No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کمرے میں سب گھر والے موجود ہیں عورتوں سمیت پھر بھی اتنی خاموشی ہے کہ…….
بیا نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے فکرمندی سے آئمہ کی طرف دیکھا جو اِس وقت چائے بنانے میں مصروف تھی.
تمہیں کیوں خامخواہ اپنا دل جلا رہی ہو.
آئمہ نے پلیٹوں میں سموسے، بسکٹ، مٹھائی اور نمکو کو سجاتے ہوئے دھیمی آواز میں جواب دیا.
یہ تمہاری آواز کو کیا ہوا ہے….؟؟؟
صبح تک تو تم اچھی خاصی “کائے کائے” کر رہی تھی اور اب بلکل بکری کے بچے کی طرح “منمنا” رہی ہو.
اور ہاں میں تو دل نہیں جلا رہی مگر تم نے چولھا جلا دیا ہے.
بیا نے چولھے کی طرف اشارہ کیا جہاں چائے ابل رہی تھی.
ہائے اللہ بیا کی بچی……
چولھا بند کرنے کی بجائے باتیں سنا رہی ہو.
آئمہ نے جٹ سے چولھا بند کر کہ دیگچی نیچے اتاری.
ہاں اب لگ رہی تم اپنی آئمہ ہی ہو ورنہ پہلے تو کسی تمیزدار لڑکی کی روح تم میں سما گئی تھی.
بیا تم میرے ساتھ چائے اندر لے کر چلو.
شکریہ آپ کی بڑی والی مہربانی…!!!
میں کیوں چائے لے کر جاؤں وہ انگریز سمجھے گا میں اس گھر کی ملازمہ ہوں.
تمہیں شرم نہیں آئے گی اپنی بڑی بھابی جو “ماں جائے” بھی ہوتی ہے اس کی توہین کرواتے ہوئے.
بیا……!
آئمہ نے افسوس سے ایک نظر اپنے آس پاس رکھی چیزوں پر ڈالی اور ایک بیا پر، پھر خود اچھی طرح دوپٹہ اپنے چہرے کے گرد لپیٹنے لگی.
یہ منہ کیوں اتنے زور سے دوپٹے میں “کس” رہی ہو یوں لگ رہا ہے جیسے دوپٹے سے نہیں بلکہ پیچ کس سے کسا ہو…..
بیا نے کہتے ہوئے زوردار قہقہ لگایا.
تو کیا بے شرموں کی طرح ننگے سر اندر چلی جاؤں.
آئمہ نے روہانسی ہوتے ہوئے دوپٹہ کھول دیا.
محترمہ آئمہ بی بی وہ جو اندر پاکستانی مکس انگریز ہے نااااا اُسے ننگے سر سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ ننگے سر کے ساتھ ساتھ ننگے وجود اپنے ملک میں دیکھتا رہتا ہوگا.
بیا تو کتنی بے شرم ہے….
آئمہ نے لال ہوتے چہرے ساتھ جواب دیا.
اچھا زیادہ ٹماٹر بننے کی ضرورت نہیں ہے میری ذاتی رائے ہے کہ اس انگریز کے بچے کو اردو آتی نہیں ہو گی……
تو…؟
آئمہ نے حیرانی سے بیا کی طرف دیکھا
تو بات صاف ہے ہمارے بزرگوں کو انگلش نہیں آتی اسی لیے اندر خاموشی ہے. لینگویچ پرابلم…….
بیا تمہاری سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی ہے تم میرے ساتھ چائے اندر لے کر جاؤ اس طرح میری مدد بھی ہو جائے گی اور تمہیں معلوم بھی ہو جائے گا کہ اصل معاملہ کیا ہے.
جبکہ بیا اپنی ہنسی کنٹرول کرنے میں لگی ہوئی تھی.
ان پڑھ بزرگ بھی ویسے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں.
بیا کہتی ہوئی ٹرے اٹھانے لگی.
🎀🎀🎀🎀
عزت مآب جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی ہو گا.
ڈینیل نے ادب سے لارڈ کو جواب دیا.
ویسا ہی ہونا چاہیے ورنہ تمہارے ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں….
اتنی دیر میں لارڈ کے ایک گارڈ نے اندر قدم رکھتے ہوئے ادب سے ڈیوڈ کے آنے کی اطلاع دی. جس کی وجہ سے ڈینیل کے تاثرات سخت ہو گئے.
تم کیوں پریشان ہو گئے ہو ہم اپنے وفاداروں کا بہت خیال رکھتے ہیں مگر دشمنوں سے بھی غافل نہیں ہوتے.
لارڈ نے اجازت دیتے ہوئے ڈینیل کو مخاطب کیا.
میرے خیال سے مجھے اب چلنا چاہیے…. ؟
ٹھیک ہے مگر جیسا کہا ہے ویسا ہی ہونا چاہیے زرا برابر بھی کمی پیشی نہ ہو.
ڈینیل سر ہلاتا کمرے سے بارے نکلنے لگا جب ڈیوڈ نے اندر قدم رکھے دونوں نے ایک پل کے لیے رک کر ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ڈیوڈ اندر داخل ہو گیا.
سر آپ نے یاد کیا….؟
ڈیوڈ ادب سے ہاتھ باندھے لارڈ کے سامنے کھڑا تھا.
جب تم یاد نہیں کرو گے تو ہمیں یاد کرنا پڑے گا ناااااا…..
سر ایسی کوئی بات نہیں، حکم کریں میں حاضر ہوں.
مجھے صرف دُم ہلانے والے کتے پسند ہیں بھونکنے والے نہیں…..
لارڈ کی بات پر ڈیوڈ کی کنپٹیوں پر رگیں ابھر آئیں مگر وہ خاموش رہا.
ہم ایک وقت میں ایک دوسرے کے رقیب رہے ہیں تب بھی تمہیں میں نے بخش دیا تھا یاد ہے……؟
لارڈ نے سگار ایش ٹرے میں رکھا.
جی…..
مختصر جواب آیا.
ڈیانا تو تمہیں ملی نہیں مگر اُس نے اپنا بیٹا تمہارے حوالے کر دیا. ویسے محبوب کے کتے سے بھی پیار ہوتا ہے وہ تو پھر ڈیانا کا بیٹا ہے……
لارڈ نے طنزاً مسکرایا جس میں ڈیوڈ نے بھی اس کا ساتھ دیا.
سمجھاؤ اسے یہ نہ ہو کہ تمہیں ملے ہی نہ جیسے ڈیانا نہیں ملی تھی یاد ہے نااااا کیا ہوا تھا ماضی میں…..!!!
ڈیانا کا دکھ تو خیر تم نے جوانی میں برداشت کر لیا تھا مگر بڑھاپے میں شاید جان لیوا ثابت ہو.
امید ہے میری باتیں اچھے سے سمجھ آ گئی ہوں گی.
جی آ گئیں ہیں اب اجازت…؟
ڈیوڈ نے خشک لہجے میں پوچھا
اب ہم اتنے بھی بےمروت نہیں کہ تمہاری مہمان نوازی نہ کر سکیں بیٹھو….
لارڈ نے ہاتھ کے اشارے سے ڈیوڈ کو بیٹھنے کا کہا
🎀🎀🎀🎀
اس وقت کمرے میں بلا کی خاموشی تھی. کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار کیسے کرے.
اتنے عرصے کی نفرت، غصہ اور بےوفائی کے گلے شکوے کس سے کرے….. ؟
خوش ہوں کہ وہ اپنے انجام کو پہنچا یا……
بچپن کی محبت، دوستی اور اپنے خونی رشتے کے جدا ہونے پر ماتم…..
سب ہی گردن جھکائے بیٹھے تھے. سب ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے مگر حقیقتاً سب کو ہی دکھ تھا اس کے جانے کا اور ملال اُس سے آخری بار نہ ملنے کا…….
ولی کو عجیب الجھن ہو رہی تھی کیسے لوگ ہیں…..؟
ڈیڈ نے اِن کے ساتھ کیا کیا اور یہ سب کیا کر رہے ہیں….؟
اگر ڈیڈ نے زرا بھی اچھا کیا ہوتا تو پھر یہ لوگ دھاڑے مار مار کر روتے کافی عجیب لوگ ہیں شکر ہے ہمارے وہاں ایسا نہیں ہوتا……
مجھے جیسا ڈیڈ نے کہا تھا ویسا میں نے کر دیا ہے کیونکہ وصیت جتنی جلدی ہو پوری کر دینی چاہیے.
اب آپ پلیززز مجھے ایک بار سارہ بی بی سے ملوا دیں تاکہ میں واپس اپنے ملک جا سکوں.
ولی جب خاموشی سے تنگ پڑ گیا تو خودی بول پڑا.
جی بیٹا آپ نے درست فرمایا وصیت پر جتنی جلدی عمل ہو اتنا ہی اچھا ہوتا ہے مرنے والے کے لیے…..
داجی نے بہت گہری نظروں سے ولی کو دیکھا جبکہ باقی ایسا کہنے پر حیران تھے.
رہی بات کہ سارہ سے ملنا ہے تو یہ تمہارے سامنے بیٹھیں ہیں مل لوں، بات کر لو جو کرنی ہے.
داجی نے ولی کے سامنے چار پائی پر بیٹھی سارہ کی طرف اشارہ کیا جس پر ولی کو جھٹکا لگا.
درمیانی صحت کے ساتھ، صاف رنگت، ایک پاؤں پولیو کی وجہ سے متاثر، عام سے نقوش والی یہ عورت میرے ڈیڈ کی فیورٹ تھی.
ولی کی آنکھوں کے سامنے اچانک “ڈیانا” کا سراپا گھوم گیا. جو اب بھی بلاشبہ بہت حسین تھی.
ڈیڈ کی جگہ کوئی اور بھی مرد ہوتا تو وہی کرتا جو ڈیڈ نے کیا تھا. ولی کو اپنا باپ اب بلکل صحیح لگ رہا تھا.
مجھے اِن سے اکیلے میں کچھ کہنا ہے میرا مطلب ہے کہ ڈیڈ کا میسج دینا ہے جو صرف ان کے لیے ہے.
ولی نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ دروازے پر ہلکی دستک کے ساتھ آئمہ اور بیا ٹی ٹرالی لے کر اندر داخل ہوئیں.
آئمہ نے اچھی طرح دوپٹے سے خود کو لپیٹا ہوا تھا سانولی رنگت والی یہ لڑکی ولی کو سارہ کی بیٹی لگی.
جبکہ بیا نے برائے نام دوپٹہ کا کونا سر پر اڑایا ہوا تھا. جس کے بارے میں یہ کہنا مشکل تھا کہ دوپٹہ حادثاتی طور پر سر پر اڑ گیا ہے یا باقاعدہ خود ایسا کیا گیا ہے.
مگر صاف شفاف رنگت والی یہ لڑکی ولی کو باقیوں سے مختلف لگی کیونکہ سوائے اس کے کوئی بھی اسے براہ راست نہیں دیکھ رہا تھا.
آئمہ نے ٹرالی ولی کے آگے کر دی اور خود سارہ ساتھ بیٹھ گئی جبکہ بیا ولی کا سر سے پاؤں تک جائزہ لینے میں مصروف تھی.
بیا تم ادھر میرے پاس آ کر بیٹھو. کرن بیگم نے اپنے غصہ کو کنٹرول کرتے ہوئے بیا کو اپنے پاس بلایا جو اس کی حرکت کو نوٹ کر رہی تھیں.
میں حارب ساتھ بیٹھ جاتی ہوں وہاں ثنا چچی بیٹھی ہوئیں ہیں.
بیا ماں سے جان چھڑاتی حارب کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی.
یہ آپ کی بیٹی ہیں….؟
ولی نے ایک نظر آئمہ پر ڈالتے ہوئے سارہ سے پوچھا
اس سے پہلے کہ سارہ جواب دیتی بیا بول پڑی.
ارے واہ یہ تو کمال ہو گیا یعنی دیارِ غیر میں وہ بقول شاعر
“ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں.”
بیا کے اس قدو پر اعتماد الفاظ پر ولی چونک پڑا.
اور اپنی دائیں جانب حارب کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی بیا کو غور سے دیکھا.
آپ کی عینک گھر رہ گئ ہے شاید نظر کمزور ہے جو اتنی بڑی لڑکی آپ کو نظر نہیں آ رہی…..
بیا نے ولی کو اپنی طرف گھور کر دیکھتے ہوئے ناگواری سے پوچھا.
بیا کے ریمارکس پر باقیوں کے ساتھ ساتھ ولی بھی شرمندگی کا شکار ہوا.
نہیں ایسا تو نہیں ہے اصل میں، میں جب سے یہاں آیا ہوں سب کو چپ چپ ہی پایا ہے تو یوں اچانک ایک خوشگوار آواز میرے لیے حیران کن تھی. خیر آپ کی تعریف…..!
ولی اب پورے کا پورا بیا کی طرف گھوم گیا تھا.
گھر والے تو بلکل بھی نہیں کرتے……..
ہاں اگر آپ کر دیں تو مہربانی ہو گی اسی بہانے شاید ان لوگوں کو بھی خیال آ جائے.
بیا نے سرد آہ بھری جبکہ ولی کے ہونٹ خودبخود مسکرانے لگے.
خاصی دلچسپ ہیں آپ…..؟
ولی نے تعریف کی
جی شکریہ ویسے جو مجھ سے پہلی دفعہ ملتا ہے یہی کہتا ہے مگر بھی آہستہ آہستہ اس کے ریمارکس بدل جاتے ہیں.پتہ نہیں کیوں….؟؟؟
بلا کی معصومیت تھی اس وقت بیا کے چہرے پر…..
(تمہاری حرکتوں کی وجہ سے اور کیوں…. حارب نے سرگوشی کی.)
چلیں دیکھتے ہیں میرے ریمارکس بدلتے ہیں کہ نہیں، ویسے میں جو رائے ایک بار کسی کے بارے میں قائم کر لوں اسے بدلنا…..
مشکل ہی نہیں ناممکن ہے……
ارے واہ…… آپ تو فلمی ڈائیلاگ بھی بولتے ہیں میں اور آئمہ خامخواہ پریشان ہو رہے تھے کہ ٹیڑھا منہ کر کہ انگلش بولنی پڑی گی مگر آپ تو بلکل ہمارے جیسے ہیں.
سچ بتائیں لندن سے ہی آئے ہیں یا لالہ موسی سے….؟
اب تو ولی باقاعدہ ہونٹوں ہر اپنی انگلی رکھے ہنس رہا تھا جبکہ باقیوں کے تاثرات کافی سخت تھے.
بیا بس کرو کچھ کھا پی بھی لینے دو بچہ تھکا ہوا آیا ہے.
دادی رقیہ نے گھورتے ہوئے شفقت سے کہا
آپ پیدل آئے ہیں….؟
حیرت کے مارے بیا نے اپنی پوری آنکھیں نکال کر ولی کو دیکھا جس پر دادی کے ساتھ ساتھ کرن بیگم نے بھی اپنا ماتھا پیٹ لیا جبکہ ولی نے باقاعدہ قہقہ لگایا.
بیٹا اس کی باتوں کا برا مت منانا یہ ایسے ہی بولتی رہتی ہے. کرن بیگم نے اپنے طور پر صفائی دینا ضروری سمجھا
نہیں آپ وضاحت مت دیں مجھے اچھا لگ رہا ہے شکر ہے اس گھر میں کوئی تو بولتا ہے. ولی نے مسکرا کر کرن بیگم کی طرف دیکھا
اتنا دفعہ منع کیا ہے مگر امی کو وضاحتیں دینے کا اتنا شوق ہے قسم سے اگر میٹرک کے پیپرز دیتیں تو” وضاحت کریں” جیسے سوالوں کے وہ جوابات دیتیں کہ بورڈ والے بھی سر پکڑ لیتے “کس سے وضاحت مانگ لی” .
اب بس بھی کر دو….
حارب نے سرگوشی کی جبکہ ولی کو وہ چابی والی گڑیا لگی.
بولنے دیں….
ولی کہتا ہوا دوبارہ سیدھا ہو کر سارہ سے مخاطب ہوا.
یہ آپ کی بیٹی ہیں….؟
ولی نے سوال دہرایا اس بار بھی جواب بیا کی طرف سے آیا.
جی نہیں یہ اُن کی بیٹی نہیں ہیں آپ جو بات پوچھنا چاہ رہے ہیں وہ سیدھی طرح کیوں نہیں پوچھتے…..؟ ؟؟
آپ کے خیال سے میں کیا پوچھنا چاہ رہا ہوں….؟
ولی نے بیا کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا
آپ کی آسانی کے لیے عرض ہے کہ پھپھو سارہ نے شادی نہیں کی امید ہے آپ کو کافی تسلی بخش جواب مل گیا ہو گا.
بیا نے مصنوعی مسکراہٹ سے ولی کو دیکھا
اور حقیقت میں ولی کو بیا کے جواب سے جھٹکا لگا.
“اتنی محبت، وفاداری، حد ہے……” ولی کو افسوس ہوا.
(محبت کی، رد کی، حد کی ڈیڈ آپ نے ولی نے دل میں سوچا)
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے
