No Download Link
Rate this Novel
Episode 45
کوئی بچوں کی خیر خبر آئی یا نہیں ۔۔۔۔۔۔داجی رقیہ بیگم سے پوچھا
ہاں سب ٹھیک ہے رات حارب سے بات ہوئی تھی تو وہ بتا رہا تھا کہ میری آئمہ سے بھی بات ہوئی ہے رقیہ بیگم نے تسبیح پڑھتے ہوئے رک کر جواب دیا ۔
چلو اچھا ہے بچے اپنے گھر خوش ہوں گے تو ہمارا بڑھاپا بھی سکون سے گزرے گا ۔ داجی نے سر ہلایا
اسلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی دیر میں راجہ خرم کمرے میں داخل ہوئے ۔
وعلیکم اسلام آ پتر بیٹھ، کہاں گم ہے اتنے دنوں سے ، آج ماں کو شکل دکھا رہا ہے ۔رقیہ بیگم نے اپنے پاس جگہ بناتے ہوئے گلہ بھی کیا ۔
بس اماں جی سردی ہے تو زمینوں سے آ کر بستر میں لیٹ جاتا ہوں ۔بچے گھر میں نہ ہو تو رونق ہی نہیں ہوتی ہے ۔گھر کاٹ کھانے کو پڑتا ہے۔ یہی کرن بھی کہہ رہی تھی وہ ماں ہے مجھ سے زیادہ اداس اور پریشان۔۔۔۔۔۔۔ راجہ خرم کہتے ساتھ بستر پر بیٹھ گئے۔
اوئے اللہ کا شکر ادا کرو کیوں منحوس باتیں کرتے ہو۔ بیٹیاں اپنے گھر ہی اچھی لگتی ہیں اور حارب تو انشاءاللہ جلد ہی واپس آ جائے گا ۔دا جی نے راجہ خرم کو ٹوکا۔
تم دونوں مجھ سے زیادہ خوش قسمت ہو ۔ تم نے اپنی بیٹیاں اچھی جگہ بیاہ دی ہیں اور وہ خوش بھی ہیں ۔کل اللہ کے آگے تم دونوں سرخرو ہو جاؤ گے اور مجھے دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہی بیٹی اللہ نے دی تھی ۔میں اس کا گھر بھی نہیں بسا سکا۔ میں جب سارہ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے مگر میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔؟
وہ منہ سے تو کچھ نہیں کہتی مگر میں جانتا ہوں وہ بہت دکھی ہے ۔اگر اس نے حشر کے میدان میں اللہ سے میری شکایت کر دی تو میں کیا کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ داجی نے بہت دکھ اور کرب سے راجہ خرم کی طرف دیکھا
اللہ رحم کرے آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں ہم نے کتنی کوشش کی کہ وہ دوبارہ شادی کرنے پر راضی ہو جائے مگر وہ مانتی ہی نہیں تو پھر ہم سب کیا کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟
جو کچھ ہمارے اختیار میں ہے وہ ہم کرتے ہیں۔ ہمیشہ اس کی خوشی کا خیال رکھتے ہیں اس کے کھانے پینے ،اوڑھنے میں کبھی کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑی گھر کے فیصلوں میں کرن اور ثنا سے بھی زیادہ سارہ کی بات کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی ہے۔ مگر ہم اس کا نصیب تو نہیں لکھ سکتے ناااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے لیے آپ خود کو الزام مت دیں۔
میری بہن بہت صبر اور شکر کرنے والی ہے اور اللہ تعالی ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ آپ بے فکر رہیں وہ کبھی آپ کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بنے گی نہ اِس دنیا میں اور نہ اُس دنیا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راجہ خرم نے تسلی دی جس پر رقیہ بیگم نے سر ہلا دیا۔
مجھے آپ دونوں سے ایک ضروری بات کرنی تھی ۔اس لئے میں موقع کی تلاش میں تھا ۔ آج فرخ باہر گیا ہوا ہے تو سوچا کہ موقع اچھا ہے۔ ورنہ وہ بہت جذباتی ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ راجہ خرم کے یوں کہنے پر داجی اٹھ کر بیٹھ گے ۔
کیوں کیا ہوا سب خیریت ہے نااا۔۔۔۔۔ ؟ فکرمندی دونوں کے چہروں پر عیاں تھیں۔
آپ کو پتہ ہے “ولی” کی وجہ سے فرخ بہت پریشان ہے۔
کیوں اس نے آئمہ کو کچھ کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ بیگم رقیہ نے فوراً سے پوچھا
نہیں اماں بات آئمہ کی نہیں بلکہ وہ کھنڈر والی عمارت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خرم نے کہتے ساتھ دروازے کی طرف دیکھا۔
کوئی نہیں ہے تم بات جاری رکھو ۔۔۔۔۔۔۔ داجی نے ٹوکا
ولی وہ مکان دوبارہ بنوانا چاہتا ہے وہ بھی اس کی اصل حالت میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ فرخ ایسا نہیں چاہتا ۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل نہ آجائیں ۔
اچھا مگر ہم سے تو دونوں نے ہی ذکر نہیں کیا ( داجی واقع ہی پریشان ہو گئے تھے ۔) تم کیا کہتے ہو اس بارے میں ،دا جی نے خرم کی طرف دیکھا
میں تو یہی کہتا ہوں کہ” ولی” کو اپنی ضد پوری کر لینے دیں۔ ویسے بھی لوگوں کا کیا ہے جو بولتے ہیں وہ بولتے ہی رہیں گے۔ کیا خیال ہے ۔اپنی بات کے آخر میں راجہ خرم نے بیگم رقیہ کی طرف دیکھا ۔
وہ ٹھیک ہے مگر وہاں تو “سایہ” ہے اور لوگ بھی کیا کیا باتیں کرتے ہیں۔ رقیہ بیگم خوفزدہ ہوئیں۔
اماں جی “سایہ “تو ہمارے گھر میں بھی ہے میں نے، آپ نے بلکہ ہم سب نے کتنی بار دیکھا ہے راجہ خرم نے اپنی آواز مزید آہستہ کی ۔
یہ سب “اسماعیل” کا کیا دھرا ہے۔ میں نے اسے منع بھی کیا تھا مگر اسے تو جنون ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ دا جی کھوئے کھوئے بول رہے تھے ۔
جب تک وہ زندہ رہا تب تک سب ٹھیک تھا۔ مگر اس کے مرتے ہی پوری حویلی کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ۔سچ پوچھو تو میرا وہاں جانے کو دل ہی نہیں کرتا حالانکہ اس مکان میں میری اپنی بہت یادیں ہیں۔
خیر جو بھی ہے آپ فرخ کو سمجھائیں کہ وہ ولی کو منع مت کرے ۔ولی نے کونسا یہاں رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ مکان بنوا کر چلا جائے گا اس کے باپ کا پیسہ ہے۔ خرچ کرنے دیں کیا خیال ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ خرم نے دونوں سے رائے مانگی
ہمممممم ۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک کہہ رہے ہو مگر میں ولی کو سب بتا دوں گا اس کے بعد جیسا اُسے ٹھیک لگے فیصلہ کرنے دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔ داجی نے کہتے ہوئے دونوں کو دیکھا
مگر یہ ساری گفتگو ان تینوں کے علاوہ کوئی چوتھا بھی سن رہا تھا سارہ کب سے دروازے کے ساتھ لگے کھڑی تھی جو اب بوجھل قدموں سے اپنے کمرے کی طرف چل پڑی۔
🎀🎀🎀🎀
“تنہائی” زیادہ ظالم چیز ہے یا “بڑھاپا”۔۔۔۔۔۔۔ ڈیانا آج اکیلی بیٹھی سوچ رہی تھی۔
کبھی وہ تنہائی کو زیادہ ظلم قرار دیتی ہے تو کبھی بڑھاپے کو۔۔۔۔۔۔ ابھی وہ یہی تانے بانے بن رہی تھی کہ ڈور بیل بجی۔
شاید ولی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ اس خیال کے آتے ہی وہ جلدی سے اٹھی اور دروازہ کھولا مگر آگے ڈیوڈ کو دیکھ کر مایوس ہوئی ۔
کیا کام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ دروازے میں کھڑے کھڑے ہی پوچھا گیا ۔
تم دونوں ماں بیٹے کو آج کیا ہوا ہے ۔۔۔۔؟ میرے ساتھ کر کیا رہے ہو۔۔۔۔؟ باہر اتنی سردی ہے کم از کم ایک کپ کافی ہی پوچھ لو۔ ڈیوڈ نے دونوں ہاتھ رگڑتے ہوئے منہ سے دھواں نکالا۔
کیا ساری کافی شاپس آج بند ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟ ڈیانا نے پوچھتے ہوئے دروازہ چھوڑا اور خود کچن کی طرف بڑھ گئی۔
تمہارے کرائے دار کدھر ہیں۔۔۔۔۔۔؟ ڈیوڈ نے اِدھر اُدھر خالی گھر کو دیکھتے ہوئے پوچھا
جھگڑا ہو گیا تھا۔ میں نے نکال دیا ہے ۔ ڈیانا نے روکھے سے لہجے میں جواب دیا اور تیز کافی مگ میں چمچ چلانے لگی۔
میں آج ولی سے ملا تھا اُس نے شادی کر لی ہے ۔ ڈیوڈ نے جیسے ہی یہ کہا ڈیانا کے چلتے ہاتھ کو بریک لگ گئی ۔
ناممکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔ولی کو عورت ذات سے بہت “الرجی ” ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔اب کی بار ڈیانا نے نارمل ہوتے ہوئے دوبارہ کافی بنانا شروع کی ۔
اس نے شادی کی ہے یہ بات اتنی “خاص” نہیں جتنی یہبات خاص ہے کہ اُس نے ابراہیم کے خاندان میں شادی کی ہے وہ لڑکی پاکستانی ہے اور مسلمان ہے۔ ڈیوڈ نے جلدی سے ڈیانا کے ہاتھ سے کافی کا کپ پکڑا مبادہ وہ گر کے ٹوٹ ہی نہ جائے ۔
لگتا ہے تم نے آج زیادہ پی لی ہے۔ ڈیانا طنزاً مسکراتی ہوئی کچن سے باہر آ گئی۔
چلو اگر تمہیں میری بات کا یقین نہیں تو اس سے خود پوچھ لینا۔ڈیوڈ بھی اس کے پیچھے کچن سے نکلاا
تمہاری کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے اور باہر شاید تھوڑی دیر میں برف پڑنے لگے تو ۔۔۔۔۔۔ ڈیانا نے باہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
میں جا رہا ہوں تم پریشان مت ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ میں صرف یہ کہنے آیا تھا کہ ابراہیم اب نہیں رہا۔ ولی اپنی زندگی میں مصروف ہو گیا ہے تو تمہیں بھی اب اپنے بارے میں سوچنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔” میں آج بھی تمہارا منتظر ہوں” ۔
ڈیوڈ نے کہتے ہوئے کپ ٹیبل پر رکھا اور جانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔ یقین مانو میرا بھی کوئی نہیں ہے۔ اگر ہم مل گئے تو اچھا وقت گزر جائے گا تمہارا بھی اور میرا بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچنا ضرور آئیڈیا برا نہیں ہے ۔
🎀🎀🎀🎀
مختلف سوچوں میں گم ولی فلیٹ پہنچا ۔دروازہ کھولا تو مزےدارکھانوں کی خوشبو نے اس کا استقبال کیا۔ وہ محتاط قدم اٹھاتا کچن کی طرف بڑھا ۔
جہاں آئمہ بڑے مصروف انداز میں مختلف قسم کے کھانے بنا رہی تھی اور کچن کی حالت بھی دیدنی تھی۔ کوئی چیز جگہ پر موجود نہیں تھی۔ جہاں ولی نے سکھ کا سانس لیا وہیں اس پر غصہ بھی بہت آیا ۔
(یہ انتہائی پاگل لڑکی ہے۔ میں نے صبح سے پورا لندن چھان مارا ہے ۔چل چل کے ٹانگیں جواب دے گئی ہیں اور یہ یہاں بڑے مزے سے کچن کا بیڑہ غرق کر رہی ہے ۔ولی دل میں سوچتا ہوا آئمہ کی طرف بڑھا )۔
آئمہ ۔۔۔۔۔۔ ولی کے اچانک پکارنے پر وہ ایک دم پلٹی اور ہاتھ میں پکڑا پانی کا گلاس چھلک کر ولی کے کپڑے خراب کر گیا ۔
بس یہی ایک کسر باقی تھی ۔ اس وقت میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں تمہارا سر توڑ دوں ۔ ولی نے اپنے کپڑے جھاڑے ۔
سوری وہ اچانک آپ کے بولنے پر میں ڈر گئی تھی آئمہ نے فوراً معذرت کی ۔
جب میں نے وہاں رکنے کا کہا تھا تو گھر کیوں آ گئی۔۔۔۔۔۔؟ ولی نے أئمہ کی طرف قدم اٹھاتے جارحانہ انداز میں پوچھا ۔
آپ کو دیر ہو گئی تھی۔ میں نے سوچا میں خود ہی گھر جاکر جلدی سے کھانا بنا لو۔ آپ کو بھوک لگی ہو گی۔ آئمہ نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا
ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے دروازہ کیسے کھولا جب کہ چابی تو میرے پاس ہے ۔ ولی نے کچھ یاد آنے پر رک کر پوچھا
وہ چابی آپ نے دی تھی میں نے “پلو” سے باندھ لی تھی۔
” پلو”۔۔۔۔۔۔۔ یہ “پلو” کیا چیز ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ ولی نے یہ لفظ پہلی بار سنا تھا۔
“دوپٹے کا کونہ” ۔۔۔۔۔۔۔ آئمہ نے اپنے ڈوپٹےکا کونہ اسے دکھایا جہاں ابھی بھی چابی بندھی ہوئی تھی۔
میں نے سوچا تھا کہ آپ کے آنے سے پہلے سارا کھانا بنا لوں گی تو آپ کو اچھا لگے گا۔آئمہ نے سہمی آواز میں جواب دیا
اچھا تو بہت چھوٹا “لفظ” ہے۔ آئمہ بی بی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اتنا اچھا لگ رہا ہے کہ اگر ایک قتل معاف ہوتا تو میں ابھی تمہاری بوٹیوں کا سوپ بنا کر پیتا کیونکہ تمہاری وجہ سے میرا اتنا خون جلا ہے۔
چلو اپنا سامان پیک کرو۔ کل کی فلائٹ سے میں تمہیں پاکستان واپس بھیج رہا ہوں ۔اگر تم یہاں رہی تو میں یہاں رہنے کے قابل نہیں رہوں گا ۔ولی نے چٹکی بجا کر آئمہ کو کچن سے نکلنے کا اشارہ کیا ۔
رکو پہلے کچن صاف کرو جلدی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے آئمہ کچن سے باہر جاتی ولی کی بات پر منہ بناتی چیزیں سمیٹنے لگی جبکہ ولی روم کی طرف چل پڑا اور دروازہ زور سے پٹخا اور خود بستر پر اوندھے منہ گر گیا ۔
کسی نے سچ ہی کہا ہے عورت “مصیبت” کا دوسرا نام ہے۔ اچھی خاصی زندگی گزر رہی تھی ۔مجھے پتا نہیں کیا تکلیف تھی ۔کہ شادی کر لی۔ چلو یہاں تک تو ٹھیک تھا ۔اب اس سے مزید احمقانہ حرکت یہ کی ہے جو اسے اپنے ساتھ بھی لے آیا ہوں۔ یہ سب اُس کے باپ کی وجہ سے ہوا ہے ۔ نہ وہ مجھے غصہ دلاتا کہ” اسے مت لے کر جاؤ “اور نہ میں ضد میں آکر اسے لے کر آتا ۔ولی نے اپنی کنپٹی دباتے ہوئے آنکھیں بند کیں ۔
وہ کھانا کھا لیں ۔۔۔۔۔۔ آئمہ کے جملے پر ولی نے سیدھے ہوتے ہوئے اسے گھورا
آئندہ نہیں بناؤں گی ۔اب اتنی محنت سے بنایا ہے تو پلیز کھالیں ۔مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے۔ میں نے بھی صبح سے کچھ نہیں کھایا ۔آئمہ نے اِدھر اُدھر دیکھتے اپنی بات مکمل کی ۔
ادھر آؤ ۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے اٹھتے ہوئے کہا
آئمہ تھوڑا سا آگے بڑھی مگر پھر ولی کے غصے کی وجہ سے رک گئی۔
ادھر آؤ میرے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے اپنے برابر والی جگہ پر اشارہ کیا ۔
آئمہ تمہارے دماغ میں “عقل” نام کی چیز ہے۔ کچھ بیا سے ہی سیکھ لو۔۔۔۔۔۔ولی نے آئمہ کے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا
اسی نے تو کہا تھا کھانا بنانے کو۔۔۔۔۔۔۔ اسی کے کہنے پر کھانا بنایا ہے۔۔۔۔۔۔ کہ رہی تھی آپ کے کھانے کا خیال رکھو ۔۔۔۔۔ اور اسی کے کہنے پر پلو سے چابی باندھی تھی۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا تھا آپ مجھے کوئی چیز دیں تو پلو سے باندھ لوں۔
آئمہ کی معصومیت پر ولی کو سمجھ نہیں آرہی تھی اس کو ڈانٹے یا خود رونے لگ پڑے۔
ٹھیک ہے تم جا کر کھانا لگاؤ میں آ رہا ہوں کھانے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے آئمہ کو کہتے ساتھ موبائل نکالا تاکہ پیٹر کو میسج کرے۔
وہ میں ابھی پاکستان نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔آئمہ کی بات پر ولی نے سکھ کا سانس لیا چلو اس لڑکی میں اتنی تو عقل ہے کہ اپنا گھر بسا سکے اور غصے میں کی ہوئی بات کو سیریس مت لے۔
مگر اگلے ہی جملے نے ولی کے چھکے چھڑا دیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ پہلے مجھے تھوڑا سا لندن گھوما پھرا دیں۔ میں پاکستان جا کر لوگوں کو کیا بتاؤں گی کہ لندن کیسا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ پھر اگلے ہفتے تک پاکستان واپس بھیج دینا ۔
آئمہ میں پاگل ہو جاؤں گا جاؤ یار اپنا کام کرو ۔
“تجھے بچھڑنے کا سن کر بھی کچھ نہیں ہوتا
میں صرف فرض ہی کر لوں تو جان جاتی ہے”
🎀🎀🎀🎀
