Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 49

لیجئے ناکام عاشق صاحب ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ۔مجرم کو سزا بھی مل گئی اور ہمارا نام بھی نہیں آیا-
“Congratulations Marry”
ولی نے کہتے ساتھ ایک خوبصورت پھولوں کا گلدستہ اس کی قبر پر رکھا۔
مجھے وہ لوگ بالکل پسند نہیں جو احسان جتلاتے ہیں ۔ پیٹر نے کتبے کو دیکھتے ہوئے سرگوشی کی ۔
اسے “احسان جتلانا” نہیں بلکہ “وعدہ پورا” کرنا کہتے ہیں۔ ولی نے ایک زور دار مکا پیٹر کی کمر میں مارا ۔
ہائے کمر توڑ دی۔ پیٹر کمر پر ہاتھ رکھتا اٹھ کھڑا ہوا ۔
اچھا Marry اب میں چلتا ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اب دوبارہ چکر لگا سکوں گا ۔معذرت قبول کرو۔ ولی نے ایک الوداعی نظر قبر پر ڈالی۔
تو پاکستان شفٹ ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ پیٹر نے خشمگیں نظروں سے گھورا ۔
ایک تو آج کل ہر ” دوسرا” نہیں بلکہ “پہلا ” شخص مجھ سے یہی پوچھ رہا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تم لوگوں نے آپس میں پلاننگ کی ہوئی ہے یا میرے چہرے پر کچھ ایسا لکھا ہے ۔ولی بھی پیٹر کے برابر چلتا ہوا قبرستان سے باہر نکلنے لگا ۔
میں یہاں پیدا ہوا _ بڑا ہوا اچھا برا سیکھا میرے دوست یار یہاں ہیں مجھے اپنے ملک سے محبت ہے، میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا اور نہ ہی جانا چاہتا ہوں۔ ولی قبرستان سے باہر نکل کر اوپر آسمان کو دیکھنے لگا
یار تُو تو برا مان گیا میں تو ویسے ہی کہہ رہا تھا۔ پیٹر نے ولی کو دیکھتے ہوئے کندھے اچکائے ۔
پیٹر میرے خیال سے اب ھمیں “موو آن” کرنا چاہئے یہ چھوٹی موٹی چوریاں چھوڑ کر ایک ہی بڑا سا “ڈاکہ” ڈالتے ہیں پھر تم اپنا بزنس شروع کر دینا اور میں اپنا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ اب ہم بڑے ہوگئے ہیں۔ پیٹر کے جواب پر ولی نے قہقہ لگایا۔
اور یہ انکشاف کیسے ہوا کہ “ہم” بڑے ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔؟
کردی بکواس اب میں آگے کچھ کہوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پیٹر نے خفگی سے ولی کو دیکھا ۔
ضرور کیوں نہیں۔۔۔۔۔ُ ولی نے مسکراتے ہوئے سر کو خم دیا جیسے بہت تابعدار ہو۔
آج کل تیرے بڑے دانت نکل رہے ہیں ایسے لگتا ہے جیسے ابھی ابھی نکلے ہوں۔۔۔۔۔ پیٹر نے چڑ کر کہا
تو میرے “خوبصورت” نہیں بلکہ “صاف ستھرے” دانتوں سے جل رہا ہے ۔مجھے یقین نہیں ہو رہا۔ ولی نے مصنوعی حیرت سے پوچھا
ولی ۔۔۔۔۔۔۔ بات سننی ہے یا نہیں پیٹر کہتا ہوں آگے چل پڑا ۔
میں نے کل لارڈ سے ملنے جانا ہے۔ میں چاہتا ہوں تم بھی میرے ساتھ چلو۔ اب چوری ساری زندگی اکٹھی کی ہے تو ڈاکہ بھی اکٹھے ہی ماریں گے اور پھر عیش ہی عیش ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے پیچھے سے آواز لگائی ۔
ہاں بالکل عیش ہی عیش یا جیل ہی جیل۔۔۔۔۔۔۔ پیٹر نے مڑے بغیر جواب دیا۔
تو ایسا کر کہ کسی پولیس “والے” کو بلکہ نہیں کسی پولیس” والی” کو اپنے دل اور گھر میں بسا لے اس طرح تیرے ساتھ ساتھ مجھے بھی آسانی رہے گی۔ ولی قدم قدم چلتا ہوا پیٹر کے بالکل سامنے آ کھڑا ہوا ۔
میں تیری بات کا مطلب سمجھ رہا ہوں مگر وہ مجھے پسند نہیں کرتی ۔پیٹر نے جواب دیا ۔
اچھا پھر اس سے شادی کرے گا جو تجھے بہت پسند کرتی ہے بول ۔۔۔۔۔۔۔ ولی نے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا
کون۔۔۔۔۔ کون ہے وہ۔۔۔۔۔۔؟ پیٹر کے سوال پر ولی مسکراتا ہوا آگے چل پڑا جبکہ پیٹر اسے پیچھے سے آوازیں دینے لگا۔
🎀🎀🎀🎀
شکر ہے اللہ کا پیپر ختم ہوئے جان میں جان آئی ۔حارب نے بیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر لیٹتے ہوئے کہا
مجھے آج تک ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ لوگ پیپرز کی ٹینشن کیوں لیتے ہیں جبکہ ٹنشن تو رزلٹ کی لینی چاہیے۔ بیا نے بالوں میں برش کرتے ہوئے کہا
رزلٹ کی کیسی ٹنشن ۔۔۔۔۔۔۔؟ ساری ٹینشن پیپرز کی ہوتی ہے اگر پیپر اچھے ہونگے تو رزلٹ اچھا ہوگا اور بس ۔۔۔۔۔۔ حارب نے بیا کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
تم میری بات آج لکھ لو۔ اگر تم نے سی ایس ایس پاس کیا تو صرف میری وجہ سے کرو گے۔ ورنہ تمہارے پاس ہونے کا کوئی چانس نہیں ۔ کتنےنالائق ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا جی۔ ۔۔۔۔۔حارب اب ہاتھ سے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کر رہا تھا۔
دیکھو جب ہم پیپرز دیتے ہیں تو کسی کو پتا نہیں ہوتا کہ پیپر میں ہم نے کیا لکھا ہے سوائے ہمارے اپنے ۔۔۔۔۔۔۔ مگر جب رزلٹ نکلتا ہے تو سب کو پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارا رزلٹ کیسا ہے ۔۔۔۔۔؟
اب تم پوری ایمانداری سے بتاؤ پیپر سے ٹینشن ہونی چاہیے یا رزلٹ سے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ بیا نے برش کے اشارے سے حارب سے پوچھا
حالانکہ تمہارا نشانہ اتنا اچھا نہیں ہے مگر پھر بھی میں” برش” کو عزت دیتے ہوئے تمہاری بات مان لیتا ۔ حارب نے دونوں ہاتھ اوپر کرتے ہوئے سر کو خم دیا ۔
ہائے حارب ۔۔۔۔۔ قسم سے جب تم اس طرح کرتے ہو نا مجھے اتنا پیار آتا ہے تم پر _ اتنا پیار آتا ہے تم پر
اتنا پیار آتا ہے تم پر _ بیا کہتے ساتھ ہی قدم قدم چلتی چارب کے برابر آ بیٹھی۔
بیا پلیززز آج کوئی فرمائش نہیں کیونکہ میں بہت تھکا ہوا ہوں۔ نہ تمہیں شاپنگ پر لے کر جاؤں گا اور نہ باہر کھانا کھلانے۔ معزرت قبول کرتے ہوئے مجھے پرسکون نیند لینے دیں۔ عین نوازش ہوگی ۔آپ کا تابعدار شوہر راجہ حارب
بیا نے گھور کر حارب کو دیکھا باوجود اس کے کہ مجھے تم پر شدید غصہ آرہا ہے مگر میں تمہاری درخواست منظور کر لیتی ہوں۔( اب دیکھتے ہیں کہ پرسکون نیند آج رات کون سوتا ہے ۔) بیا مسکراتی ہوئی بیڈ سے اٹھ گئی جب کہ حارب واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔
ابھی حارب نے بمشکل کپڑے تبدیل کیے تھے کہ باہر سے بیا کے چیخنے کی آواز آئی۔
سانپ۔۔۔۔۔۔سانپ۔۔۔۔۔حارب جلدی باہر آؤ۔۔۔۔۔۔ بیا صوفے کے اوپر پاؤں کیے۔ مسلسل چلا رہی تھی جب حارب واش روم کا دروازہ کھول کے باہر نکلا
کہاں ہے سانپ۔۔۔۔۔۔؟ چلانا بند کرو اور مجھے بتاؤ ۔ حارب نے جلدی سے کف فولڈ کیے اور ادھر ادھر دیکھنے لگا
وہ میں نے ابھی یہاں۔۔۔۔۔۔۔ بیا نے
ادھر ادھر ہاتھ کے اشارے سے بولنا چاہا جب حارب نے اسے چپ کرایا ۔
بیا تم چپ کر کے صوفے پر بیٹھ جاؤ اور جب تک میں سانپ تلاش کرکے مار نہیں لیتا تم نے بولنا نہیں ہے سمجھیں اور بیا نے انتہائی فرماں برداری سے منہ بند کرتے ہوئے اوپر انگلی رکھی۔
شاباش۔ ۔۔۔۔۔ حارب نے بیا کو دیکھ کر کہا اور خود واشروم سے موب اٹھا لایا۔
اب وہ باری باری سارے کمرے کو چک کر رہا تھا جبکہ بیا خاموشی سے اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہی تھی ۔
حارب نے کپڑوں والی الماری سے لے کر کارپٹ، بیڈ ، ڈریسنگ ٹیبل، صوفہ غرض کمرے کی ہر چیز چھان ماری۔ مگر سانپ تو دور کی بات ہے کوئی کالا دھاگا تک نہیں ملا ۔۔۔۔۔۔
بلآخر حارب نے تھک ہار کر دیوار سے ٹیک لگائی اور بیا سے پوچھا جو صوفے پر لیٹی خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔
ہممممممم ۔۔۔۔۔۔ مجھ سے کچھ کہا بیا نے نیند بھری آنکھیں کھولیں۔
یار تم نے سانپ کہاں دیکھا تھا مجھے تو کہیں بھی نہیں ملا…..؟؟ تھکاوٹ حارب کے لہجے سے عیاں تھی ۔
وہ تو میں نے” ٹی وی” میں دیکھا تھا. بیا آنکھیں ملتی ہوئی اب اٹھ بیٹھی اور گھڑی پر نظر ماری جو رات کے بارہ بجے جارہی تھی ۔
کیااااااا۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھے یہ بات پہلے نہیں بتا سکتی تھی ۔”چار گھنٹے” سے میں خوار ہو رہا ہوں اور تم مزے سے دیکھ رہی ہو۔ حد ہے یار ۔۔۔۔۔۔۔حارب گرنے والے انداز میں بیڈ پر بیٹھا۔
تم نے مجھے بولنے سے منع کیا تھا ۔تو پھر میں تمہیں کیسے بتاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ویسے بھی میں تمہاری” نافرمانی” کر کے جہنم میں جانا نہیں چاہتی. معصومیت تو اس وقت بیا پر ختم تھی۔
“شرارت لے کہ آنکھوں میں وہ ان کا دیکھنا توبہ
ھم ان کو دیکھیں یا ان کا دیکھنا دیکھیں”
فرمابردار ۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ بھی ۔۔۔۔ میری ۔۔۔۔۔حارب نے تکیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
دیکھو اگر تم نے مجھ پر “تشدد” کیا تو سوچ لو گھریلو تشدد پر اب “قانون” بن چکا ہے ۔ یہ نہ ہو کہ تم “کمیشن” بننے سے پہلے ہی “جیل چلے” جاؤ۔۔۔۔۔۔۔ اور سزا یافتہ لوگوں کو “سول سروسز” میں نہیں رکھا جاتا۔ اپنے “مستقبل” کا سوچو۔۔۔۔۔۔ بیا نے صوفے پر دفاعی پوزیشن لی۔
فلحال تو تم اپنے مستقبل کا سوچو اور پورے زور سے تکیہ بیا کی طرف اچھالا جسے اس نے آسانی سے کیچ کرتے ہوئے حارب “آؤٹ” کا نعرہ لگایا۔
🎀🎀🎀🎀
تم تیار ہو گئی ہو یا ابھی اور وقت لگے گا۔ ولی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے آئمہ سے پوچھا
کیا مطلب وقت لگے گا ۔میں بالکل تیار تو ہوں۔( سادہ سے پرپل کلر کے سوٹ پر ولوٹ کی شال بے شک اسے خوبصورت بنا رہی تھی۔) آئمہ نے ولی کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا.
اچھی لگ رہی ہو…….. اچھا یہ بتاؤ کہ کہاں کہاں جانا ہے ۔۔۔۔۔؟ میرا مطلب ہے کہ تم کیا دیکھنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔؟ ولی نے صوفے پر بیٹھے ہوئے آئمہ سے پوچھا
مجھے کیا پتا لندن میں کہاں کہاں سیر کے لیے جاتے ہیں آپ بتائیں ناااااا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ آئمہ نے ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے ولی سے پوچھا
یہاں St pauls cathedral چرچ ہے اور بہت سارے لوگ وہاں سیر کے لئے جاتے ہیں۔ اگر تم دیکھنا چاہو تو۔۔۔۔۔۔؟ ولی نے ائمہ کے تاثرات نوٹ کیے ۔
نہیں مجھے چرچ وغیرہ دیکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے کوئی اور جگہ بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔ ائمہ نے منھ بنایا
اچھا پھر Tower of london اور Tower bridge ہیں یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں اور خوبصورت بھی ہیں پانی بھی ہے. مجھے لگتا ہے تمہیں یہ Places پسند آئیں گے۔
آپ کو بھی یہ جگہیں اچھی لگتی ہیں ۔۔۔۔۔ آئمہ نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا
نہیں مجھے سب سے زیادہ London Eye اور Buckingham palace پسند ہے اس کی دو وجوہات ہے لندن آئی کی مدد سے ہم پورے سمندر کو خوبصورتی سے دیکھ سکتے ہیں ۔
اور جہاں تک محل کا تعلق ہے تو مئی اور جون کے درمیان گارڈ کی تبدیلی کا فنکشن ہوتا ہے وہ اتنا خوبصورت ہوتا ہے کہ باہر سے آنے والے سیاح ایک طرف لندن کے لوگ بھی بہت خوشی سے کھڑے ہو کر دیکھتے ہیں اگر محل کو اندر سے دیکھنے کا شوق ہو تو اگست اور ستمبر کے درمیان محل کے سٹیٹ رومز عوام کے لیے کھولے جاتے ہیں۔
مگر تمہیں یہ دونوں فنکشنز دیکھنے کے لئے انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ فی الحال جنوری جا رہا ہے۔ ولی نے آئمہ کے چہرے پر نظر ٹکاتے ہوئے سب بتایا جو بہت انہماک سے اسے سن رہی تھی۔
ہممممم۔۔۔۔۔۔۔ولی کی بات کے آخر میں آئمہ تھوڑی اداس ہو گی مگر تب تک تو میں پاکستان واپس چلی جاؤں گی کیونکہ اس دفعہ رمضان تو مئی میں ہے اور عید میں اپنے ملک میں ہی کروں گی ۔
ان تمام جگہوں کے علاوہ British museum اور Big Ben بھی ہیں۔ ولی نے مزید چوائس آئمہ کو دی
میوزیم تو مجھے پتا ہے کیسا ہوگا ۔۔۔۔۔۔؟ لیکن یہ Big Ben کیا چیز ہے ۔۔۔۔؟ آئمہ کے سوال ولی نے سر نفی میں ہلایا۔
مجھے نہیں لگتا کہ تم نے ایف اے پاس کیا ہوا ہے اتنی معلومات تو ہونی چاہیے نااااا۔۔۔۔۔۔۔ خیر جیسے تمہارے فیصل آباد میں گھنٹہ گھر ہے نا یہ بھی اسی طرح کا ایک کلاک ٹاور ہے۔ جس میں 13 گھنٹیاں لگی ہوئی ہیں اور سب سے پہلے جس شخص نے گھنٹی بجانے کا حکم دیا تھا اس کا نام Sir Ben bell تھا۔ اسی مناسبت سے اس ٹاور کو Big ben کہتے ہیں ۔
توبہ ہے ان انگریزوں سے ۔۔۔۔۔۔۔ اچھی خاصی آسان چیز کو کتنا پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ سیدھا سا کوئی نام رکھ دیتے جیسے “گھڑی والا ٹاور ” ائمہ نے جھرجھری لی ۔
واہ آئمہ بی بی تم اپنی مثال آپ ہو خیر اب چلنا ہے یا صرف باتوں سے ہی گزارا ہو گیا ہے۔ ولی نے صوفے سے اٹھتے ہوئے پوچھا
چلنا ہے کیوں نہیں میں کب سے تیار ہو رہی ہوں باتوں سے کہاں سیر ہوتی ہے۔۔۔۔۔آئمہ جلدی سے کھڑی ہو گئی۔
میں نے تمہاری لیا کچھ لیا ہے اسے پہن لو امید کرتا ہوں تمہیں اچھا لگے گا. ولی کی آواز پر آئمہ نے مڑ کر دیکھا
ولی نے جیب سے ایک مخملی ڈبیہ نکالی جس میں نیلے رنگ کا کچھ چمک رہا تھا. اس سے پہلے کہ ولی وہ باہر نکالتا آئمہ نے پرجوش انداز میں کہا
“ڈائمنڈ رنگ”
جی بلکل……. اور رنگ نکال کر آئمہ کے سامنے کی مطلب صاف تھا کہ اپنی انگلی آگے کرو.
شکریہ…… آئمہ نے نم آواز سے ولی کو رنگ پہناتے ہوئے دیکھ کر کہا
ارے میرا خیال سے تو تمہیں خوش ہونا چاہیے مگر……. ولی نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا
خوشی کے آنسو…… آئمہ نے سر جھکا کر رنگ پر انگلی پھیری.
پاگل بلکل پاگل….. ولی کہتا باہر نکل گیا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے