Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

اچھا تو تم نے پھر پکا فیصلہ کر لیا ہے واپس جانے کا، داجی نے ولی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
میرے خیال سے اب ہمیں چلے جانا چاہیے. اگر آپ آئمہ کو روکنا چاہتے ہیں تو میں نہیں لے کر جاتا مگر یہ بےوقوفی ہو گی.بہتر یہی ہے کہ آپ اسے میرے ساتھ جانے دیں.
ولی کے جواب پر داجی نے راجہ فرخ کی طرف دیکھا جو بیٹی بھیجنے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہے تھے.
وہ بہت بھولی اور سیدھی سادی ہے کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی. اتنی دور وہ اکیلی کیسے رہے گی………. ؟؟؟ میرا دل مطمئن نہیں ہے عجیب سا ڈر لگ رہا ہے. اگر اسے کچھ ہو گیا تو ہم لوگ کیا کریں گے. اسے کہاں تلاش کریں گے …… ؟؟؟راجہ فرخ نے کہا
وہ اکیلی کہاں ہے میں ہوں ناااااا اس کے ساتھ، آپ ایسے بول کر میری ذات پر شک کی انگلی اٹھا رہے ہیں……؟
آپ کا کیا خیال ہے میں اسے وہاں جا کر بیچ دوں گا اتنا بے غیرت ہوں میں………… ولی کا غصے سے چہرہ لال ہو گیاتھا.
نہیں میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا.تم بات کو غلط رنگ دے رہے ہو۔ راجہ فرخ نے ولی کو غصے میں آتا دیکھ کر فوراً جواب دیا.
پاپا اپنے ساتھ پھوپھو سارہ کو باہر نہیں لے کر گئے تھے تو اس بات کا آپ سب کو آج تک دکھ ہے.
اگر میں لے کر جانا چاہ رہا ہوں تب بھی آپ لوگوں کو دکھ ہے. میں بھی اپنے باپ کی طرح چھوڑ دو ائمہ کو تب ٹھیک ہے………؟
آخر آپ لوگ چاہتے کیا ہیں صاف صاف کیوں نہیں بتا دیتے…… ؟
ایسی بات نہیں ہے جیسی تم سمجھ رہے ہو بات یہ ہے کہ وہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہے پہلی دفعہ خود سے اتنا دور کر رہا ہے تو اس کا دل اندیشوں میں گر رہا ہے.
ہمیں تم پر اعتبار ہے فرخ تم بھی ولی پر اعتبار کرو. سب ٹھیک ہو گا. ہماری بچی انشاءاللہ وہاں خوش رہیں گی. داجی نے ماحول کو نارمل کرتے ہوئے دونوں سے مخاطب ہو کر کہا
جبکہ ولی کا موڈ شدید خراب ہو چکا تھا. رشتے اعتبار پر قائم رہتے ہیں. اس سے پہلے کہ ولی مزید کچھ کہتا ہے حارب کمرے میں داخل ہوا.
میں اور بیا کل سلام آباد کے لیے نکل رہے ہیں میں نے سوچا آپ لوگوں کو بتا دوں۔حارب نے ولی کے ساتھ بیٹھے ہوئے کہا
یہ کیا بات ہوئی تم سب لوگ ایک ساتھ گھر سے چلے جاؤ گے تو گھر میں رونق ہی نہیں رہے گی.
ابھی ولی بھی یہی بات کر رہا تھا کہ وہ اور آئمہ اب جانے کی تیاری کر رہے ہیں اور اب تم آگئے ہو اپنا اور بیا کا بتانے…….. اس طرح تو ہمارا گھر سونا ہو جائے گا. دادی رقیہ کا ایک دم موڈ خراب ہو گیا.
اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے…… ؟ ہم تو “اسلام آباد” جا رہے ہیں ایک مہینے کے اندر اندر پیپر ختم ہوجائیں گے تو ہم دونوں واپس آ جائیں گے. آپ کے پاس ہمیشہ ہمیشہ کے لئے……… حارب نے انتہائی لارڈ سے دادی کے گرد اپنے بازو پھیلاتے ہوئے کہا
میری بھی پوری کوشش ہوگی کہ سال میں ایک چکر تو ضرور پاکستان کا لگاؤں۔ تاکہ آپ لوگ بھی آئمہ کے بغیر اداس نہ ہوں اور ہر روز آپ سے آئمہ کی بات بھی کروایا کروں گا. دیکھنے کو دل کرے گا تو ویڈیو کال پر بات کر لیا کریں گے اب پہلے والی صورتحال نہیں ہیں کہ انسان ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کو ترس جائے. سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے. اب فاصلے سمٹ چکے ہیں ولی نے بھی اپنے طور پر دادی رقیہ کو تسلی دی جس پر دا جی اور راجہ فرخ مسکرائے.
ارے واہ……… یہاں تو بڑی رونق لگی ہوئی ہے میں آئمہ کو کہہ رہی تھی کہ داجی کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں لیکن یہاں ہماری تو کمی کسی کو محسوس ہی نہیں ہو رہی. سب آپس میں کتنے سمت ہیں. بیا نے کمر پر ہاتھ رکھ کر ایک نظر سب کو دیکھا۔
آئمہ بیٹا ایسا کرو کہ اپنی امی، تائی امی اور پھپھو کو بھی بلا لاؤ. داجی کے کہنے پر آئمہ دروازے سے ہی پلٹ گئی
اس کا مطلب ہے کہ یہاں پر کوئی ضروری بات ہو رہی تھی میں جاؤں یا بیٹھوں……. ؟ بیا نے اجازت طلب نظروں سے دا جی کی طرف دیکھا
نہیں بیٹھو تم کھڑی کیوں ہو. بیٹھ جاؤ. ابھی باقی بھی آجاتے ہیں تو پھر ہم بات کرتے ہیں (اتنی دیر میں کرن بیگم ۔ثنا اور سارہ آئمہ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئیں ).
“نہیں بیٹھو”…… داجی یہ کیا بات ہوئی……..؟؟؟ یا کہیں کہ بیٹھو اور یا کہیں نہیں جاؤ یہ درمیان والا جملہ تو عجیب ہے کہ “نہیں بیٹھو”……. بیا کی بات پر سب مسکرانے لگے.
کسی وقت تو تم چپ کر جایا کرو. کبھی تو خاموش ہو کر بھی بات سن لیا کرو. بڑوں کی باتوں کا اس طرح ” بتنگڑ” نہیں بناتے. بیا یہ بہت بری بات ہے کرن بیگم نے گھورتے ہوئے کہا
ماما اب آپ مجھے ڈانٹا نہ کریں حارب کو بہت برا لگتا ہے کل بھی وہ یہی کہہ رہا تھا. مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا جب تائی امی تمہیں ڈانٹتی ہیں پہلے کی بات اور تھی اب تم میری بیگم ہو.
“تمہاری عزت، میری عزت…… تمہاری بےعزتی، میری بےعزتی….” بیا کی معصومیت اس وقت کمال عروج پہ تھیں. جبکہ حارب بےچارہ منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا. جیسے یقین کر رہا ہوں کہ یہ سب میں نے ہی کہا تھا مگر کب…..؟
داجی نے گلا صاف کرکے سب کی توجہ اپنی طرف دلائی ولی آئمہ کو اس بار اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہے اور حارب، بیا بھی اسلام آباد جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ میرے خیال سے اب ہم سب کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ ہم نے اپنی دونوں بیٹیوں کو بہت اچھی جگہ بیاہ دیا ہے.
ہم ان کی ذمہ داریوں سے اب فارغ ہیں. بیا اور ائمہ کی ذمہ داری اب ولی اور حارب کے کندھوں پر ہیں۔ ویسے بھی بچوں کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا موقع ملنا چاہیے.
اور تم دونوں سے بھی میں یہی امید کرتا ہوں کہ تم دونوں ہماری بیٹیوں کو خوش رکھو گے.
بیا اور آئمہ مجھے تم دونوں کی طرف سے بھی کوئی شکایت نہیں ملنی چاہیے. داجی نے باری باری سب کی طرف دیکھ کر کہا
کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی سوائے بیا اور ولی کے سبھی نظریں جمائیں نیچے دیکھ رہے تھے. شاید اپنے جذبات ایک دوسرے سے چھپا رہے تھے.
اگر آپ لوگ بتا دیں کہ آپ زمین پر کیا تلاش کر رہے ہیں تو میں اور ولی بھی کوشش کریں شاید ہم آپ لوگوں کی کچھ مدد کر سکیں……… ؟ بیا کے اس بے ساختہ جملے پر سب نے پہلے سر اٹھا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ہنستے ہی چلے گئے.
کمال کی چیز ہو تم، تمہارے لئے تو تالیاں ہونی چاہیے ولی نے کہتے ساتھ ہی تالیاں بجائیں.
بہت شکریہ لیکن اگر آپ کا مقصد مجھے شرمندہ کرنا مقصود ہے تو معزرت میں نہیں ہوں گی بقول شاعر
“اچھا بن کر کیا ملنا بُرا بنا تو کیا کھونا
یہ دنیا کھیل تماشا ہے ہر شخص پہ تالی بجتی ہے”
میرا نہیں خیال کے آپ شرمندہ ہوتیں ہیں تو پھر آپ کو کوئی کیسے شرمندہ کر سکتا ہے. ولی نے بیا کی طرف شرارت سے دیکھا.
سوچ لیں ہماری ضرورت قدم قدم پر پڑے گی باقی آپ کی مرضی….. بیا نے شانے اچکائے.
چھوڑ فضول باتیں ولی بیٹا آپ بتائیں کہ کب جا رہے ہیں. سارہ نے پوچھا
پھپھو میں تو پرسوں تک جانا چاہ رہا ہوں اب دیکھیں کوئی جانے کے لیے راضی بھی ہوتا ہے کہ نہیں…….. ولی کی نظریں مسلسل آئمہ پر تھیں جو سرجھکائے بیٹھی تھی.
اللہ خیر کرے خیریت سے جاؤ اور ہماری بیٹی کا خیال رکھنا یہ بہت معصوم ہے سارہ نے پیار سے آئمہ کو اپنے ساتھ لگایا. تو وہ رونے لگی.
آپ سب لوگ باری باری اس کو کبھی “معصوم” کہہ رہے ہیں……. تو کبھی “سیدھی سادی”…….. کبھی “بھولی بھالی”……. مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کوئی “غنڈہ ، بدمعاش ٹائپ” بندہ ہوں آپ یقین مانیں میں بھی بہت “معصوم” ہوں. ولی مسکرایا
فرنگیوں پر یقین کرنا تو نہیں چاہیے پر چلیں ہم کر لیتے ہیں کیا یاد کریں گے……. بیا کہ جواب پر ولی نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سر کو خم دیا.
بس آپ نے میری ایک بات یاد رکھنی ہے کہ کوشش کرنا جس چیز کیلئے آپ خود ترسے ہیں کوئی دوسرا آپ کی وجہ سے نہ ترسے پھر چاہے وہ رشتے ہوں یا خوشیاں ہوں یا سکون..!! آگے آپ کافی سمجھدار ہیں. اب کی بار بیا نے ولی کی طرف دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
بیا بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ہم تمہیں بار بار اس لیے کہہ رہے ہیں کہ آئمہ تو ابھی چھوٹی ہے پھر اس نے دنیا نہیں دیکھی. اس کی کل دنیا یہی ایک مکان ہے جس میں اس نے اپنا سارا بچپن اور اب جوانی دیکھی ہے.
مگر تم نے تو ماشاء اللہ دنیا دیکھ رکھی ہے. اس لئے ہم تمہیں اس کا خیال رکھنے کو کہہ رہے ہیں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم تمہیں غنڈہ یا بدمعاش سمجھ رہے ہیں. تمہیں سمجھ دار سمجھ کر ذمہ داری سونپ رہے ہیں. میرے بچے اس چیز کا خاص خیال رکھنا کہ
اپنی وجہ سے کسی کو کبھی بھی یہ کہنے کی نوبت نہ آنے دینا کہ…!
“وَاُفَوّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللّٰہ”
” میں اپنا مقدمہ اللہ کے ہاں پیش کرتا ہوں”
کسی کے یہ کہنے سے پہلے معاملہ سُلجھا لینا کیونکہ اُس رَب کے ہاں نہ جج بِکتے ہیں نہ ہی گواہ خریدے جا سکتے ہیں اور نہ ہی وکیل…!
کیونکہ وہ خُود ہی گواہ ، خُود ہی وکیل اور خُود ہی جج ہے…! اُس کے فیصلے پھر ٹلتے نہیں اور وہاں ترازُو بھی انصاف کے تُلتے ہیں…! اور اللّٰہ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے…!
ہم اپنی بیٹی کو اللہ کے بعد تمہارے سپرد کر رہے ہیں اس کا خیال رکھنا. سارہ کی بات پر پورے کمرے میں سناٹا چھا گیا جسے ولی کی آواز نے توڑا.
پھپھو یہ کوئی کہنے والی بات ہے یہ صرف آپ کی” بیٹی” نہیں میری “بیوی” بھی ہے.
سب کو آئمہ کی فکر لگی ہوئی ہے میری کسی کو فکر نہیں، میں بیٹی نہیں آپ کی………. ؟ بیا نے ناراضگی سے سب کی طرف دیکھا
کیونکہ سب کو میری فکر ہے اس لیے……….. حارب نے سرگوشی کی.
کسی کو حارب کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے. اس کا خیال رکھنے کے لیے میں ہوں نااااا یہی کافی ہے. بیا نے لفظ “میں” چبا کر کہا
“مجھے آتے ہیں محبت کے سبھی وظیفے
میں چاہوں تو تمہیں پاگل کر سکتی ہوں”
میں بغیر وظیفوں کے ہی پاگل ہو گیا ہوں. پلیز مجھ پر رحم کرو پیپرز دینے ہیں. حارب کی منت بھرے لہجہ پر سب نے جاندار قہقے لگائے.
🎀🎀🎀🎀
کیٹ تمہیں معلوم ہے میئر نے “ولی” کا نام دیا ہے “ٹونی” کے قتل کے سلسلے میں……. اب کیا ہوگا…….. ؟؟ مجھے تو بہت پریشانی ہو رہی ہے.
دیکھو پیٹر فی الحال تو ہم کچھ نہیں کرسکتے. جب تک ولی واپس آ نہیں جاتا. اس کے بیان کے بعد ہی ہم کچھ کر سکیں گے. ویسے بھی یہ کیس میرے ہاتھ میں نہیں ہے. کیٹ نے پن گھماتے ہوئے جواب دیا.
تمہارا کیا خیال ہے لارڈ ولی کی مدد کرے گا…..؟ پیٹر نے کیٹ سے رازداری سے پوچھا
ہم کیا کہہ سکتے ہیں اس بارے میں……… یہ بڑے لوگوں کی سیاست ہے. انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کس بندے کو کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے…… مجھے تو شک ہے کہ ٹونی کا قتل شاید لارڈ نے ہی کروایا ہو.
کیٹ کی بات پر پیٹر نے نظریں چرائیں وہ نہیں چاہتا تھا کہ کیٹ کو ولی کے بارے میں شک ہو.
اچھا میں چلتا ہوں ویسے بھی آج تمہارے اس ” پولیس اسٹیشن” کا ماحول کافی گرم ہے. پیٹر نے اردگرد لوگوں کا رش دیکھ کر کہا
ظاہری سی بات ہے میئر کا بیٹا قتل ہوا ہے مذاق تھوڑی ہے. تفتیش ہو رہی ہے. کیٹ نے جواب دیتے ہی دوبارہ فائل کھول لی جو پیٹر کے آنے سے پہلے دیکھ رہی تھی.
چلو پھر ملتے ہیں. اپنا خیال رکھنا. پیٹر کہتا ہوا باہر کی طرف بڑھ گیا.
کاش کبھی ولی بھی مجھے یہ جملہ کہے……. کچھ حسرتی‍ں ، حسرتیں ہی رہ جاتیں ہیں. کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھارتیں . مجھے بس اک ہی شخص ہی پسند آیا تھا اور وہی کوئی لے اڑا. خیر……. سرد آہ بھرتے ہوئے کیٹ نے اپنا سر جھٹکا.
🎀🎀🎀🎀
بہت رونے دھونے کے بعد بالآخر آئمہ، ولی کے ساتھ لندن جانے کے لیے جہاز میں بیٹھ گئی یہ اس کا پہلا تجربہ تھا جیسے ہی جہاز نے ٹیک آف کیا آئمہ کا رنگ اڑ گیا.
کہیں یہ جاز بلاسٹ تو نہیں ہو جائے گا ہم خیریت سے اتر تو جائیں گے نا……
یہ وہ پہلی بات تھی جو آئمہ نے سارے سفر کے دوران ولی سے پوچھی
” میری چھوٹی سی بات مان لو لمبا سفر ہے ہاتھ تھام لوں”
ولی نے مسکراتے ہوئے أئمہ کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا.
پتہ نہیں یہ لڑکی لندن میں کیسے رہے گی…..؟ میں نے سوچا تو ہے کہ اب پاکستان سال بھی ہی جاؤں گا مگر لگتا ہے اگلے ہفتہ ہی چکر لگے گا. ولی دل میں سوچتا ہوا باہر دیکھنے لگا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے.