوئے اپنا گلا صاف کیا.)
آپ نے بلایا تھا جلدی سے بتا دیں کہ کیا کام ہے کیونکہ مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں.دروازے کے درمیان کھڑی آئمہ کی حالت دیکھنے کے لائق تھی.
محترمہ پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ زرا اندر تشریف لائیں وہ کیا ہے نااااا مجھے دور کی سنائی کمزور ہے اور دوسرا اگر میں جلدی نہ بتاؤ کہ مجھے آپ سے کیا کام ہے تو آپ کیا کریں گی…..؟
آئمہ کو تنگ کرنے میں ولی کو مزہ آرہا تھا یہ پریشان اور الجھی الجھی سی لڑکی اُس کی توجہ ہمیشہ اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہو جاتی تھی. ایسا حسن اور شرم مغربی لڑکیوں میں ولی نے کبھی نہیں دیکھی تھی.
جی اچھا…… وہ میں اندر تو آ جاتی ہوں مگر میں دروازہ بند نہیں کروں گی…… بےساختہ آئمہ کے منہ سے جملہ نکل تو گیا مگر اپنی حرکت پر وہ خود ہی احساس شرمندگی سے سرخ پڑ گئی. جبکہ ولی نے پہلے حیرت سے اُسے دیکھا اور پھر ہنستا چلا گیا.
ٹھیک ہے اندر آ کر ایک بات آپ نے میری مانی ہے تو یہ بات میں آپ کی مان لیتا ہوں. ولی نے صوفے پر سیدھا بیٹھتے ہوئے اپنی توجہ آئمہ پر مرکوز کی.
آپ بیٹھنا پسند کریں گی یا کھڑے کھڑے ہی بات سنیں گی……؟ ولی کی بات پر آئمہ نے اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال کیا اور چلتی ہوئی بیڈ پاس آ گئی.
اب ایسا بھی نہیں ہے کہ میں آپ سے ڈرتی ہوں. وہ تو اچھا نہیں لگتا اس لیے میں نے کہا تھا. یہ پاکستان ہے لندن نہیں. ہماری اپنی روایات ہیں جو ہمیں بہت عزیز ہیں اور بس…… میں بیٹھ جاتی ہوں. آئمہ کہتی ہوئی بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی.
ہاں یہ تو ہے میں آپ کی” بہادری” کا قائل ہو گیا ہوں. ویسے اگر آپ تھوڑا سا “اوپر” ہو کر بیٹھ جائیں تو “گرنے” کا خطرہ کم ہو جائے گا. ولی نے آئمہ کو دیکھتے ہوئے اپنی مسکراہٹ دبائی.
تب آئمہ کو احساس ہوا کہ وہ بلکل کنارے پر ہے. افففففف آپ نے تو مجھے الجھا کر رکھ دیا تھا. فضول کی باتیں چھوڑیں اور جو تحفے آپ لائیں ہیں میرے اور بیا کے لیے وہ دے دیں.
ولی پہلے تو کچھ حیران ہوا مگر جلد ہی سنبھل کر بولا.
آپ کو یہ بات یقیناً بیا نے کہی ہو گی.
ہاں بلکل اور اس میں غلط بھی کیا ہے اتنے “بڑے بیگ” میں صرف آپ کے “کپڑے” تو نہیں ہو سکتے.کیوں ٹھیک بات ہے ناااااا آئمہ کی سمجھداری پر ولی نے متاثر ہونے کی ایکٹنگ کی.
آپ تو میری سوچ سے بھی زیادہ “سمجھدار” ہیں اک میں ہی “بےوقوف” ہوں جو آپ کو سمجھ نہیں سکا. ولی نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے اپنی مسکراہٹ چھپائی.
بیا بھی یہی کہتی ہے کہ آپ بہت بےوقوف گد……. ( گدھے کہتے کہتے آئمہ رکی.) ورنہ مجھ سے شادی نہ کرتے.
باوجود لاکھ کوشش کے اب تو ولی نے تالی بجا کر آئمہ کو داد دی جبکہ وہ خود ہنس رہا تھا. آئمہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی سب “الٹ پلٹ” ہو رہا تھا.
آپ مجھے یوں غور سے بلکل فارغ ہو کر دیکھتے ہیں تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی سب “غلط ملط” ہو جاتا ہے. ویسے میں عام طور پر ایسی حرکتیں نہیں کرتی. ںسوری
آئمہ تو اب باقاعدہ نیچے منہ کر کہ تو رہی تھی.
I am sorry really very very sorry……
میں آپ کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا وہ……. آئمہ کو روتا دیکھ کر ولی جلدی سے اپنی جگہ سے آٹھ کھڑا ہوا. اسے لڑکیاں چپ کرانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا آئمہ کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھرا اور دروازے پر نظر پڑتے ہی مسکرا اٹھا.
اگر آپ چپ نہ ہوئیں تو میں دروازہ بند کر دوں گا…… ولی کی دھمکی کارآمد ثابت ہوئی اور آئمہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھیں جلدی سے صاف کیں.
جب کہ ولی نے اسے دیکھ کر دل میں سوچا
اِک تم ہی ہو_جو دل میں سما گئ ہو
ورنہ کوششں_تو ہزاروں نےکی تھی
🎀🎀🎀🎀
اس وقت مئیر شوکت سر جھکائے لارڈ کے سامنے بیٹھا تھا.
آپ پریشان مت ہوں میں نے ذاتی طور پر اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ٹونی کا پتہ کریں. جیسے ہی کوئی خبر ملتی ہے میں آپ کو اطلاع کرتا ہوں.
اب آپ گھر جائیں آرام کریں اور اپنی فیملی کو حوصلہ دیں. لارڈ کرس نے دوستانہ لہجے میں میئر کو تسلی دی.
جناب آپ درست فرما رہے ہیں مگر میں کیا کرو باپ ہوں ناااااا دل کو چین ہی نہیں آ رہا. پتہ نہیں میرا بیٹا ٹونی اس وقت کہاں اور کس حال میں ہو گا……. ؟
میئر شوکت نے لال آنکھوں سے لارڈ کی طرف دیکھا
آپ صبر کریں اور گھر جائیں ہو سکتا ہے وہ خود ہی دوستوں ساتھ کہیں دور نکل گیا ہو جہاں موبائل سگنل نہ آتے ہوں یا بیٹری ڈیڈ ہو…… لارڈ نے کھڑے ہوتے ہوئے میئر شوکت کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس کا مطلب صاف تھا کہ وہ اب مزید بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں.
آپ کا بہت شکریہ جناب….. مگر جس نے بھی یہ حرکت کی ہے میں اسے چھوڑوں گا نہیں. بس ایک بار میرا بیٹا مل جائے.
آپ کیا ہم خود اسے سزا دیں گے مگر فلحال آپ گھر جائیں آپ کو آرام کی سخت ضرورت ہے.
لارڈ کرس نے میئر شوکت سے ہاتھ ملایا اور کمرے سے باہر چلے گئے ان کے جاتے ہی ایک ملازم تیزی سے اندر داخل ہوا.
ہاں بولو کیا رپورٹ ہے…… ؟ لارڈ کرس نے سگار سلگایا.
جناب کام ہو گیا ہے بلکل ویسے ہی جیسا آپ کا حکم تھا. ملازم نے جھک کر عرض کی. جس پر لارڈ نے ہلکا سا قہقہ لگایا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے.