Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

دادی اماں ایک بات تو بتائیں آپ کے خیال سے محبت کیا ہے یا آپ یوں سمجھ لیں کہ میں آپ کی رائے محبت کے بارے میں لینا چاہ رہی ہوں.
آئمہ جو پھپھو سارہ کے لیے بہت اداس تھی بیا کی غیر موجودگی میں دادی سے پوچھنے لگی.
اچھا تو تم یہ چائے اس سوال کے لیے بنا کر لائی ہو مین سمجھی میرے لیے ہے.
دادی رقیہ نے مسکراتے ہوئے اپنی تسبیح تکیے کے نیچے رکھی.
آپ ہر وقت بیا کی دادی بنی رہتیں ہیں کچھ دیر میری نہیں بن سکتیں….؟
اتنا سیریس سوال کیا ہے اور آپ مذاق کر رہیں ہیں..؟
آئمہ نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا جس پر دادی نے پیار سے آئمہ کے سر پر ہاتھ پھیرا.
چلو جی ہم ابھی اسی وقت آئمہ کی دادی بن جاتے ہیں اب خوش…!!!
جی بلکل اور میرے سوال کا جواب….
آئمہ نے لاڈ سے دادی کی گود میں سر رکھ لیا.
ﺣﻀﺮﺕ ﺫﻭﺍﻟﻨﻮﻥ ﻣﺼﺮﯼ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ
ﺳُﺌِﻞَ ﻋَﻦِ ﺍﻟْﻤَﺤَﺒَّﺔ؟
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﻗَﺎﻝَ ﺍَﻥْ ﺗُﺤِﺐَّ ﻣَﺎﺍَﺣَﺐَّ ﺍﻟﻠّٰﻪ
ﺑﻨﺪﮦ ﮨﺮ ﺍﺱ ﺷﮯ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﮮ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ.
ﮔﻮﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺪﮮ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮨﮯ.
ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺴﯽ ﻋﻤﻞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮨﮯ.
ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﻨﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮨﮯ.
ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﻭَﺗَﺒْﻐَﺾَ ﻣَﺎ ﺍَﺑْﻐَﺾَ ﺍﻟﻠّٰﻪُ
ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﻐﺾ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮨﮯ.
ﭘﮭﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﻭَﺗَﻔْﻌَﻞَ ﺍﻟْﺨَﻴْﺮَ ﮐُﻠَّﻪ
ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺟﺲ ﺷﮯ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﻧﮯ ﺧﯿﺮ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺳﯽ ﺧﯿﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮨﮯ.
ﻭَﺗَﺮْﻓَﺾَ ﮐُﻞَّ ﻣَﺎ ﻳﺸْﻐَﻞُ ﻋَﻦِ ﺍﻟﻠّٰﻪ
ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ ﺍﺱ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﺭ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﮐﻮ ﺗﺮﮎ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮ.
ﮨﺮ ﺍﺱ ﺷﮯ ﮐﻮ ﺭﺩ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﻗﺮﺏ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﻮ.
ﺟﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﻮ، ﺍﺱ ﺷﮯ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ، ﯾﮧ ﻣﺠﻠﺲ، ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺘﯽ، ﯾﮧ ﺗﻌﻠﻖ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺩﻭﺭﮐﺮﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ.
ﭘﺲ ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻨﺪﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺮ ﻋﻤﻞ، ﻓﻌﻞ، ﭼﺎﮨﺖ، ﺧﻮﺍﮨﺶ، ﻃﻮﺭ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﻌﺎﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﺑﻨﺎﻟﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺮﮮ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﺮﺩﮮ
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﻠﻪ سے دور کر دے.
ہممممم……..
دادی یہ تو محبتِ الہی ہوئی ناااااا میرا سوال یہ ہے کہ اگر محبت کسی انسان سے ہو تو پھر….
آئمہ نے ہچکچاہتے ہوئے اپنا سوال پھر دہرایا.
اگر تم ایک لڑکا اور لڑکی کے مابین محبت کی بات کر رہی ہو تو ہمارے پیارے بنی کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ
دو محبت کرنے والوں کے درمیان نکاح سے اچھی اور کوئی چیز نہیں.
دادی آپ ابھی بھی میری بات نہیں سمجھیں…؟
آئمہ نے دادی کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا
میرے بچے تم کیا پوچھنا چاہ رہی ہو صاف صاف کیوں نہیں پوچھتی
دادی نے پیار سے آئمہ کے چہرے پر ہاتھ پھیرا.
میرا مطلب ہے کہ وہ “سارہ پھپھو”…..
آئمہ نے جیسے ہی یہ کہا دادی رقیہ کے تاثرات بدل گئے.
تم سے سارہ نے کچھ کہا ہے….؟
نہیں دادو انھوں نے کچھ نہیں کہا مگر مجھے ان کے لیے بہت دکھ ہوتا ہے.
بیٹا ہم نے تو بہت سمجھایا ہے تمہاری پھپھو کو کہ ماضی کو بھول کر اپنی زندگی شروع کرو مگر….
دادی نے اتنا کہہ کر ایک آہ بھری
اگر کوئی کنواں میں چھلانگ لگانا چاہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں….؟
ہم اسے دھکا دے سکتے ہیں تاکہ جلدی تماشا ختم ہو اور سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو سکیں.
بیا نے دادی کے کمرے میں پاؤں رکھتے ہوئے جملہ مکمل کیا.
تم کچھ دیر اور نہیں سو سکتی تھی….؟
آئمہ نے بیا کو دیکھ کر پوچھا
سو سکتی تھی اگر بجلی نہ بند ہوتی اور پنکھا کی طرف اشارہ کیا.
اوہ ہمیں تو باتوں میں اندازہ ہی نہیں ہوا کب بجلی بند ہو گئی.
آئمہ اور دادی دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا جس پر بیا نے خشمگین نظروں سے دونوں کو دیکھا.
🎀🎀🎀🎀
ولی کتنی دیر سے سر جھکائے اپنے ڈیڈ کی ٹوٹی پھوٹی گفتگو سن رہا تھا.
وعدہ کرو کہ میرے مرنے کے بعد بلکل ایسا ہی کرو گے جیسا میں نے کہا ہے.
ابراھیم نے اپنا لرزتا ہوا ہاتھ ولی کی طرف بڑھایا
ڈیڈ میں آپ کو اتنا کمینہ لگتا ہوں جتنے آپ تھے….؟
نہیں ناااااااااا……
تو پلیززز مجھ سے ایسی فرمائشیں مت کریں اور وصیت تو بلکل بھی نہیں.
یہ لندن ہے یہاں زندگی بہت مصروف ہے کسی پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ کسی دوسرے کے لیے کچھ کرے خاص طور پر مرے ہوئے انسان کے لیے…..
ولی نے اٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کر دیا.
تم میری پریشانی سمجھو پلیززززز…….
اپنی پریشانیوں کا ذکر مجھ سے مت کیجیے کیونکہ میں اس پر اپنا وقت ضائع کرنے کا خواہش مند نہیں اور کیوں نہیں…؟ وجہ آپ کو معلوم ہے.
ولی میرے بیٹے تم میرے ساتھ ایسا مت کرو پلیززززز
ابراھیم نے بےبسی سے ولی کو دیکھا جو اپنی نیلی آنکھوں سے باہر پڑتی برف کو دیکھ رہا تھا.
تم میرے بیٹے ہو مجھے صرف تمہی سے امید ہے.
ڈیانا جیسی عورت سے شادی کر کے آپ امید رکھتے ہیں کہ میں آپ کا اپنا بیٹا ہوں. ہنسی آتی آپ کی بےوقوف پر….
اور اگر فرض کرو واقعی ہی میں آپ کا بیٹا ہوں تو آپ نے اپنے باپ ساتھ کونسا اچھا سلوک کیا تھا جو اپنے بیٹے سے امید لگا رکھی ہے.
پیارے ڈیڈ یہ دنیا ہے مکافاتِ عمل جیسا کرو گے ویسا بھرو گے یاد رکھیں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے.
ولی میں نے اپنے کیے کی بہت سزا بھگتی ہے پہلے میں چاہتا تھا کہ اپنی زندگی کہ آخری دن پاکستان گزاروں مگر پھر سوچا میں اس قابل نہیں….
سیدھی طرح کیوں نہیں کہتے کہ وہ لوگ زندہ تو آپ کو بلکل قبول نہیں کریں گے جبکہ آپ کے جنازہ کو شاید جگہ مل جائے.
ولی اتنی سخت باتیں نہ کرو.
اگر آپ نے پاکستان جانا ہے تو ابھی چلیں وہ کیا ہے نا مجھے آپ کی اُن کے ہاتھوں عزت افزائی دیکھنے کا بہت شوق ہے.
بعد میں، میں تابوت کہیں نہیں لے کر جاؤں گا پتہ کتنا خرچا ہوتا ہے اور آپ کی وہ خوبصورت چڑیل مجھے پیسے دیتی نہیں بلکہ لیتی ہے.
اچھا پھر دوسری بات مان جاؤ. اپنے باپ کی آخری خوشی سمجھ کر…..
ایک بار پھر ابراھیم نے پُر امید نظروں سے ولی کو دیکھا.
سوری مجھے تو آپ معاف ہی رکھیں یہ کہاں کا اصول ہے کہ کریں آپ اور بھروں میں…..
ولی…..!!!
ڈیڈ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ دوا لیں تاکہ میں آپ کو بستر پر لٹا کر باہر جا سکوں مجھے بہت کام ہوتے ہیں اور آپ مجھے بار بار کال کرکے گھر بلاتے ہیں مجھے بہت الجھن ہوتی ہے.
ولی نے کہتے ساتھ ہی سائیڈ ٹیبل سے دوا اٹھا کر ابراھیم کے ہاتھ پر رکھی اور خود گلاس میں پانی بھرنے لگا.
🎀🎀🎀🎀
حارب چلو تمہاری پیشی ہے داجی کے کمرے میں….!!!
بیا نے روم کے دروازے کے درمیان کھڑے ہو کر باآوازِ بلند کہا
میں بہرہ نہیں ہوں مجھے سنائی دیتا ہے اس لیے آہستہ بولو بلکہ تمیز سے بات کرو.
تمیززززز تو ابھی تم ساری بھول جاؤ گے زرا داجی کے کمرے میں تشریف تو لاؤ.
بیا کی تپا دینے والی مسکراہٹ حارب کو گڑ بڑ ہونے کا عندیہ دے رہی تھی.
تم چلو میں آتا ہوں. حارب نے خود کو نارمل کرتے ہوئے کہا
ویسے اگر تم میرے ساتھ ہی جاتے تو اچھا تھا آگے تمہاری مرضی….
بیا شانے اچکاتی جانے لگی.
سنو ویسے کیا بات ہے خیریت ہے نااااا….
حارب نے تجسسس کے مارے بیا سے پوچھا
ہاں ویسے تو سب خیریت ہی ہے مگر تمہارے لیے نہیں…..
کیوں بھئی میں نے کیا کیا ہے…؟
تم نے میرا ساتھ نہیں دیا یہ کیا کسی سے کم ہے.
اوہو تو یوں کہو ناااا کہ تمہاری شامت ہے.
حارب نے قمیض کے کف فولڈ کرتے ہوئے طنز کیا
شامت اور میری….!!!
بیا نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا جیسے تصدیق چاہ رہی ہو.
اتنی دیر میں کرن بیگم نے دونوں کو آواز دی کہ باتیں بعد میں کر لینا پہلے داجی کی بات سنو وہ بلا رہے ہیں.
حارب اور بیا نے آگے پیچھے داجی کے کمرے میں قدم رکھا جہاں گھر کے سارے افراد موجود تھے.
داجی کی چارپائی پر داجی کے ساتھ بڑے بیٹے خرم جبکہ دادی کی چارپائی پر پھپھو سارہ کے ساتھ آئمہ بیٹھیں ہوئیں تھیں.
ثنا، کرن بیگم اور فرخ کرسیوں پر تھے. کمرے میں بلا کی خاموشی تھی.
حارب اور بیا کو موڑھے پر بیٹھنے کا داجی نے اشارہ کیا.
کچھ دیر خاموشی رہی پھر داجی نے اس خاموشی کو توڑا.
صرف خرم کی نہیں بلکہ ہم سب کی ہی یہ خواہش تھی کہ تم سی ایس ایس کرو اور بیا ڈاکٹر بنے مگر…..
مگر کیا….؟
حارب نے ناسمجھی سے داجی کو دیکھا
مگر یہ کہ تم نے سارا پلان ہی خراب کر دیا خود تو سی ایس ایس کر رہے ہو اور بیا….
کیا بیا…..؟
حارب نے پہلے داجی اور پھر بیا کی طرف دیکھا جو سر پر ڈوپٹہ لیے بلا کی معصوم لگ رہی تھی.
“معصوم چڑیل” حارب نے دل میں اس کی طرف دیکھ کر کوسا.
حارب بری بات ہے داجی کی بات مت کاٹو پہلے پوری بات سنو پھر تمہاری بات بھی ہم سب سنتے ہیں.
ثنا بیگم نے حارب کو ٹوکا جس پر حارب نے نہ چاہتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کر لی.
بیا بچے نے تو ہمیں سب کچھ سچ سچ بتا دیا ہے اس لیے ہم سب گھر والے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں.
کیا بتایا ہے بیا نے زرا میں بھی تو سنو……؟
حارب نے بیا کی طرف خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
بہت بےشرم ہے تمہارا بیٹا اور میرا پوتا…..
داجی نے فرخ کی طرف دیکھ کر کہا
بیا کیا بکواس کی ہے تم نے بولو، حارب نے اب براہ راست بیا سے پوچھا
وہی جو تم نے اس دن کہا تھا.
کیا کہا تھا….؟
حارب نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا
ویسے تو مجھے سب کے سامنے کہتے ہوئے شرم آ رہی ہے مگر مجبوری ہے آپ سب کو پتہ ہے حارب خود تو کچھ کہے گا نہیں اس لیے اس نے مجھے ہی بولا ہے کہ میں سب کو بتا دوں.
بیا نے کہتے ساتھ ہی پہلے حارب کو دیکھا اور پھر سامنے بیٹھے لوگوں کی طرف….
جبکہ پھپھو سارہ، آئمہ اور دادی اماں مسکرا رہیں تھیں. حارب کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ہو کیا رہا ہے.
حارب چاہتا ہے کہ میں ڈاکٹر نہ بنو کیونکہ…..
🎀🎀🎀🎀