Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ تم لوگوں سے وہ ایک آوارہ لڑکا قابو نہیں ہو رہا……
اس وقت لارڈ کرس بہت غصے میں لندن کے مئیر سے مخاطب تھے.
سر اس کے خلاف کوئی ثبوت ہی نہیں مل رہا.
مئیر شوکت علی نے مودبانہ لہجے میں عرض کیا.
ثبوت نہیں مل رہا یا تم اپنے ہم وطن کو بچا رہے ہو…..!!!
مجھے حیرت ہے بیٹے کی محبت پر وطن کی محبت غالب آ رہی ہے.
نہیں سر ایسی کوئی بات نہیں آپ مجھ سے بدگماں نہ ہوں.
یہ Marry کا کیس ختم ہو چکا مگر پھر بھی وہ شخص خامخواہ ہمارے لیے مشکلات کھڑی کر رہا ہے اب تک تو ہم نے Marry کی پراپرٹی بھی سیل کر دینی تھی.
مجھے سمجھ نہیں آ رہی اُس کا اِس سب میں کیا فائدہ ہے….؟
سر وہ اس کے دوست کی گرل فرینڈ تھی.
کسی کی گرل فرینڈ کے لیے اپنی جان کون خطرے میں ڈالتا ہے کچھ دال میں کالا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ میرے اور Marry کے تعلق کے بارے میں……
لارڈ نے سگار منہ ساتھ لگاتے ہوئے میئر شوکت کو دیکھا.
کیسی باتین کرتے ہیں میرے اور آپ کے علاوہ اس بارے میں کوئی دوسرا شخص واقف نہیں کم از کم اس زمین پر…..
ہونا بھی نہیں چاہیے ورنہ زمین کے نیچے، تم سمجھ رہے ہو نا میری بات…..
لارڈ نے میئر کو سر سے پاؤں تک دیکھا.
جو بھی ہو لیگل یا الیگل اس بندے کو ہٹاؤ جلدی کرو مجھے Marry کے زیورات اور جائیداد سیل کرنی ہے جلد از جلد….
جی بہتر!!!
مئیر صاحب اپنا پسینہ صاف کرتے مودبانہ انداز میں محل سے رخصت ہوئے.
شوکت کے جاتے ہی لارڈ نے اپنے خاص آدمی کی طرف دیکھا.
مئیر پرنظر رکھو مجھے کبھی بھی پاکستانی قابل اعتماد نہیں لگے مجبوری ہے ورنہ اس گدھے کو کون منہ لگاتا ہے.
اگر زرا بھی شک پڑے کہ وہ اس لڑکے کے ساتھ ملا ہوا ہے تو دونوں کو فارغ کر دینا.
لارڈ صاحب نے کہہ کر دوبارہ سگار پینا شروع کردیا جبکہ ملازم سر ہلاتا باہر چلا گیا.
🎀🎀🎀🎀
اب دیکھ میں اس مقصود نمبردار ساتھ کیا سلوک کرتی ہوں. میری شکایتیں لگاتا ہے….
بیا نے دور سے آتے نمبردار کو دیکھ کر آئمہ کے کان میں سرگوشی کی.
چچا جی آپ کو پتہ ہے وہ نہر کے کنارے جو کھنڈر ہے وہی جو پاکستان بننے سے پہلے شمشان گھاٹ تھا. میں نے وہاں ایک سایہ دیکھا ہے اللہ خیر کرے.
بیا نے نزدیک آنے پر پھولی سانسوں ساتھ نمبردار کو کہانی سنائی.
میں تمہاری کسی بات کو سنجیدہ نہیں لیتا اور نہ ہی میں ان چیزوں سے ڈرتا ہوں یہ سب گاؤں والوں کی کہانیاں ہیں اور بس…..
نمبردار نے اپنے رومال سے اپناپسینے سے بھرا چہرہ جو گرمی کی شدت سے کالا ہونے کے ساتھ ساتھ لال بھی ہو گیا تھا صاف کرتے ہوئے جواب دیا.
ویسے چچا جامن کس طرح مل رہے ہیں…؟ اب تک تو کافی پک گئے ہوں گے.
بیا کے سوال پر نمبردار کا چہرہ مزید سرخ ہو گیا.
کیونکہ گاؤں کے شرارتی لڑکے اسے “جامنو” کہہ کر پکارتے تھے اس کے رنگ کی وجہ سے…..
انتہائی شریف ماں باپ کی اولاد ہو مگر تمہاری حرکتیں، توبہ ہے. میں آج ہی تمہاری شکایت چچا فضل سے کروں گا.
جبکہ بیا اور آئمہ حیرت سے انھیں دیکھ رہیں تھیں.
چچا میں نے کیا کہا ہے آپ تو خاہ مخواہ ہی مجھ سے ناراض ہو رہے ہیں.
بیا کی آنکھوں سے صاف شرارت جھلک رہی تھی.
میں سب سمجھتا ہوں کہ تم مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو….؟
کیوں پوچھ رہی ہوں…؟
بیا نے اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے پوچھا
بس بس زیادہ دماغ نہ کھاؤ اور اپنا راستہ لو.
نمبردار صاحب کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے.
بیا یہ کیا حرکت تھی اب دا جی ہمیں نہیں چھوڑیں گے.
آئمہ نے فکرمندی سے کہا
یہ داجی تک پہنچے گا تو تب ناااااا…..
مطلب…؟
مطلب یہ میری اکلوتی اور پیاری کزن نمبردار کھنڈر کی وجہ سے کم از کم ایک ہفتے تو گھر ہی رہیں گے. یاد نہیں پچھلی دفعہ جب کھنڈر سے لڑکی کے گانے کی آواز آئی تھی تو نمبردار کتنے کالے ہو گئے تھے.
کالے……
آئمہ نے بےیقینی سے بیا کی طرف دیکھا.
ہاں یعنی ڈر گئے تھے میری بات کا مطلب سمجھ لیا کرو ناااااا..
حد ہے بیا کالے اور ڈر میں کوئی فرق نہیں.
“کبھی کبھی دل کرتا ہے کاش میں کسی ماہر نفسیات کی محبت ہوتی… وہ میرے ہر موڈ کے مطابق مجھے ڈیل کرتا، خوش رکھتا، اور ہر وہ بات بنا کہے سمجھ جاتا جو میں چاہ کے بھی کہہ نہیں پا رہی ہوتی..!!!”
پر افسوس میرے حصے میں تم آئی ہو خیر میں اللہ کی بڑی شکرگزار بندی ہوں تمہارے ساتھ بھی صبر شکر سے دن گزار رہی ہوں اللہ آخرت میں اچھا بدل دے گا.
بیا کی معصومیت پر آئمہ کا منہ کھل گیا.
تم صبر شکر سے دن گزار رہی ہو یا میں……..
وہ دیکھ نمبردار صاحب واپس آ رہے ہیں…!
بیا نے ہنسی روکتے ہوئے نمبردار کی طرف اشارہ کیا.
کیا واقعی ہی تم نے کھنڈر پاس سایہ دیکھا تھا….؟
نمبردار کے سوال پر دونوں نے ایک ساتھ سر ہلا مگر ہنسی روکنے کی وجہ سے منہ زور سے بند رکھا.
اچھا چلو میں تم دونوں کو گھر چھوڑ دوں اکیلے جانا ٹھیک نہیں……
چچا آپ کو خامخواہ زحمت ہو گی ہم دونوں چلے جائیں گے.
کوئی زحمت نہیں ہوگی چلو تم لوگ میرے ساتھ……
جیسے آپ کی مرضی، بیا اور آئمہ دونوں انکے پیچھے چل پڑیں.
چچا وہ داجی بتا رہے تھے اس کھنڈر کے آس پاس اکثر عجیب وغریب واقعات ہوتے رہتے ہیں….؟
بلکہ پھپھو سارہ کو پولیو بھی اسی لیے ہوا تھا کیونکہ وہ یہاں آ کر کھیلتی تھیں.
داجی تو خود بہت سختی سے منع کرتے ہیں اس طرف آنے سے…..
بس کرو لڑکیوں، اب تم میری جان لینے کے در پر ہو.
نمبردار کے جواب پر دونوں نے خوب قہقہ لگایا مگر کھنڈر کے آتے ہی سب کی بولتیاں بند ہو گئیں.
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ گاؤں والے اس ٹوٹی پھوٹی عمارت کو گرا کیوں نہیں دیتے جس کی وجہ سے آئے دن اتنی افواہیں گردش کرتیں رہتیں ہیں؟
بیا کے سوال پر نمبردار نے پیچھے مڑ کر حیرت سے اُسے دیکھا.
کیونکہ اس عمارت کا وارث اسے گرانے نہیں دیتا.
یہ کھنڈر یعنی شمشان گھاٹ بھی کسی کی ملکیت ہے….؟
مگر کس کی….؟
یہ ابراھیم کی ملکیت ہے اور اب اس کے بارے میں تم اپنے داجی سے پوچھنا وہ تمہیں مجھ سے بہتر بتا سکتے ہیں.
اتنی دیر میں وہ لوگ کھیتوں سے نکل کر گاؤں میں داخل ہو گئے جبکہ بیا ابھی تک پیچھے مڑ کر کھنڈر کو دیکھ رہی تھی جس کے درودیوار سے وحشت ٹپک رہی تھی.
🎀🎀🎀🎀
آج کہانی مکمل ہو گئی ہے Marry تمہیں بھی خوش ہونا چاہیے.
مگر شاید تم دکھی ہو گی کیونکہ تمہارے اپنوں نے تمہارے ساتھ کافی برا کیا ہے میں اسی لیے اس ” محبت” نامی چیز سے نفرت کرتا ہوں.
کیونکہ “نفرت” دھوکہ نہیں دیتی جبکہ “محبت” کی فطرت دھوکہ ہے.
ولی نے کہتے ہوئے Marry کی قبر پر پھولوں کا گلدستہ رکھا.
دیکھو پیٹر تم سے “محبت” کرتا ہے مگر یہ تمہارے کسی کام نہیں آیا، اس نے تمہاری کوئی مدد نہیں کی.
جبکہ مجھے تم بہت نفرت تھیں. پھر بھی میں نے تمہارے سارے ادھورے کام مکمل کر دیے.
بتاؤ اب محبت اچھی ہے یا نفرت…!!!
ولی نے پیٹر کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا
لارڈ پر ہاتھ ڈالنا بہت مشکل ہے بلکہ تقریباً ناممکن ہی ہے.
پیٹر کے جملہ پر ولی نے زوردار قہقہ لگایا
چلو جی آج Marry کی نانہاد “محبت” بھی لارڈ کا نام سن کر خودکشی کر گئی.
تم Marry بہت بدنصیب ہو کہ تم نے لارڈ اور پیٹر جیسے انسانوں سے محبت کی….
مگر تمہاری یہ بد نصیبی اس لیے تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکی کیونکہ میں نے تم جیسی لڑکی سے نفرت کی…..
اب دیکھنا تمہاری “نفرت” تمہاری “محبت” کو دفنا کر تمہارے مجرموں کو بھی دفنا دے گی.
کیونکہ میں “نفرت” کو ہارنے نہیں دوں گا.
وہ لوگ بہت خطرناک ہیں ولی……
مجھے “خبردار” کرنے کی بجائے بس تم مجھ سے ایک وعدہ کرو کہ آئندہ “محبت” کا رونا میرے سامنے نہیں روؤ گے.
ولی پیٹر کے کندھے کو تھپکتا قبرستان سے باہر نکل گیا.
جبکہ پیٹر اپنی بےبسی پر Marry کی قبر کو دیکھتے ہوئے رو پڑا.
🎀🎀🎀🎀