No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
آپ کا دل اس فیصلہ سے مطمئن ہے؟
ثنا بیگم نے راجہ فرخ کو چائے پکڑاتے ہوئے پوچھا
دیکھو میں نے اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے تم بھی اپنے ذہن سے ہر طرح کا برا وہم نکال دو اور سب کچھ اللہ کے سپرد کر دو. بے شک وہ ہمارے فیصلوں سے بہتر فیصلہ کرتا ہے.
راجہ فرخ نے چائے پکڑتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر رکھی.
اگر وہ واپس نہ آیا یا خدانخواستہ اس نے وہی کیا جو ابراھیم نے کیا تھا تو…..؟
ثنا بیگم نے اپنی بات ادھوری چھوڑی.
جو ہماری بیٹی کے نصیب میں ہے وہی ہوگا چاہے ہم جو مرضی کر لیں. پھر اس “اگرمگر” کا فائدہ..؟ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر پتہ نہیں کیوں میرے دل کو بہت بے چینی ہے کسی پل چین نہیں، کیا کروں…؟ جتنا میں اپنا دل کاموں میں لگاتی ہوں اتنا ہی پریشان ہوتی ہوں. دل ہے کہ بہلنے کا نام نہیں لے رہا. اگر آپ خود ایسا کریں گی تو آئمہ کیا کرے گی سوچا ہے آپ نے….؟ اسے بھی حوصلہ دیں اور خود بھی حوصلہ کریں ایک نہ ایک دن تو اس نے یہاں سے جانا ہی تھا.شاید اسی طرح اللہ کو منظور ہے ورنہ ابو جی کے کہنے سے کیا ہوتا ہے…؟ آپ نے ولی نے بات کرنی تھی کہ ہماری بیٹی کو ساتھ نہ لے کر جائے یہاں ہی چھوڑ کر جائے. کیسی باتیں کر رہی ہو، تمہیں کیا ہو گیا ہے. مجھے تم سے ایسی بےوقوف کی امید نہیں تھی……؟ کیوں میاں بیوی کو جدا کر رہی ہو..؟ وہ اگر آئمہ کو ساتھ لے جانا چاہے گا تو میں بلکل منع نہیں کروں گا اور اب مزید بحث نہیں. راجہ فرخ نے سائیڈ ٹیبل سے چائے کا کپ اٹھایا جبکہ ثنا بیگم نے لیٹنے کے لیے کمبل سیدھا کیا. 🎀🎀🎀🎀 ولی آج اکیلا ہی کھنڈر کو دیکھنے آ گیا تھا. میرے خیال سے یہ بیڈ روم ہو گا اور یہ ساتھ سٹور یا باتھ روم_ نہیں یہ باتھ روم نہیں ہو سکتا کیونکہ آئمہ لوگوں کے گھر میں باتھ روم الگ ہے اٹیچ نہیں….؟ ولی خود ہی سوال کر رہا تھا اور خود ہی جواب دے رہا تھا.وہ کافی دیر سے کھنڈر میں گھوم رہا تھا. یہ جگہ کیا ہو سکتی ہے میرے خیال سے شاید یہ سٹور ہو گا….؟ اب کی بار ولی کھنڈر کے آخری حصے میں کھڑا تھا جب اُسے کسی لڑکی کے گانے کی آواز سنائی دی. جو اُس کے بہت قریب سے آ رہی تھی. ولی نے جلدی سے اُس سمت قدم بڑھائے مگر وہاں کچھ بھی نہ تھا. اب تو آواز آنا بھی بند ہو گئی تھی. یہ کیا ماجرا ہے…؟؟؟ کیا حارب کی باتیں درست ہیں…؟؟؟ جو بھی ہے میں اس گھر کو دوبارہ تعمیر کراؤں گا وہ بھی بلکل پرانے نقشے پے، دیکھی جائے گی جو ہو گی.میں ڈرنے والوں میں سے نہیں….. ولی دل میں ارادہ پکا کرتے ہوئے کھنڈر سے باہر کی طرف چل پڑا اور لڑکی کے گانے کی آواز کو اپنا وہم جانا. مگر ابھی اُس نے کھنڈر سے باہر قدم ہی نکالا تھا کہ پیچھے سے کسی جوان لڑکی نے اسے نام لے کر پکارا ” ولی کہاں جا رہے ہو….؟” ولی کو اپنا وجود سن ہوتا محسوس ہوا اتنی سکت نہ رہی کہ پلٹ کر دیکھتا. 🎀🎀🎀🎀 کیٹ ابھی ابھی سو کر اٹھی تھی کہ اُسے کچن میں کچھ کھٹ پھٹ کا احساس ہوا. کیا مصیبت ہے یہ لڑکی اب میں آرام سے سو بھی نہیں سکتیولی تمہیں تو میں چھوڑو گی نہیں ایک بار واپس آجاؤ. ننگے پاؤں بڑبڑاتی کیٹ روم سے نکلی. جے جو پورے انہماک سے کیٹ کے لیے ایک شاندار ناشتہ بنانے میں مصروف تھی دروازے کی آواز پر چونکی مگر اپنے پیچھے کیٹ کو کھڑا دیکھ کر مسکرائی. آپ آج جلدی نہیں اٹھ گئیں…؟ (بلیک سلیپنگ ڈریس پر گولڈن بال اور کھلتی رنگت بلاشبہ وہ حسین تھی جے نے دل میں اعتراف کیا. ) تمہیں کس نے کہا ہے میرے کچن کا حلیہ بگاڑنے کو، مہربانی فرما کر باہر تشریف لے آئیں. کیٹ اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے حاکمانہ انداز میں گویا ہوئی. آپ فریش ہو جائیں میں نے آپ کے لیے زبردست “چیز آملیٹ بنایا ہے ساتھ ہاٹ کافی کے، امید ہے آپ پسند کریں گی. کیٹ کے حکم کو اگنور کرتی جے ٹرے سجانے لگی. ولی تم سے نسبت رکھنے والی ہر چیز بلکل تمہاری طرح ڈھیٹ ہے. کیٹ پاؤں پٹختی واپس روم میں آگئی اور وارڈ روب سے اپنا یونیفارم نکالنے لگی جب فون پر میسج ٹون بجی. “کیٹ اپنے ہر فضول کام چھوڑ کر پیٹر کو ٹریس کرو وہ مشکل میں ہے جتنی جلدی ہو سکے. ولی” چلو ایک اور آڈر…. اتنے آڈرز تو مجھے میرے ڈیپارٹمنٹ والے نہیں کرتے جتنے مجھے ” ولی الرحمان” کی طرف سے مجھے ہوتے ہیں. ایسا لگتا ہے میں سرکار کی نہیں تمہاری نوکر ہوں. کیٹ نے مسکراتے ہوئے” اوکے” لکھ کر میسج سینڈ کیا اور خود شاور لینے باتھ روم میں چلی گئی. 🎀🎀🎀🎀 ولی بیٹا اگر آپ نے وہاں جانا تھا تو ہم میں سے کسی کو لے جاتے یوں اکیلے جانے کی کیا ضرورت تھی…؟ داجی نے ولی کے پاس کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا جبکہ ولی نے شرمندگی سے سب کی طرف دیکھا اور اٹھ کر بیٹھ گیا. شکر ہے اللہ کا کہ مقصود نمبردار نے تمہیں وہاں بیہوش دیکھ کر ہمیں اطلاع دی. اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو ہم کیا کرتے..؟ راجہ فرخ نے اللہ کا شکر ادا کیا. چلو بیٹا یہ سوپ پی لو صحت کے لیے اچھا ہوتا ہےاور باقی سب لوگ باہر جاؤ ولی کو آرام کر لینے دو. دادی رقیہ نے سب کو باہر جانے کا کہا جس پر سب سر ہلاتے باہر کی طرف چل پڑے سوائے بیا کے….. ویسے “مسٹر دیسی انگریز صاحب” کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ واقعہ کی نوعیت کیا ہے تاکہ مجھے اندازہ ہو سکے کہ کس حد تک بات سیریس ہے….؟
بیا نے سوچنے کی ایکٹنگ کی.
کچھ خاص نہیں بس مجھے وہاں کسی لڑکی کے گانے کی آواز سنائی دی پہلے تو میں نے اسے اپنا وہم جانا مگر جب میں واپس آنے لگا تو اس نے مجھے روکا.
ولی نے صاف گوئی سے کام لیا.
یہ تو معمولی بات ہے اصل میں ہم لوگ انگریزوں سے اتنے متاثر ہیں کہ بندے تو بندے روحیں بھی عاشق ہو جاتیں ہیں.
حالانکہ ان بےوقوفوں کو یہ معلوم نہیں کہ کتنی مشکلوں سے ہمارے آباؤاجداد نے انھیں 1947 میں یہاں سے نکالا تھا.
میری مانیں تو کام سمیت کر بھاگنے کی کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ تو سیریس نہ ہوں مگر روح سیریس ہو جائے.
بیا نے ولی کو ڈرانے والے انداز میں مشورہ دیا.
یہ پہلی دفعہ تھی اس لیے مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی آئندہ ایسا نہیں ہو گا. ولی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
شکر کریں آخری نہیں تھی ورنہ ہم آپ کے نکاح کے “چھوارے” کھاتے کھاتے “قل” کے چنوں پر گزارا کر رہے ہوتے.
مطلب…..؟
بیا کی بات ولی کے سر پر سے گزر گئی.
(اوہ بیا کس انگریز سے سر ٹکرا رہی ہے کام کی بات کر اور نکل.)
چلیں اللہ آپ کو صحت دے اب زرا کام کی بات کر لیتے ہیں.
کونسی بات، کیسا کام….؟
ولی جو بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا ایکدم سیدھا ہوا.
ہاں بھئی کام کی بات، اب آپ کے والدین یہاں موجود نہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہین کہ ہم شادی کی ضروری رسمیں نظرانداز کر لیں. کم ازکم مجھے منظور نہیں. ایک ہی نند ہے میری میں تو خوب ارمان نکالو گی.
مجھے آپ کی باتیں سمجھ نہیں آ رہیں…..؟
سمجھ نہیں آ رہیں یا آپ سمجھنا نہیں چاہ رہے..؟ بیا نے تنقیدی نظروں سے گھورا.
میں سچ کہہ رہا ہوں ہمارے ہاں تو کورٹ میں لڑکا لڑکی جاتے ہیں کچھ دوستوں کے ساتھ اور بسولی نے کندھے اچکائے.
ارے ہمارے ہاں تو اس سے زیادہ لوگ بچے کو سکول داخل کرانے جاتے ہیں.دادا، دادی، ماں، باپ دوست، ہمسائے وغیرہ
بیا نے حیرت سے ولی کو دیکھا.ولی کو اپنا سر پھر گھومتا محسوس ہوا. آپ پلیز اپنے آنے کی وجہ بتائیں مجھے نیند آ رہی ہے.
ارے ابھی سونے کا سوچنا بھی مت یہ نہ ہو کہ آپ سوئیں اور روح آپ کے پاس آجائے پھر……..
بیا کی بات پر نہ چاہتے ہوئے بھی ولی نے جھرجھری لی.
ڈریں نہیں میں ہوں ناااااا پہرہ دوں گی میرے ہوتے ہوئے کوئی آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتا.
شکریہولی نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی.
(اس انگریز کی تو ابھی سے ہی بس ہو گئی آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا.)
وہ مجھے پیسے چاہییں آپ کی دلہن اور اپنی نند کے کپڑے زیور لینے کے لیے، پھر دودھ پلائی، جوتا چھپائی، سرمہ ڈالنا، سہرہ باندھنا……
بس بس میں سمجھ گیا مگر میرے پاس فلحال زیادہ رقم نہیں ہے.
کوئی بات نہیں جتنی ہے اتنی دے دیں وہ اصل میں دلہن کی بھابی کے کپڑے بھی تو لینے ہیں نااااا _ بیا نے ناز سے گردن اکڑائی. افففففف اتنی فضول رسمیں..؟ “یہ شادی نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجیے اک رسموں کا سمندر ہے اور نبھا کر جانا ہے” اس طرح بٹر بٹر کیا دیکھ رہے ہیں واہ واہ کریں ناااااا….. واہ واہ سمجھ نہیں آ رہی آپ پر کروں یا اپنے آپ پر…..؟
ولی کی بات پر بیا نے قہقہ لگایا.
سمجھ تو آپ کی آئمہ کی رخصتی ساتھ ہی رخصت ہو جانی ہے وہ کیا ہے نااااا زیادہ سمجھداری بندے کی لیے خطرناک ہوتی ہے. پوچھیں کیسے…؟
کیسے…؟
کتنے فرمانبردار ہیں آپ، قسم سے یہ بہترین خاوند ہونے کی پہلی نشانی ہے.
ولی کے پوچھنے پر بیا نے ہنستے ہوئے کہا
“لڑکا اور لڑکی اگر دونوں ہی سمجھداری دکھانے لگیں تو شادی کا جلد انتقال ہو جاتا ہے. اس لیے کسی ایک کو ذرا سا بے وقوف بننا پڑتا ہے.
اگر لڑکی ذرا سی بے وقوف بن جائے تو لڑکے کو اس پہ بے تحاشا پیار آتا ہے وہ بڑے شوق سے لڑکی کے ناز نخرے اٹھاتا ہے. بڑے پیار سے اس کے ساتھ لاڈ پیار کرتا ہے. اور بچوں کی طرح اس سے محبت کرتا ہے.
اگر لڑکا تھوڑا بےوقوف بن جائے تو لڑکی اس کی تھوڑی کمائی میں بھی گزارا کر لیتی ہے ایک گلاب کے پھول سے بھی سارا دن پھولی پھولی رہتی ہے. نہ ٹنشن لیتی ہے اور نہ لڑکے کو دیتی ہے.
دنیا کے سامنے چاہے جتنے بھی سمجھدار بنیں رہیں لیکن تعلق میں کبھی بھی ضرورت سے زیادہ سمجھداری مت دکھائیے.”
اب بتائیے آپ سمجھدار ہیں یا….
میں بےوقوف ہوں اب خوش.
ولی نے دل میں بیا کو سراہا مگر منہ سے اقرار نہیں کیا.
بس یہ جملہ ادھر لکھ دیں باقی میری طرف سے پھر آپ جو مرضی کریں.
بیا کی بات پر ولی نے بیا کے ہاتھ سے کاغذ پنسل لی اور جلدی سے لکھ کر اپنی جان چھڑائی جو کہ حقیقت میں پھنس گئی تھی.
🎀🎀🎀🎀
تم اب بھی خوبصورت ہو مگر….
مگر اب تمہارے کام کی نہیں رہی ہے ناااااا…..!!!
ڈیانا نے لارڈ کا جملہ پورا کیا.
نہیں ایسی بات نہیں ہے وہ اصل میں……
میری طرف دیکھو کرس تم لوگوں کے لیے لارڈ ہو گے مگر میرے لیے کرس ہو سمجھے. اس لیے جو بھی بات کرنی ہے سیدھی طرح کرو. میرے ساتھ ہیرا پھیری مت کرو اور ہاں ڈرانے یا دھمکانے کی کوشش تو بلکل مت کرنا کیونکہ تم ان چند لوگوں میں سے ہو جو مجھے اچھی طرح جانتے ہیں. ڈیانا نے کہتے ساتھ ٹیبل سے ڈرنک کا گلاس اٹھایا. یہ نخرے اور ادائیں تمہیں ہمیشہ سے سجتیں ہیں اور میں ہمیشہ ان کو اٹھاتا آیا ہوں مگر یہ مت بھولو کہ تم اس وقت میرے محل میں موجود ہو. اس محل میں میرے علاوہ بھوکے شیر اور کتے بھی ہیں جو ایک منٹ میں انسان کو ایسے کھا جاتے ہیں جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں. لارڈ نے بھی گلاس اٹھایا اور ڈیانا کی طرف دیکھ کر طنزاً مسکرایا. بہتر ہو گا کہ ہم کام کی بات کریں ورنہ اگر میں ایسی باتوں پر آئی تو ننگا کر کے چھوڑو گی. “وہ کیا ہے نااااا…. طوائف خود تو ننگا ہوتی ہی ہے مگر اپنے ساتھ ساتھ معاشرے کے معززین کو بھی کر دیتی ہے.” ڈیانا نے اپنی بات کے آخر میں خود ہی قہقہ لگایا جو لارڈ کو کافی برا لگا. تمہارا وہ لڑکا کیا نام ہے اس کا…..!!! ایکٹنگ بند کرو تمہاری یاداشت بہت اچھی ہے اور یہ بات میں اچھے سے جانتی ہوں. بہتر ہو گا کہ تم اب اصل بات کی طرف آؤ جس کے لیے مجھ پر یہ مہربانیاں کر رہے ہو. لارڈ کو سوچتا دیکھ کر ڈیانا نے ناگواری سے کہا اسےُ سمجھاؤ کہ خامخواہ دوسروں کے پھڈے میں ٹانگیں اڑانا چھوڑ دے یہی اس کے اور تمہارے حق میں بہتر ہے. اس بار لارڈ بلکل سیریس تھا. میرے بیٹے کے بارے میں احتیاط تم کرو کیونکہ وہ اس “لفظ” سے واقف نہیں ہے اگر تم واقفیت کرا دو تو میں تہہ دل سے تمہاری مشکور ہوں گی. ڈیانا کے اطمینان نے لارڈ کے سکون کو آگ لگا دی. تم مجھے بہت ہلکا لے رہی ہو وہ میرے آدمیوں کے ہاتھوں مارا بھی جا سکتا ہے. پھر نہ کہنا کہ خبردار نہیں کیا تھا ظاہری سی بات ہے جس شخص نے اپنی بیٹی کو نہیں بخشا وہ کسی اور کو کیا بخشے گا….؟ اب کی بار ڈیانا کا لہجہ سخت اور آنکھیں غمزدہ ہو گئیں. میں نے اسے نہیں مارا تم میری بات کا یقین کرو مجھے بھی اس سے بہت محبت تھی. لارڈ نے ڈیانا کی طرف جھکتے ہوئے قدرے آہستگی سے جواب دیا. جھوٹ مت بولو تمہی نے مارا ہے اس کو، مجھ سے بہت غلطی ہو گئی کہ میں نے تمہیں اس کے بارے میں بتایا. مجھے ولی سے اتنی محبت نہیں جتنی میری سے تھی.جانتے ہو کیوں کیونکہ وہ نہ صرف میری” ہم شکل اور ہم مذہب” تھی بلکہ وہ میری دوست اور راز دان بھی تھی وہ مجھے سمجھتی تھی. جبکہ ولی اپنے باپ پر ہے اس نے نہ میرا مذہب اختیار کیا اور نہ ہی مجھے _ وہ شروع سے ہی ابراھیم کے بہت قریب رہا. ابراھیم نے اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے مجھ سے بہت دور کر دیا ہے.
ڈیانا نے ایک سرد آہ بھری اور ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر کہ رکھ دیا.
تمہیں کس نے کہا تھا کہ ایک مسلمان سے شادی کرو ایسا تو ہونا ہی تھا یہ مسلم ہمارے وفادار کبھی نہیں رہے.
لارڈ نے ہمدردانہ لہجہ اپنایا.
مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تمہارے ساتھ مل کر اسے مار دوں گی…؟
ڈیانا دوبارہ اپنے لہجے میں لوٹی اسے اس طرح رنگ بدلتا دیکھ کر لارڈ کو اپنا منصوبہ چوپٹ ہوتا دکھائی دیا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے
