Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

آج اس چھوٹے سے “راجپوت ہاؤس” میں بہت رونق اور گہما گہمی تھی لوگ آ جا رہے تھے. ولی کافی دیر سے آئمہ کی تلاش میں تھا مگر اس کی کوششیں فضول جا رہی تھیں. اب کیا کیا جائے …؟
آپ یہاں کھڑے کیا کر رہے ہیں ویسے مجھے حیرت ہے “فرنگی” بھی “ٹھرکی” ہوتے ہیں…؟
بیا نے ایک ہاتھ میں استری جبکہ دوسرے میں کپڑے پکڑ رکھے تھے.
یہ” ٹھرکی” کیا ہوتا ہے…؟
ولی کی حیرت پر بیا نے اپنی ہنسی روکی.
جب ایک اچھا خاصا آدمی جو کہ دیکھنے میں شریف بھی لگ رہا ہو جیسے کہ آپ…….
ولی نے اپنی طرف بیا کو اشارہ کرتے دیکھا تو بول پڑا.
آپ شاید یہ سمجھ رہی ہیں کہ میں ان 50 اور 60 سال کی عورتوں کو دیکھنے کے لیے یہاں کھڑا ہوں ولی نے گاؤں کی عورتوں کی طرف اشارہ کیا جو اس وقت کافی زیادہ تعداد میں صحن میں بیٹھیں گپیں لگا رہیں تھیں.
ارے نہیں آپ ایسا مت سوچیں وہ تو آپ نے “ٹھرکی” کا مطلب پوچھا تھا تو…..
تو کیا _ تم ٹھرکی کا مطلب بتا رہی تھی حد ہے کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے. حارب نے بیا کی بات سنتے ہی افسوس کا اظہار کیا. مسٹر حارب کم از کم آج کے دن تو میرے سے اپنی “عزت افزائی” مت کرائیں آپ کا تو پتہ نہیں مگر یقین مانے مجھے اچھا نہیں لگے گا.اور یاد آیا کتنی بار تمہیں کہا ہے کہ مجھ سے “پیار” سے بات کیا کرو مجھے “دل” کا مسئلہ ہے. بیا منہ بناتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی. چلو یار کپڑے بدل لو ابھی تھوڑی دیر میں مولوی صاحب آتے ہوں گے. حارب نے ہاتھ میں پکڑے کپڑے ولی کو دیتے ہوئے کہا تم کیو‌ں ہر وقت اس کا موڈ خراب کرتے رہتے ہو شکر کرو اتنی “خوش مزاج” لڑکی ملی ہے.
ولی نے حارب کے ہاتھ سے کپڑے پکڑتے ہوئے جواب دیا.
یہ “خوش مزاج” اصل میں مجھے “خشک مزاج” بناتی جا رہی ہے. حارب نے کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھا.
مطلب تمہیں بیا پسند نہیں….؟؟ ؟
ولی حیرت کی بلندیوں پر تھا.
یہ میں نے کب کہا
مجھے تو اِس دنیا کے سارے ساز اُس کی آواز کے سامنے بےاثر لگتے ہیں. تو سوچو وہ پوری کیسی لگتی ہو گی…..؟ کیسی لگتی ہے….؟ ولی کو اپنے سوال پر عجیب شرمندگی ہوئی جبکہ حارب ایکدم سنبھل کر بولا تمہیں کیوں بتاؤں اگر تم نے اسے بتا دیا تو وہ مجھے سچ مچ خشک کر دے گی سمجھے بس اب جلدی سے تیار ہو جاؤ باقی باتیں بعد میں، حارب نے کہتے ہوئے ولی کا کندھا تھپکا.
🎀🎀🎀🎀
تمہیں پتہ ہے کہ تم کیا کہہ رہی ہو اور کس سے کہہ رہی ہو….؟
ڈیوڈ نے ڈیانا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ میں اس وقت کرس کے بارے میں کہہ رہی ہوں اور ڈیوڈ سے کہہ رہی ہوں. امید ہے کہ میرے اس جواب سے تمہیں واضح ہو گیا ہو گا کہ میں نشے میں نہیں ہوں.
ڈیانا نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا.
مگر میں تمہاری مدد کیوں کروں میرا کیا فائدہ اس سب میں…؟
فائدے کا تو پتہ نہیں ہاں البتہ تمہارا نقصان بہت ہو گا اگر تم میرا ساتھ نہیں دوں گےتو…..
وہ کیسے….؟
وہ ایسے کہ ایک تو تمہارے کام کا انتہائی قیمتی انسان ضائع ہو جائے گا دوسرا میں سب سے پہلے تمہارا نام ہی پولیس کو دوں گی شک کے طور پر…..
ڈیانا کے جواب پر ڈیوڈ نے قہقہ لگایا. تمہاری بلیک میل کرنے والی عادت گئی نہیں.
یاد رکھو انسان کی عادتیں نہیں بدلتیں اور خاص طور پر عورتوں کی
وقت کے ساتھ ساتھ ان کی عادتوں میں پختگی آتی ہے. اچھا چلو مان لیا مگر پھر بھی میں یہی کہوں گا کہ میں کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ ایسا کرنا میرے لیے ممکن نہیں ہے میں لارڈ سے “پنگا” نہیں لے سکتا. مگر ماضی میں تو تم نے کرس سے پنگا لیا تھا میرے لیے یاد ہے یا بھول گئے.
“ولی” اور “تم” میں بہت فرق ہے بندہ اپنی محبوبہ کے لیے تو ہڈیاں تڑوا سکتا ہے مگر اپنے کارندوں کے لیے نہیں…..
ڈیوڈ کے جواب سے کمرے میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی پھر اس خاموشی کو ہیل کی آواز نے توڑا.
ولی نہ تو اتنا “کمزور” ہے اور نہ ہی “بےوقوف” کہ لارڈ اسے مسل دے، وہ اپنا اور اپنوں سے جڑے رشتوں کا خیال رکھنا جانتا ہے. ویسے مجھے اچھا لگا کہ تمہارے اندر ابھی “ممتا” زندہ یے. کم از کم تم نے اس کو ابھی “برائے فروخت” کے اشتہار سے دور رکھا ہے.
ڈیانا کا ہاتھ ایک سیکنڈ کے لیے ڈور ہنڈل پر لرزہ مگر پھر وہ بغیر مڑے باہر نکل گئی.
🎀🎀🎀🎀
میرا دل بہت گھبرا رہا ہے سارہ دعا کرو سب خیریت سے ہو جائے ویسے میں تمہیں ایک بات بتاؤں کسی کو بتاؤ گی تو نہیں……. ثنا بیگم نے رازداری سے پوچھا
بھابی آپ بھی کمال کرتیں ہیں یہاں ایسا کون ہے جس سے آپ نے بات چھپانی ہے…؟
سارہ نے کہتے ہوئے کمرے میں موجود کرن بیگم، اماں رقیہ، آئمہ اور بیا کی طرف دیکھا
پاگل آہستہ بولو کوئی سن لے گا. ثنا بیگم نے غصیلی آواز میں تنبہہ کی.
اچھا بتائیں کیا بات ہے..؟
سارہ نے چھواروں کی پوٹلیاں گنتے ہوئے ٹوکری میں رکھنا شروع کیں.
مجھے یہ لڑکا یعنی “ولی” بلکل پسند نہیں ہے کتنا مغرور اور بتمیزززز ہے میں نے تو کبھی خواب میں بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک انگریز میرا داماد ہو گا.
بھابی وہ ہمارا اپنا ہے اور آپ پریشان مت ہوں مجھے یقین ہے کہ وہ ابراھیم کی طرح تو بلکل نہیں کرے گا.
سارہ نے تسلی دیتے ہوئے ثنا بیگم کی طرف دیکھا.
آئمہ تجھے یاد ہے نااااا کہ کیا کرنا ہے کہیں اس نیلی آنکھوں میں ڈوب کر سب بھول مت جانا سمجھی.
بیا جو آئمہ کو تیار کر رہی تھی اس کو آئی لائینر لگاتے ہوئی بولی
بیا تمہیں پتہ ہے ناااا کہ میرا “رٹا” کتنا زبردست ہے تو پھر تم مجھ پر یقین رکھو میں نے تمہاری ایک ایک بات رٹ لی ہے.
شاباش….!!! بس جیسا کہا ہے ویسا ہی کرنا پھر دیکھنا دو دن میں یہ “لنڈے کا انگریز” واپس لنڈا پہنچ جائے گا اور ہم دونوں دوبارہ اپنی زندگی میں…..
بیا نے کہتے ہوئے آنکھ ماری. چلو لڑکیوں جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ اس سی پہلے کہ مرد حضرات آ کر شور مچائیں.
دادی رقیہ نے سب کو کھسر پھسر کرتے دیکھا تو بول پڑیں.
مچانے دیں شور میرے شور مچانے سے کیا ہوا ہے……. جو ان کے شور مچانے سے کچھ ہو گا.بیا نے منہ بنایا
لڑکی شرم کر تیرا بھی نکاح جلدی کر دیں گے فلحال جن کا ہو رہا ہے انھیں دعائیں دے.
دادی نے پیار سے ایک نظر آئمہ پر ڈالی جو گرین کامدار فراک دوپٹے میں بلیو پاجامے ساتھ غضب کی لگ رہی تھی.
ارے بہو میں نے کہا تھا کہ پھولوں کے گجرے بھی منگوا لینا وہ نہیں منگوائے.
دادی نے دل ہی دل میں آئمہ کی نظر اتاری اور اس کے اچھے نصیبوں کے لیے دعا کی.
منگوائے ہیں ایسا ہو سکتا تھا کہ آپ کہیں اور ہم نہ مانیں.
مگر تاریخ گواہ ہے کہ میں نے جب بھی کچھ کہا ہے آپ نے نہیں مانا. بیا نے شکل بناتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا
بیا اب تم مجھ سے جوتے کھاؤگی شرم کرو لڑکی کہا ہے ان کی شادی ہو لینے دو تمہارا نمبر پھر آئے گا.
گھر میں آگے ہی اتنی ٹینشن ہے اوپر سے تم نے ایک نئی ٹنشن بنائی ہوئی ہے حارب خیر سے “سی ایس ایس” کرلیے پھر تم دونوں کی شادی خوب دھوم دھام سے کریں گے.
کرن بیگم نے پہلے غصے سے مگر پھر دروازے میں کھڑے حارب پر نظر پڑتے ہی مسکرا کے کہا
یہ دھوم دھام کا “لولی پاپ” آپ حارب کو ہی دیں مجھے پتا ہے آپ نے اسی طرح میری شادی کرنی ہے جیسی آئمہ کی ہے سادہ سی اور یہ حارب کو دیکھو اس کو شرم نہیں آتی اتنا بڑا ہو گیا ہے پھر بھی ایسے ہی گھر میں بغیر بیگم کے پھرتا رہتا ہے اس کی جگہ میں ہوتی تو دو دو شادیاں کر چکی ہوتی.
بیا اگر اب تو چپ نہ کی تو مجھ سے مار کھا جائے گی خدا کے لیے اپنا منہ بند کر جب کہ سارہ پھپھو دادی رقیہ اور حارب مسکرا رہے تھے.
اپنے دانتوں کی نمائش بند کرو اور بتاؤ کہ کس چکر میں زنان خانے میں آئے ہو…. ؟
کم ازکم تمہیں دیکھنے نہیں آیا اس لیے کسی خوش فہمی کا شکار مت ہونا یہ بتانے آیا تھا کہ مولوی صاحب آ رہے ہیں آپ لوگ اپنی اپنی پوزیشن سنبھال لیں حارب نے طنزیہ انداز میں بیا کو جواب دیا
“پوزیشن” کا لفظ تو ایسے استعمال کر رہے ہو جیسے دشمن کی فوج نے حملہ کر دیا ہے.
مجھے جیسا دا جی نے کہا تھا میں نے بالکل ویسا ہی کہا ہے ابھی تھوڑی دیر میں مولوی صاحب اندر آ جائیں گے اس لیے پلیز آپ لوگ اپنی اپنی نشست سنبھال لیں. آپ کی بار حارب نے سنجیدہ لہجے میں کہا اور واپس پلٹ گیا ۔
بیا تم آئمہ کو ادھر صوفے پر بیٹھا دو اور اماں جی آپ آئمہ کے ساتھ بیٹھ جائیں کرن بیگم نے ہدایت دینا شروع کیں.
🎀🎀🎀🎀
ولی کے لیے یہ تجربہ بالکل مختلف تھا اردگرد بہت سارے لوگ، خوشیوں بھرا ماحول ولی نے سفید شلوار قمیض کے اوپر بلو کلر کی ویلوٹ کی واسکٹ پہننے ہوئی تھی جو اسے حارب نے دی تھی بلاشبہ ولی آج بہت خوبصورت لگ رہا تھا درازقد، گورا چٹا رنگ، نیلی آنکھوں کے رنگ جیسی واسکٹ پہنے اور پاؤں میں اسی رنگ کا کھسہ ولی کو خود بھی اپنا یہ حلیہ بہت اچھا لگ رہا تھا. اور خاص طور پر جو اسے اہمیت آج کے دن دی جا رہی تھی دا جی، خرم اور فرخ ہر آنے جانے والوں سے ولی کا تعارف کروا رہے تھے. ولی کو شاید زندگی میں پہلی بار ابراہیم کے بیٹے ہونے پر جتنی تعریف اور اہمیت کا سامنا تھا زندگی میں شاید کبھی پہلے نہیں ملا تھا اور کبھی دوبارہ نہیں ملنا تھا یہ آج تھا ابھی تھا اور اسی وقت تھا. مجھے افسوس ہے بابا آپ نے اتنے اچھے لوگوں کی پیار اور محبت کو ٹھکرا دیا صرف “ڈیانا” کے لئے، لندن کی حسین شاموں کے لیے
کیوں، آخر کیوں مجھے چند دن ہوئے ہیں ان لوگوں کے ساتھ اور میرا دل نہیں کر رہا کہ میں ان کا مان توڑو آپ نے یہ سب کیسے کر لیا تھا…..؟ ولی اپنے اندر کی جنگ لڑ رہا تھا جب حارب نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا. چلے مولوی صاحب نکاح پڑھانا شروع کریں داجی نے مولوی صاحب کو مخاطب کیا ہے اس وقت ان کی بیٹھک مردوں سے بھری پڑی تھی اور گھر کی بھی یہی حالت تھی صحن میں برآمدے میں ان کے جاننے والے، گاؤں والے، رشتے دار جمع تھے. ہمارے ہاں تو ایسی شادیاں نہیں ہوتیں حالانکہ ہم بھی مسلمان ہیں مگر یہاں…… کافی تماشا لگتا ہےحارب نے ولی کا جملہ پورا کیا جس پر دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے