No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
نہایت خاموشی سے ولی کمرے کی ایک ایک چیز کا جائزہ لے رہا تھا تقریبا آدھا گھنٹہ ہو گیا تھا اسے اس تاریک کمرے میں چیزوں کی چھان بین کرتے مگر اب تک کوئی قابل ذکر چیز اس کے ہاتھ نہیں لگی تھی.
میری سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے کچھ نہ کچھ غلط ہے کہانی تو ساری مکمل ہے شروع سے بھی اور آخر سے بھی مگر کہانی کے درمیان میں کیا ہوا ہے یہ سمجھ نہیں آرہا ولی نے کہتے ہوئے اپنے بالوں میں انگلیاں پھیریں.
اس نے کچھ تصویریں بنائیں اور خاموشی سے کمرے سے نکل جانے کا فیصلہ کیا جیسے ہی وہ Marry کے کمرے سے باہر آیا تو اس کی سامنے والے کمرے پر نظر پڑی.
چل ولی اس کمرے کی بھی تلاشی لے شاید کچھ ہاتھ لگ جائے ولی کہتا ہوا اس کمرے میں داخل ہوگیا.
ولی کی توقع کے عین مطابق اسے کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ چیز مل گئی جس کا اسے انتظار تھا.
حیرت ہے ثبوت خود چل کر ولی کے پاس آ گیا ولی نے جھک کر اپنے پاؤں کے نیچے سے کچھ اٹھایا اور جیب میں ڈال لیا اس کے بعد اس نے باری باری پورے کمرے کی چھان بین کی.
کمرے میں پڑھا صوفہ سیٹ، بیڈ، سائیڈ ٹیبل، کبڈ اور واش روم….
واش روم میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلی نظر اس کی باتھ ٹپ پر پڑی.
ولی کچھ دیر باتھ روم کا جائزہ لیتا رہا اور پھر خود باتھ ٹپ میں لیٹ گیا. بلکل ویسے ہی جیسے میری کی لاش ملی تھی.
ہمممممم…..
تو کہانی مکمل ہوئی ولی کے چہرے پر پر اصرار مسکراہٹ آئی جو ایک پل میں غائب ہو گئ.
🎀🎀🎀🎀
پھوپھو آپ نے اپنے لاڈلے کو دیکھا ہے میری بات نہیں سن رہا ہے یہ ہمیشہ ایسے ہی کرتا ہے…….
بیا منہ بنائے کمرے میں داخل ہوئی.
بیا وہ تمہیں تنگ کرتا ہے یا تم ہر وقت اسے تنگ کرتی رہتی ہو نہ خود پڑھتی ہو نہ اسے پڑھنے دیتی ہو.
“نہ کام کی نہ کاج کی دشمن اناج کی “
اسے تو پڑھنے دو ماشااللہ سی ایس ایس کی تیاری کر رہا ہے میرا دل کہتا ہے میرا بیٹا ضرور بڑا افسر بنے گا ۔
سارا پھوپھو کی جگہ کمرے میں موجود بیا کی والدہ کرن بیگم نے اس کی بات کا جواب دیا جس پر بیا کا موڈ مزید خراب ہوگیا ۔
کہیں افسر بن ہی ناااااجائے…..
بیا نے تمسخر اڑایا اور ویسے بھی ابھی پاکستان میں اتنا برا وقت سی ایس ایس پر نہیں آیا… ؟
آپ کا شہزادہ ابھی تیاری کر رہا ہے پاس ہوگا تو پھر دیکھیں گے…. ؟
پورا سال ہوگیا ہے اس کو تیاری کرتے ہوئے اگر میں اس کی جگہ پیپر دو نا تو یوں دے دوں.
بیا نے چٹکیاں بجاتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا
جی بالکل اور یوں چٹکیاں بجاتے ہی فیل ہو جاؤں.
کرن بیگم نے بیا کے لہجے میں اس کی نقل اتاری جس پر کمرے میں موجود ثنا سارا پھوپھو اور آئمہ ہنسنے لگیں۔
ماما ۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے بیا اپنی ماں کو کچھ کہتی دادا جی نے کمرے میں قدم رکھا تھا.
ارے واہ آج تو بڑی رونق لگی ہوئی ہے یہاں کیا ہو رہا ہے ۔انہوں نے مسکرا کر سب کی طرف دیکھا اور تخت پوش پر بیٹھ گئے.
داجی دیکھیں ناااا ماما مجھے نالائق کہہ رہی ہیں اور کہتی ہیں تم پڑھتی نہیں ہو کوئی کام نہیں کرتی ہوں آپ بتائیں میں کوئی کام نہیں کرتی…. ؟
یہ تو تم زیادتی کر رہی ہو بڑی بہو اگر بیا کام نہیں کرتی پھر تو کوئی بھی کام نہیں کرتا اس گھر میں….
ہر الٹا کام بیا ہی کرتی ہے آپ کو پتا ہے اس نے کل کیا کیا ہے….. ؟
بیا نے اپنی پوری آنکھیں کھول کے ماں اور پھر آئمہ کی طرف دیکھا جبکہ آئمہ نے منہ نیچے کرلیا.
آئمہ کی بچی تو نہیں بچے گی اب میرے ہاتھ سے( بیا نے دل ہی دل میں آئمہ کو کوسا).
بس کیا کروں ہر وقت بچی کے پیچھے نہ پڑے رہا کرو یہی عمر ہے ان کے کھیلنے کودنے کی دادی رقیہ بیگم بھی تسبیح ہاتھ میں لئے کمرے میں داخل ہوئی ۔
ہم اس کے پیچھے نہیں پڑتے بلکہ یہ گاؤں والوں اور ہمارے پیچھے ہر وقت پڑی رہتی ہے آپ سن تو لیں کہ اس نے کل کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔
کرن نے رقیہ بیگم کی بات کا جواب دیا۔
یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ چھوڑیں مما رات گی بات گی مگر پتہ نہیں ماما کو کیا ہو گیا ہے کیوں پھوپھو….. ؟
ہاں تو بیا ٹھیک ہی کہہ رہی ہے بھابی چھوڑیں ناااااا بات بتانا ضروری ہے کیا..!!!
مگر کرن بیگم تلی ہوئی تھی بات بتانے پر….
پتہ اس نے کل کیا کیا ہے یہ جو مسجد کے ساتھ والا کنواں ہے ناااااا وہی جو نمبردار صاحب کا ہے اس نے اس کے اندر بیری کے پتے ڈال دیئے سارا پانی خراب ہو گیا ہے سارے گاؤں کی عورتیں وہاں سے پانی بھرتی تھیں.
چلو شکر ہے ہمارے گھر تو موٹر لگی ہوئی ہے مگر باقیوں کو کتنی پریشانی دیکھنی پڑی.
اب آپ مجھے بتائیں کہ وہ جو پانی خراب ہو گیا ہے اس سے عورتیں کیا کریں گئیں کیسے نہائیں گی…؟
کیسے کھانا کیسے پکائی گئیں..؟
یہ اس کے کارنامے ہیں
کل سب اس کی شکایت لے کر میرے پاس آئیں ہوئی تھیں اب آپ بتائیں میں آپ کی لاڈلی کا کیا کرو….؟
ہر روز ایک نئی شرارت کرتی ہے.
میں نے پتے نہیں پھینکے تھے پتے آئمہ نے پھینکے تھے میں نے صرف درخت پر چڑھ کر پتے ہلائے تھے.
ماشااللہ تو تم درخت پر چڑھ تھی شرم نہیں آتی اتنی بڑی ہو کہ تم درختوں پر چڑھتی ہو اور اگر تم خود پتوں کے ساتھ کنواں میں گر جاتی تو…؟
اب کی بار دادی رقیہ بیگم نے بیا کی طرف پریشانی سے دیکھ کر پوچھا.
اگر یہ کنواں میں گر جاتی تو کوئی پریشانی والی بات نہیں تھی وہاں پر موجود آبی مخلوق خود بخود اس کو باہر پھینک دیتی.
کمرے میں داخل ہوتے حارب نے جملہ مکمل کیا اور خود دا جی کے ساتھ تخت پوش پر بیٹھ گیا مگر جیسے ہی اس کی نظر آئمہ کے بازو پر پڑی وہ چونک پڑا.
آئمہ یہ تمہارے بازو پر کیا ہوا ہے.؟
یہ پٹی کیوں باندھی ہوئی ہے حارب کے کہنے کی دیر تھی کہ کمرے میں موجود جتنے بھی نفوس تھے سب کے سب نے آئمہ کی طرف دیکھا.
زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اب ایسی ڈرپوک لڑکی کو اگر میں بہادر نہیں بناؤں گی تو کون بنائے گا….؟
اس سے پہلے کہ آئمہ کچھ کہتی بیا خود بخود بول پڑی جو اس بات کا ثبوت تھا کہ بیا نے ہی کچھ کیا ہے.
