Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

ولی اور کتنی دیر یہاں رکنا ہے قسم سے میرا دم گھٹ رہا ہے.
پیٹر نے ولی کی طرف دیکھتے ہوئے ناگواری سے پوچھا.
تجھے کیا مسئلہ ہے اب تو Marry بھی نہیں جس کے ساتھ تو نے ڈیٹ مارنی ہے اس لیے چپ کر کہہ میرے ساتھ اپنا وقت انجوائے کر….
مگر کیوں…؟ آخر کرنا کیا ہے تو نے…..؟ مجھے تیرے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے. کیا تو لارڈ کا قتل……!!! نہیں ولی پلیززززز…..
اوئے ڈرپوک کہیں کے،اگر تو اِسی طرح بکواس کرتا رہا اور چپ نہ کیا تو میں لارڈ کا تو نہیں البتہ تیرا قتل ضرور کر دوں گا.
ظالم دوست بھی ایک مصیبت ہی ہوتا ہے پیٹر منہ میں بڑبڑایا.
ہاں اور بےوقوف تو جیسے اللہ کی رحمت ہے اور میرے پر یہ رحمت مسلسل برس رہی ہے.
اس سے پہلے کہ ولی مزید پیٹر کو کچھ کہتا اس کا موبائل بجا.
ایک تو اس کی جان کو چین نہیں ہے. ولی نےموبائل کا رخ پیٹر کی طرف کیا جس پر “کیٹ کالنگ” لکھا آ رہا تھا اور کال اٹینڈ کی.
ہیلو…..
کبھی تو خوشی سے بھی بول لیا کرو جب بھی بات کرتے ہو اتنے غصے سے کرتے ہو کہ سامنے والا ہی ڈر جاتا ہے.
تم تو ابھی تک ڈری نہیں، ولی نے کیٹ کی بات پر قدرے ناگواری سے پوچھا.
کہاں ہو….؟
زمین کے نیچے……
کیا…..؟
ولی کے جواب پر کیٹ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا.
یقین نہیں آتا تو پیٹر سے پوچھ لو. ولی نے اپنی جان چھڑاتے ہوئے فون پیٹر کو دے دیا.
اپنے اپنے نصیب ہیں ہم ترستے ہیں تو کوئی گھاس نہیں ڈالتا وہ گھاس کھاتا ہی نہیں تو اسے لوگ منوں کے حساب سے گھاس ڈالتے ہیں.
پیٹر نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا جس پر کیٹ کے ساتھ ساتھ ولی بھی مسکرا پڑا.
میں تو تمہیں ابھی تک انسان سمجھ رہی تھی مگر تم تو گھوڑے نکلے.
“گھوڑے” نہیں “گورے”، ویسے گھوڑے اور گورے میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا سوائے ٹانگوں اور دم کے…..
ولی نے کیٹ کی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے قہقہ لگایا. جبکہ کیٹ اور پیٹر کو یہ تبصرہ کچھ خاص پسند نہیں آیا.
پیٹر سچ سچ بتاؤ تم دونوں کہاں ہو….؟
کیا بتاؤں مجھے تو خود نہیں پتہ کہ کہاں ہوں بس اتنا معلوم ہے کہ ایک گٹر ہے اور ہم ہیں.
پیٹر کی بات پر کیٹ ہلکا سا مسکرائی. چلو پھر تم لوگ انجوائے کرو مگر جب زمین پر آجاؤ تو مجھ سے رابطہ کرنا Marry کے بارے میں ضروری بات کرنی ہے.
کیٹ کی بات پر پیٹر نے ولی کی طرف دیکھا اور فون بند کر دیا.
ایسے کیوں دیکھ رہا ہے میرے خیال سے اب ہمیں باہر نکل جانا چاہیے پیٹر کے دیکھنے پر ولی نے کہا
شکر ہے کہ تجھے جلدی خیال آ گیا ورنہ میں سمجھا پورے 21 دن بعد باری آئے گی.
ولی محل کے ساتھ بنے سرونٹ کوارٹرز کی طرف نکلا یہ جگہ ویسے تو محل کا ہی حصہ تھی مگر حقیقت میں محل سے بلکل الٹ……
یہ کونسی جگہ ہے مجھے تو وحشت ہو رہی ہے. پیٹر نے ٹوٹے پھوتٹے کوارٹرز اور اشیاء پر نظر دوڑائی.
یہ محل کا “کباڑ خانہ” ہے چل اب جلدی سے لڑکی تلاش کرتے ہیں. ولی اپنے کپڑے جھاڑتا ایک سمت چل پڑا.
مجھے بھی تو ساتھ لے کر چل کہیں کوئی بھوت ہی نہ جمٹ جائے.
ششششش….. خاموش
اچانک کسی کے آنے کی آہٹ پر ولی نے پیٹر کو چپ رہنے کا اشارہ کیا اور دونوں ایک دیوار ساتھ لگ کر کھڑے ہو گئے.
آنے والوں نے ولی کے لیے مزید آسانی پیدا کر دی.
اس سے پہلے کہ ولی اس کباڑ خانے کو چھانتا وہ لوگ ایک جگہ رکے جہاں زمین پر لوہے کی سلاخیوں سے جال بنا ہوا تھا انھوں نے رسی کی مدد سے اس میں کچھ اتارا پھر چپ چاپ جیسے آئے تھے ویسے ہی چلے گئے.
یہ کیا تھا…..؟
پیٹر نے حیرت سے ولی کو دیکھا جس پر اس نے کندھے اچکا دیے مگر خود اِسی طرف چل پڑا.
پاس جانے پر معلوم ہوا کہ وہ کوئی پرانا کنواں ہے جو شاید اب بند ہو چکا تھا یا سرنگ وغیرہ
شام ہو رہی تھی دوسرا اندر اندھیرا ہونے کی وجہ سے کچھ واضح نہیں تھا.
ولی ٹارچ سے اس کے اندر روشنی ڈال تاکہ کچھ نظر آئے مجھے تو سوائے اندھیرے کے کچھ پتہ نہیں چل رہا.
لفظ “ٹارچ” پر ولی نے چونک کر پیٹر کی طرف دیکھا.
زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے جتنا تو گٹروں میں اترنے کا شوقین ہے اس حساب سے ٹارچ تیرے پاس لازمی ہونی چاہیے.
پیٹر کے جواب پر ولی نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے جیکٹ کی جیب سے ٹارچ نکالی.
ولی تو مسکراتے ہوئے بہت خوبصورت لگتا یار مسکراتا رہا کر…..
بس زیادہ بکواس نہیں. ولی نے پیٹر کی بات پر دوبارہ سیریس چہرے سے ٹارچ روشن کی مگر دوسری طرف کا سین دیکھ کر لرز گیا.
اسے ولی کی خوش قسمتی کہیے یا لارڈ کی بد نصیبی مگر……….
🎀🎀🎀🎀
“اپنے آپ کو ماضی کا قیدی مت بناؤ
وہ زندگی کا سبق تها عمر بهر کی سزا نہیں”
سارہ نے ڈائری پر ابھی یہ شعر لکھا ہی تھا کہ کسی نے پیچھے سے ڈائری اُچک لی.
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ بندہ اتنے دکھ میں کمال کی شاعری کیسے کرتا ہے…..؟
بیا ہاتھ میں ڈائری پکڑے سوچنے کی ایکٹنگ کر رہی تھی.
اور مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کے لوگ اتنی بےشرمی سے دوسروں کے کمرے میں گھس کر ان کی ذاتی چیزوں کو کیسے ہاتھ لگاتے ہیں.
سارہ پھپھو نے کہتے ساتھ ہی بیا کے ہاتھ سے ڈائری لی اور دراز میں رکھ دی.
باقی باتیں تو ٹھیک ہے مگر لفظ ” دوسروں” ہضم نہیں ہو رہا.
بیا منہ بناتی سارہ پھپھو کے سامنے والی کرسی پر بیتھ گئی.
اچھا چھوڑے یہ بتاؤ تم نے حارب کے پیسے نکالے ہیں….؟
میں آپ کو چور لگتی ہوں میں کیوں بھلا اس کے پیسے نکالنے لگی ویسے بھی پھپھو سوچنے والی بات ہے ناااا….. کہ مجھے کیسے پتہ چلا کہ اس کی شرٹ میں 25 ہزار ہے…؟
ہاں یہ تو ہے اللہ کرے مل جائیں کہیں رکھ کر بھول گیا ہو گا.
سارہ نے خود سے بات کرتے ہوئے آہستہ لہجہ میں کہا
پھپھو میں سوچ رہی تھی کہ وہ جو آپ کا ہیرو تھا میرا مطلب ہے کہ ” ہے”.
(بیا نے سارہ کے تاثرات بدلتے دیکھ کر فوراً اپنی اصلاح کی.)
وہ آپ کو اپنی لگژری لائف میں مس تو کرتے ہوں گے کیا خیال ہے آپ کا….؟
مرد کے لیے عورت سے بڑھ کر کوئی لگژری نہیں، دنیا کی کوئی شے بھی مرد کے دل و دماغ کو پرسکون نہیں کرسکتی ماسوائے اس کی من پسند عورت کے، اور میں کبھی بھی اس کی من پسند نہیں رہی.
مگر آپ نے تو لکھا ہے کہ وہ آپ کے بہت اچھے کزن اور دوست تھے.
سارہ کے کہنے پر بیا نے دلائل دیے.
تم ابھی بہت چھوٹی ہو اس بات کو سمجھ نہیں سکتی. دیکھو دوستی میں ایک دوسرے کو پسند کرنا ضروری نہیں ہوتا ہمیں کسی کی کوئی بات پسند آئی دوستی ہو گئی اور جہاں اختلاف ہوا وہاں دوستی ختم جبکہ…….
سارہ نے ایک لمبا سانس لیا.
جبکہ محبت میں دوسرا آپ سے محبت کرے نہ کرے، آپ کو پسند کرے نہ کرے، ملے نہ ملے محبت اپنی جگہ پر رہتی ہے.
کچھ سمجھ آئی اپنی بات کے آخر میں سارہ پھپھو نے پھیکا سا مسکرا کر بیا کے سر پر ہاتھ مارا جو پورے انہماک سے ان کی باتیں سن رہی تھی.
سمجھ تو نہیں آئی مگر چلو تھیک ہے اگر آپ کو برا نہ لگے تو ایک بات کہو پلیززز اعتراض نہیں کرنا کافی دنوں سے میرے ذہن میں ایک آئیڈیا گھوم رہا ہے اگر آپ نے منع کر دیا تو مجھے چکر آنے لگ جائیں گے وہ کیا ہے ناااا میں زیادہ دیر آئیڈیا کو روک نہیں سکتی مجبوری ہے.
کہو تم نے کونسا منع کرنے پر باز آنا ہے.
سارہ کے جواب پر بیا نے منہ بنایا.
چلو اب بول بھی دو میری نماز کو دیر ہو رہی ہے. سارہ نے اپنی عینک صاف کی.
وہ اگر آپ کے پاس ان کا کوئی رابطہ نمبر، میرا مطلب ٹیلی فون گھر کا ایڈریس وغیرہ
بیا نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ سارہ پھپھو نے ٹوک دیا.
میں تمہیں بتا چکی ہوں کہ ہم میں سے کسی کو بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں پتہ کیونکہ اس نے کبھی کوئی رابطہ ہی نہیں کیا.
چلو شاباش اب تم اپنے آئیڈیا کی فیکٹری بند کرو اور جاؤ یہاں سے تاکہ میں سکون سے نماز پڑھ سکوں.
بیا زور سے پیر پٹختی ہوئی باہر کی جانب بڑھ گئی جو اس کی ناراضگی کا بھرپور اظہار تھا جبکہ سارہ اس کی کمر دیکھ کر سوچنے لگی.
بیا تمہیں کیا پتہ اس دل کی کتنی خواہش ہےاسے دیکھنے کی، ملنے کی، آواز سننے کی مگر……
سارہ نے ایک سانس خارج کر کہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور جائے نماز بچھانے لگی.
🎀🎀🎀🎀
ولی رات کافی دیر سے گھر واپس آیا مگر جیسے ہی اُس نے اندر قدم رکھا اُسے گھر میں واضح تبدیلی کا احساس ہوا.
ایک دم تو وہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ کیا چیز مختلف ہے. ایک تو وہ دن بھر کا تھکا ہوا تھا دوسرا نیند بھی زورو پر تھی. مگر پھر بھی کیا عجیب ہے……؟
دفع کرو اس گھر میں کچھ نہ کچھ عجیب ہوتا ہی رہتا ہے وہ دل میں کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا جب اس کی کسی چیز ساتھ ٹھوکر لگی. تکلیف اور غصے سے نظر دوڑائی تو” ویل چیئر” پر پڑی ساتھ ہی سویا ہوا ذہن پوری طرح بیدار ہو گیا.
ڈیڈ کی چئیر یہاں پر کیا کر رہی ہے اور ڈیڈ….؟
اب اسے سمجھ آیا کہ مختلف کیا تھا.
ڈیانا ابراھیم کے کمرے میں کھڑی دو اجنبیوں سے ہنس ہنس کر بات کر رہی تھی.
جتنی بات ولی کو سمجھ آئی اس کے مطابق وہ کمرے کرایے پر دے رہی تھی مگر کیوں….؟
اس کیوں کا جواب لینے کے لیے وہ ڈیانا کی طرف بڑھا اتنی دیر میں وہ اجنبی ڈیانا کو پیسے دے کر گھر سے نکل گئے.
ڈیڈ کہاں ہیں اور آپ ان کے کمرے میں کیا کر رہیں ہیں…..؟
ولی نے ڈیانا کے برابر کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا جبکہ ویران کمرے میں باندھے سامان کی طرف دیکھ کر ولی کی ٹانگے کپکپا رہی تھی‍ں اُسے کسی انہونی کا ڈر تھا.
صبح تمہارا باپ بیہوش ہو گیا تھا میں نے اُسے ہسپتال داخل کرا دیا ہے مگر اُس کے بچنے کی کوئی امید…..
کونسے ہسپتال…. ؟
ولی نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ٹوک دی.
ولی نے جیسے ہی روم کا ڈور اوپن کیا آگے اپنے ڈیڈ کو مختلف مشینوں میں جکڑے ہوئے پایا.
منہ پر آکسیجن ماسک، ہاتھوں پر کینولا، دل پر کچھ کلپس لگے ہوئے اور اس خاموشی میں ہاٹ بیٹ بتانے والی مشین کی ٹو ٹو ٹو………
ولی کو اپنے پورے جسم پر چیونٹیاں چلتی ہوئی محسوس ہوئیں. وہ مردہ قدموں سے چلتا ہوا اپنے باپ کے بلکل مقابل پڑی کرسی پر بیٹھ گیا.
یہ سچ تھا کہ اسے اپنے والدین سے کچھ خاص اُنس نہیں تھا مگر پھر بھی…….
ولی کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر اس کی گال بھگوتا ہوا اس کے اپنے ہی ہاتھ پر گرا. جسے اس نے کافی حیرت سے دیکھا.
کیا ہوا ” ولی رحمان” آنسو نکل پڑے. تمہیں تو کسی کے ہونے نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا پھر یہ ڈرامہ کیسا….؟
ولی کو اپنے اردگرد آوازیں سنائی دینے لگیں.
اِسے یاد آیا جب وہ سات سال کا تھا تو اُس نے اپنے باپ کے ساتھ پاکستان کا سفر کیا تھا. سارے راستے اُس کا باپ اُسے اپنوں کے قصے سناتا آیا.
کس طرح دونوں باپ بیٹے نے مزے لے لے کر ٹرین، بس اور پھر آخر میں تانگے پر سفر کیا.
مگر گاؤں پہنچ کر سارے خواب جو اُس کے باپ نے اُسے دکھائے تھے کہ اُس کے اپنے کتنے مہمان نواز اور محبت کرنے والے ہیں جو اسے دیکھتے ہی معاف کر دیں گے. سب اس فرضی قبر پر جا کر چکنا چور ہو گئے .
اور واپسی پر صرف ولی بول رہا تھا بول کیا تھے زہر میں کھبے ہوئے تیر تھے جو ابراھیم کا سینہ چھلنی کرنے کو کافی تھے.
اُس دن کے بعد سے ولی کو ماں کے ساتھ ساتھ اپنے باپ سے بھی نفرت ہو گئی کیونکہ گاؤں والوں نے جو باتیں بتائیں تھیں وہ ولی کو ابھی تک یاد تھیں.
ولی نے اپنی آنکھیں صاف کیں اور کھڑے ہوتے ہوئے ایک گہرا سانس خارج کر کہہ خود کو نارمل کیا.
مگر یہ احساس کہ اس کا باپ مر رہا ہے یا وہ بہت جلد اسے چھوڑ جائے گا بہرحال کافی تکلیف دہ تھا.
اگر اس کے بچپن میں کچھ اچھی یادیں تھیں تو وہ صرف اس کے باپ کی وجہ سے تھیں.
اسے یاد آیا کہ آخری بار وہ عید کی نماز پڑھنے اپنے باپ ساتھ مسجد میں گیا تھا اور واپسی پے اس کے باپ نے اسے میٹھی سویاں بنا کر دی تھیں کہ یہ آج کے دن کی ایک میٹھی روایت ہے.
جانے انجانے میں وہ جھکا اور اپنے ہونٹ باپ کے ماتھے پر رکھ دیے جو برف سے زیادہ ٹھنڈا تھا.
ولی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اِس وقت اُس کے باپ کا ماتھا زیادہ ٹھنڈا ہے یا ولی کے اپنے ہاتھ……
ولی…..
ایک نہایت خفیف سی آواز نے ولی کو دیکھنے پر مجبور کیا.
ڈیڈ……
میری بات سنو میرے دراز میں دو لفافے ہیں ایک تمہارے لیے اور دوسرا فضل بھائی کے نام…..
ابراھیم بمشکل اتنا ہی اپنی اکھڑتی سانسوں میں بول پایا کہ….
کہ اچانک مشین کی تیز تیز ٹو ٹو نے اسے سوچوں کے بھنور سے نکالا.
ولی کو کچھ سمجھ نہیں آیا مگر مولوی صاحب کا وہ جملہ ذہن میں گونجا کہ مرنے والے کو کلمہ پڑھنے کا مت کہو بلکہ خود پڑھو….
ولی نے اُونچی آواز میں کلمہ پڑھا یہ جانے بغیر کہ ابراھیم نے پڑھا یا نہیں.
ولی کی نظر جیسے ہی مشین پر پڑی اس نے باہر کی طرف دوڑ لگائی دل نے خواہش کی کاش کوئی معجزہ ہو جائے اور اس کا باپ بچ جائے.
تھوڑی دیر میں ڈاکٹر اور کچھ سٹاف کے لوگ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئے جبکہ ولی کمرے کی دیوار ساتھ پڑے بنچ پر بیٹھ گیا.
سب آوازیں بیک گراؤنڈ میں چلی گئیں اسی اس ایک لفظ کہ
He is no more…..
ڈاکٹر نے ولی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پروفیشنل انداز میں کہا اور چلتا بنا.
ولی خالی خالی نظروں سے ادھر ادھر ایک چھوٹے بچے کی طرح تنہا سب کو دیکھ رہا تھا.
🎀🎀🎀🎀
صوبیدار صاحب صوبیدار صاحب باہر سے گاؤں کے چند لوگوں نے داجی کو پکارا.
یہ صبح صبح کون شور مچا رہا ہے کیا ہو گیا ہے.
داجی جو نماز پڑھ کر ابھی ناشتہ کرنے لگے تھے کہ لوگوں کے شور سے جھنجھلا گئے.
حارب دیکھو بیٹا کون ہے اور کیا مسئلہ ہے.
داجی نے حارب سے کہا اور خود رقیہ بیگم اور اپنے بیٹوں فرخ اور خرم ساتھ ناشتہ شروع کیا.
جبکہ کرن اور ثنا بیگم کچن میں ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں.
بیا اور آئمہ سونے کے مزے لے رہیں تھیں.
داجی وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ…..
حارب نے اپنی گھبراہٹ پر قابو کرتے ہوئے کہا
کیا بات ہے حارب خیریت….؟
فرغ نے حارب کی حالت دیکھتے ہوئے پوچھا
وہ کوئی آیا ہے جو کھنڈر والی عمارت گرانے نہیں دے رہا.
حارب نے اتنا ہی کہا تھا کہ داجی ناشتہ چھوڑ کر غصے سے کھڑے ہو گئے.
کون ہے وہ جو ہماری جگہ پر اپنا حق جتلا رہا ہے.
یہ تو پتہ نہیں مگر وہ اپنا نام ” ولی رحمان” بتا رہا ہے اور اپنے باپ کا نام ” ابراھیم”……
حارب نے جیسے ہی یہ جملہ ادا کیا پورے گھر میں سناٹا چھا گیا اور سارہ پھپھو کے ہاتھ سے چائے کی پیالی چھوٹ کر زمین پر گری.
🎀🎀🎀🎀