Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

نہایت خوبصورت اور قیمتی نرم کالین فرش پر بچھے ہوئے تھے. خوبصورت ریشمی پردوں سے دیواروں کی قدروقیمت بڑھ رہی تھی.
جگہ جگہ قیمتی اور نایاب شوپیس پڑے ہوئے تھے جو رہنے والے کے اعلیٰ ذوق کی عکاسی کر رہے تھے.
چکاچوند کرنے والی لائیٹیں کمرے میں دن کا سماں پیش کر رہی تھیں.
پیٹر حیرت بھری نظروں سے ایک ایک چیز کو دیکھ رہا تھا جب کہ ولی صوفے پہ بیٹھا پیٹر کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.
یہ کمرہ تو کمرہ نہیں جنت کا ٹکڑا لگتا ہے ولی تم نے اس سے پہلے اتنا خوبصورت کمرہ دیکھا ہے کم از کم میں نے تو زندگی میں نہیں دیکھا…….. ؟
کمرے کا تو پتا نہیں پر میں نے پیٹر سے زیادہ بے وقوف اور نادیدہ کبھی نہیں دیکھا.
ولی کے جواب پر پیٹر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا.
مجھے کبھی بھی ایسی چیزیں متاثر نہیں کرتی سمجھے……
مجھے ایسی چیزوں سے فرعونیت ٹپکتی ہوئی نظر آتی ہے.
ولی کے جواب نے جہاں پیٹر کو حیرت میں ڈالا وہیں کمرے میں داخل ہوتے ہوئے لارڈ کو بھی حیران کر دیا.
اسے فرعونیت نہیں کہتے بلکہ اس کو سٹیٹس سمبل بولتے ہیں جو ہمارے اور تم جیسے عام شخص میں فرق کی بنیاد بنتا ہے.
لارڈ نے اپنے مخصوص امریکن سٹائل کراؤن صوفے پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا جبکہ اس کے محافظ اس کے دائیں بائیں اور سامنے اپنی پوزیشنز پر کھڑے ہو گے.
اپنی اپنی سوچ ہے ورنہ جسے آپ اسٹیٹس سمبل بول رہے ہیں میرے خیال سے آدمی کا جتنا اسٹیٹس بلند ہوتا جاتا ہے اس کی سوچ اتنی ہی تنگ، گھٹیا اور چھوٹی ہوتی جاتی ہے.
ولی کے طنزیہ جواب پر لارڈ کے ساتھ ساتھ وہاں موجود افراد کے چہرے کا رنگ بھی اڑ گیا.
تمہاری بہادری کی تو مجھے داد دینی پڑے گی میرے ہی محل میں، میرے ہی کمرے میں، میرے ہی محافظوں کے درمیان بیٹھ کر تم ایسی باتیں کر رہے ہو لگتا ہے زندگی سے پیار نہیں اپنی جوانی سے تنگ ہوں لڑکے….
جوانی کا تو پتا نہیں لیکن میں لوگوں کی منافقت سے واقع ہی بہت تنگ ہوں.
پتہ چلتا ہے “ڈیانا” کے بیٹے ہوں لارڈ نے تمسخر اڑایا اور ولی اُس کی اِس بات کا مطلب اچھے سے سمجھ گیا۔
مگر خلاف معمول اس نے غصہ نہیں کیا بلکہ مسکرا کے لارڈ کی طرف دیکھا
میں ڈیانا کے ساتھ ساتھ ہو سکتا ہے کہ آپ کا بھی بیٹا ہوں. شاید آپ کو پتہ ہی نہ ہو کہ کہاں کہاں آپ کی اولاد پائی جا رہی ہے…؟
ولی کے جواب پر لارڈ کا چہرہ غصے کی شدت سے لال پڑ گیا اور اس نے اپنے محافظوں کی طرف ایک نظر دیکھا
کیوں برا لگ ۔۔۔!!!
حالانکہ اس میں برا لگنے والی کوئی بات نہیں ہے. عموما امیر لوگوں کی اولاد اِسی طرح گلی محلوں میں پیدا ہوتیں ہیں اور جوان ہوتی ہیں. انہیں اپنی جوانی کے جوش میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان کی اولادیں کہاں کہاں پڑی ہوئی ہے….؟
جو تیر لارڈ نے ولی کی طرف چلایا تھا ولی نے اسی کا رخ لارڈ کی طرف موڑ دیا اب ولی مسکرا رہا تھا اور لارڈغصے سے اسے گھور رہا تھا.
تم کچھ ضرورت سے زیادہ ہی سمجھدار ہو اور اتنا سمجھدار ہونا بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بہتر ہوگا مطلب کی بات کرو میرے پاس تم جیسوں کے لیے فالتو وقت نہیں.
ٹھیک ہے پھر بات سیدھی سیدھی کرتے ہیں اور سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ میں Marry کی جائیداد میں حصہ چاہتا ہوں اور بس۔۔۔۔۔
اور اگر میں تمہارے ساتھ ڈیل نا کروں تو…؟
لارڈ نے جانچتی نظروں سے ولی کا جائزہ لیا. جو نہایت پر سکون اور مطمئن نظر آ رہا تھا.
کوئی مسئلہ نہیں ہے میں کسی اور سے ڈیل کر لوں گا جیسے آپ کے مخالف جو الیکشن میں کھڑے ہو رہے ہیں یا پولیس والے یا کوئی بھی ہو….
پہلے مجھے ثبوت چاہیے تمہارے پاس کیا ثبوت ہے میرے خلاف….!
ولی نے اپنی جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور سگار کا ٹکڑا نکال کر ٹیبل پر رکھ دیا جسے دیکھتے ہی لارڈ چونک پڑا۔
آپ اسے تو پہچانتے ہی ہوں گے بلکہ اس کو تو سارا لندن ھی جانتا ہے کہ اس کا استعمال کون سی مشہور اور بااثر شخصیت کرتی ہے غریب کے بس کی بات نہیں. بے شک یہ سگار آپ کے ہی شایان شوکت ہے.
اور یہ مت سمجھنا یہی ایک ثبوت ہے آپ کے خلاف میرے پاس، میرے پاس آپ کی بہت ساری سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی……
اگر میں تم سے ڈیل کرنے کی بجائے گاڈ سے ڈیل کر لوں اور تمہیں سیدھا اوپر پہنچا دو تو….!
مجھے اوپر پہنچا کہ اگر آپ کو فائدہ ہوتا ہے تو پہنچا دے. ویسے بھی مجھے اس دنیا میں توکوئی خاص کام نہیں ہے.
مگر آپ کے لئے ایک مشورہ ہے کہ جب بھی کسی سے ڈیل کرنے لگیں تو اس پر طنز مت کریں، شکایت نے کریں، خلوص اور دیانت داری سے اس کے ساتھ ڈیل کریں اور دوسرا اس آدمی میں بھی دلچسپی کا جذبہ پیدا کریں کہ وہ بندہ خود بخود آپ سے ڈیل کرے نااا کہ آپ کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچے.
کیوں کہ اگر چیونٹی بھی نقصان پہنچانے پر آئے تو وہ بھی بہت بڑا نقصان کر دیتی ہے ۔
ٹھیک ہے میں دو دن بعد تمہیں بتا دوں گا کہ کن شرائط پر ڈیل کرنی ہے.
پہلی بات کے دو دن کا مطلب دو دن ہی ہونا چاہیے اور دوسری بات ڈیل میں آپ کو بتاؤں گا کہ کس طرح کرنی ہے.
ولی صوفے سے کھڑا ہو گیا اس ساری گفتگو کے دوران پیٹر ایک دفعہ بھی نہیں بولا نہ اس نے کسی قسم کی کوئی مخالفت کی نہ ہی گفتگو میں حصہ لیا ۔
تمہارا یہ دوست گونگا ہے…؟
لارڈ کے سوال پر ولی نے گردن گھما کے پیٹر کی طرف دیکھا
یہ صرف “گونگا” نہیں بلکہ “بہرہ” بھی ہے امید ہے جو سوال پوچھنا چاہ رہے تھے اس کا آپ کو تسلی بخش جواب مل گیا ہوگا.
اب ہم چلتے ہیں دو دن بعد ملاقات ہوگی. ولی کہتے ساتھ پیٹر کو لے کر کمرے سے باہر آ گیا جبکہ لارڈ نے اپنے خاص آدمی کواشارے سے پاس بلایا ۔
ولی اور پیٹر جب محل سے باہر نکل رہے تھے تو لارڈ کے کچھ گارڈز ایک لڑکی کو پکڑ کے زبردستی اندر کی طرف لے جا رہے تھے۔
ولی دیکھ یار کتنی پیاری لڑکی ہے ان امیر لوگوں کو بھی ماننا پڑے گا پتا نہیں کہاں سے چن چن کر خوبصورت اور پیاری لڑکیاں اپنے لیے نکال لیتے ہیں.
پیٹر نے ولی کے کندھے پہ ہاتھ مار کر گیٹ کی طرف اشارہ کیا.
مگر جیسے ہی ولی نے اس لڑکی کی طرف دیکھا پھر نظر پلٹنا بھول گیا.
🎀🎀🎀🎀
‏بیا رجسٹر پر حارب کے دستخط کرنے کی پریکٹس کر رہی تھی.
کیونکہ ابھی ابھی اس کے ذہن میں ایک بالکل نئی، تازہ اور انوکھی شرارت آئی تھی جسے اس نے پایا تکمیل تک پہنچانا تھا۔اس کے لیے حارب کے دستخط انتہائی ضروری تھے۔
بیا اپنی کارروائی میں اتنی مصروف تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کب حارب اس کے پیچھے آکر کھڑا ہو گیا.
یہ تو کمال ہو گیا. تمہیں مجھ سے عشق ہوگیا. تم اکیلے میں بیٹھ کر کتابوں پے میرا نام لکھتی ہو….
حارب کی آواز پہ بیا چونکی لیکن پھر ایک دم سنبھل کر بولی.
وہ کیا ہے نا ڈیئر کزن پلس میرے اکلوتے منگیتر صاحب!
“میرے جذبات سے میرا قلم بخوبی واقف ہے میں فٹے منہ لکھوں تو آپ کا نام لکھا جاتا ہے.”
بیا نے اپنی بات کے جواب میں حارب کے تاثرات کو دلچسپی سے محسوس کیا اور مسکراتے ہوئے کہا
“اپنے متعلق بری رائے پر ضرور توجہ دینی چاہئے اس سے بندے کی پرسنلٹی اچھی ہو جاتی ہے. “
بکواس بند کرو مجھے تمہاری کسی بات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے. میں صرف یہ کہنے آیا ہوں کہ میں دادی کو صاف صاف بتا دوں گا کہ کیا ہوا تھا کیوں کہ میں تم سے شادی کر کے مصیبت کو اپنے گلے نہیں ڈالنا چاہتا.
مگر نہایت افسوس سے اعلان کیا جاتا ہے کہ مصیبت آپ کے گلے پڑ گئی ہے اب آپ خوشی سے برداشت کریں یا غمی سے کرنا تو پڑے گا بیانے پٹ پٹ بولتے ہوئے اپنی آنکھیں گھمائیں
اچھا چلو ٹھیک ہے میں تمہاری میڈیکل کالج والی بات مان لیتا ہوں پھر تو تم میری بات مان لو گی.
حارب نے ہار مانتے ہوئے بیا سے پوچھا
“ویسے تو کسی سے بھی احسان کی امید نہیں رکھنی چاہیے مگر خاص طور پر ہونے والی بیوی سے تو بلکل بھی نہیں بیوی اچھی خاصی خوفناک چیز کا نام ہے.”
پیا کی بات سن کر حارب کو شدید غصہ آگیا.
کسی سیانے نے کیا خوب کہا ہےکہ
“غصہ ایک مہنگی چیز ہے جس کا غریب شخص متحمل نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ تم ایک انتہائی غریب انسان ہوں اس لئے فی الحال تو غصہ نہ کرو بلکہ مسکراؤ کیونکہ مسکراہٹ ایک مہنگی ترین گاڑی سے زیادہ بہتر ہے.”
بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہاری فلاسفی، میں بھی دیکھتا ہوں یہ شادی کیسے ہوتی ہے؟
بالکل ویسی ہی ہوگی جیسے گاؤں میں باقیوں کی شادیاں ہوتی ہیں ہماری کوئی خاص تو ہونے سے رہی تم کون سا لندن کے شہزادے ہو اور میں کون سا وزیر اعظم کی بیٹی، غریب لوگوں کی طرح ہماری شادی ہو گئی.
اس لیے اسی بات کو سوچ کر اپنی ذہانت ضائع نہ کرو بلکہ سی ایس ایس کے امتحان پر توجہ دو.
آخر کار تم پر ایک بڑی ذمہ داری پڑنے والی ہے.
🎀🎀🎀🎀
جو باتیں آج تک میں نے اپنے دل میں چھپا رکھی تھیں. آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل گئی. جس کا مجھے بہت افسوس ہے اور دکھ بھی…..
کاش ابراہیم!!!
تم مجھے دھوکہ دے کر نہ گئے ہوتے تو میں آج تک تم سے محبت کرتی رہتی تمہارے لیے دعائیں کرتی. مگر تم نے دھوکا دے کے دوستی اور محبت دونوں کو ہی داغدار کر دیا.
جب آنسو نکل آتے ہیں نا
تو اِن میں صرف نمک اور پانی نہیں ہوتا.
اِن میں ماضی کی تکلیفیں حال کا درد دُکھ اپنوں کے ستم…
چاہنے والوں کی بے اعتباری
کبھی نہ لوٹ کے آنے والوں کا غم..
وعدوں کی پامالی اور نجانے کیا کیا احساسات اور جذبات چھپے ہوتے ہیں.
مگر ان سب کے باوجود میرا دل کرتا ہے کہ میں مرنے سے پہلے تمہیں ایک بارضرور دیکھوں.
مجھے تم سے کچھ سوالوں کے جواب چاہیے. کاش میں تمہیں اپنی زندگی میں دوبارہ دیکھ سکوں بات کر سکوں….
کاششششششش…….
سارہ نے بستر پر لیٹے لیٹے سوچا اور اس کی آنکھوں سے پانی روا ہو گیا.
🎀🎀🎀🎀