No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
(یہ قسط پیاری ریڈر ” کرن ناصر اور زمل خان” کے نام)
میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ ڈیڈ کو آپ بہت یاد آتیں تھیں اور اکثر آتیں تھیں. وہ آپ کا ذکر کرتے ہوئے بہت اداس ہو جاتے تھے. انھوں نے اپنی زندگی کہ آخری چند سال بہت تکلیف میں گزارے. میری دلی خواہش ہے کہ آپ انھیں معاف کر دیں.
ولی نے سارہ کو دیکھتے ہوئے اپنی بات مکمل کی.
میں نے اُسے کبھی بدعا نہیں دی اور نہ ہی میں اُس سے کبھی ناراض ہوئیں ہوں. ہاں البتہ ٹھکرائے جانے کا دکھ تھا کہ وہ مجھے چھوڑ گیا اب تو وہ بھی نہیں ہے مگر…….
سارہ نے ایک سرد آہ بھری.
میں آپ کی تسلی کے لیے اپنے اللہ کو حاضر ناظر جان کر ابراھیم کو معاف کرتی ہوں.
سارہ نے سادے سے لہجے میں کہتے ہوئے ولی کی طرف دیکھا پتہ نہیں کیوں مگر ولی کا دل اداس ہو گیا.
اچھا میں چلتا ہوں میرا نہیں خیال کہ اب کبھی ہماری دوبارہ ملاقات ہو گی.
وہ جانے کے لیے کرسی سے اٹھا.
تم ابراھیم کے بیٹے ہو مگر بلکل بھی اُس جیسے نہیں.
سارہ نے نجانے کس سوچ کے تحت یہ بات کہی مگر ولی پھیکا سا مسکرایا.
عجب بات ہے موم ڈیانا کہتیں ہیں کہ تم باپ پر گئے ہو زرا بھی مجھ پر نہیں گئے ڈیڈ کہتے تھے تم اپنی ماں پر ہو زرا بھی مجھ پر نہیں…….
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ بچے کا ماں باپ پر جانا ضروری ہے بچہ اپنے آپ پر بھی تو جا سکتا ہے نااااامیں اپنے جیسا ہوں کوئی میرے جیسا نہیں.یہی میرے لیے کافی ہے. تمہیں شاید میری بات بری لگی…. ؟ نہیں بلکل بھی نہیں، میں باتوں کا برا نہیں مانتا. ہر انسان اپنے تجربے سے بات کرتا ہے اور میں اپنے تجربے سے، لوگوں کو میری باتیں بری لگتی ہیں مگر مجھے نہیں پتہ ہے کیوں….؟ سارہ نے سوالیہ نظروں سے ولی کی طرف دیکھا کیونکہ میں نے باتوں سے زیادہ بُرے خونی رشتے دیکھیں ہیں آپ یقین نہیں کریں گی مگر مجھے آپ کا دکھ اپنے آگے بہت چھوٹا لگ رہا ہے. ولی نے اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر ایک رنگ نکالی اور کی طرف بڑھا دی. یہ تمہیں یقیناً ابراھیم نے دی ہو گی..؟ جی مگر یہ نہیں کہا تھا کہ آپ کو دوں. تو پھر….؟ سارہ کے ہاتھ جو رنگ پہننے میں مصروف تھے رکے. انھوں نے میری بیوی کے لیے دی تھی لیکن میں نہیں چاہتا کہ ایسی بےوفا چیز میں اُسے دوں. ویسی بھی یہ آپ کی ہے تو آپ کے ہی ہاتھ میں اچھی لگ رہی ہے. ولی نے کہتے ساتھ رنگ پوری طرح سارہ کی انگلی میں پہنا دی. ہاں یہ ابراھیم نے مجھے نکاح پر دی تھی. پتہ نہیں کیوں؟ مگر جاتے وقت وہ یہ ساتھ لے گیا.
سارہ اپنی انگلی میں رنگ گھماتی ہوئی سرگوشی کرنے لگی جسے ولی سننے سے قاصر تھا.
چلتا ہوں، ولی کی آواز نے سارہ کو رنگ اور اُس سے جڑی تقریب کے سحر سے نکالا.
“پتہ انسان موت آنے سے نہیں مرتا، انسان تب مرتا ہے جب آپ کے اندر کوئی مر جائے.”
سارہ نے کھوئے سے لہجے میں خودکلامی کی.
“محبت تیرا بیڑہ غرق ہو اچھے بھلے انسان کا تماشا بنا دیتی ہے.اللہ بچائے اس موذی مریض سے”
ولی نے جھرجھری لی اور جانے کے لیے مڑا.
سنوکیا میں تمہیں پیار کر سکتی ہوں اپنا بیٹا سمجھ کر….؟
سارہ نے سہارے سے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
جی بلکل کر سکتیں ہیں اِس میں بھلا پوچھنے والی کونسی بات ہے.
آپ کے پیار کرنے سے کونسا ان کا ” ویزہ ” کینسل ہوجانا ہے….؟
ولی کے جواب دینے سے پہلے بیا جو ابھی ابھی اپنی جاسوس فطرت سے تنگ باتیں سننے آئی تھی ضرورت سے زیادہ ہی اندر آ گئی. جبکہ اس کے پیچھے آئمہ نے اپنا سر پکڑ لیا.
ولی اور سارہ نے ایک ساتھ بیا کو گھورا.
یقین مانے ہماری پھپھو کو “کرونا” نہیں ہے اس لیے بےفکر ہو کر پیار لیں جیسے ہماری حکومت آپ لوگوں سے “ڈالر بطور قرضہ” لیتی ہے.
بیا نے ایک ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے دوسرے سے سارہ کی طرف اشارہ کیا.
ولی نے جھک کر سارہ سے پیار لیا. سارہ کے شفیق بوسہ نے ولی کو عجیب مسرت سے شرسار کیا.
شکریہ مجھے آج تک کسی نے اس طرح محبت سے نہیں چوما.
ولی نے تشکر بھرے لہجے میں کہتے ہوئے سارہ کے دونوں ہاتھ تھامے.
لو جی اس طرح کا پیار ہمارے بزرگ ہر “ایرے غیرے” کو دن میں پتہ نہیں کتنی بار دیتے ہیں یہ کونسا سا اسپیشل ہے…..!!!
بیا کے لفظ “ایرے غیرے” پر سارہ نے خشگمین نظروں سے بیا کو دیکھا جبکہ ولی نے لفظ “ایرے غیرے” کو دہرایا.
زیادہ پریشان مت ہوں “ایرے غیرے” گالی نہیں ہے اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ…..
اس سے پہلے بیا اس لفظ کی اپنے طور پر “تشریح” کرتی سارہ پھپھو نے اسے ٹوکا.
حارب کہاں ہے……؟ اُسے کہو ولی کو اپنا گھر ہی دکھا دے.
کون ولی….؟
بیا نے پوچھنے کے ساتھ ساتھ انگلی سے ولی کی طرف اشارہ کیا جس پر ولی مسکرا کر سر کو خم دیا.
سارہ پھپھو نے بیا کے بھولے پن پر نفی میں سر ہلایا.
حارب کا تو مجھے پتہ نہیں لیکن جہاں تک گھر دکھانے کی بات ہے تو میں دیکھا دیتی ہوں….؟
میں گھر دیکھ کر کیا کروں گا……؟ ؟؟ ولی نے معزرت کرتے ہوئے سارہ کی طرف دیکھا.
دیکھ لیں آپ کے دیکھنے سے آپ کو کچھ ملے نہ ملے مگر ان کی” آتما کو شانتی” ضرور ملے گئی. ویسے زیادہ وقت نہیں لگے گا 10 مرلے کے گھر کو دیکھنے کے لیے کونسا آدھا دن ضرورت ہوتا ہے…؟
پھر چلیں……..
(لڑکی دلچسپ سے دلچسپ ہوتی جا رہی ہے ولی نے سر سے پاؤں تک بیا کو دیکھتے ہوئے سوچا).
یہ کمرہ جس سے آپ ابھی ابھی بڑی مشکل سے برآمد ہوئے ہے ہماری بیٹھک ہے.
بیٹھک…. ؟
ولی نے لفظ دہرایا
جی بیٹھک آپ کی زبان میں کہوں تو ڈرائنگ روم، گیسٹ روم…..
اوہ آئی سی…..
ولی بیا کے ساتھ تھوڑے فاصلہ سے چل رہا تھا جبکہ آئمہ، بیا کے پیچھے تھی.
یہ میرے امی ابو کا، یہ والا دادو کا، یہ والا چچا چچی کا اور یہ میرا آئمہ کا اور جہاں ہم کھڑے ہیں اسے برآمدہ بولتے ہیں آپ اسے سٹینگ روم سمجھیں.
ہمممم…..
ولی نے اوپر نیچے دیکھتے ہوئے کہا
کچن کے پیچھے جانوروں کے کمرے ہیں وہ بھی دیکھ لیں.
بیا کی بات پر ولی چونک پڑا. جانور بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہی رہتے ہیں.
ہاں بلکل کیونکہ ہم “برابری” کے قائل ہیں اس لیے ہم جانوروں کو بھی ان کے پورے “حقوق” دیتے ہیں.
اُفففف…….. اب یہ کیسے کیسے حقوق بتائے گی یہ فرنگی تو گیا کام سے….. آئمہ بیا کی بات پر دبادبا سا مسکرا رہی تھی جبکہ ولی حیران تھا.
حقوق مثلاً….
دیکھیں نااااا دودھ وہ دیتے ہیں اور پیتے ہم ہیں. چارا ہم ڈالتے ہیں اور کھاتے وہ ہیں.
بات برابر ہوئی ناااااا….
بیا نے انتہائی سمجھداری سے ولی کو دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو سمجھ آگئی.
جی 100 پرسنٹولی مسکرایا.
یہ کیا چیز ہے…؟
ولی نے کچن کے پچھلے حصے میں قدم رکھتے ہوئے ٹوکے (چارہ کاٹنے کی مشین) کی طرف اشارہ کیا.
یہ جانوروں کی “امی جی” ہیں.
بیا نے سنجیدگی سے جواب دیا اور خود مرغیوں کے ٹوکرے پر بیٹھ گئی.
امی جی…..
ولی نے ٹوکے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
ہاں امی جی…. جیسے امی ہماری لیے کھانا بناتیں ہیں بلکل ویسے ہی یہ بھی جانوروں کے لیے چارہ کاٹتا ہے. مطلب ان کا کھانا تیار کرتا ہے.
واؤ…..ولی نے ایکساٹیڈ ہوتے ہوئے اس کا چکر گھمایا.
یہ ٹوکا ہے “BMW” نہیں جو یوں واؤ کہہ رہے ہیں. یہ دو چیزیں ہمارے گاؤں کے ہر گھر میں ہی موجود ہوتیں ہیں چاہے کوئی امیر ہو یا غریب….
دو:دوسری کونسی…؟ ولی نے بےساختہ پوچھا کھوتا مطلب گدھاچارا اُسی پر لاتے ہیں. بیا کے اس بیان پر آئمہ نے اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی. یہ ہنستی بھی ہیں….!!! میں نے پہلی دفعہ آواز سنی ہے.ولی نے مڑ کر آئمہ کی طرف دیکھا جو منہ پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی. آپ اِس کے پاس صرف مسلسل دو گھنٹے بیٹھ کر دیکھیں پھر اس کے بعد آپ کو…. پینا ڈول پونسٹان بروفن پیراسیتامول اور اینٹی ٹنشن ٹیبلٹ کی وسیع ورائٹی چاہیے ہو گی اگر میری بات پر یقین نہیں تو خود آزما لیں.وہ مشہور کہاوت ہے ناااا
“ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور”
بیا کی بات پر آئمہ نے اُسے گھورا جبکہ ولی نے اب پہلی بار غور سے آئمہ کی طرف دیکھا. اتنے میں ولی کا فون بجا.
کیٹ ہے…..
بیا نے دیوار پر چلتی بلی کی طرف اشارہ کیا مگر ولی نے بیک وقت دیوار، بیا اور فون پر کیٹ کالنگ کو دیکھا
“یہ لڑکی تو جادوگرنی ہے” .
ہیلو….
ولی یہ تم ہی ہو نااااااکیٹ نے ولی کی ہشاش بشاش آواز سنتے ہی حیرت سے پوچھا میں نہ ہنسوں تو مسئلہ ہنسوں تو مسئلہ مس آفیسر کیا مسئلہ ہے آپ ساتھ….؟ ولی بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بیا اور آئمہ کو دیکھنے لگا جو اس وقت بلی پکڑنے میں مصروف تھیں. مسئلہ تو “ولی الرحمان” آپ ساتھ ہے. یہاں تو تم نے زہر پیا ہوا تھا اور وہاں جاتے ہی شہد ٹپکنے لگا خیریت…؟ کول کیٹ کیا ہو گیا ہے…؟ مجھے نہیں تمہیں کچھ ہو گیا ہے.کیٹ نے کچھ کو کھینچا…. (کیٹ کے زور دینے پر ولی کو محسوس ہوا کہ وہ جب سے یہاں آیا ہے اس کا ذہنی تناؤ ختم ہو گیا ہے اور اسے خامخواہ غصہ بھی نہیں آ رہا.) پتہ کیٹ یہاں میری ملاقات ایک ایسی لڑکی سے ہوئی ہے جسے دیکھ کر میرے دل میں شدت سے ایک خواہش نے جنم لیا ہے. ولی کے لفظوں نے کیٹ کو الجھا دیا. کون سی خواہش…؟ یہی کہ اگر انسان فوٹو کاپی ہو سکتے تو میں اس لڑکی کی کم از کم 1000 کاپیاں بناتا. اور اپنی سوسائٹی میں جگہ جگہ پیسٹ کر دیتا. یہ “اینٹی ڈپریشن” ہے کسی بھی قسم کے ٹریٹمنٹ اور ٹیبلٹ سے زیادہ بندے کے ذہن پر اثر انداز ہوتی ہے وہ بھی بغیر کسی “سائیڈ افیکٹ” کے…. ولی تم بدل گئے ہو زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کی تعریف تمہارے منہ سے سننے کو مل رہی ہے. اس کا مطلب ہے وہ تمہیں اچھی لگی ہے. اچھی نہیں کیٹ بہت اچھی بلکہ زبردست ایکدم دھماکہ دار…….
ولی تم یہاں مجھے مصیبت میں پھنسا کر وہاں عیش کر رہے ہو میں اب مزید اس کو نہیں رکھوں گی بس….
کیٹ کو غصہ تو ولی پر تھا مگر بہانہ وہ جے کا بنا رہی تھی.
کیسی مصیبت.. ؟
وہی جو تمہارے کہنے پے پیٹر یہاں چھوڑ گیا ہے.
کیٹ کے کہنے کی دیر تھی کہ وہ پھولوں والی لڑکی ولی کے سامنے آن موجود ہوئی.
اچھا وہ “ہمنگ برڈ” خبردار جو اسے کچھ کہا تو میں دو دن تک واپس آ رہا ہوں اور یاد رکھو اگر تم نے اُسے گھر سے نکالا یا اُسے کسی قسم کا بھی نقصان پہنچا تو تم میرے دل سے اتر جاؤ گی اور یاد رکھو…….
“میں اُن میں سے ہوں جس کے دل سے کوئی ایک بار اُتر جائے ناااااا تو پھر چاہے قبر میں اُتر جائے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تو میری جان ذرا احتیاط کیجیے”. اب کی بار ولی کے لہجے میں وہی ازلی سنجیدگی تھی. کیا ہوا کیا کہا انھوں نے….؟ کیٹ کے فون رکھتے ہی جے نے تجسّس سے پوچھا وہ سڑیل کہہ رہا ہے کہ تم فلحال میرے پاس ہی رہو گی. مگر میں گھر بیٹھ بیٹھ کر بور ہو گئی ہوں. تو پھر میں کیا کرو اب مزید بحث نہیں. ڈور لاک کر لو میں کچھ دیر میں آتی ہوں. کیٹ انگلی سے وارن کرتی ہوئی باہر نکل گئی. 🎀🎀🎀🎀 عزت مآب ایک دم پکی رپورٹ ہے وہ اس وقت پاکستان میں ہے. ٹھیک ہے پھر وہ دوبارہ مجھے لندن میں دکھائی نہ دے. رہی بات ڈیانا کی تو وہ کیا کہتی ہے….؟ سر اُنھیں گارڈز لینے گئے ہیں. وہ ابھی کچھ دیر میں یہاں ہوں گی. ولی کی موت بلکل حادثاتی ہونی چاہیے سمجھے…. جی سر جو حکم ڈینیل ہاتھ باندھے ادب سے کھڑا تھا.
ڈیوڈ اور ڈیانا کو میں سنبھال لوں گا اور تم اپنے ڈیپارٹمنٹ کی آفیسر کیٹ کو….
جی بہتر…..
ائیر پورٹ کے ارد گرد اپنے بندے پھیلا دو مجھے وہ زندہ چلتا پھرتا لندن میں نظر نہیں آنا چاہیے.
جی سر میں سمجھ گیا ہوں. ڈینیل کہتا ہوا ڈور کی طرف بڑھ گیا.
🎀🎀🎀🎀
دا جی کی بات سن کر سب ہی سکتہ کی کیفیت میں تھے.
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے میں ایک بار پھر اپنی بچی کو برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتی. وصیت گئی تیل لینے ، ہمیں اپنی بچی پیاری ہے.
ضبط کرنے کے باوجود دادی رقیہ کی آواز اونچی ہو گی.
میرا بھی یہی خیال ہے کیسے اپنی بچی ایک انجان بندے کے حوالے کر دیں.
سارہ پھپھو نے بھی ڈرتے ڈرتے اپنی رائے دی.
ابا جان ہم بھی ماں جی اور سارہ کے ساتھ ہیں آپ کیا چاہتے ہیں کہ تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرائے….؟
راجہ خرم نے گفتگو میں حصہ لیا.
داجی نے سب کی باتیں سننے کے بعد اپنی جیب سے ایک خط نکال کر فرخ کی طرف بڑھایا.
تم زرا اونچی آواز میں اسے پڑھ دو.اب سب کی نظریں فرخ پر تھیں.
انھوں نے اپنی عینک ٹھیک کرتے ہوئے خط پڑھنا شروع کیا.
“السلام علیکم پیارے چچا راجہ فضل دین
آپ سے میں معافی نہیں مانگوں گا کیونکہ میں اپنے باپ اور سارہ کا گہنگار ہوں. دوسرا آپ مجھے دفنا کر اپنا غصہ نکال چکے ہیں. بس اتنی سی گزارش ہے کہ جب یہ خط آپ تک پہنچے تو پلیززز آپ میرے بیٹے کو اپنے پاس روک لیں. مجھے نہیں معلوم کہ سارہ کی کوئی بیٹی ہے کہ نہیں اگر ہے تو اس کے ساتھ ورنہ خرم یا فرخ میں سے کسی کی بھی بیٹی کے ساتھ میرے بیٹے کی شادی کر دیں. میں نہیں چاہتا کہ وہ ایک غیر مسلم لڑکی ساتھ زندگی گزارے جیسے میں نے گزاری ہے. میرا بیٹا بہت اچھا ہے وہ اپنے رشتوں اور فیصلوں کی پاسداری رکھتا ہے. اگر وہ ایک بار کسی کو اپنی بیوی بنائے گا تو یہ میری گارنٹی کہ وہ مرتے دم تک نبھائے گا وہ میرے جیسا نہیں ہے وہ اپنے دادا پر گیا ہے سچا اور ایک دم کھرابس آپ اسے اپنے پاس رکھ لیں سمجھیں کہ 25 سال بعد اللہ نے دوبارہ ابراھیم آپ کو لوٹا دیا ہے. دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں لندن کی چکا چوند کرنے والی روشنیاں بس دور سے ہی اچھی لگتیں ہیں. اصل میں یہ اندھیرے ہیں اور میں نہیں چاہتا میری نسل ان اندھیروں میں بھٹکے. اسے میری وصیت سمجھ لیں یا درخواستاگر آپ نے پوری نہ کی تو میری روح بےقرار رہے گی. آگے آپ کی مرضی_“
راجہ فرخ نے خط بند کر کے واپس داجی کو دے دیا.
اب بتاؤ میرا فیصلہ صحیح ہے یا غلط….؟
داجی نے سب سے سوال کیا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے…..