میں پوچھ رہی ہوں تمہارے بازو پر آئمہ کیا ہوا ہے اب کی بار کرن بیگم نے زور دے کر آئمہ سے پوچھا.
ہونا کیا ہے میں نے اسے مولوی صاحب کے بکرے پر بیٹھایا تھا بس پھر کیا تھا وہ بھاگ گیا اور آئمہ نیچے گر گئی گرنے کے دوران اس کی بازو پر کچھ خراشیں آ ہیں بلکل معمولی نوعیت کی…..
مجھے زیادہ خونخوار نظروں سے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے اسے ہی شوق آیا تھا “ارطغرل” کی طرح گھوڑے پر بیٹھنے کا گھوڑا ملا نہیں تو میں نے بکرے پر بیٹھا دیا اپ اس میں میری کیا غلطی ہے….؟
بیا نے پٹ پٹ اپنی آنکھوں کو جھپکا.
ایک تو میں نے آئمہ کی خواہش پوری کی ہے اوپر سے آپ سب لوگ مجھے ہی الزام دے رہے ہیں بیا نے منہ بنایا.
جو کنواں کا پانی گندا اس کا کیا….؟
دا جی نے بیا کو افسوس سے دیکھا.
میں نے سوچا گاؤں والے سادہ پانی پیتے پیتے تھک گئے ہونگے کیونکہ انھیں “فنٹا” پلا دی جائے.
پانی کا رنگ تو اورنج ہو گیا ہے مگر ذائقہ……
بیا نے سوچنے کی ایکٹنگ کی.
ماشاءاللہ ہماری بیا تو سائنٹسٹ ہے کتنا ٹیلنٹ ہے اس میں…..
حارب نے بیا کو داد دی اور خود قہقے لگانے لگا.
“ویسے اللہ کی ذات کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے بچے بہت ڈھیٹ ہیں کسی کو اپنے کیے پر کوئی شرمندگی نہیں ہوتی. “
دا جی نے کہتے ہوئے سر نفی میں ہلایا.
🎀🎀🎀🎀
میں نے کتنی دفعہ ولی تمہیں منع کیا ہے تمہیں میری بات سمجھ کیوں نہیں آتی جس دن تم ڈینیل کے ہاتھ لگے وہ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا تم اس بات کو سمجھتے کیوں نہیں کب تک میں تمہیں بچاؤں گا……؟
ڈیوڈ نے انتہائی دکھ سے ولی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جت ولی نے دیوار کی طرف انگلی کے اشارے سے پوچھا یہ پینٹگ آپ نے کہاں سے لی تھی اتنی خوبصورت ہے… ؟
ولی میں تمہیں کیا کہہ رہا ہوں اور تم کیا پوچھ رہے ہو طبیعت ٹھیک ہے تمہاری…. ؟
مجھے واٹر پینٹنگس ہمیشہ سے ہی پسند رہیں ہیں آپ کی اور میری پسند کافی ملتی ہے اس معاملہ میں…
ولی کے جواب پر ڈیوڈ نے ایک سرد آہ بھری اور نفی میں سر ہلایا۔
تمہاری ماں طبیعت اب کیسی ہے…؟
طبیعت کا نہیں نیت کا پوچھا کریں جو شروع سے ہی گندی ہے.
آپ کو پتہ ہے مجھے سب سے برا کیا لگتا ہے مجھے سب سے برا آپ کے منہ سے اپنی ماں کا حال پوچھنا لگتا ہے اس لیے مت پوچھا کریں.
اچھا چائے پیو گے ڈیوڈ نے انٹر کام کی طرف ہاتھ بڑھایا.
ہاں مجھے آپ کی سب سے اچھی یہی بات لگتی ہے اور آپ کے منہ سے سب سے اچھا جملہ بھی…..
پاکستان کب تک جاؤ گے؟
ابھی ابھی ولی کے چہرے پر جو مسکراہٹ آئی تھی ڈیوڈ کے سوال سے ختم ہوگئی.
جاؤنگا باپ کی لاش لیکر آخر دفن بھی تو کرنا ہے اسے اس کی مٹی میں….
تم دن بدن زہریلے ہوتے جا رہے ہو اپنے اندر سے کڑواہٹ کو کم کرو ورنہ سانپ بن جاؤ گے.
سیریسلی….
ولی نے بے یقینی سے ڈیوڈ کی طرف دیکھا اتنی دیر میں پی اے چائے لے آیا.
🎀🎀🎀🎀
