Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

ولی کہاں سے آ رہے ہو….؟
میرے خیال سے آپ کا سوال مکمل طور پر غلط ہے. درست سوال یہ ہے کہ ” ولی تم کہاں جا رہے ہو…؟”
ولی نے ڈیانا کی طرف طنزیا مسکراہٹ اچھالی.
سیدھی طرح بکواس کرو کہ کہاں جا رہے ہو…؟
جہنم میں…..
ولی کہتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ ڈیانا غصے سے پیر پٹختی ابراھیم کے کمرے میں جا گھسی.
تم اور تمہارا بیٹا میری طرف سے جہنم میں جاؤ یا پاکستان مجھے کوئی غرض نہیں.
مگر جانے سے پہلے مجھے ڈیووس دے کر میری رقم مجھے دیتے جانا.
ابراھیم نے بے بسی سے ڈیانا کی طرف دیکھا.
کچھ تو رحم کرو میں کہاں سے دوں تمہیں رقم….؟
میں جانتی ہوں تمہارے بیٹے پاس بہت مال ہے اس کے تعلقات بہت بڑے بڑے لوگوں سے ہیں.
ڈیانا کا اشارہ کیٹ اور ڈیوڈ کی طرف تھا.
وہ مجھے پیسے نہیں دیتا. ابراھیم نے ٹوٹی پھوٹی زبان میں جواب دیا.
وہ تمہیں پیسے دے گا بلکہ تم مجھے اس سے پیسے لے کر دو گے ورنہ میں تمہیں جان سے مار دوں گی.
ڈیانا نے کہتے ساتھ ہی ابراھیم کا گلا زور سے دبا یہاں تک کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور وہ بری طرح کھانسنے لگا.
میری دھمکی کو سیریس لینا تو تمہارے حق میں بہتر ہو گا.
ولی اپنے گھر سے نکل کر سیدھا ڈیوڈ کی طرف چل پڑا. وہ اپنی دھن میں اتنا مگن تھا کہ کب وہ پھولوں والی لڑکی اُس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی پتہ ہی نہیں چلا.
آج آپ بہت جلدی میں ہیں پھول نہیں لیں گے…؟
جیسے ہی اُس ننھی لڑکی نے ولی کو پکارا ولی کے قدم وہیں جم گئے.
وہ معصومیت سے پھولوں بھری باسکٹ ولی کے آگے کیے کھڑی تھی.
ُاُس پر نظر پڑتے ہی ولی کے تاثرات ایکدم تبدیل ہو گئے.
کیسی ہو.؟
ٹھیک ہوں.
اتنے دنوں سے تم کہاں تھی..؟
ولی نے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
وہ میں بیمار تھی اس لیے پھول نہیں توڑ سکی. اس نے منہ بناتے ہوئے بتایا.
اچھا، اب تمہاری کیسی طبیعت ہے…؟
ولی نے اُس کا ماتھا چُھوتے ہوئے پوچھا
ابھی تو بہتر ہے اور اگر آپ ہمیشہ کی طرح یہ سارے پھول خرید لیں گے تو میں بلکل ٹھیک ہو جاؤں گی.
کافی تیز ہو مگر ہو بہت پیاری…….
ولی نے وائلٹ سے پیسے نکالتے ہوئے کومنٹ پاس کیے.
آپ بھی پیارے ہیں مگر میرے جتنے نہیں….
اُس نے مسکراتے ہوئے پیسے پکڑے.
اگر تمہیں کسی نے نہیں بتایا تو آج میری بات غور سے سنو تمہاری مسکراہٹ خطرناک حد تک خوبصورت ہے.
ولی نے پھول ہاتھ میں لیتے ہوئے اسے کہا
اگر آپ کو کسی نے نہیں بتایا تو آج میری بات غور سے سنیں کہ آپ خطر ناک حد تک چالاک ہیں.
لڑکی کی حاضر دماغی پر ولی نے قہقہ لگایا.
🎀🎀🎀🎀
بیا نے اپنی بات ادھوری چھوڑ کر پہلے حارب پھر باقیوں کی طرف دیکھا.
بکواس زرا جلدی جلدی کرو مجھے الجھن ہو رہی ہے.
حارب نے آہستہ سے سرگوشی کی.
بیا بات مکمل کرو بیٹا کیا سوچ رہی ہو….؟
پھپھو سارہ نے پیار سے بیا کو مخاطب کیا.
حارب چاہتا ہے کہ…..
مگر اُس سے پہلے میں آپ لوگوں سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں.
بیا کیا تماشا ہے جو بات بھی ہے سیدھی طرح کرو یہ کیا پہیلیاں بوجھوا رہی ہو.
کرن بیگم جو کافی دیر سے تماشا دیکھ رہیں تھیں بیٹی کی حرکت پر تپ گئیں.
داجی دیکھیں امی جان مجھے بات نہیں کرنے دے رہیں، .
بڑی بہو آپ چپ رہیں اور بیا کی بات غور سے سنیں.
ہم سب کو حارب کے لیے ایک نہایت خوبصورت لڑکی جس کی زبان زیادہ لمبی نہ ہو،
پیاری،
دانشور،
سادہ لوح،
جھیل جیسی آنکھوں والی،
ناگن زلفوں والی،
ہرنی کی چال والی،
عمدہ نسب والی،
خوش مزاج،
خوش طبع،
چلتی ہوا سی ہو،
اڑتی پتنگ سی ہو،
گالیاں دے تو پھول لگے،
طعنے دے تو مشورے،
جس کی باتوں سے خوشبو آئے،
بولے تو چابی والی گڑیا،
خاموش ہو تو گہرا ٹھنڈا سمندر اپنا کراچی والا……
بیا نے ہاتھ کے اشارے سے اپنا آخری جملہ پورا کیا.
ہاں یہ تو ہے مجھے اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے ایسی ہی لڑکی چاہیے. تو پھر…؟
ثنا بیگم نے بیا کی بات پوری ہوتے ہی پوچھا
پھر یہ کہ آپ کے بلکہ اس خاندان کے اکلوتے چشموں چراغ نے اپنی لیے وہ لڑکی ڈھونڈ لی ہے.
کیونکہ یہ تو ازل کے شرمیلے ہیں اس لیے میرے ذمے ڈیوٹی لگی ہے کہ میں ان کا پیغام آپ تک پہنچا دوں.
بیا کی بچی ، جھوٹی….
حارب کا مارے غصہ سے برا حال تھا.
حارب چپ کر کے بیٹھ جاؤ ابھی اس کی بات مکمل نہیں ہوئی.
داجی نے حارب کو کھڑے ہوتا دیکھ کر حکم دیا.
ابھی میری بات پوری نہیں ہوئی جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہیں کہ حارب صاحب سی ایس ایس کر رہے ہیں اور ان کی “حالت” میرا مطلب ہے “محنت” دیکھ کر لگتا ہے کر ہی لیں گے تو…..
تو…؟
پہلی بار چچا فرخ نے گفتگو میں حصہ لیا.
تو انھیں پڑھی لکھی لڑکی بلکل پسند نہیں اس لیے اس لڑکی نے ایف ایس سی کے بعد مزید پڑھنے سے صرف حارب کے کہنے پر انکار کر دیا ہے.
اور رہی بات کہ وہ لڑکی کون ہے تو اگر آپ لوگ اپنی آنکھوں کی سیدھ میں دیکھیں تو یقیناً وہ آپ کو حارب ساتھ نظر آ جائے گی.
اس طرح اُسے بھی گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جانا پڑے گا اور آپ لوگوں کی اکلوتی اولادیں بھی آپ لوگوں کی نظروں کے سامنے رہیں گئیں.
مجھے تو حارب کی تجویز پسند آئی ہے باقی آپ لوگ دیکھ لیں.آخر کو بزرگ تو آپ ہی ہیں.
ماشاءاللہ شکریہ تمہارا کہ ابھی تک “بزرگ” تم ہمیں ہی سمجھتی ہو بڑا پن ہے تمہارا…….
باقی میں ساری زندگی سوچتا رہا کہ یہ جو لوگ کہتے ہیں ہماری اولاد، اولاد نہیں ہمارے “ماں باپ” لگتے ہیں تو ایسی اولاد کیسی ہوتی ہوں گی…..؟
شکر ہے مرنے سے پہلے ہی مجھے اللہ نے دیکھا دی بلکل تمہارے بچوں جیسی ہوتیں ہوں گی.
داجی نے اپنی چارپائی پر بیٹھے خرم بیٹے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا
ہمیں یہ رشتہ منظور ہے مجھے تو بچپن سے ہی بیا بہت پسند ہے باہر سے جو لڑکی آئے گی پتہ نہیں کیسی ہو گی….؟
یہ تو ہماری اپنی بیٹی ہے ہمارے ہاتھوں میں پلی ہے اور کیا چاہیے.
ثنا بیگم اور چچا فرخ کی خوشی دیدنی تھی.
ہاں بھابی یہ تو ہے گھر کی بیٹی گھر میں ہی رہ جائے گی. ہمارے گھر کی رونق ہے مجھے تو یہ سوچتے ہوئے ہی ہول پڑتے تھے کہ بیا کو رخصت کرنا ہے.
سارہ پھپھو نے بھی حمایت کی.
ٹھیک ہے اگر بچے خوش ہیں تو ہم کون ہوتے ہیں منع کرنے والے، حارب تو بیٹا ہے اپنا، مجھے حارب جیسا داماد مل ہی نہیں سکتا چاہے میں چراغ لے کر ڈھونڈو.
کرن بیگم نے بھی خوشی خوشی اپنی رضامندی دے دی.
تھوری سی دیر میں کمرے میں ہنگامہ برپا ہو گیا سب ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے بیا کو گلے لگانے لگے.
اس سے پہلے حارب کچھ کہتا داجی اور تایا خرم نے حارب کی طرف اپنی بانہیں کھول دیں.
بیٹا ہمیں تمہارا فیصلہ منظور ہے جب تم خوش تو پھر ہم خوش….
ویسے تم بہت تیز نکلے یہ فیصلہ ہم نے کرنا تھا پر چلو کوئی بات نہیں….
داجی کے بعد تایا خرم نے حارب کو پیار کیا.
مگر….
حارب بیچارا کاٹو تو لہو نہیں کی مصادق ہنوز سب کو دیکھ رہا تھا.
جبکہ بیا چچا فرغ اور چچی ثنا کے درمیان بڑے مزے سے پیسوں پر بحث کر رہی تھی.
بیٹا ابھی میری جیب میں یہی ہزار کا نوٹ ہے یہ تم رکھوں ہماری طرف سے رسم ہے کہ آج سے تم ہماری ہو باقی صبح لے لینا.
نہیں آپ ابھی اور اسی وقت مجھے 5 ہزار دیں ورنہ میں نہ کر دوں گی.
ثنا بیگم آپ کمرے سے جا کر پیسے لائیں اور میری بیٹی کو دیں جتنے اسے چاہیے ہیں.
چچا فرخ نے بیا کو ناراض ہوتے دیکھا تو فوراً ثنا بیگم سے کہا
چلو اس خوشی میں آئمہ بیٹا چائے ساتھ کچھ لے کر آؤ.
داجی کی فرمائش پر آئمہ نے جوشی خوشی بیا کو بلایا.
چل یار چائے بنا کر لاتے ہیں.
میں کیوں بناؤں…؟
تم بناؤ نااااا میری تو ابھی تازہ تازہ منگنی ہوئی ہے میں چائے بناتی اچھی لگوں گی.
بیا کی بچی، کام چور….
آئمہ کہتی ہوئی کچن میں چلی گئی جبکہ بیا نے حارب کے کان میں سرگوشی کی.
“‏ہمیں تو حُکمِ محبت تھا ہم نے کرنی تھی!
ہمارے ساتھ مروت میں تم بھی مارے گئے.”
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے.