Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

حارب تمہیں پتہ ہے کہ اندر کیا ہو رہا ہے…؟
بیا نے حارب کے ہاتھ سے کتاب لیتے ہوئے پوچھا
بیا تم ایک مصیبت کا دوسرا نام ہو جو مجھ پر بچپن سے مسلط ہے……..
اور بڑھاپے تک مسلط رہے گی انشاءاللہ
بیا نے حارب کے ادھورے جملے کو پورا کیا.
ادھر دو میری کتاب، پڑھنا ہے میں نے بس چند ہفتے رہ گئے ہیں امتحان میں…..
پہلی میری بات کا جواب دو..؟
کون سی بات…؟
حارب نے چڑ کر پوچھا
یہی کے اندر کیا ہو رہا ہےمجھے تو کچھ گڑ بڑ لگ رہی ہے میرا مطلب ہے کہ کچھ “زیادہ بڑا” ہونے والا ہے. بیا تم زرا اپنے جملے پر غور کرو یہ “کچھ زیادہ بڑا” کیا ہوتا ہے…..؟ حارب نے کتاب واپس لیتے ہوئے میز پر رکھی. مطلب کہ “اہم فیصلہ”بیا نے وضاحت کی.
صدقے تمہاری اردو اور اس کی تشریح کے. ملاحظہ فرماؤ بیا جی کہ رہیں ہیں کہ” کچھ زیادہ بڑے” کا مطلب ہوتا ہے” اہم فیصلہ”….
حارب نے کمرے میں داخل ہوتی ہوئی آئمہ کو دیکھ کر کہا اور خود قہقے لگانے لگا
” بیا جی “تو تم ایسے کہہ رہے ہو جیسے میڈیا والے “میرا جی” کہتے ہیں میں تمہارا طنزززز بخوبی سمجھ رہی ہوں.
اس سے پہلے کے آئمہ اپنی طرف سے کچھ کہتی کرن بیگم نے اندر آتے ہوئے حارب کو داجی کے پاس جانے کا حکم دیا.
حارب کے جاتے ہی بیا اور آئمہ کی طرف دیکھ کر وہ کچھ خاموش سی ہو گئیں.
امی جان خیریت ہے نااااا….؟
بیا نے ہمت کر کہ پوچھا
ہاں سب ٹھیک ہے وہ تمہارے داجی نے فیصلہ کیا ہے کہ
ابھی وہ اتنا ہی کہہ پائیں تھیں کہ بیا نے بات کاٹ دی.
دیکھا تمہارا وہ نکما بھائی میرا مذاق اڑا رہا تھا میں نے کہا تھا ناااا کہ کوئی اہم فیصلہ ہونے والا ہے. کیا اس لنڈے کے انگریز نے اپنی جائیداد ہمارے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے.؟
بیا نے پہلے آئمہ اور بعد میں کرن بیگم کی طرف دیکھا
وہ جائیداد ہمارے نام کرتا ہے یا نہیںاس کا تو پتہ نہیں مگر تمہارے دا جی نے آئمہ اُس کے نام کر دی ہے.
کیا……!!!
کرن بیگم کی بات پوری ہوتے ہی بیا اور آئمہ دونوں چیخ پڑیں.
ہاں اور کل جمعہ کو عصر کی نماز کے بعد تم دونوں کا نکاح ہے.
کرن بیگم دونوں کے سروں پر بم پھوڑتی خود کمرے سے باہر چلیں گئیں.
یہ کیا بدتمیزی ہے میں تو کبھی ایسے نہیں ہونے دوں گی….؟
بیا نے انتہائی غصے سے آئمہ کی طرف دیکھا
بیا کیا تم واقعی ہی میرا نکاح رکوا دو گی. مجھے یہ شادی نہیں کرنی.
آئمہ نے امید بھری نظروں سے بیا کی طرف دیکھا
مجھے کیا تکلیف ہے کہ تمہاری شادی رکواؤں، مجھے تمہارے نکاح سے کیا لینا دینا.
تو پھر تمہیں اتنا غصہ کیوں آیا ہے میں تو سمجھی کہ…….
آئمہ نے اپنی بات بیا کے ڈر سے ادھوری چھوڑ دی.
مجھے تو غصہ اس بات پر آیا ہے کہ میں تم سے بڑی ہوں تو پہلے میرا نکاح ہونا چاہیے اگر میرا نکاح کل تمہارے ساتھ نہ ہوا تو میں پھڈا کھڑا کر دوں گی.
بیا کے جواب پر آئمہ نے دکھ سے اسے دیکھا
ایسے کیوں دیکھ رہی ہو اور ناشکری لڑکی رو کیوں رہی ہو…. ؟ شکر کرو وہ” لنڈے کا انگریز” تم سے شادی پر راضی ہو گیا ہے ورنہ اسے تو اور بھی بہت سے رشتے مل سکتے ہیں مگر تمہیں مسئلہ ہو سکتا ہے پتہ ہے ناااا ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے رشتوں کا کتنا مسئلہ ہے…..؟
اور ہاں میں ان خودغرض بھابیوں میں سے نہیں جو نند کو ساری زندگی اپنی خدمت کے لئیے گھر بیٹھا کر رکھتی ہیں میں تو تمہیں فوراً رخصت کرنے کے حق میں ہوں.
جاؤ تم بھی عیاشی کرو اور مجھے بھی کرنے دو. شادی سے پہلے کوئی زندگی ہوتی ہے اصل زندگی تو شادی کے بعد شروع ہوتی ہے.
بیا کے لیکچر پر آئمہ نے رونا شروع کر دیا.
کیا مصیبت ہے
شادی نہیں کرنی یا لنڈے والے سے نہیں کرنی….؟
بیا نے آئمہ کو روتے ہوئے دیکھ کر چپ کرایا.
لنڈے والے سے نہیں کرنیآئمہ نے روتے ہوئے سر نفی میں ہلایا مطلب شادی کرنی ہے بیا نے چسکا لیا.
بیااااااااا…….
آہستہ کان کے پردے تو مت پھاڑو.
تم بھی کیا یاد کرو گی اللہ نے تمہیں کیسی نیک صفت، فرشتہ سیرت اور جزبہ ایثاروقربانی جیسی اعلٰی صفات کی مالک بھابی سے نوازا ہے دیکھو اب میں کرتی کیا ہوں.
بیا کی باتوں پر آئمہ کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں.
ایسے کیا دیکھ رہی ہو اب مجھے نظر لگاؤ گی بیا کہتی ہوئی باہر جانے لگی مگر پھر مڑی.
میرے آنے تک یہ “نیک پروین” والا شو ختم کر کے عمر شریف کا ٹیون کر لو سمجھی _ اور خود باہر چلی گئی. 🎀🎀🎀🎀 ارے آپ یہاں پر کھڑے کیا کر رہے ہیں مجھے آپ سے ایک بات “کرنی ہے” نہیں “بتانی ہے” بلکہ “سمجھانی ہے” . اگر آپ سمجھ لیں گے تو آپ کا ہی فائدہ ہےبیا نے ہمدردانہ لہجہ اپنایا
جی فرمائیں….!
ولی جو ابھی ابھی داجی کی باتیں اور اپنے ڈیڈ کا خط پڑھ کر نہایت بیزار کھڑا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا گویا ہوا.
وہ کیا ہے نااااا آپ کل میری کزن سے شادی کر رہے ہیں تو…….
ایک منٹ، آپ سے کس نے کہا کہ میں یہ شادی کر رہا ہوں….؟
ولی نے انگلی اوپر کرتے ہوئے بیا کو ٹوکا.
زبردست (لے بھئی آئمہ بی بی تیرا کام تو ہو گیا).
بیا کے منہ سے جیسے ہی یہ لفظ نکلا ولی چونک پڑا.
ایسا کیوں کہا آپ نے…؟
وہ میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ مجھے آپ سے ہمدردی ہے مگر شادی تو آپ کو کرنی پڑے گی کیونکہ یہ آپ کے والد محترم کی وصیت ہے اور وصیت جتنی جلدی ہو سکے پوری کر دینی چاہیے ورنہ روح بھٹکتی ہے.
ہاں اگر آپ یہ شادی نہیں کرنا چاہتے تو میرے پاس آپ کے مسئلہ کا ایک مناسب حل موجود ہے. جس سے سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی.
کیسے….!!!
ولی کے تنے اعصاب کچھ نارمل ہوئے.
وہ ایسے جناب کہ آپ خوشی خوشی میری کزن سے شادی کر لیں تاکہ گھر والوں کو محسوس ہو آپ اس فیصلے سے بہت خوش ہیں. ایسا ظاہر کریں کہ آپ کو یہاں آتے ہی سب سے محبت ہو گئی ہے اور آپ ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں.
مجھے محبت سے نفرت ہے وہ بھی شدید والی نہایت گھٹیا چیز ہے
ولی نے دوبارہ بیزاریت کامظاہرہ کیا. کیوں جی محبت سے کیوں نفرت ہے _ خبردار!!! جو میرے سامنے محبت کو کچھ کہا تو “محبوب آپ لوگوں کا کتا ہوتا ہے اور گالیاں محبت کو دیتے ہیں”. مطلب…؟ مطلب یہ کہ ہمارے پاکستان میں سارے برے کام ہم خود کرتے ہیں اور برا پاکستان کو کہتء ہیں حالانکہ پاکستان تو non living thing ہے وہ تو کچھ کر ہی نہیں سکتا. بلکل ایسے ہی محبت تو “جذبہ” ہے اسے برا کہنے کا کیا مقصد، اب اگر آپ کو کسی گھٹیا، کمینے انسان سے محبت ہو گئی جو محبت نبھا نہیں سکا تو اُسے گالیاں دیں بلکہ میری مانے تو الٹا لٹکا کر چھترول کریں مگر محبت کو کچھ مت بولیں. اچھا پھر آگے بولو…. پہلے وعدہ کریں اب آپ محبت کو نہیں بلکہ محبت کرنے والوں دو نمبر بلکہ دس نمبر لوگوں سے نفرت کریں گے. ( کہاں پھنس گیا ہوں) اچھا ٹھیک ہے آگے بولو نااااا….. ویسے بھی جب آپ کو محبت ہو گی نااااا تو سارے م، ح،ب، ت نکل جائیں گے. اچھا جب سب نکل جائیں گے تو باقی کیا بچے گا. ولی نے بیا سے طنزاً پوچھا
کچھ بھی نہیں ( بیا نے قہقہ لگایا) خیر چھوڑیں یہ بعد کی باتیں ہیں.
ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ شادی ہونے کے بعد آپ بھی وہی کرنا جو آپ کے باپ نے کیا تھا.
یعنی طلاق ولی کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں. اس میں اتنا حیران ہونے والی کون سی بات ہے بیٹا باپ پر ہی جائے گا نااااا ویسے بھی تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے. اس طرح تو لوگ مجھے بےوفا بولیں گے نمک حرام، احسان فراموش وغیرہ ہمارے پاکستان میں مشہور ہے کہ” رنگین آنکھوں” والے لوگ “بے وفا” ہوتے ہیں.. ہمیں تو دیکھتے ہی پتہ چل گیا تھا کہ آپ سے خیر کی امید رکھنا سراسر بےوقوفی ہے. انگریزوں نے آگے کبھی ہم سے وفا کی جو اب کریں گے….. یہ آپ کیا کہہ رہیں ہیں…؟؟؟ بیا کی باتوں پر ولی کو جھٹکا لگا. وہی جو آپ سن رہے ہیں. سمجھنے کی کوشش کریں اور زیادہ پریشان مت ہوں میں تو آپ کو بتا رہی تھی کہ کچھ دن لوگ ایسی باتیں کریں گے اور پھر چپ…. ویسے بھی آپ نے کونسا پھر واپس آنا ہے یہاں کیا ہے آپ کا، ایک باپ کی قبر کے سوا، میرے حساب میں بندہ قبر میں ہو یا پردیس میں، ایک ہی بات ہے. مرے بندے کو کیا لگے زمین کے اوپر کیا ہو رہا ہے کیا نہیں وہ بیچارہ نیچے اپنے مسائل میں الجھا ہوتا ہے. ہممممم آپ کی کزن کو کیسا لگے گا یہ سب…؟
ولی کو اب تھوڑی تسلی ہوئی.
وہ بیچاری کیا کہے گی ہمارے ہاں تو لڑکیوں کی جہاں شادی کر دو وہیں کر لیتیں ہیں.
یعنی انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے. وہ تو مجھے جانتی بھی نہیں ہیں میں کون ہوں کہاں سے آیا ہوں وہاں کیا کرتا ہوں….؟؟؟
ہم جسے اپنا پورا ملک سونپ دیتے ہیں نااااا یعنی “وزیرِ اعظم” اس کے بھی بس نام اور شکل سے ہی واقف ہوتے ہیں. جب اس پر اعتراض نہیں کرتے تو پھر آپ پر کیسا…..؟
رہی بات آپ کیا کرتے ہیں تو یہاں اچھی خاصی پڑھی لکھی لڑکیاں والدین یورپ میں گٹر صاف کرنے والوں کو دے کر بڑے فخر سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا داماد یورپ ہوتا ہے.
آپ کم از کم گٹر تو صاف نہیں کرتے ہوں گے ناااااا….
بیا کی بات پر ولی کے ذہن میں پیٹر کا جملہ گونجا
“تو گٹروں کا انچارج ہے”
بمشکل ولی نے اپنی ہنسی دبائی.اتنے متاثر ہیں یہاں کے لوگ وہاں سے، حیرت ہے.
بس اپنی اپنی حیرت ہے یورپ کے لوگ ان پڑھ بھی ہوں تو انگریزی بولتے ہیں اور یہاں ہم پڑھ لکھ کر بھی نہیں بول سکتے. ہمیں اس بات پر حیرت ہے.
بیا کی بات پر ولی نے بےساختہ قہقہ لگایا.
اور اگر آپ کے داجی نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو ساتھ لے کر جاؤ تو…؟
ولی کو اب مزا آنے لگا تھا.
تو مجھے کیا پتہ اب ہر بات کا میں نے ٹھیکہ تو نہیں لیا ہوا آپ 6 فٹ کے ہیں اور عقل 6 انچ بھی نہیں.
بس
آپ کل آئمہ سے شادی کر رہے ہیں اور جانے سے پہلے اسے طلاق دے کر جائیں گے بات ختم.
“ٹھیک ہے مجھے منظور ہے”.
ولی کے ساتھ باتیں طے کر کے اب بیا نے اپنے والدین کے کمرے کا رخ کیا.
🎀🎀🎀🎀
پیٹر نے آنکھیں کھولنے کی بہت کوشش کی مگر سامنے سے آنے والی روشنی اتنی تیز تھی کہ وہ دیکھ نہیں پا رہا تھا.جبکہ اس کے ہاتھ اور پاؤں کرسی ساتھ بندھے تھے.
ہمارا تمہیں کسی بھی قسم کا کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں ہے. لیکن اگر تم نے ہمیں تنگ کیا یا ہوشیاری دکھانی کی کوشش کی تو نتائج کے ذمہ دار تم خود ہو گے.
کون ہو تم اور مجھ سے کیا چاہتے ہو…؟
پیٹر نے دوبارہ سامنے دیکھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا.
صرف چند دن تمہیں اپنا مہمان رکھنا چاہتے ہیں سوچا تمہارا دوست تمہیں چھوڑ کر گیا ہے تو تم کہیں پریشان نہ ہو.
سیدھی بات کرو پہیلیاں مت پوچھو.
سیدھی بات یہ ہے کہ تم ولی کو فون کرو اور پوچھو کہ وہ کب تک واپس آ رہا ہے…..؟
مگر میرے پاس اس کا نمبر نہیں ہے وہ جب سے پاکستان گیا ہے اس نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا.
پیٹر نے صاف گوئی سے کام لیا.
ہمیں معلوم ہے اسی لیے سوچا تمہاری بات کروا دیں. بولو بات کرو گے…؟
کسی نے پیچھے سے پیٹر کے بال کھینچ کر سر اوپر کیا جبکہ آواز سامنے سے آ رہی تھی.
اور ہاں ایک بات تو میں بتانا ہی بھول گیا کہ اسے مت بتانا تم ہمارے مہمان ہو بیچارا پردیس میں خامخواہ پریشان ہو گا.
اب پیٹر کی سمجھ میں کچھ کچھ کہانی آ رہی تھی. ٹھیک ہے بات کراؤ.
اتنی بے صبری، بے قراری وہ تمہارا دوست ہی ہے ناااا کہیں کچھ اور معاملہ تو نہیں _ بہت سے قہقے ایک ساتھ بلند ہوئے جس سے پیٹر کو معلوم ہوا کہ اس کے اردگرد کم از کم دس لوگ ہیں. 🎀🎀🎀🎀 اچھا تو آپ css کی تیاری کر رہے ہیں. پھر تو کافی ذہین ہوئے ولی نے اس کھنڈر نما عمارت میں قدم رکھتے ہوئے حارب سے پوچھا بس جی گزارا ہی ہے اللہ نے عزت رکھی ہوئی ہے حارب نے مسکرا کر جواب دیا. ویسے ہمارے ہاں اس طرح نہیں ہوتا مطلب جوائن فیملی سسٹم نام کی کوئی چیز موجود نہیں. وہاں زندگی بہت تیز ہے کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں یہاں تک کہ ماں بچوں کے لیے وقت نہیں نکال سکتی اور بزرگوں کو تو گھر میں رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا……! ولی نے اندر گھومتے ہوئے ایک کمرہ نما جگہ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہمیں تو بزرگوں سے بہت محبت ہیں یہ ہماری مشرقی اقدار ہیں. داجی نظر نہ آئیں تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں. ویسے بھی ہمارے پیارے نبی کی حدیث کا مفہومِ ہے کہ “برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے.” ہر رشتے کا اپنا ہی مزا ہے. مجھے تو الجھن ہوتی ہے اتنے سارے لوگ ایک گھر میں کیسے رہتے ہیں؟ ولی نے جھرجھری لی. مجھے تو نہیں ہوتی بلکہ مزا آتا ہے اتنے سارے لوگ ہر وقت آپ کے لاڈ اٹھانے کو موجود ہوتے ہیں. معزرت کے ساتھ مگر مجھے تو سوائے بیا کے سارا گھر ہی عجیب لگ رہا ہے. اس لیے کہ وہ زرا زیادہ ہی زندہ دل اور لاپرواہ ہے. شاید…. ولی نے کندھے اچکائے شاید نہیں یقیناً وہ ابھی زندگی کی تلخیوں سے بہت دور ہے اسی لیے معصوم ہے. حارب نے بیا کا دفاع کیا. اپنی اپنی رائے ہے مگر میں نے جتنا جج کیا ہے وہ آپ سب سے زیادہ ذمہ دار ہے. ولی نے حارب کی طرف دیکھتے ہوئے اب باہر کی طرف قدم بڑھائے تم میرے ساتھ لندن چلو وہاں جا کر اپنی پڑھائی مکمل کرو _ ولی نے آفر ماری.
نہیں شکریہ مجھے اپنے ملک سے پیار ہے میں شاید اُن چند لوگوں میں سے ہوں جو اپنا کیرئیر اپنے ملک میں رہ کر بنانا چاہتے ہیں.
چلو مرضی تمہاری مجھے تو نیند آ رہی ہے کیا میں یہاں رات گزار سکتا ہوں؟
ولی کی بات نے حارب کا بھک سے دماغ اڑا دیا.
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ یہاں پر تو سایہ ہے مطلب ہوائی چیزیں رہتی ہیں بدروحیں وغیرہ
کوئی بات نہیں مجھے ایسی چیزوں سے ڈر نہیں لگتا مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ عمارت یعنی میرے ڈیڈ کا گھر اتنا ٹوٹ پھوٹ کیسے گیا…؟
ولی نے داخلی دروازے میں کھڑے ہو کر پیچھے دیکھا
یہ پہلے تو ٹھیک تھا ہم جب چھوٹے تھے تو یہاں کھیلتے بھی تھے مگر 2005 کے زلزلے کے بعد چونکہ یہ اکیلی عمارت گاؤں سے باہر تھی تو سہارا نہ ہونے کی وجہ سے گر گئی.
ہمممم…..
پھر آپ کے دا جی نے اسے مرمت کیوں نہیں کروایا…؟
ولی نے استفادہ کیا.
کیا بتاؤ لمبی کہانی ہے. حارب نے آہ بھری.
چلیں کچھ بتا دیں جتنی مناسب لگے. اب دونوں گاؤں کی کچی پکی سڑک پر چل رہے تھے.
اصل میں داجی جو بھی مستری مزدور لاتے تھے انھیں گاؤں والے ڈرا کر بھگا دیتے تھے اور جو کوئی قسمت سے کام کے لیے راضی ہو جاتا تو اس کے ساتھ عجیب و غریب حادثے پیش آنا شروع ہو جاتے.
مثلاً…..
ولی کو تجسسس ہوا.
چھوڑیں رہنے دیں شام ہو رہی ہے باقی پھر کبھی، مجھے تو خود ڈر لگتا ہے.
حارب کو اس دن والے “بابا جی” یاد آئے.
ابھی دونوں باتوں میں مصروف تھے کہ ولی کا فون بجا.
ہیلو….
ولی نے اپنے مخصوص سٹائل میں کال اٹینڈ کی.
تو کب واپس آئے گا جب میں مر جاؤں گا.
بظاہر پیٹر نے ہنستے مسکراتے یہ جملہ ادا کیا مگر ولی کا رنگ ایک لمحہ کے لیے بدل گیا.
بس دو چار دن اور لگیں گے تو اپنا خیال رکھ.
اچھا مجھے فون کر کہ بتا دینا جس بھی فلائیٹ سے آنا ہو میں تجھے لینے آؤں گا.بہت یاد آ رہی ہے تیری…..
پیٹر نے آخر میں افسردگی سے کہا
تو فکر نہ کر میں آنے سے پہلے تجھے فلائیٹ نمبر اور وقت سب بتا دوں گا میں تو خود چاہتا ہوں کہ ائیر پورٹ پر اترتے ہی تجھے دیکھوں بہت دن ہوئے تیری منحوس شکل نہیں دیکھی. ولی نے قہقہ لگایا اور کال کاٹ دی.
کال بند کرتے ہی ولی نے فوراً کیٹ کا نمبر ڈائل کیا پھر حارب کی موجودگی کی وجہ سے کال کاٹ دی اور میسج ٹمسینڈ کیا.
ولی کی نظریں پیچھے اس پراسرار عمارت پر جبکہ دماغ پیٹر کے “کوڈ ورڈ” پر پھنسا ہوا تھا جو وہ صرف مشکل وقت میں استعمال کرتا تھا ” جب میں مر جاؤں گا” تاکہ ولی اس کی مدد کو پہنچے.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے………..