No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
ولی کی بات پر کچھ لمحے داجی خاموش ہو گئے پھر راجہ خرم اور فرخ کی طرف دیکھا جیسے رائے مانگ رہے ہوں.
میرے خیال سے آپ لوگوں کو اصولاً تو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے _ ولی نے سب کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے مزید کہا برخوردار میرے خیال سے ہمیں ابھی ایک دوسرے کو تھوڑا اور وقت دینا چاہیے. راجہ خرم کی بات پر ولی نے ناسمجھی سے انھیں دیکھا. میرا مطلب ہے کہ تم ابھی آئمہ کو ہمارے پاس ہی رہنے دو اور خود ایک دو بار سال میں پاکستان کا چکر لگاؤ تاکہ ہمیں تم پر یقین آ جائے کہ تم ابراھیم کی طرح نہیں کرو گے. یہ تو آپ نے بڑی ہی عجیب بات کہی ہے میں نے اگر پاپا کی طرح کرنا ہوتا تو کبھی بھی آئمہ کو ساتھ لے جانے کی ضد نہ کرتا. ولی کے بگڑے تیور دیکھ کر داجی نے بات سنبھالی. بیٹا تمہاری بات اپنی جگہ درست ہے مگر جو بات خرم کہہ رہا ہے وہ بھی غلط نہیں. تم فلحال اکیلے ہی لندن واپس جاؤ. تسلی سے وہاں اپنے اور آئمہ کے رہنے کا بندوبست کرو کیونکہ جیسا تم نے بتایا تھا اس کے مطابق مجھے نہیں لگتا کہ تمہاری والدہ آئمہ ساتھ کچھ اچھا سلوک کریں گئیں. پھر اس کے بعد آئمہ کے پیپرز تیار کراؤ جب اس کا ویزہ اور ٹکٹس تیار ہو جائے تب اسے آکر اپنے ساتھ لے جاؤ. اس طرح ہم سب کو اور خاص طور پر تمہیں اور آئمہ کو اتنے وقت میں ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع بھی مل جائے گا اور بدگمانیاں بھی دور ہو جائیں گئیں. ویسے بھی یہ شادی اتنی جلدی میں ہوئی ہے کہ آئمہ کچھ پریشان سی ہے وہ تو کبھی ہمارے بغیر گاؤں سے باہرنہیں گئی تو ملک سے باہر اس کے لیے اور ہمارے لیے بھی کافی مشکل ہو جائے گا.
راجہ فرغ نے بیٹی کی محبت سے چور لہجے میں کہا جس سن کر ولی کو اچھا تو نہیں لگا مگر وہ “پیٹر اور ڈیانا” کا سوچ کر چپ کر گیا.
🎀🎀🎀🎀
ایک تو اس بندے نے میرا دماغ خراب کیا ہوا ہے اپنی غلطی کبھی مانتا ہی نہیں اور دوسروں پر چڑھائی کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے کسی کی بات سمجھنا تو دور کی بات ہے یہ تو سننے بھی گوارا نہیں کرتا.
میں نے ابھی اپنی بات پوری کہی بھی نہیں تو یہ جناب یہ جا _ وہ جا_ حد ہے ویسے _ پر اب میں کیا کروں…..؟ کیٹ نجانے اپنا غصہ اتار رہی تھی، خود کو تسلی دے رہی تھی یا ولی کی ناراضگی سے پریشان تھی. مگر جو بھی تھا وہ مسلسل بڑ بڑاتی ہوئی اپنے کمرے کی چیزوں کو بے مقصد الٹ پلٹ کر رہی تھی جب اس کے سامنے بھاپ نکلتا کافی کا کپ آیا. میرے خیال سے اس برف پڑتی سردی میں آپ کو اس کی شدید ضرورت ہے. جے نے کھڑکی سے باہر گرتی برف کو دیکھ کر کہا سردی صرف ہمارے ملک میں ہے اس کے دماغ میں نہیں کیٹ نے تھکنے والے انداز میں کپ پکڑتے ہوئے جواب دیا.
آپ اُن کی اتنی پرواہ کیوں کرتیں ہیں…؟
جے کی بات پر کیٹ انتہائی غصے کے باوجود مسکرا دی.
کیونکہ وہ مجھے صرف اچھا نہیں بلکہ بہت اچھا لگتا ہے.
ایسا کیا “خاص” ہے ان میں…؟
جے تمہارا “سوال” پورے کا پورا “غلط” ہے. اس میں سب “خاص” ہے “عام” تو کچھ ہے ہی نہیں.
“عام” تو ہم ہیں وہ تو “خاص” ہے بہت “خاص” ……
پتہ نہیں کتنے دن ہو گئے ہیں اُس کو دیکھے ہوئے…..؟؟ ؟
مجھے اس پر بہت غصہ آ رہا ہے کہتا تھا مجھے” پاکستان” بلکل پسند نہیں اور اب” 15 دنوں” سے وہاں بیٹھا ہوا ہے. کیٹ کی بات پر جے نے مسکرا کر اسے دیکھا. آپ بھی اب “غلط جملے” بول رہیں ہیں. مطلب…؟ مطلب یہ کہ آپ نے اپنی بات کے شروع میں کہا کہ “پتہ نہیں کتنے دن ہو گئے” اور پھر “آخر میں 15 دن بتا بھی دیے.” یہ کیا معاملہ ہے…؟ جے کی بات پر کیٹ نے اپنی گھنگھریالے گولڈن بالوں کو اک ادا سے سمیٹا. کافی اچھی بنا لیتی ہو. شکریہ یہ میرے سوال کا جواب نہیں. جے نے سائیڈ ٹیبل سے کپ اٹھا لیا. تمہارے سوال کا فلحال میرے پاس جواب نہیں اگر مل گیا تو بتا دوں گی. اب کیٹ کافی ریلکس لگ رہی تھی. مگر میرے پاس ہے پر بتاؤں گی نہیں. جے کہتی ہوئی روم سے باہر نکل گئی. 🎀🎀🎀🎀 زندگی میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس میں انسان کی بہتری ہوتی ہے.انسان کو لگتا ہے کہ یہ جو بھی میرے ساتھ ہو رہا ہے یہ سب بہت غلط ہے. لیکن حقیقت میں اللّٰہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کیا چیز انسان کے حق میں بہترین ہے. اس لیے کبھی بھی زندگی میں مایوس نہیں ہونا چاہیئے. بس اللّٰہ پر یقین رکھنا چاہیے کہ وہ میرے حق میں بہترین کرے گا. پھر اللّٰہ چاہتا ہے تو بہترین عطا کردیتا ہے اللّٰہ کبھی بھی دوسرا دروازہ کھولے بغیر پہلا دروازہ بند نہیں کرتا. اللّٰہ فرماتا ہے: “ہوسکتا ہے ایک چیز تمھیں ناگوار گزرے اور وہی تمھارے لیے حق میں بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند ہو اور وہی تمھارے لیے بری ہو اللّٰہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے” (سورہ البقرہ: 216) سارہ پھپھو نے آئمہ کو سمجھاتے ہوئے کہا جس نے رو رو کر برا حال کیا ہوا تھا. مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی کہ جب سب ٹھیک ٹھاک جا رہا تھا میرا مطلب ہے کہ میرے توقع کے عین مطابق تو یہ گڑ بڑ کہاں سے ہوئی دال میں کچھ کالا ہے.
بیا نے تفتیشی نگاہوں سے آئمہ کو دیکھا جس پر وہ منہ موڑ گئی.
کیا کہا تم نے…..؟؟ ؟ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آئی. پھپھو سارہ بیا کی بات پر حیرت سے اسے دیکھنے لگیں.
جس کو سمجھ آنی چاہیے تھی اس کو کم از کم بہت اچھے سے سمجھ آ گئی ہے رہی بات آپ کی تو آپ اس بات کو دفع کریں.
بس اک تم دفع نہیں ہوتیں باقی کیا نہیں ہوتا. حارب جو ابھی ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا بیا کا جملہ پورا کرتا سارہ پھپھو ساتھ بیٹھ گیا.
کتنی دفعہ منع کیا ہے کہ میری باتوں اور معاملات میں ٹانگ مت اڑایا کرو مگر مجال ہے کہ اثر ہوا.
بری بات بیا، ایسے بات کرتے ہیں یہ کونسا طریقہ ہے بات کرنے کا پھپھو سارہ نے ٹوکا مجھے آگے ہی بہت غصہ آیا ہوا ہے کسی پر ( بیا نے آئمہ کی طرف دیکھا) بہتر یہی ہو گا کہ آپ لوگ مجھے مزید تنگ نہ کریں. شکریہ بیا کہتے ساتھ ہی تیزی سے کمرے سے باہر چلی گئی. آپ لوگوں نے اسے ناراض کر دیا ہے آئمہ نے پریشانی سے دروازے کی طرف دیکھا
تم اس کو چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ اب تم کیا چاہتی ہو؟
حارب نے سنجیدہ لہجہ میں سوال کیا.
بھائی میں فلحال لندن نہیں جانا چاہتی. ایک تو آپ لوگوں نے اتنی جلدی میں میری شادی کر دی ہے دوسرا اب مجھے خود سے اتنی دور بھی بھیج رہے ہیں یہ بھلا کیا بات ہوئی…..؟
آئمہ نے روٹھے لہجے، گیلی آنکھوں سے سوال کیا.
اچھا اگر تم نہیں چاہتی تو پھر ہم تمہیں باہر نہیں بھیج رہے اب خوش حارب نے مسکرا کر آئمہ کے سر پر ہاتھ رکھا. سچی…… بلکل سچی مچی، ابھی ابھی ولی کو داجی نے یہی کہا ہے کہ وہ پہلے خود لندن واپس جائے پھر وہاں سے تمہارے مکمل کاغذ بنوا کر تمہیں اپنے پاس بلوائے ایسے تو ہم نہیں جانے دیں گے. حارب کی تفصیل پر آئمہ کے ساتھ ساتھ سارہ نے بھی سکھ کا سانس لیا. اب کدھر چل پڑے…..؟ حارب کو باہر جاتا دیکھ کر سارہ پھپھو نے پوچھا اس کو بھی دیکھو ناااااا جس کو آپ لوگوں نے ناراض کیا ہے…… ؟؟؟ ہم نے _ سارہ پھپھو اور آئمہ نے ایک ساتھ کہا جس پر حارب مسکرا دیا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے.
