Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

تم نے ہمارے کام کا ابھی تک کچھ نہیں کیا ہے کتنے دن ہوگئے ہیں _ ہمیں اپنی طرح فارغ سمجھ رکھا ہے…..؟ لارڈ کرس کی دھاڑ پر ڈینیل نے اپنا گلا صاف کیا. عزیزِ محترم جناب عالی میں نے عرض کی ہے کہ وہ فلحال لندن میں نہیں ہے جیسے ہی وہ ائیر پورٹ پر اترے گا ہم اسے سیدھا اوپر پہنچا دیں گے. آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا. ملنا بھی نہیں چاہیے ورنہ تم پھر کسی کو زندگی بھر نہیں ملو گے. اب کی بار لارڈ کا لہجہ نرم مگر الفاظ سخت تھے. اگر جہاں پناہ اجازت دیں تو میں جاؤں…..؟ ڈینیل نے عاجزانہ لہجہ میں پوچھا ہاں ٹھیک ہے تم اب جاؤ مگر ہمیں اس لڑکے کے بارے میں بتاتے رہنا اور سنو….. ڈینیل جانے کے لیے مڑا ہی تھا کہ لارڈ کی بات پر چونک پڑا. ہمیں جہاں تک یاد پڑتا ہے تو تم نے کہا تھا کہ Marry کا مرڈر نہیں ہوا وہ نہاتے ہوئے ہارٹ اٹیک کا شکار ہوئی ہے مگر ڈیانا تو کچھ اور ہی کہہ رہی تھی. لارڈ کرس کے اس جملے نے ڈینیل کے جسم سے خون نچوڑ لیا اور اس نے تھوک نگلتے ہوئے لارڈ کی طرف دیکھا. یاد رکھنا اگر ہماری بیٹی کا قتل ثابت ہو گیا تو ہم تمہارا وہ حشر کریں گے کہ زمانہ تو نہیں البتہ تم اچھی طرح دیکھو گے مگر کسی کو بتا نہیں سکوں گے. جی بہتر……. ڈینیل کہتے ساتھ روم سے باہر آ گیا. کیا مصیبت ہے یہ لارڈ کو بیٹھے بیٹھائے بیٹی سے کیسے محبت ہو گئی وہ بھی مری ہوئی……. ڈینیل بڑبڑاتا ہوا خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا. 🎀🎀🎀🎀 آئمہ آئمہ کی بچی کہاں ہے تو……؟
بیا مسلسل آئمہ کو آوازیں دے رہی تھی.
کیا ہے نہ خود کام کرتی ہو اور نہ ہی مجھے کرنے دیتی ہو. آئمہ جو تُوڑی والے کمرے میں بھینسوں کا چارہ لینے گئی تھی تپ کر بولی.
“میرا دل کوئی بھی کام کرنے کو نہیں کرتا اب پتہ نہیں یہ عشق ہے یا کام چوری”
لیکن جو بھی ہے تم کم از کم مجھ سے کسی مدد کی امید نہ رکھا اور زیادہ غصہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے تیرے ہی فائدہ کی بات ہے نہیں تو نہ سہی میں چلی.
بیا اک ادا کے ساتھ کہتی واپس مڑنے لگی جب آئمہ نے اسے پیچھے سے تقریباً بھاگتے ہوئے پکڑا.
یار کبھی تو سیریس ہو جایا کرو ہر بات میں مذاق اچھا نہیں ہوتا. آئمہ نے اپنے ہاتھ جھاڑے.
“کبھی کبھی میں اچھی خاصی سیریس، سمجھدار اور فرمانبردار لڑکی بننے کی کوشش کرتی ہوں بس پھر ہوتا کچھ یوں ہے کہ میں آدھے گھنٹے بعد ہی بور ہو جاتی ہوں..! “
بیا نے منہ بناتے ہوئے آئمہ کی طرف دیکھا جو اس کی بات پر اب مسکرا رہی تھی.
ایک تو آج منحوس نوکر نے چھٹی کی ہے دوسرا ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں اور تیسرا مجھے اس کمرے میں شدید تنگی ہو رہی ہے.
اچھا اچھا زیادہ صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے میں بس تجھے اتنا بتانے آئی تھی کہ وہ” لنڈے کا انگریز” تجھے تلاش کر رہا ہے _ تجھے یاد ہے نااااا جو میں نے تجھے کہا تھا. ہاں یاد ہے بیا تو فکر ہی نہ کر بلکل ویسا ہی کہوں گی جیسا تو نے کہا ہے.
آئمہ نے فرمانبرداری کی انتہا کو چھوتے ہوئے جواب دیا.
شاباش جیتی رہو شاد رہے اور طلاق یافتہ بھی…..
بیا نے ایک سیانے عامل بابا کے انداز میں نقل اتاری جس پر دونوں ہنسنے لگیں.
🎀🎀🎀🎀
ولی جو جانوروں کے کمرے کی طرف جانے کا ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ حارب کو اپنی طرف آتا دیکھ کر رک گیا.
یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو چلو باہر چلتے ہیں….؟
حارب نے خوش دلی سے آفر ماری جسے ولی نے قبول کر لی.
میں پاپا کا گھر دوبارہ بنوانا چاہتا ہوں _ گاؤں کی کچی پکی گلیوں میں سے گزرتے ہوئے ولی نے حارب کو بتایا. مرضی ہے تمہاری، مگر میرے خیال سے اس کی ضرورت نہیں، جب تم نے یہاں رہنا ہی نہیں ہے تو پھر اس کا مقصد….؟ ہاں یا تو ہے کہ مجھے یہاں نہیں رہنا مگر……. مگر کیا….؟ مگر یہ کہ میں آتا جاتا رہا کروں گا کیونکہ ایسا کرنا اب میری مجبوری ہے. ولی کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے حارب نے اپنا سر ہاں میں ہلایا. اتنی دیر میں وہ دونوں گاؤں سے تقریباً باہر نکل آئے. تمہیں پکا یقین ہے کہ میرے دادا کی ایک ہی اولاد تھی میرا مطلب ہے کہ ان کی کوئی بیٹی تو نہیں تھی…؟ ولی کی بات پر حارب نے حیرت سے ولی کو دیکھا جو اس وقت کھنڈر نما عمارت کو غور سے دیکھ رہا تھا. مجھے تو بڑوں نے یہی بتایا ہے کہ ابراھیم چچا اکلوتے تھے باقی مجھے معلوم نہیں. حارب نے کندھے اچکائے اور کھنڈر کی بجائے کھیتوں کی طرف جاتے ہوئے راستے پر چل پڑا. مجھے کیوں لگتا ہے کہ اس گھر میرا مطلب ہے اس عمارت سے کسی لڑکی کا ماضی میں گہرا تعلق رہا ہے جس کی روح اب بھٹک رہی ہے. ہے تو یہ کسی خوفناک ناول یا فلم کی سٹوری مگر کچھ ایسا سا ہی ہے. ولی کھوئے کھوئے لہجے میں کہتا ہوا رک گیا اور بغور عمارت کو دیکھنے لگا. ایسا کچھ نہیں ہے اصل میں جیسا ہے ویسا میں تمہیں سمجھا نہیں سکتا مگر یہ یقین دلاتا ہوں کہ ایسا تو بلکل بھی نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہے ہو. تم سمجھاؤ تو سہی میں سمجھنے کی کوشش کروں گا. ویسے مجھے حیرت ہے بیا کے منگیتر کو بات سمجھانا نہیں آتی جبکہ وہ پورے پاکستان کو سمجھاتی پھرتی ہے. ولی نے ہلکا سا قہقہ لگایا جس پر حارب مسکرا دیا. ویسے وہ بہت سمجھدار، دوستانہ اور معاملہ فہم ہے. ولی نے سیریس ہوتے ہوئے بیا کی تعریف کی. جس پر حارب نے دل میں سوچا ”بہت اچھا لگتا ہے جب ایک شخص کی آپ ہر ایک سے تعریف سنیں اور وہ آپ کا بہت اپنا بھی ہو۔۔۔” اب دونوں کھیتوں کے درمیان بنی پگڈنڈیوں پر چل رہے تھے. دیکھو ہماری فیملی ساتھ کوئی مسئلہ ہے یہ مسئلہ تب سے شروع ہوا جب سے سارہ پھپھو کو پولیو ہوا ہے. مگر پولیو تو ایک میڈیکل ایشو ہے اس بات کا ان چیزوں سے کیا تعلق….؟ ولی بھی حارب کے برابر ٹیوب ویل کی دیوار پر بیٹھ کر گرتے پانی کو دیکھنے لگا. دادی ماں کہتیں ہیں کہ پھپھو سارہ پیدائشی ایسی نہیں تھیں بلکہ ایک دفعہ وہ وہاں کھنڈر میں کھیل رہیں تھیں کہ انھیں ٹانگ پرچوٹ لگ گئی اس کے بعد سے وہ دوبارہ سہی چل نہیں سکیں. ہمممم……. ولی نے ہنکارا بھرا. بس پھر کیا تھا ہمارے گھر والوں ساتھ عجیب و غریب واقعات ہونے لگے. مثلاً ولی نے تجسس سے پوچھا
مثلاً کبھی ہماری رات کو آنکھ کھلے تو پانی والا نل کھلا ہوتا ہے اور پانی گر رہا ہوتا ہے جبکہ کسی نے بھی اسے کھولا نہیں ہوتا بلکل اسی طرح بعض دفعہ چولھا خود بخود آن ہو جاتا ہے ہم سوئے ہوتے ہیں تو کوئی ہمارا پاؤں یا بازو ہلا کر جگا دیتا ہے اور کبھی کوئی…. اور کبھی کوئی کالے برقعے میں لڑکی چلتی پھرتی نظر آتی ہے نااااا….. ولی نے حارب کا جملہ پورا کیا جس پر حارب حیرت زرد سا ولی کو دیکھنے لگا. کیا تمہارے ساتھ بھی نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے.
حارب نے ولی کے سر کو ہاں میں ہلتا دیکھ کر اپنا بالوں میں ہاتھ پھیرا.
🎀🎀🎀🎀
آج صبح صبح ہی گھر میں کافی گہماگہمی تھی. سب لوگ خلاف معمول کافی تیار بھی لگ رہے تھے ولی نے برآمدے میں قدم رکھتے ہوئے دل میں سوچا
آؤ بیٹا ادھر آ کر بیٹھو
داجی نے اپنے پاس تخت پوش پر بیٹھنے کا اشارہ کیا.
ولی نے مسکرا کر سر ہلا اور بیٹھتے ہوئے ارد گرد پڑے پھولوں کو دیکھا.
“زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے مانا کہ آج شام کو آپ کا نکاح ہے مگر یہ فلحال اس مقصد کے لیے نہیں لائے گے اس لیے اپنے ارمان کو بریک لگائیں اور شام کا انتطار کریں. شکریہ”
بیا نے ولی کی نظروں کا رخ دیکھتے ہوئے کرسی پر بیٹھنے سے پہلے سرگوشی کرنا ضروری سمجھا.
توبہ ہے تم سے، میرے حساب سے تمہیں “ماہر نفسیات” ہونا چاہیے یقین مانو بہت کامیاب رہو گی.
تعریف کا شکریہ اب اصل بات پوچھیں جو پوچھنا چاہتے ہیں. بیا نے ہاتھ میں پکڑے چائے کے کپ سے ایک گھونٹ بھرا.
یہ سارا گھر کس چکر میں اتنی صبح صبح تیار ہے….؟
مسٹر فرنگی ہمارے ہاں کچھ رسمیں ہیں جن کو ہم لازمی پورا کرتے ہیں.
مطلب…؟
مطلب کہ ہم اپنی خوشی میں اپنے “انڈر گراؤنڈ” پیاروں کو بھی یاد رکھتے اور شامل کرتے ہیں
انڈر گراؤنڈ……ولی نے لفظ دہرایا.
جی “انڈر گراونڈ” یعنی جو ہمارے پیارے زمین کے نیچے چلے جاتے ہیں جیسے آپ کے پاپا ابراھیم…..
وہ کیسے…؟
ولی حیران ہوا.
وہ ایسے کہ آج کے دن ایک تو 12 ربیع اول ہے دوسرا جمعہ ہے تیسرا آپ لوگوں کا نکاح بھی ہے مطلب hatric three in one……..
تو…..!!!
تو یہ کہ سب سے پہلے ہم قبرستان جائیں گے _ قبروں کو صاف کریں گے پانی لگائیں گے پھول ڈالیں گے دعا کریں گے پھر تھوڑا سا جزباتی سین یعنی رونا دھونا ہوگا. بس اس کے بعد گھر واپسی اور پھر گانے شانے تمبو شمبو _ کھانے وانے دلہن دلہا _ پیار ویار سمجھ گئے نااااا………..
بیا نے شرارت سے ولی کے بعد کمرے سے آتی آئمہ کی طرف دیکھا
مگر میں تو قبرستان جانا نہیں چاہتا
ولی نے بیزاری سے کہا
کیوں…؟
اب کی بار داجی نے اپنی لاٹھی حارب سے پکڑتے ہوئے پوچھا
اس طرح یادیں تازہ ہو جاتیں ہیں جو تکلیف دیتیں ہیں اور میں خود کو تکلیف دینا نہیں چاہتا. ولی نے جواب دیا.
لوٹ کے یادیں ہی آتیں ہیں یادیں دینے والا نہیں ، اس لیے خود کو تکلیف مت دیں اچھی یادیں یاد کریں اور خوش رہیں. میری طرح _ بیا نے اپنی طرف انگلی سے اشارہ کیا.
چلیں اٹھیں اور اپنے پاپا کو بتائیں کہ آپ ان سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ ان کی وصیت کے مطابق آج شادی کر رہے ہیں.
بیا کے کہنے پر سب نے مسکرا کر ولی کی طرف دیکھا جو نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ کھڑا ہوا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے