Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

ولی Waiting area میں بیٹھا ادھر ادھر آنے جانے والے لوگوں کو انتہائی بے زاری سے دیکھ رہا تھا سفید کشادہ پیشانی پر کالے سیاہ بالوں کی چند لٹیں رقص کر رہی تھیں آنکھوں میں لال ڈورے واضح تھے اور چہرے پر تھکاوٹ……
ان سب کے باوجود وہ بلیک سوٹ میں انتہائی خوبصورت اور پرکشش دکھائی دے رہا تھا۔
یہ میرا کارڈ ہے میں آج رات بالکل فری ہوں کیا آپ میرے ساتھ اپنا وقت گزارنا پسند کریں گے؟
ولی نے نظر اٹھا کر دیکھا تو ایک انتہائی نازیبا لباس میں ملبوس لڑکی اس کی طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی.
لڑکی کی آفر نے ولی کا مزید موڈ خراب کر دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ابھی اس کا اور کتنا موڈ خراب ہوگا اس سے پہلے کے ولی کچھ کہتا کاؤنٹر پر موجود لڑکی نے ولی کو مخاطب کیا
آپ کو سر ڈیوڈ اندر بلا رہے ہیں. ولی نے کارڈ پکڑ کر اس لڑکی کے منہ پر مارا اور انتہائی ناگواری سے قدم اٹھاتا آفس کی طرف بڑھ گیا.
کمرے میں انتہائی خاموشی تھی ولی نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا کمرے میں موجود تین لوگوں نے نظر اٹھا کر بیک وقت ولی کی طرف دیکھا
ولی تینوں کو اگنور کرتا کھڑکی کی طرف بڑھ گیا جہاں ایک شخص باہر کا منظر بہت غور سے دیکھ رہا تھا ولی بھی اس شخص سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا ہو کر باہر دیکھنے لگا جیسے وہ یہاں یہی کرنے آیا ہو.
دونوں کے درمیان کچھ دیر خاموشی چھائی رہی.
اگر آپ نے کچھ نہیں کہنا تو میں جاؤ…!
آج کل کیا کرتے پھر رہے ہو ؟
کیا کرتا پھر رہا ہوں ؟
ولی نے جواب دینے کی بجائے سوال کیا.
ولی…….
ایک انتہائی زوردار آواز کمرے میں گونجی اور ساتھ ہی تینوں لوگ جو ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہو گے جبکہ ولی اسی بیزاری سے باہر کا منظر دیکھ رہا تھا جیسے اس کا نہیں کسی اور کا نام پکارا ہو……
تم کل Marry کے گھر میں کیا کر رہے تھے…. ؟
میں نے منع کیا تھا اس کیس سے دور رہو اثر نہیں ہوتا تمہیں….
میں کل Marry کے گھر میں نہیں تھا میں Royal Club میں تھا آپ چاہیں تو پوچھ لیں…. ؟
اب کی بار ولی نے ڈیوڈ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا.
جھوٹ مت بولو ولی میرے پاس ثبوت ہے.
جب آپ کو میری بات پر یقین ہی نہیں ہے تو پھر مجھے بلانے کا مقصد……
ولی کندھے اچکاتا باہر کی طرف چل پڑا .
اپنی ماں کی خبر بھی لے لیا کرو فون آیا تھا اس کا، ڈیوڈ کی بات پر ولی رکا لیکن مڑا نہیں.
کتنے کتنے دن گزر جاتے ہیں اور تم گھر نہیں جاتے گھر بھی جایا کرو تمہارے ماں باپ ہیں وہاں پر….
اور کچھ یا میں جاؤں ولی نے کان پر خارش کرتے ہوئے پوچھا
نہیں کچھ نہیں مگر ولی میں تمہیں ہر بار پولیس سے بچا نہیں سکتا بہتر ہوگا Marry کیس سے دور رہو جتنا دور رہ سکتے ہو اور ماں کی بھی خبر لیتے رہا کرو ہر بار تمہیں یاد دلانا مجھے اچھا نہیں لگتا.
ڈیوڈ کے خاموش ہوتے ہی ولی نے پوری قوت سے آفس کا دروازہ مارا اور خود تیز تیز قدموں سے باہر چلا گیا.
ہمیشہ ہی ولی کا موڈ ایسی باتوں سے خراب ہو جاتا تھا آج بھی ایسے ہی ہوا وہ پارکنگ سے باہر نکلا اور سڑک پر چل پڑا مگر جیسے ہی اس کی نظر اس معصوم گڑیا پر پڑی وہ مسکرانے لگا
آج پھر یہ پھول میرے لئے لائی ہو یا کسی اور کے لئے ولی نے جان بوجھ کر کے سوال پوچھا
یہ Tulips کے پیارے پیارے پھول میں آپ ہی کے لئے لائی ہوں آپ پلیز جلدی سے خرید لیں ناااا میں نے بہت سی چیزیں لینی ہیں…؟
بلیک فراک پہنے سر پر سفید پھولوں والی ہیٹ پاؤں میں لونگ شوز ہاتھ میں باسکٹ……. ولی کو ہمیشہ ہی وہ کسی پرستان کی پری لگتی یہ آسمانوں کا ننھا فرشتہ…..
ولی اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
پچاس ڈالر نکال کے ولی نے اس ننھی گڑیا کو دیے اور اس سے پھولوں والی باسکٹ لے لی اب خوش…!!!
ولی کے ہاتھوں سے پیسے لیتے ہوئے اس نے کہا بہت بہت شکریہ میں بہت خوش ہوں اس نے ایک ادا سے اپنا سر ہلا تو اس کے گولڈن بال ہوا میں لہرانے لگے
ویسے یہ جو تمہاری سمائل ہے نااا یہ Hundred million dollars کی ہے مگر میرے پاس فلحال اتنے پیسے نہیں ہیں اس لیے انہیں پر گزارا کرو ولی کہتا ہوا کھڑا ہوگیا اور پھولوں کو لے کر Marry کی قبر کی طرف چل پڑا.
🎀🎀🎀
صحن میں اس وقت سب ہی دادا جان، دادو، پھپھو سارہ، کرن تائی، خرم تایا اور ماما پاپا موجود ہیں اور آپ کو یاد کیا جا رہا ہے آئمہ نے بیا کے کمرے کے دروازے میں کھڑے ہو کر بآواز بلند اطلاع دی.
آئمہ کبھی تو اچھی خبر سنایا کر، بیا جو مزے سے نیٹ پر موٹوپتلو کارٹون دیکھ رہی تھی آئمہ کی طلبی پر خاصہ بدمزہ ہوئی.
ویسے ایک بات بتا وہ جو تیرا ڈرپوک سا ایک بھائی ہے وہ بھی باہر موجود ہے بیا نے چلتے ہوئے آہستہ آواز میں پوچھا
پہلی بات یہ کہ میرا بھائی ڈرپوک نہیں ہے بلکہ شیر ہے شیر اور دوسری بات یہ کہ وہ فی الحال باہر نہیں ہیں.
آئمہ کچھ تو خدا کا خوف کر آگے ہی شیروں کی نسل ناپید ہوتی جا رہی ہے اور اگر انہیں یہ پتا چل گیا کہ حارب جیسے انسان کو ہم شیر کہتے ہیں تو انہوں نے خود کشی کر لینی ہے جس سے ان کی نسل ختم ہو جائے گی سارا الزام تیرے سر آئے گا بیا نے یہ کہتے ہوئے قہقہ لگایا جبکہ آئمہ منہ بناتی ہوئی اس کے ساتھ صحن کی طرف چل پڑی.
آؤ میری شہزادی بیٹی میرے پاس آ کر بیٹھو پھوپھو سارہ نے چارپائی پر اپنے پاس بیا کے لئے جگہ بناتے ہوئے کہا
جب کہ دوسری چارپائی پر موجود دا جی اور دادو نے بھی بیا کے آنے پر اسے مسکرا کے دیکھا
بیا بچے آپ نے بتایا نہیں آپ کا رزلٹ کیسا آیا ہے…؟
ابھی بیا مسکرا کے دادا جی کو دیکھ ہی رہی تھی کہ فرخ چچا نے پوچھا
اچھے نمبر آئے ہیں میرے بھی اور آئمہ کے بھی لیکن ایسا ہوتا ہے نااا چچا کہ اگر آپ کے ایک سبجیکٹ میں بھی نمبر کم ہوناااااا….. تو وہ فیل لکھ دیتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اسٹوڈنٹ فیل ہوگیا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسٹوڈنٹ اس سبجیکٹ میں تھوڑا کمزور ہے کیوں حارب میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نااااا
گیٹ سے اندر داخل ہوتے حارب کو دیکھ کر بیا نے کہا
جھوٹ مت بولو بیا کرن بیگم کو غصہ آگیا سچ بولو کہ تم فیل ہو گئی ہو……
ماما آپ کو میری بات پر کبھی یقین آتا ہی نہیں ہے آپ اپنے لاڈلہ حارب سے پوچھ لیں
” ‏بچے کے رزلٹ کارڈ پر Fail کے بجاٸے اگر Try again لکھ دیا جاٸے تو بچہ کالج اور معاشرہ دونوں کے سامنے شرمندگی کا شکار نہیں ہوتا. “
حارب نے دا جی کی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا
اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ بیا تم فیل ہو گئی ہو
فرخ نے حارب کی بات سن کر بیا کی طرف غصے سے دیکھا
بابا آپ تو خاہ مخواہ میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں.
ارے چچا بیا جیسا کوئی ہے بیا جیسا تو کوئی ہے ہی نہیں ۔۔۔۔حارب نے طنز کیا
“چراغ لے کر ڈھونڈو یا موم بتی اگر مجھ جیسا کوئی ملے تو اسے وہی جلا دینا کیونکہ مجھے اپنے جیسا کوئی پسند نہیں میں ایک ہوں اور ایک ہی رہنا چاہتی ہوں “
بیا کہتی ہوئی غصے سے کمرے کی طرف بڑھ گئی جب کہ سارہ پھپھو نے افسوس سے حارب کی طرف دیکھا اور اس نے آگے سے کندھے اچکا دیے.
🎀🎀🎀