Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

تم یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو……؟
چارہ کھا رہی ہوں _ کتابیں پڑھ پڑھ کر تمہاری نظر بہت کمزور ہو گئی ہے ورنہ یہ سوال نہ کرتے. بیا جو منہ پھلائے بھینس کی “کھرلی” کی دیوار پر بیٹھی تھی ناراض لہجے میں گویا ہوئی. اگر تم نے چارہ کھا لیا تو بیچاری بھینس کیا کھائے گی….؟ بے فکر رہو ہماری بھینس اتنی بد ذوق نہیں کہ تمہیں کھائے. بیا کے جواب پر حارب نے اپنی ہنسی کنٹرول کی.
تم ناراض بلکل بھی اچھی نہیں لگتی ہو اس لیے چلو اندر اور ہمارا “سر کھاؤ” کیونکہ ہمیں اس کی عادت ہوگئی ہے.
فلحال تو تم میرا دماغ مت کھاؤ اور اپنا راستہ لو ویسے بھی تم جب میری فکر کرتے ہو تو مجھے کافی عجیب سے لگتے ہو. تمہیں اور میری پرواہ
یہ دو عجیب الفاظ ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ دونوں متضاد الفاظ ہیں.
خیر اب ایسی بھی کوئی بات نہیں _ مجھے تمہاری پرواہ ہے مگر تمہاری طرح نہیں…….. سچی مچی تمہیں میری پرواہ ہے…….!!! بیا نے شرارت بھری مسکراہٹ سے حارب کی طرف دیکھا مجھے اس طرح مسکرا کے نہ دیکھا کرو قسم سے میں سب بھول جاتا ہوں تم مجھے بہت کنفیوز کر دیتی ہو. حارث نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا جس پر بیا نے ایک زور دار قہقہہ لگایا. پتہ تم اتنی “شرارتی” ہو کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ تم “لڑکی” ہو اگر “لڑکا” ہوتی ناااا تو…….!!! میں لڑکا ہوتی تو کیا ہوتا یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن اگر تم لڑکی ہوتی تو “شرما شرما” کے کھرلی کا سارا چارہ کھا جاتی. بیا اب دوبارہ اپنی حالت میں واپس آ چکی تھی اور باقاعدہ قہقے لگا رہی تھی.
تم دونوں یہاں اندھیرے میں کیا کر رہے ہو. ولی نے دونوں کی طرف تفتیشی نظروں سے دیکھا جو ابھی ابھی بھینسوں کے واڑے (علاقے) میں داخل ہوا تھا.
چارہ کھا رہے ہیں آپ بھی کھانا نا پسند کریں گے….. ؟
بیا کی بات پہ حارب نے اسے گھور کر دیکھا جبکہ ولی ہلکا سا مسکرایا
کھل کے مسکرائیں
مسکرانے پر ہمارے ملک میں “ٹیکس” نہیں لگتا اور اگر لگتا بھی ہو تو ہم نےکون سا ہم دے دینا ہے. ٹیکس ادا کرنا چاہیے یہ تو ہمارا فرض ہے بلکہ یہ تو ہر اچھے شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنی حکومت کو پوری ایمانداری سے ٹیکس ادا کرے. ولی نے حارب کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے بیا کو جواب دیا ہے. سنا تم نے مسٹر حارب…!!! ولی کتنا امانت دار شہری ہے تمہیں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کچھ سیکھو اس سے…….. میں نے سنا ہے کہ آپ اپنی نئی نویلی بیگم صاحبہ کو بھی ساتھ لے کر جا رہے ہیں کیا یہ خبر درست ہے. بیا نے ولی کی طرف دیکھ کر سوال کیا۔ ہاں یہ خبر درست ہے کہ میں اسے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں مگر آپ کے دا جی نے منع کردیا ہے. یہ تو “بریکنگ نیوز” ہوئی مگر کیوں……؟بیا نے حیرت سے پوچھا یہ تو کافی لمبی تفصیل ہے آپ حارب سے ہی پوچھ لیں بس اب میں واپس جانے کی تیاری کرنے لگا ہوں. یہ تو آپ نے بالکل ٹھیک فیصلہ کیا ہے. میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ اتنے دن ہوگئے آپ کو آئے ہوئے اور آپ ہیں کہ جانے کا نام ہی نہیں لے رہے انگریزوں کی یہی تو عادت ہے جب کسی علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو پھر خود نہیں نکلتے بلکہ نکالے جاتے ہیں.
بیا شرم کرو یہ کیا کہہ رہی ہو…… حارب نے ڈانٹا
مت کچھ کہو صحیح تو کہہ رہی ہے میں ایک دو دن کے لئے آیا تھا اور اب دیکھو پورے بیس دن ہو گئے ہیں. آپ اس کی باتوں کو اتنا سیریس نہ لیا کریں یہ تو ہر وقت اسی طرح بولتی رہتی ہے. حارب نے بیا کی طرف سے صفائی دی. جس پر ایک دفعہ پھر بیا منہ پھیلاتی وہاں سے اندر کی طرف بڑھ گئی. چلو اب تم اسے جا کر مناؤ اور میں ایک ضروری کال کر لوں. بیا اور حارب کے جاتے ہی ولی نے جیب سے موبائل نکالا اور جس نمبر سے پیٹر کی کال آتی تھی اس نمبر پر میسج کیا کہ میں پرسوں صبح پانچ بجے کی فلائٹ سے لندن پہنچ رہا ہوں تم مجھے رسیو کر لینا. ولی اس چیز سے بے خبر تھا. کہ اُس کا یہ ایک میسج اُس کی اپنی جان کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہونے والا تھا. 🎀🎀🎀🎀 کچھ “کہانیاں” صرف دل میں قید کرنے کے لیے ہوتی ہیں اور جانتی ہو وہ “کہانیاں” کسی کو نہ سنائی اور نہ کاغذ پر لکھیں جا سکتی ہیں وہ “کہانیاں” خود سے خود تک ہوتی ہیں اور
ہماری زندگی کے ساتھ ہی جاتی ہیں
میری اور ابراہیم کی” کہانی” ایسی ہی تھی. مگر مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم دونوں کی “کہانی” ایسی بالکل بھی نہیں ہوگی میں تم دونوں کو بہت خوش دیکھنا چاہتی ہوں ۔ ولی کو رخصت کرتے ہوئے سارہ نے یہ الفاظ ادا کیے۔ مجھے بہت افسوس ہے اور دکھ بھی کہ آپ کی کہانی _ ولی اور کچھ کہنا چاہتا تھا مگر بیا نے ٹوک دیا. مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جانے والے کو اتنی دکھی اور اداس باتوں کے ساتھ کیوں رخصت کیا جاتا ہے کیا ہم ہنسی خوشی اسے رخصت نہیں کرسکتے کیا جاتے وقت رونا دھونا ضروری ہوتا ہے کیا اداس ہونا ضروری ہوتا ہے……. ؟
میرے سے تو ولی تم بالکل ایسی امید مت رکھنا ہاں آئمہ سے ضرور رکھنا کیونکہ اسے تو رونے کا “بہانہ” چاہیے اور آپ سے بڑھ کر اب اور “بہانہ” کیا ہوگا.
بیا کی بات پر آئمہ نے اسے کہنی ماری جو اس کے بالکل برابر میں کھڑی تھیں جبکہ ولی نے ایک نظر آئمہ کو دیکھا.
میں بالکل بھی اداس اور پریشان نہیں ہوں آپ آرام سے جائیں میں یہ خوشی خوشی کہہ رہی ہوں آئمہ نے مسکراتے ہوئے ولی سے کہا
پھر باری باری سب مرد حضرات ولی سے بغل گیر ہوئےجبکہ دادو، ثنا، کرن بیگم اور سارہ پھپھو نے سر پر ہاتھ پھیرا اور ڈھیروں دعائیں دیں.
مجھے آپ لوگوں کا خلوص، محبت اور پیار ہمیشہ یاد رہے گا انشاءاللہ جلد ملاقات ہوگی اور ہاں اس دفعہ تو میں اکیلا جا رہا ہوں لیکن اگلی بار آئمہ کو ساتھ لے کر جاؤں گا. ولی نے کہتے ہوئے ایک نظر آئمہ کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں “حیا” کا رنگ نمایاں تھا.
🎀🎀🎀🎀
تم لوگ اپنی تیاری رکھو ولی دو دن بعد صبح پانچ بجے کی سیٹ سے لندن ایئر پورٹ پر اتر رہا ہے اس کے بعد اسے سیدھا زمین میں اتار دیا جائے گا.
وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ سب کیسے ہوگا
مطلب ہر طرف سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں پسٹل اور خنجر سے مارا تو ہم پکڑے جائیں گے. تمہارا کیا خیال ہے میں نے ایک “ناکارہ پلان” بنایا ہوگا میں نے اس پروجیکٹ پر بہت کا کام کیا ہے ولی ایئرپورٹ سے نکلتے ہی سیدھا پیٹر کے فلیٹ کی طرف جائے گا اور راستے میں وہ جو اینٹوں کا بھٹہ ہے نااااا کیا سمجھیں سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی. اس کے بعد سب کے مکرو قہقے پیٹر کے کانوں میں گونجے. پیٹر اُن لوگوں کی شکلیں تو نہیں دیکھ سکتا تھا مگر اُن کی باتیں سن رہا تھا اور دل ہی دل میں ولی کی زندگی کی دعائیں مانگ رہا تھا پتہ نہیں صبح پانچ بجے کیا ہوگا…….. ؟ 🎀🎀🎀🎀 معمول کے عین مطابق جے نے ناشتہ بنا کر کیٹ کے ڈائینگ ٹیبل پر رکھا اور خود اُسے بلانے کے لئے اُس کے کمرے کی طرف بڑھی جب کسی نے باہر کے دروازے پر دستک دی ۔ ارے آپ آگے واپس کتنے دن سے میں آپ کا انتظار کر رہی تھی کہاں تھے آپ پتہ کتنا مس کیا میں نے آپ کو جے نے ولی کو دیکھتے ہی شور مچادیا، شور کی آواز سن کرکیٹ اپنے کمرے سے باہر آ گئی.
تم اس طرح اچانک
ابھی کل تک تو تم پاکستان میں تھے. کل نہیں برسوں میں “پاکستان” میں تھا. لگتا ہے تمہیں مجھے یہاں دیکھ کر کچھ زیادہ خوشی نہیں ہوئی مگر اس کے برعکس مجھے تم “دونوں” کو ایک جگہ دیکھ کر پتہ نہیں کیوں خوشی ہو رہی ہے. ولی جے کے پاس سے گزرتا ہوا لاؤنچ میں رکھے صوفے پر بیٹھ گیا اور جو ناشتا جے نے کیٹ کے لیے تیار کیا تھا وہ کرنے لگا.
اس طرح کیوں دیکھ رہی ہوں…..؟؟ مجھے بہت بھوک لگی ہوئی ہے بہت سارے ادھورے کام بھی مکمل کرنے ہیں وقت کم اور مقابلہ سخت ہے.
ولی نے سینڈوچ کھاتے ہوئے ایک نظر کیٹ پر ڈالی جو اسے بغور دیکھ رہی تھی۔
کیا پاکستان میں کسی نے کھانے کے لئے کچھ نہیں دیا یا یہاں کے کھانے کا ذائقہ وہاں نہیں ملا.
تمہارے سب سوالوں کے جوابات تمہیں تفصیل سے ملیں گے
مگر ابھی میں جلدی میں ہوں۔ ولی نے ناشتے سے فارغ ہوکر اپنے ہاتھ صاف کیے. تم کب مصروف نہیں ہوتے تم ہر وقت مصروف ہوتے ہو جاگتے میں سوتے میں کھاتے میں پیتے میں پاکستان میں لندن میں. مجھے تمہاری کسی بات پر بھی “غصہ” نہیں آرہا اس لیے تم اپنی انرجی ضائع مت کرو اور میرا راستہ چھوڑو. ہم کل شام میں ملتے ہیں “پیٹر” کے ساتھ وہی کیفے وہی ٹیبل وہی دھواں نکالتے کافی کے کپ ولی کہتا ہوا کیٹ کےپاس سے گزر گیا مگر پھر کسی خیال کے تحت پلٹا اور ہاں پھولوں والی لڑکی میں نے بہت مس کیا تمہارے پھولوں کو اور تمہیں بھی . مجھے ولی ٹھیک نہیں لگ رہا اس طرح تو یہ بات نہیں کرتا اسے کیا ہوا ہے چھوڑیں نا جو بھی ہوا ہے آپ اندر چلیں _ میں دوبارہ اپنے اور آپ کے لیے سینڈ وچ بنا کر لاتی ہوں.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے